پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ترمیم شدہ سی بی جی قیمتیں صارفین پر نمایاں اثر ڈالے بغیر پیداوار کنندگان کی معاون

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 AUG 2026 10:56AM by PIB Delhi

حالیہ اخباری مضمون میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ گوبر دھن اسکیم کے تحت کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی)  کی نظرِ ثانی شدہ قیمت سے سی این جی اور گھریلو پی این جی صارفین پر نمایاں اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

یہ نتیجہ درست صورتِ حال کی عکاسی نہیں کرتا۔ یہ چند غیر یکساں مفروضوں پر مبنی ہے:

  • موجودہ نظام کے تحت سی بی جی پیداوار کنندگان کو ادا کی جانے والی قیمت، سی این جی کی خوردہ فروخت کی قیمت کے 85 فیصد سے منسلک ہے۔ حالیہ نظرِ ثانی کی بنیاد پر یہ قیمت تقریباً 1,478 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو بنتی ہے۔
  • گوبر دھن اسکیم کے تحت سی بی جی کی قیمت 2,110 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
  • 1,478 روپے سے بڑھ کر 2,110 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہونے کا مطلب تقریباً 43 فیصد اضافہ ہے۔
  • یہ وہ خریداری قیمت ہے جو سی بی جی پیداوار کنندگان کو ادا کی جاتی ہے۔ یہ وہ قیمت نہیں ہے جو سی این جی یا گھریلو پی این جی صارفین براہِ راست ادا کرتے ہیں۔
  • 2,110 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی پوری قیمت گیس صارفین سے وصول نہیں کی جائے گی۔ حکومت سی بی جی کے لیے 10 روپے فی کلو گرام کی قابلِ استطاعت معاونت فراہم کرے گی، جو 95 فیصد میتھین پر مشتمل سی بی جی کے لیے تقریباً 215 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے برابر ہے۔
  • یہ معاونت حکومت فراہم کرے گی اور اس کی پوری رقم گیس صارفین سے وصول نہیں کی جائے گی۔ لہٰذا گیس صارفین کے ایک وسیع حلقے سے وصول کی جانے والی سی بی جی کی مؤثر لاگت یہ ہوگی:
  • 2,110 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو − 215 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو = تقریباً 1,895 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو
  • موجودہ سی بی جی قیمت 1,478 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے مقابلے میں مؤثر اضافہ اس طرح تقریباً 28 فیصد رہ جاتا ہے۔ مزید یہ کہ سی بی جی شہری گیس تقسیم کار اداروں کو اس کی خریداری قیمت پر فروخت نہیں کی جاتی۔ اسے ملک میں پیدا ہونے والی دیگر قدرتی گیس کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے اور اس کی لاگت قابلِ اطلاق ملکی گیس کے مجموعی ذخیرے میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔
  • اس سے پہلے سی بی جی کی لاگت صرف اے پی ایم گیس کی اس محدود مقدار میں تقسیم کی جاتی تھی جو سی این جی (نقل و حمل) اور پی این جی (گھریلو) شعبوں کے لیے مختص تھی۔ نئے طریقۂ کار کے تحت سی بی جی کی خالص لاگت گیس کے ایسے ملکی مجموعی ذخیرے میں تقسیم کی جائے گی جو پہلے کے مقابلے میں تقریباً 2.5 سے 3 گنا بڑا ہے۔
  • سی بی جی کی لاگت کو کہیں بڑے گیس کے مجموعی ذخیرے میں تقسیم کیے جانے کے باعث انفرادی گیس صارف پر قیمت کا اثر نہایت معمولی ہوگا۔

نظرِ ثانی شدہ قیمتوں کا یہ نظام دو مقاصد میں توازن قائم کرنے کے لیے احتیاط سے وضع کیا گیا ہے۔ سی بی جی پیداوار کنندگان کو ایک مستحکم اور قابلِ عمل قیمت ملے گی، جس سے ان کے کارخانے پائیدار بنیادوں پر چل سکیں گے، جبکہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی قابلِ استطاعت معاونت اور گیس کے کہیں وسیع تر مجموعی ذخیرے کے باعث صارفین کو قیمتوں میں کسی نمایاں اضافے سے محفوظ رکھا جائے گا۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-2748


(ریلیز آئی ڈی: 2304476) وزیٹر کاؤنٹر : 11