PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان میں جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی


ایک پائیدار اور خود کفیل مستقبل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 AUG 2026 10:36AM by PIB Delhi

ہندوستان کا جوہری پروگرام تکنیکی خود انحصاری کی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے، جسے ماضی میں عائد ایندھن کی پابندیوں پر قابو پانے اور ملک میں موجود تھوریئم کے وسیع ذخائر سے استفادہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کی بنیاد مقامی طور پر تیار کردہ تین مرحلوں پر مشتمل جوہری توانائی پروگرام ہے، جو یورینیم پر مبنی ایندھن کے چکر سے تھوریئم پر مبنی ایندھن کے چکر کی جانب بتدریج منتقلی کو ممکن بناتا ہے۔ مقامی اختراعات کو فروغ دینے، صاف اور قابلِ اعتماد بجلی کی پیداوار میں توسیع اور طویل مدتی توانائی سلامتی کو یقینی بنانے کے ذریعے یہ پروگرام پائیدار ترقی کے ہندوستان کے وژن اور 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی کی پیداواری صلاحیت حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

 

بھارت کی پائیدار توانائی کی یقینی فراہمی  کو مضبوط بنانے والی جوہری توانائی

ہندوستان وِکست بھارت کے سفر کو آگے بڑھانے کے لئے ایک محفوظ، پائیدار اور خود کفیل توانائی کے مستقبل کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہے۔ صاف، قابلِ اعتماد اور مستحکم بنیادی بوجھ والی بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومتِ ہند نے جوہری توانائی کو ملک کی طویل مدتی توانائی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ بنایا ہے۔ جوہری توانائی چوبیس گھنٹے کم کاربن اخراج کے ساتھ بجلی فراہم کرتی ہے، قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کی تکمیل کرتی ہے اور بجلی کے گرڈ کے استحکام کو یقینی بناتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ درآمد شدہ حیاتیاتی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ہندوستان کے عہد و پیمان کو پورا کرنے میں بھی معاون ہے۔ آتم نربھر بھارت کے وژن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، حکومتِ ہند جوہری ایندھن کے مکمل چکر کے تمام شعبوں میں مضبوط مقامی صلاحیتیں فروغ دے رہی ہے، جن میں ری ایکٹر کی تیاری، ایندھن سازی، جوہری فضلے کا انتظام اور جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔

اس وقت ہندوستان میں 24 جوہری توانائی کے ری ایکٹر کام کر رہے ہیں، جن کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 8.78 گیگاواٹ ہے۔ 7.5 گیگاواٹ کی مجموعی صلاحیت والے 9 ری ایکٹر یونٹ زیرِ تعمیر ہیں۔ حکومت نے 10 مقامی طور پر تیار کردہ پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹرز کو بیڑے کی طرز پر تعمیر کرنے اور 500 میگاواٹ صلاحیت کے 2 فاسٹ بریڈر ری ایکٹرز کے لیے منصوبے سے قبل کی سرگرمیوں کو بھی منظوری دی ہے۔ حالیہ پالیسی اقدامات، جن میں جوہری توانائی مشن (2026-2025) اور شانتی ایکٹ، 2025 شامل ہیں، جوہری توانائی کی پیداواری صلاحیت میں توسیع کو تیز کر رہے ہیں، ملکی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنا رہے ہیں، اختراعات کو فروغ دے رہے ہیں اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو ممکن بنا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ اقدامات ایک مضبوط اور لچک دار جوہری ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہے ہیں، جو پائیدار ترقی میں معاونت کے ساتھ ساتھ 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی کی پیداواری صلاحیت حاصل کرنے کے ہندوستان کے ہدف کو آگے بڑھا رہا ہے۔

 

بجلی کی بنیادی اور مستقل فراہمی

مستحکم بنیادی بجلی وہ کم از کم اور بلاتعطل بجلی کی مقدار ہے جس کی کسی بجلی کے گرڈ کو مسلسل فعال رہنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ہماری بجلی کی فراہمی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اسپتالوں، مواصلاتی نیٹ ورکس، دفاعی تنصیبات، صنعتوں اور دیگر ضروری خدمات کے لیے قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی یقینی بناتی ہے۔ قابلِ اعتماد بنیادی بجلی اقتصادی ترقی، قومی سلامتی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کے لیے ناگزیر ہے۔

 

جوہری توانائی سے متعلق بنیادی معلومات اور جائزہ

 

جوہری توانائی کے بجلی گھر ’جوہری انشقاق‘ نامی ایک محتاط اور قابو میں رکھی جانے والی عمل کے ذریعے پیدا ہونے والی حرارت کو استعمال کرتے ہوئے بجلی پیدا کرتے ہیں۔ یہ حرارت پانی کو بھاپ میں تبدیل کرتی ہے، جو جنریٹر سے منسلک ٹربائن کو چلاتی ہے۔ پیدا ہونے والی بجلی سے گھروں، صنعتوں اور ضروری خدمات کو توانائی فراہم ہوتی ہے۔ یہ پورا عمل انجینئروں کے وضع کردہ متعدد حفاظتی نظاموں اور ایک مضبوط حفاظتی ڈھانچے کے تحت انجام پاتا ہے۔

جوہری ایندھن

جوہری ایندھن سے مراد وہ مواد ہے جسے جوہری ری ایکٹر کے اندر بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ایٹم جوہری انشقاق کے عمل کے ذریعے تقسیم ہوتے ہیں اور بڑی مقدار میں حرارت خارج کرتے ہیں۔ یہ حرارت پانی کو بھاپ میں تبدیل کرتی ہے۔ بھاپ ٹربائنوں کو چلاتی ہے، جن کے ذریعے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

جوہری ری ایکٹر کا ایندھن دو اقسام کا ہو سکتا ہے: فِشن ایبل، جو براہِ راست سلسلہ وار جوہری تعامل کو جاری رکھتا ہے، یا زرخیز ایندھن، جسے پہلے ری ایکٹر کے اندر قابلِ انشقاق ایندھن میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ سب سے عام جوہری ایندھن میں قدرتی یورینیم، یورینیئم -235 (یو -235) ، کم افزودہ یورینیم (ایل ای یو)، پلوٹونیم -239(پی یو 239) اور مخلوط آکسائڈ(ایم او ایکس) ایندھن شامل ہیں۔

امریکہ، فرانس، چین، جاپان، جنوبی کوریا، کینیڈا اور روس سمیت بیشتر ممالک ہلکے پانی والے ری ایکٹروں میں کم افزودہ یورینیم (ایل ا ی یو) استعمال کرتے ہیں۔ ہندوستان بنیادی طور پر پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹروں (پی ایچ ڈبلیوآر) میں قدرتی یورینیم استعمال کرتا ہے، جن کے لیے یورینیم کی افزودگی ضروری نہیں ہوتی۔ ہندوستان اپنے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر (پی ایف بی آر) میں مخلوط آکسائیڈ (ایم او ایکس) ایندھن بھی استعمال کرتا ہے۔

ہندوستان میں یورینیم کے ذخائر کم درجے کے ہیں، اس لئے انہیں درآمدات کے ذریعے پورا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، ہندوستان میں تھوریئم (ٹی ایچ 232) کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ یہ ایک تابکار مادہ ہے جو انشقاق پذیر کے بجائے زرخیز ہوتا ہے اور بنیادی طور پر کیرالہ، تمل ناڈو، آندھرا پردیش، اڈیشہ، مغربی بنگال اور جھارکھنڈ کے ساحلی ریتیلے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ ری ایکٹر کے اندر ٹی ایچ-232ایک نیوٹران جذب کرکے یورینیم-233 میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو انشقاق پذیر ہوتا ہے۔ ہندوستان کی طویل مدتی جوہری حکمتِ عملی تین مرحلوں پر مشتمل جوہری توانائی پروگرام کے ذریعے اپنے وافر تھوریئم کے ذخائر سے استفادہ کرنے پر مرکوز ہے۔

 

ہندوستان کا تین مرحلوں پر مشتمل جوہری پروگرام

ڈاکٹر ہومی جے بھابھا نے 1954 میں ہندوستان کے مقامی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور طویل مدتی توانائی سلامتی کے حصول کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل جوہری توانائی پروگرام پیش کیا تھا۔ ہندوستان نے اپریل 2026 میں ایک اہم سنگِ میل حاصل کیا، جب کلپکّم میں واقع پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر (پی ایف بی آر) نے پہلی بار کریٹیکلٹی حاصل کی۔ بریڈر ری ایکٹر ایسا ری ایکٹر ہوتا ہے جو بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مزید انشقاق پذیر مادہ یا ایندھن بھی تیار کرتا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ ہندوستان کے تین مرحلوں پر مشتمل جوہری توانائی پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا۔

یہ اہم پیش رفت ہندوستان کو طویل مدتی، صاف ستھری اور خود کفیل توانائی سلامتی کے لیے اپنے وافر تھوریم کے ذخائر سے استفادہ کرنے کے مزید قریب لے آئی ہے۔مزید پڑھیں: ہندوستان کے جوہری سفر کا ایک نیا باب

پہلے مرحلے میں پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹرز (پی ایچ ڈبلیو آرز) قدرتی یورینیم استعمال کرکے بجلی پیدا کرتے ہیں۔ استعمال شدہ ایندھن کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لیے اس کی ری پروسیسنگ کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں پلوٹونیم حاصل ہوتا ہے۔ یہی پلوٹونیم دوسرے مرحلے کے لیے بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔دوسرے مرحلے میں فاسٹ بریڈر ری ایکٹرز (ایف بی آرز) اس پلوٹونیم کو استعمال کرکے بجلی پیدا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ اضافی انشقاق پذیر مادہ بھی تیار کرتے ہیں۔ یہ ری ایکٹر تھوریم سے یورینیم-233 بھی تیار کرتے ہیں، جس سے تیسرے مرحلے کے لیے بنیاد فراہم ہوتی ہے۔تیسرے مرحلے میں تھوریم پر مبنی ری ایکٹرز یورینیم-233 کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کے وافر تھوریم ذخائر سے استفادہ کرتے ہیں۔ ہر مرحلہ اگلے مرحلے کے لیے ضروری وسائل فراہم کرتا ہے، جس سے طویل مدتی توانائی سلامتی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

اندرا گاندھی مرکز برائے جوہری تحقیق (آئی جی سی اے آر) نے ہندوستان کے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر (پی ایف بی آر) کے ڈیزائن، ترقی، آزمائش، حفاظتی جائزے، کمیشننگ اور مقامی سطح پر تیاری میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ ہندوستانی صنعت کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے آئی جی سی اے آر نے ری ایکٹر کے آلات اور نظام کی تقریباً 90 فیصد مقامی تیاری حاصل کی، جس سے جدید جوہری ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہندوستان کی خود انحصاری مزید مضبوط ہوئی اور تین مرحلوں پر مشتمل جوہری توانائی پروگرام کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے میں مدد ملی۔

جوہری ری ایکشن

جوہری تعامل میں کسی ایٹم کے مرکزسے توانائی خارج ہوتی ہے۔ اس کی دو اہم اقسام ہیں: جوہری انشقاق اور جوہری امتزاج۔ جوہری توانائی کے بجلی گھر جوہری انشقاق کا استعمال کرتے ہیں۔

جوہری ری ایکٹر میں ایک نیوٹران یورینیم یا پلوٹونیم کے ایٹم کے مرکزے سے ٹکراتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ دو چھوٹے ایٹموں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ یہ عمل، جسے جوہری انشقاق کہا جاتا ہے، بڑی مقدار میں حرارت اور اضافی نیوٹران خارج کرتا ہے۔ یہ نیوٹران مزید انشقاقی تعاملات کو متحرک کرتے ہیں، جس سے ایک محتاط انداز میں قابو میں رکھا جانے والا سلسلہ وار جوہری تعامل وجود میں آتا ہے۔پیدا ہونے والی حرارت کو پانی کو زیادہ دباؤ والی بھاپ میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بھاپ ایک ٹربائن کو چلاتی ہے، جو ایک جنریٹر سے منسلک ہوتی ہے۔ ٹربائن کے گھومنے سے جنریٹر بجلی پیدا کرتا ہے۔

جوہری انضمام

جوہری انضمام میں دو ہلکے ایٹم آپس میں مل کر ایک بھاری ایٹم تشکیل دیتے ہیں۔ سورج اور دیگر ستاروں میں توانائی جوہری الحاق کے عمل کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔ جوہری الحاق، جوہری انشقاق کے مقابلے میں کہیں زیادہ توانائی پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم، تجارتی سطح پر بجلی کی پیداوار کے لیے جوہری الحاق کی ٹیکنالوجی ابھی ترقی کے مرحلے میں ہے۔

 

جوہری ری ایکٹرز

 

جوہری ری ایکٹر جوہری بجلی گھر کا بنیادی حصہ ہوتا ہے، جہاں جوہری انشقاق کے عمل کو محفوظ طریقے سے قابو میں رکھ کر حرارت پیدا کی جاتی ہے۔ اس میں یورینیم یا پلوٹونیم جیسا جوہری ایندھن، انشقاقی ردِعمل کو منظم کرنے کے لیے کنٹرول راڈز، پیدا ہونے والی حرارت کو منتقل کرنے کے لیے کولنٹ اور محفوظ و قابلِ اعتماد آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے متعدد حفاظتی نظام موجود ہوتے ہیں۔

ہندوستان بنیادی طور پر پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹرز (پی ایچ ڈبلیو آرز) استعمال کرتا ہے، جو قدرتی یورینیم پر کام کرتے ہیں۔ ملک میں بوائلنگ واٹر ری ایکٹرز (بی ڈبلیو آرز) اور پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹرز (پی ڈبلیو آرز) بھی کام کر رہے ہیں۔ ہندوستان پلوٹونیم کے استعمال اور تھوریم پر مبنی ری ایکٹروں کی جانب منتقلی میں معاونت کے لیے فاسٹ بریڈر ری ایکٹرز (ایف بی آرز) کو بھی ترقی دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ہندوستان جوہری ٹیکنالوجی کی اگلی نسل کے طور پر چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آرز) بھی تیار کر رہا ہے۔

چھوٹا ماڈیولر ری ایکٹر

چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹر عموماً جوہری انشقاق کے ذریعے 300 میگاواٹ برقی تک بجلی پیدا کرتے ہیں۔ ان کا کمپیکٹ اور ماڈیولر ڈیزائن فیکٹری میں تیاری، تیز تر تعمیر، بہتر معیار اور مرحلہ وار تنصیب کو ممکن بناتا ہے۔مرکزی بجٹ 2026-2025 میں اعلان کردہ جوہری توانائی مشن کے تحت حکومت نے مقامی طور پر تیار کیے جانے والے چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں کی تحقیق، ڈیزائن، ترقی اور تنصیب کے لیے 20,000 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ ہندوستان 220 میگاواٹ کے بھارت چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹر (بی ایس ایم آر-200) کو تیار کر رہا ہے، جسے بھابھا ایٹمی تحقیقی مرکز (بارک) اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (این پی سی آئی ایل) نے مشترکہ طور پر ڈیزائن کیا ہے۔ اس کے علاوہ 55 میگاواٹ کے ایس ایم آر-55 اور ہائی ٹمپریچر گیس کولڈ ری ایکٹر کو بھی تیار کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ہائیڈروجن کی پیداوار ہے۔حکومت کا ہدف ہے کہ 2033 تک کم از کم پانچ مقامی طور پر تیار کردہ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں کو عملی طور پر کام میں لایا جائے۔

جوہری ری ایکٹروں کی درجہ بندی

جوہری ری ایکٹر مختلف ضروریات اور مقاصد کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ بڑے روایتی ری ایکٹرز (700 سے 1,600 میگاواٹ) قومی بجلی کے گرڈ، شہروں اور صنعتوں کو مسلسل بنیادی بوجھ والی بجلی فراہم کرتے ہیں۔ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (300 میگاواٹ تک) اور مائیکرو ری ایکٹرز (20 میگاواٹ تک) دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی، اپنی مدت پوری کرنے والے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی جگہ لینے، صنعتی عمل کے لیے حرارت فراہم کرنے اور ہائیڈروجن کی پیداوار میں معاونت کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

جوہری فضلہ

جوہری فضلہ سے مراد وہ تابکار مواد ہے جو جوہری بجلی گھر کے آپریشن کے دوران پیدا ہوتا ہے۔ اس میں استعمال شدہ جوہری ایندھن کے علاوہ حفاظتی لباس، فلٹرز، آلات اور دیگر سامان بھی شامل ہوتا ہے، جو بجلی گھر میں استعمال کے بعد تابکار ہو جاتا ہے۔ چونکہ اس سے تابکاری خارج ہوتی ہے، اس لیے انسانی جانوں اور ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اسے سخت حفاظتی معیارات کے تحت منظم اور محفوظ کیا جاتا ہے۔

ہندوستان جوہری ایندھن کے بند چکر کی پالیسی پر عمل کرتا ہے، جس کے تحت استعمال شدہ جوہری ایندھن کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لیے اس میں موجود قیمتی مواد حاصل کیا جاتا ہے تاکہ اسے مستقبل کے ری ایکٹروں میں دوبارہ استعمال کیا جا سکے۔ باقی ماندہ اعلیٰ سطح کے تابکار فضلے کو ایک مستحکم شکل میں تبدیل کرکے محفوظ طریقے سے ذخیرہ کیا جاتا ہے، جس سے فضلے کی مقدار کم کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے تین مرحلوں پر مشتمل جوہری توانائی پروگرام کو بھی تقویت ملتی ہے۔

تابکار فضلے کو شیشی میں محفوظ کرنے کی ٹیکنالوجی

ہندوستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے پاس اعلیٰ سطح کے تابکار فضلے کو شیشے کی شکل میں تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ اس عمل کے ذریعے اعلیٰ سطح کے تابکار فضلے کو ایک مستحکم شیشے کی شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے، جس سے اسے طویل مدتی ذخیرہ کرنے، نقل و حمل اور مستقبل میں محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے زیادہ محفوظ بنایا جاتا ہے۔

 

ہندوستان کے صاف توانائی کے مستقبل کو توانائی فراہم کرنا

ہندوستان کا جوہری توانائی پروگرام اختراعات، پائیداری اور خود انحصاری کے لیے ملک کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجیز کو سخت حفاظتی معیارات اور مقامی صلاحیتوں کے ساتھ یکجا کرکے، جوہری توانائی ایک محفوظ اور مضبوط توانائی کے مستقبل کی تعمیر میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ جیسے جیسے ملک وِکست بھارت کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، جوہری توانائی دیگر صاف توانائی کے ذرائع کی تکمیل جاری رکھے گی اور اقتصادی ترقی، ماحولیاتی پائیداری اور طویل مدتی توانائی سلامتی کے فروغ میں معاونت کرے گی۔

حوالہ جات:


Department of Atomic Energy

NITI Aayog

Bhabha Atomic Research Centre (BARC)

Nuclear Fuel Complex

Nuclear Power Corporation of India Limited (NPCIL)

Indira Gandhi Centre for Atomic Research

Press Information Bureau

International Atomic Energy Agency (IAEA)

Nuclear Energy Institute

US Department of Energy

  • https://www.energy.gov/ne/articles/fission-and-fusion-what-difference

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

***

ش ح۔ ک ا ۔ ش ب ن

U.NO. 2715


(ریلیز آئی ڈی: 2304298) وزیٹر کاؤنٹر : 11