ادویات سازی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

دواسازی اور طبی ٹیکنالوجی میں اختراع کو فروغ دینے کے لئے 5,000 کروڑ روپے کی پی آر آئی پی اسکیم کے تحت درخواستیں طلب کرنے کی دوسری تاریخ کا اعلان


ترجیحی دواسازی اور طبی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز اور صنعتوں کے لئے نئے مواقع کا آغاز

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 AUG 2026 1:39PM by PIB Delhi

کیمیکلز اور فرٹیلائزرز کی وزارت کے محکمہ دواسازی نے فارما اور طبی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق اور اختراع کے فروغ (پی آر آئی پی) اسکیم کے تحت درخواستوں کی دوسری تاریخ کا اعلان کیا ہے۔ 5,000 کروڑ روپے کے مالیاتی حجم والی اس اسکیم کا مقصد اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز اور بڑی کمپنیوں کی معاونت کے ذریعے بھارت میں دواسازی اور طبی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق و ترقی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا اور انہیں اختراع کی قدر کے سلسلے میں تیزی سے آگے بڑھنے کے قابل بنانا ہے۔

درخواستیں دو زمروں کے تحت طلب کی گئی ہیں:

  • ابتدائی مرحلہ: اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کے ایسے منصوبے اہل ہوں گے جن کے تحت ترجیحی شعبے میں ٹیکنالوجی ریڈی نیس لیول (ٹی آر ایل) 1، 2 یا 3 پر موجود مصنوعات یا ٹیکنالوجیز کو ٹی آر ایل 5 سے آگے نہیں لے جاتے ہوئے اعلیٰ ٹی آر ایل تک پہنچانے کا مقصد ہو۔ ان منصوبوں کے لیے دو مرحلوں پر مشتمل عمل اپنایا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں مختصر تصوراتی نوٹ جمع کرانا ہوگا، جس کے بعد شارٹ لسٹ کیے گئے درخواست دہندگان سے تفصیلی درخواست طلب کی جائے گی۔ اہل ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس براہِ راست تصوراتی نوٹ جمع کرا سکتے ہیں، یا ماحولیاتی نظام کو معاونت فراہم کرنے والے ادارے اپنے نیٹ ورک میں موجود باصلاحیت منصوبوں کی جانب سے یہ نوٹ جمع کرا سکتے ہیں۔ اسکیم کے تحت ہر منصوبے کے لیے زیادہ سے زیادہ 5 کروڑ روپے تک مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
  • بعد کا مرحلہ: صنعت، اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کے ایسے منصوبے اہل ہوں گے جن کے تحت ترجیحی شعبے میں ٹی آر ایل 4، 5 یا 6 پر موجود مصنوعات یا ٹیکنالوجیز کو مزید اعلیٰ ٹی آر ایل تک پہنچانے کا مقصد ہو۔ بعد کے مرحلے کے منصوبوں کے لیے براہِ راست تفصیلی درخواست فارم کے ذریعے درخواست دی جا سکتی ہے۔ اسکیم کے تحت ہر منصوبے کے لیے زیادہ سے زیادہ 100 کروڑ روپے تک مالی معاونت فراہم کی جائے گی، تاہم یہ معاونت منظور شدہ مجموعی منصوبہ جاتی لاگت کے زیادہ سے زیادہ 35 فیصد تک محدود ہوگی، جبکہ منظور شدہ مجموعی منصوبہ جاتی لاگت کی بقیہ رقم درخواست دہندہ مشترکہ طور پر فراہم کرے گا۔

درخواست فارم اور متعلقہ رہنما ہدایات  پی آر آئی پی پورٹل پر دستیاب ہیں:

https://prip.pharma-dept.gov.in/

درخواست دہندگان درخواست سے متعلق ضروریات کی تفصیلات کے لیے درج ذیل طریقے سے بھی رجوع کر سکتے ہیں:

  • اسکیم سے متعلق دستاویزات: اسکیم اور اسکیم کے رہنما خطوط
  • ابتدائی مرحلے کے منصوبوں کے لیے تصوراتی نوٹ: تصوراتی نوٹ سے متعلق رہنما ہدایات
  • بعد کے مرحلے کے منصوبوں کے لیے تفصیلی درخواست فارم: درخواست فارم سے متعلق رہنما ہدایات
  • دیگر دستاویزات: سنگِ میل کی تفصیلی فہرست اور اکثر پوچھے جانے والے سوالات
  • اسکیم کے مختلف پہلوؤں سے متعلق مزید رہنمائی کے لیے درخواست معاونتی ٹول کٹ سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔

پی آر آئی پی پورٹل پر درخواستیں جمع کرانے کا عمل ستمبر کے وسط تک شروع ہو جائے گا۔ ان درخواست دہندگان سے، جنہوں نے پی آر آئی پی کے پہلے مرحلے کے تحت اپنے منصوبے جمع کرائے تھے، کہا گیا ہے کہ وہ اسی منصوبے کو دوبارہ جمع نہ کرائیں۔ کسی بھی سوال یا وضاحت کے لیے دلچسپی رکھنے والے درخواست دہندگان support-prip@pharma-dept.gov.in پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

پی آر آئی پی اسکیم کا آغاز 2023 میں دواسازی کے شعبے میں تحقیق اور ترقی کو فروغ دینے کے مقصد سے کیا گیا تھا، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ کے شعبے بھی شامل ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد عالمی معیار کا تحقیقی بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا اور باصلاحیت و تربیت یافتہ طلبہ کی ایک مضبوط افرادی قوت تیار کرنا ہے۔ قابلِ عمل تحقیقی نتائج کو تجارتی شکل دینے کے امکانات بڑھانے کے لیے صنعت اور اسٹارٹ اپس اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی رہنمائی اور سرپرستی کی سہولت سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ’میڈ ٹیک مترا‘ اور ’پیٹنٹ مترا‘ جیسے اقدامات اور اسکیم کے تحت تیار کردہ آن لائن پلیٹ فارم مختلف متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون اور شراکت داری کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گے۔

اس اسکیم کے تحت درج ذیل شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے:

  1. نئی ادویات – نئی کیمیائی ادویات/مادے، جن میں نئی کیمیائی اکائی (این سی ای)، نئی حیاتیاتی اکائی (این بی ای) اور نباتاتی ادویاتی مصنوعات شامل ہیں۔
  2. پیچیدہ جنیرک ادویات اور حیاتیاتی مماثل ادویات
  3. جدید طبی آلات (ہدف شدہ اختراعی علاج) – اس سے مراد ایسے طبی آلات ہیں جنہیں اس سے قبل سی ڈی ایس سی او سے منظوری حاصل نہیں ہوئی۔ اس میں تمام جدید طبی آلات شامل ہیں، جن میں درج ذیل بھی شامل ہیں:

(i) مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر مبنی طبی آلات، جن میں سافٹ ویئر کی تیاری، طبی آلے کے طور پر سافٹ ویئر (ایس اے ایم ڈی) اور طبی آلے میں سافٹ ویئر (ایس آئی ایم ڈی) شامل ہیں۔

(ii) جینیاتی ٹیکنالوجی پر مبنی طبی تشخیص اور اسکریننگ کے آلات

(iii) جراحی کے طریقۂ کار کے لیے روبوٹک طبی آلات

(iv) ٹیلی میڈیسن کی سہولت سے لیس طبی آلات اور

(v) ایسا کوئی بھی جدید اِن وٹرو تشخیصی طبی آلہ، جس میں بایومارکرز بھی شامل ہیں، جو دقیق علاج کو ممکن بناتا ہو۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ش ب ن

U.NO.2711


(ریلیز آئی ڈی: 2304244) وزیٹر کاؤنٹر : 12
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati