PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

بھارت میں جوہری توانائی


استعمال، تحفظ اور تیاری

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 AUG 2026 10:15AM by PIB Delhi

بھارت کا جوہری توانائی پروگرام تحفظ کو اولین ترجیح دینے کے اصول پر مبنی ہے۔ سخت ضابطہ جاتی نگرانی، تحفظ کی متعدد تہوں اور جامع ہنگامی تیاری کے نظام کے تحت یہ پروگرام عوام اور ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے قابل اعتماد کم کاربن بجلی فراہم کرتا ہے۔بجلی کی پیداوار کے علاوہ جوہری توانائی صحت عامہ، زراعت، خوراک کے تحفظ، صنعت، سائنسی تحقیق اور صاف ہائیڈروجن کی پیداوار سمیت متعدد شعبوں میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ شانتی ایکٹ، 2025، وکست بھارت کے لیے نیوکلیئر انرجی مشن اور مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجیوں کے ذریعے بھارت جوہری توانائی کے شعبے کو ایک محفوظ، پائیدار اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ستون کے طور پر وسعت دے رہا ہے۔

بھارت کی ہمہ گیر ترقی کے لیے جوہری توانائی

image003_20260828101205_456358.png

بھارت کے ترقیاتی سفر میں جوہری توانائی 1969 میں تاراپور ایٹمک پاور اسٹیشن کے کام شروع کرنے کے بعد سے ایک اہم حصہ رہی ہے۔ آج یہ قابل اعتماد اور کم کاربن بجلی فراہم کرتے ہوئے گھروں، صنعتوں اور اقتصادی ترقی کو توانائی فراہم کر رہی ہے۔ بجلی کی پیداوار کے علاوہ جوہری ٹیکنالوجیز صحت عامہ، زراعت، خوراک کے تحفظ، صنعت، پانی کو میٹھا بنانے اور سائنسی تحقیق سمیت متعدد شعبوں میں بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔تحفظ بھارت کے جوہری توانائی پروگرام کی بنیادی ترجیح ہے۔ ہر جوہری تنصیب ایک مضبوط ضابطہ جاتی نظام کے تحت کام کرتی ہے، جس میں تحفظ کی متعدد تہیں، مسلسل نگرانی، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی جامع تیاری اور سخت حفاظتی ضوابط شامل ہیں۔

بھارت جوہری تحفظ، سلامتی اور حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ بھی قریبی تعاون کرتا ہے۔ اس وقت بھارت سات مقامات پر 24 جوہری بجلی گھر چلا رہا ہے، جن کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 8.78 گیگاواٹ ہے۔ مزید نو جوہری ری ایکٹر زیرِ تعمیر ہیں، جبکہ مزید 10 یونٹس کے قیام کے لیے بھی تیاریاں جاری ہیں۔وکست بھارت کے لیے نیوکلیئر انرجی مشن کا مقصد 2047 تک جوہری توانائی کی مجموعی صلاحیت کو 100 گیگاواٹ تک پہنچانا ہے۔ مرکزی بجٹ 2025-26 میں مقامی طور پر تیار کیے جانے والے چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں کے لیے 20,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ شانتی ایکٹ، 2025، بھارت کے جوہری توانائی پروگرام کو محفوظ، مستحکم اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ انداز میں وسعت دینے کے لیے قانونی و ضابطہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

جوہری توانائی: کاربن سے پاک توانائی کا ذریعہ

نصب شدہ صلاحیت کی فی یونٹ کے لحاظ سے جوہری توانائی بھارت میں کاربن اخراج کے اعتبار سے سب سے زیادہ مؤثر صاف توانائی کا ذریعہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں جوہری توانائی کی ایک گیگاواٹ صلاحیت نے تقریباً 54 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ مساوی اخراج کو روکنے میں مدد کی، جبکہ پن بجلی کے ذریعے 27 لاکھ ٹن، ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کے ذریعے 16 لاکھ ٹن اور شمسی توانائی کے ذریعے 9 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ مساوی اخراج سے بچاؤ ممکن ہوا۔1969 سے اب تک بھارت کے جوہری توانائی پروگرام کے نتیجے میں مجموعی طور پر 851 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ مساوی اخراج سے بچاؤ ہوا ہے، جو 3800 کروڑ سے زائد پختہ درختوں کی جانب سے ایک سال میں جذب کیے جانے والے کاربن کے مساوی ہے۔

جوہری توانائی کے بجلی کے علاوہ دیگر استعمالات

جوہری توانائی کی ٹیکنالوجیز کے مختلف شعبوں میں متنوع استعمال ہیں ۔  یہ ایپلی کیشنز عوامی فلاح و بہبود ، تکنیکی ترقی اور پائیدار قومی ترقی میں معاون ہیں ۔

حفظان صحت

جوہری ٹیکنالوجی بیماریوں کی بروقت تشخیص، کینسر کے درست اور مؤثر علاج اور جدید طبی تحقیق کے ذریعے صحت عامہ کے شعبے میں نمایاں تبدیلی لا رہی ہے۔ محکمۂ جوہری توانائی کے تحت کام کرنے والے تحقیقی ادارے، جن میں بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر (بارک)، اندرا گاندھی سینٹر فار اٹامک ریسرچ (آئی جی سی اے آر)، ٹاٹا میموریل سینٹر (ٹی ایم سی)، ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنٹل ریسرچ (ٹی آئی ایف آر) اور ہریش چندر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایچ آر آئی) شامل ہیں، مقامی طور پر تیار کردہ ریڈیو فارماسیوٹیکلز، جدید طبی تشخیصی و عکس بندی کی ٹیکنالوجیز اور کینسر کے جدید و اختراعی علاج کے طریقے تیار کر رہے ہیں۔

حکومت سستے اور قابل رسائی کینسر کے علاج کی سہولیات کو بھی وسعت دے رہی ہے۔ 2025 میں مظفرپور میں 150 بستروں پر مشتمل ہومی بھابھا کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر کا افتتاح کیا گیا۔ مالی سال 2024-25 کے دوران ٹاٹا میموریل سینٹر میں 1.3 لاکھ مریضوں کا اندراج کیا گیا اور تقریباً پانچ لاکھ خواتین میں منہ، چھاتی اور بچہ دانی کے منہ کے کینسر کی اسکریننگ کی گئی۔مقامی طور پر تیار کردہ شعاعی ٹیکنالوجیز کے ذریعے 1.53 کروڑ طبی آلات کو بھی جراثیم سے پاک کیا گیا، جس سے مریضوں کے تحفظ میں بہتری آئی اور طبی مراکز سے وابستہ انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملی۔

زراعت

جوہری ٹیکنالوجی شعاعوں کے ذریعے جینیاتی تغیر پیدا کرنے اور اسے کراس بریڈنگ کے ساتھ بروئے کار لاتے ہوئے فصلوں کی بہتر اقسام تیار کرنے کے ذریعے زراعت کے شعبے میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ ان اقسام میں زیادہ پیداوار، بڑے بیج، بہتر معیار کی خصوصیات، جلد پکنے کی صلاحیت اور خشک سالی، شدید گرمی، نمکیات اور مختلف بیماریوں کے خلاف زیادہ برداشت جیسی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔محکمۂ جوہری توانائی خوراک اور زرعی مصنوعات کے تحفظ کے لیے شعاعی ٹیکنالوجیز کے استعمال کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے مصنوعات کی مدت استعمال بڑھانے، فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنے، اناج اور مصالحوں کو کیمیکل کے بغیر محفوظ رکھنے اور برآمدات کے لیے بین الاقوامی نباتاتی حفظان صحت کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے۔

بی اے آر سی نے اب تک 70 بہتر فصلوں کی اقسام تیار کی ہیں، جن میں ٹی بی ایم-9 کیلے اور آر ٹی ایس-43 جوار بھی شامل ہیں، جنہیں 2025 میں جاری کیا گیا۔ یہ زیادہ پیداوار دینے والی اور جلد پکنے والی اقسام ملک کے مختلف حصوں میں کاشت کی جا رہی ہیں۔بی اے آر سی فصلوں کی بہتری کے عمل کو تیز کرنے اور غذائی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) اور زرعی یونیورسٹیوں کے ساتھ بھی تعاون کر رہا ہے۔

خوراک کا تحفظ

شعاعی ٹیکنالوجی زرعی پیداوار، مچھلی اور مصالحوں کی مدتِ استعمال(شیلف لائف) بڑھانے اور ان کے خراب ہونے کے عمل کو کم کرنے کے ذریعے خوراک کے تحفظ میں مدد فراہم کرتی ہے۔ آم کی مدتِ استعمال(شیلف لائف) میں اضافے سے سمندری راستے کے ذریعے کم لاگت میں برآمدات ممکن ہوئی ہیں، جبکہ پیاز اور آلو کی مدتِ استعمال بڑھانے سے خراب ہونے کی شرح کم ہوتی ہے اور کسانوں کو معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ مختلف غذائی اشیا کی شعاعی پروسیسنگ کو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے منظوری دے رکھی ہے۔

حکومت نے خوراک کی شعاعی پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کے لیے 2025 میں 17 مفاہمت ناموں (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ ملک میں چھ گاما شعاعی پروسیسنگ مراکز بھی قائم کرکے فعال کیے گئے، جس کے نتیجے میں فعال مراکز کی مجموعی تعداد بڑھ کر 40 ہو گئی ہے۔ یہ مراکز پھلوں، سبزیوں، اناج اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کے معیار کو برقرار رکھنے اور ان کی مدتِ استعمال بڑھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

کان کنی اور نایاب زمینی عناصر

جوہری ٹیکنالوجی بھارت میں اہم معدنیات اور نایاب زمینی عناصر کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جدید جوہری تجزیاتی تکنیکوں کے ذریعے معدنی وسائل کی تلاش، ان کی خصوصیات کے تعین اور پروسیسنگ میں مدد فراہم کی جاتی ہے، جس سے خام معدنیات کے جائزے، نکاسی اور معیار کی جانچ کی درستگی میں بہتری آتی ہے۔بھارت نے نایاب زمینی عناصر کے لیے اپنا پہلا مصدقہ حوالہ جاتی مواد (سرٹیفائیڈ ریفرنس میٹیریل)، فیرّو کاربونیٹائٹ (ایف سی) - بی اے آر سی بی 1401، جاری کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا بھارت میں پہلا اور دنیا بھر میں چوتھا مصدقہ حوالہ جاتی مواد ہے۔ یہ ارضی کیمیائی تجزیے کے لیے ایک معیاری پیمانہ فراہم کرتا ہے، جس سے نایاب زمینی معدنیات کی تلاش، ان کے مؤثر استخراج اور کان کنی کے دوران عمل کی نگرانی میں مدد ملتی ہے، اور اس طرح ملک کی اہم معدنیاتی سلامتی کو مضبوط بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس

جوہری ٹیکنالوجی مقامی تحقیق اور جدید مواد کی تیاری کے ذریعے بھارت کے سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جوہری ٹیکنالوجیز کے استعمال سے تیار کیے جانے والے انتہائی شفاف آئسوٹوپس اور خصوصی نوعیت کے مواد سیمی کنڈکٹر کی تیاری کے لیے نہایت اہم ہیں۔ یہ مواد انتہائی دقیق ساخت کاری، جدید الیکٹرانکس اور اسٹریٹجک ٹیکنالوجی کے شعبوں میں استعمال ہونے والی ایپلی کیشنز کو مدد فراہم کرتے ہیں۔

بھارت نے سیمی کنڈکٹر کے استعمال کے لیے تلچر میں اپنی پہلی الیکٹرانکس گریڈ (99.8 فیصد شفاف) بوران-11 افزودگی کی سہولت قائم کی ہے۔ افزودہ مصنوعات کو مزید پروسیسنگ کے لیے کامیابی کے ساتھ اعلیٰ خالصت والے افزودہ بورک ایسڈ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت سے بھارت سیمی کنڈکٹر مشن کو تقویت ملے گی، اہم الیکٹرانک مواد کے لیے درآمدی انحصار کم ہوگا اور تکنیکی خود انحصاری کو فروغ ملے گا۔

گرین ہائیڈروجن

ہائیڈروجن کو مستقبل کے لیے توانائی کے ایک اہم ذریعے کے طور پر بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے اور توقع ہے کہ صاف اور پائیدار توانائی کے نظام کی جانب منتقلی میں یہ اہم کردار ادا کرے گی۔ جوہری توانائی ہائیڈروجن کی پیداوار کے لیے کاربن سے پاک راستہ فراہم کرتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے قابل اعتماد بجلی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجۂ حرارت کی عمل کاری کے لیے درکار حرارت بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس طرح روایتی پیداواری طریقوں میں فوسل ایندھن پر انحصار اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

سال 2026 میں بھارت نے کلپکم میں جوہری عمل کی حرارت استعمال کرتے ہوئے دنیا کی پہلی ہائیڈروجن پیداوار کی سہولت کا افتتاح کیا۔ مقامی طور پر تیار کردہ یہ ٹیکنالوجی صاف توانائی کے فروغ، توانائی کے تحفظ اور بھارت کے خالص صفر اخراج کے ہدف اور قومی گرین ہائیڈروجن مشن کے مقاصد کے حصول میں مدد فراہم کرتی ہے۔

جوہری ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمالات بھارت کی سائنسی اور تکنیکی صلاحیتوں میں مسلسل اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔ تحقیق، اختراع اور مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجیز میں مسلسل سرمایہ کاری سے اسٹریٹجک اہمیت کے مختلف شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے اقتصادی ترقی، توانائی کے تحفظ اور قومی ترقی کو مزید تقویت ملے گی۔

بھارت کے جوہری پلانٹ تحفظ کو یقینی بناتے ہیں

image004_20260828101228_173b90.jpg

جوہری بجلی گھروں سے متعلق بنیادی حفاظتی تشویش تابکاری اور تابکار مواد کے حادثاتی طور پر اردگرد کے ماحول اور فضا میں خارج ہونے کا خدشہ ہے۔ بھارت کے جوہری پارو پلانٹوں کو عوام اور ماحول کے تحفظ کے لیے تحفظ کی متعدد تہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن، تعمیر اور چلایا جاتا ہے۔

ڈیزائن کی سطح پر حفاظت

بھارت کے جوہری پلانٹس عالمی سطح پر تسلیم شدہ ڈیفنس اِن ڈیپتھ کے اصول پر عمل کرتے ہیں، جس کے تحت حادثات سے بچاؤ کے لیے تحفظ کی متعدد تہیں فراہم کی جاتی ہیں۔ حفاظتی انتظامات کا آغاز اعلیٰ معیار کے ڈیزائن، مضبوط تعمیر، سخت معیار کی جانچ اور ناکامی کی صورت میں خودکار طور پر محفوظ حالت اختیار کرنے والی انجینئرنگ سے ہوتا ہے۔ مسلسل نگرانی، باقاعدہ جانچ اور متبادل حفاظتی نظام آلات یا انسانی غلطیوں کی صورت میں خرابیوں کی بروقت نشاندہی اور ان سے نمٹنے کو یقینی بناتے ہیں۔تابکار مواد کو ماحول میں خارج ہونے سے روکنے کے لیے متعدد طبعی حفاظتی رکاوٹیں موجود ہوتی ہیں۔ ان میں سیرامک ایندھن کی گولیاں، مضبوطی سے بند زرکونیم مرکب دھات کی ایندھن کی سلاخیں، مضبوط دباؤ برداشت کرنے والا برتن یا پریشر ٹیوبز، اور مضبوط کنکریٹ کنٹینمنٹ ڈھانچہ شامل ہیں۔آزادانہ طور پر کام کرنے والے متبادل حفاظتی نظام کسی غیر متوقع صورتحال میں ری ایکٹر کو ہنگامی طور پر بند کرنے، ری ایکٹر کے مرکزی حصے کو ٹھنڈا رکھنے اور بجلی کی قابل اعتماد فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ ہر جوہری بجلی گھر کو زلزلوں، سیلاب، سمندری طوفان، سونامی اور دیگر بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔

image005_20260828101238_573a63.png

آپریشن کے دوران تابکاری (ریڈیولاجیکل)سے تحفظ

بھارت کے جوہری بجلی گھر تابکاری سے متاثر ہونے کے خطرے کو کم سے کم رکھنے کے لیے ایز لو ایز ریزنبللی اچیوبل (اے ایل اے آر اے) کے اصول پر عمل کرتے ہیں۔ بجلی گھر کے ڈیزائن، حفاظتی ڈھالوں اور دیکھ بھال کے طریقۂ کار کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ کام کرنے والے افراد کو تابکاری کی مقدار ممکنہ حد تک کم سے کم ہو۔اے ای آر بی کے مقرر کردہ ضوابط کے مطابق پیشہ ورانہ تابکاری کی اوسط سالانہ حد پانچ سال کی مدت میں 20 ملی سیورٹ (ایم ایس وی) ہے، جبکہ پانچ سال میں مجموعی حد 100 ملی سیورٹ اور کسی بھی ایک سال میں زیادہ سے زیادہ حد 30 ملی سیورٹ ہے۔ہر جوہری پاورپلانٹ میں ایک مخصوص ہیلتھ فزکس یونٹ موجود ہوتا ہے، جو تابکاری کی سطح، عملے کو لاحق تابکاری، بجلی گھر کے نظام اور ماحول میں ہونے والے اخراج کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔ انجینئرنگ کنٹرول، حفاظتی آلات، وینٹیلیشن سسٹم اور باقاعدہ تربیت تابکاری سے تحفظ کے انتظامات کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

image006_20260828101249_5b44f9.jpg

ملی سیورٹ (ایم ایس وی)

ملی سیورٹ (ایم ایس وی) انسانی جسم پر تابکاری کے اثرات کی پیمائش کی ایک اکائی ہے۔ بھارت میں عام افراد کے لیے سالانہ تابکاری کی مقدار کی حد 1 ملی سیورٹ مقرر ہے، جو محفوظ حدود کے اندر ہے اور جوہری بجلی گھروں کے معمول کے آپریشن کے دوران عوام اور ماحول کے مضبوط تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔اے ای آر بی تابکاری سے متعلق حفاظتی معیارات کی پابندی کی تصدیق کے لیے وقتاً فوقتاً ضابطہ جاتی معائنہ کرتا ہے۔

تابکار فضلہ کا انتظام

تابکار فضلے کا محفوظ انتظام بھارت کے جوہری توانائی پروگرام کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ فضلے کی صفائی اور تلفی سے لے کر حتمی انتظام تک ہر مرحلے میں سخت اور کثیر سطحی ضابطہ جاتی نظام پر عمل کیا جاتا ہے۔ جوہری توانائی ریگولیٹری بورڈ (اے ای آر بی) فضلے کے انتظام سے متعلق تمام سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے۔تمام سرگرمیاں جوہری توانائی (تابکار فضلے کی محفوظ تلفی) ضوابط، 1987 اور اے ای آر بی کے تابکار فضلے کے انتظام سے متعلق حفاظتی ضابطے کے مطابق انجام دی جاتی ہیں۔ بارک کی ماحولیاتی جائزہ لیبارٹریاں ماحولیاتی تحفظ کی مسلسل نگرانی کرتی ہیں۔ فضلے کے انتظام اور تلفی کی سہولیات کی بھی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے۔

مائع تابکار فضلہ کو مقررہ سخت حفاظتی معیارات پر پورا اترنے کے بعد ہی صاف کیا جاتا ہے، مناسب حد تک پتلا کیا جاتا ہے اور خارج کیا جاتا ہے۔ ٹھوس تابکار فضلے کو مخصوص طریقۂ کار کے تحت پراسیس کرکے خصوصی طور پر تیار کردہ اسی مقام پر موجود سہولیات میں تلف کیا جاتا ہے۔ تلفی کے طریقے فضلے میں موجود تابکاری کی سطح کے مطابق طے کیے جاتے ہیں۔اے ای آر بی ہر مقام کے لیے مخصوص اخراج کی حدود مقرر کرتا ہے اور ان حدود کی پابندی کی باقاعدگی سے تصدیق کرتا ہے۔ جوہری پاور پلانٹ جدید ٹیکنالوجیز اور بہتر عملی طریقۂ کار کے ذریعے تابکار فضلے کی پیداوار کو مسلسل کم کر رہے ہیں۔یہ جامع طریقۂ کار عوام کے تحفظ، ماحولیات کے تحفظ اور جوہری سلامتی کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھنے کو یقینی بناتا ہے۔

وٹریفیکیشن کی ٹیکنالوجی

بھارت ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے پاس اعلیٰ سطح کے تابکار فضلے کے محفوظ انتظام کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ وٹریفیکیشن کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر (بی اے آر سی) نے یہ ٹیکنالوجی تیار کی ہے، جس کے ذریعے اعلیٰ سطح کے تابکار فضلے کو مستحکم شیشے کے بلاکس میں تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ طویل مدت تک اسے محفوظ طریقے سے منظم اور ذخیرہ کیا جا سکے۔

مجموعی طور پر، یہ تمام اقدامات سخت قومی ضوابط اور بین الاقوامی حفاظتی معیارات کے مطابق بھارت کی جوہری تنصیبات کے محفوظ، مستحکم اور قابل اعتماد آپریشن کو یقینی بناتے ہیں۔

جوہری ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری

بھارت نے جوہری ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے کثیر سطحی انتظامی نظام قائم کیا ہے، جس میں قومی، ریاستی، ضلعی اور جوہری پلانٹ کی سطح پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقۂ کار کو باہم مربوط کیا گیا ہے۔ ڈی اے ای کی قیادت اور اے ای آر بی کی نگرانی میں یہ نظام کسی بھی غیر متوقع جوہری یا تابکاری سے متعلق ہنگامی صورتحال کے دوران مربوط منصوبہ بندی، فوری کارروائی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔

انٹیگریٹڈ نیشنل فریم ورک:جوہری اور تابکاری سے متعلق ہنگامی حالات کو قومی آفات سے نمٹنے کے منصوبے میں شامل کیا گیا ہے اور انہیں ضلعی آفات سے نمٹنے کے منصوبوں کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔

مخصوص قومی رابطہ کاری: ڈی اے ای ایک مخصوص بحران انتظامی منصوبے کے ذریعے تکنیکی تیاری اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی کارروائیوں کی قیادت کرتا ہے۔

لازمی ہنگامی تیاری: ہر جوہری پاور پلانٹ اے ای آر بی سے منظور شدہ لازمی جائے وقوعہ اور جائے وقوعہ سے باہر ہنگامی ردِعمل کے منصوبے برقرار رکھتا ہے۔

ملٹی ایجنسی ایمرجنسی پلاننگ :جوہری پاور پلانٹ، ضلعی انتظامیہ اور ضلعی آفات سے نمٹنے والی اتھارٹیاں باقاعدگی سے فرضی مشقیں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی مشقیں منعقد کرتی ہیں۔

صلاحیت سازی اور عوام کا تحفظ: پولیس، ہنگامی امدادی کارکنوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو خصوصی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اہم مقامات پر تابکاری کا پتہ لگانے والے آلات نصب کیے گئے ہیں۔

طبی تیاری: صحت و خاندانی بہبود کی وزرات، محکمۂ جوہری توانائی اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ طبی ماہرین کو خصوصی تربیت فراہم کرتے ہیں اور مخصوص طبی نگہداشت کے لیے تابکاری سے متعلق ہنگامی طبی نیٹ ورک قائم رکھتے ہیں۔

اخراج اور ہنگامی منصوبہ بندی کے زون: جوہری پاور پلانٹس کم آبادی والے علاقوں میں قائم کیے جاتے ہیں، جہاں مخصوص حفاظتی علاقے موجود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہنگامی حالات میں ضرورت پڑنے پر مربوط کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے 16 کلومیٹر پر محیط ہنگامی منصوبہ بندی کا علاقہبھی مقرر کیا جاتا ہے۔

نگرانی: ہر جوہری پاور پلانٹ میں ایک ماحولیاتی سروےلیبارٹری موجود ہوتی ہے، جو معمول کے آپریشن کے دوران اور کسی بھی غیر متوقع ہنگامی صورتحال میں ہوا، پانی، مٹی، نباتات اور خوراک میں تابکاری کی سطح کی مسلسل نگرانی کرتی ہے۔

کثیر سطحی حفاظتی نظام سے لیس پی ایچ ڈبلیو آر ری ایکٹر

بھارت میں تیار کیے گئے پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹرز (پی ایچ ڈبلیو آر) دو آزاد اور مختلف نوعیت کے شٹ ڈاؤن نظاموں سے لیس ہوتے ہیں۔ اگر آپریشن کے دوران غیر معمولی حالات کا پتا چلتا ہے تو یہ نظام خودکار طور پر ری ایکٹر کو بند کر دیتے ہیں، جبکہ مخصوص کولنگ سسٹم ری ایکٹر کے مرکزی حصے سے حرارت خارج کرنے کا عمل جاری رکھتے ہیں تاکہ حفاظتی صورتحال برقرار رہے۔

یہ اقدامات ایک مضبوط اور بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ جوہری ہنگامی انتظامی نظام کے ذریعے عوام، ماحولیات اور اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے بھارت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

جوہری توانائی: مفروضے اور حقائق

جوہری توانائی نے بجلی کی پیداوار، صحت عامہ، زراعت اور صنعت کے شعبوں میں نمایاں تبدیلی لائی ہے، تاہم اس کے بارے میں متعدد غلط فہمیاں اب بھی عوامی تاثر کو متاثر کرتی ہیں۔ سائنسی شواہد اور کئی دہائیوں پر محیط محفوظ عملی تجربہ اس کی سلامتی، قابل اعتماد کارکردگی اور پُرامن استعمالات کے بارے میں واضح اور مستند تصویر پیش کرتے ہیں۔

مفروضہ: جوہری پاور پلانٹ کے قریب رہنا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

حقیقت: زیرعمل جوہری پاور پلانٹس سے خارج ہونے والی تابکاری مقررہ حفاظتی حدود کے اندر رہتی ہے اور قریبی آبادیوں کی صحت کے لیے کسی اضافی خطرے کا باعث نہیں بنتی۔

مفروضہ: تابکار فضلے کا محفوظ طریقے سے انتظام ممکن نہیں اور یہ مستقل طور پر ماحول کو آلودہ کر دے گا۔

حقیقت: تابکار فضلے کا محفوظ انتظام متعدد حفاظتی رکاوٹوں، مسلسل نگرانی اور سخت ضابطہ جاتی نگرانی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

مفروضہ: تابکاری کی ہر مقدار نقصان دہ ہوتی ہے۔

حقیقت: تابکاری ہمارے قدرتی ماحول کا ایک حصہ ہے۔ سورج، مٹی، ہوا اور خوراک سے حاصل ہونے والی تابکاری کی کم سطحیں روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں اور نقصان دہ نہیں ہوتیں۔

مفروضہ: بھارت کے جوہری پاور پلانٹس غیر محفوظ ہیں۔

حقیقت: بھارت کئی دہائیوں سے جوہری تحفظ کے شعبے میں ایک مضبوط ریکارڈ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ متعدد حفاظتی نظام اور طبعی حفاظتی رکاوٹیں جوہری پاور پلانٹس کے محفوظ آپریشن کو یقینی بناتی ہیں۔

مفروضہ: سڑکوں یا ریلوے کے ذریعے جوہری مواد کی نقل و حمل عوام کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

حقیقت: جوہری مواد کو خصوصی طور پر تیار اور آزمودہ کنٹینروں میں منتقل کیا جاتا ہے، جو قومی اور بین الاقوامی حفاظتی معیارات پر پورا اترتے ہیں۔

مفروضہ: جوہری توانائی ماحول کو بھی کوئلے یا تیل کی طرح نقصان پہنچاتی ہے۔

حقیقت: جوہری توانائی فوسل ایندھن جلائے بغیر صاف اور کم کاربن بجلی پیدا کرتی ہے، جس سے کوئلے کے متبادل کے طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

مفروضہ: پلوٹونیم/جوہری مواد کو چھونا جان لیوا ہو سکتا ہے۔

حقیقت: جوہری مواد کو سخت حفاظتی ضوابط کے تحت سنبھالا جاتا ہے۔ خصوصی طریقۂ کار اور حفاظتی آلات تابکاری سے براہِ راست واسطہ پڑنے سے بچاتے ہیں اور اسے محفوظ طریقے سے سنبھالنے کو یقینی بناتے ہیں۔

مفروضہ: ہمیں جوہری توانائی کے بجائے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کا انتخاب کرنا چاہیے۔

حقیقت: جوہری اور قابل تجدید توانائی ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ جوہری توانائی چوبیس گھنٹے قابل اعتماد بجلی فراہم کرتی ہے اور شمسی توانائی کے مقابلے میں بہت کم زمین درکار ہوتی ہے۔

بھارت کا جوہری توانائی پروگرام سائنسی مہارت، سخت حفاظتی معیارات اور ضابطہ جاتی نگرانی پر مبنی ہے۔ عوام میں زیادہ سے زیادہ بیداری قومی ترقی کے لیے جوہری توانائی کے محفوظ، پُرامن اور ذمہ دارانہ استعمال پر اعتماد کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

تابکاری کی نگرانی

جھارکھنڈ میں یو سی آئی ایل کی یورینیم کان کنی کے علاقوں کے اطراف بڑے پیمانے پر کیے گئے صحت کے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ گاوں والوں میں پائی جانے والی صحت سے متعلق مشکلات ان مسائل سے ملتی جلتی ہیں جو یکساں سماجی و معاشی حالات رکھنے والے دیگر دیہی علاقوں میں عام طور پر پائی جاتی ہیں۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ مقامی طور پر پائی جانے والی بیماریوں کے نمونے تابکاری کی زد میں آنے سے منسلک ہیں۔ یو سی آئی ایل، بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر (بی اے آر سی) اور متعلقہ ضابطہ جاتی اداروں کے تعاون سے صحت کی مسلسل نگرانی، ماحولیاتی نگرانی اور مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کے پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔

نتیجہ

بھارت کا جوہری توانائی پروگرام حکومت ہند کے توانائی کے تحفظ، تکنیکی خود انحصاری، عوامی فلاح و بہبود اور اعلیٰ ترین حفاظتی معیارات کے تئیں پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ صاف بجلی پیدا کرنے کے علاوہ جوہری ٹیکنالوجیز ملک کے مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلی لا رہی ہیں۔ وکست بھارت کے لیے نیوکلیئر انرجی مشن اور شانتی ایکٹ جیسے تبدیلی لانے والے اقدامات کی رہنمائی میں بھارت ایک مضبوط، اختراع پر مبنی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ جوہری ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہا ہے۔مضبوط ضابطہ جاتی نگرانی، جدید ری ایکٹر ڈیزائن اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی جامع تیاری جوہری تنصیبات کے محفوظ اور مستحکم آپریشن کو مسلسل یقینی بنا رہی ہے۔ 2011 میں فوکوشیما حادثے کے بعد بھارت کے ہر جوہری بجلی گھر کا جامع حفاظتی جائزہ لیا گیا، جس سے بھارتی ری ایکٹرز کے ڈیزائن کی مضبوطی کی مزید توثیق ہوئی۔ مختصر اور درمیانی مدت کے لیے تجویز کردہ تمام حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ موجودہ اور مستقبل کے ری ایکٹرز میں طویل مدتی حفاظتی بہتری کا عمل جاری ہے۔جیسے جیسے بھارت وکست بھارت 2047 کے ہدف اور 2070 تک خالص صفر اخراج کے مقصد کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، جوہری توانائی پائیدار ترقی، توانائی کے تحفظ اور قومی ترقی کے ایک اہم ستون کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

حوالہ جات:

Department of Atomic Energy

 

Atomic Energy Regulatory Board (AERB)

 

Bhabha Atomic Research Centre (BARC)

 

Nuclear Power Corporation of India Limited (NPCIL)

 

Press Information Bureau

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

********

ش ح۔ ش آ ۔ م ش

U. No-2695


(ریلیز آئی ڈی: 2304137) وزیٹر کاؤنٹر : 8