صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت نے مرکزی بجٹ 2026-27 میں اعلان کردہ صحت کے شعبہ کے اہم منصوبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا


پہلے مرحلہ میں مارچ 2027 تک 160 ضلع اسپتالوں کو مضبوط بنایا جائے گا، ہنگامی اور ٹراما کیئر کی سہولیات میں توسیع پر توجہ

جائزے میں ادویات کے ضابطۂ کار کو مضبوط بنانے، معاون طبی شعبہ سے وابستہ افرادی قوت میں توسیع، ذہنی صحت اور ٹراما کیئر کی سہولیات کو بہتر بنانے اور طبی سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 AUG 2026 9:03PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جگت پرکاش نڈا نے آج مرکزی بجٹ 2026-27 میں صحت کے شعبے کے لیے اعلان کردہ اہم منصوبوں اور اقدامات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس جائزے کا مقصد ان منصوبوں پر بروقت عمل درآمد، مختلف وزارتوں اور محکموں کے درمیان مؤثر تال میل اور قابلِ پیمائش نتائج کو یقینی بنانا تھا۔ جائزے کے دوران جناب نڈا نے وزارت کے مختلف محکموں کی جانب سے کی گئی تیاریوں کا جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ بجٹ میں کیے گئے اعلانات کو مقررہ مدت کے اندر ٹھوس پروگراموں، مضبوط اداروں اور صحت کی دیکھ بھال کی بہتر صلاحیتوں میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

وزیر موصوف نے ضلع اسپتالوں میں ہنگامی اور ٹراما کیئر مراکز کے قیام اور انہیں مضبوط بنانے کے ذریعے ہنگامی اور ٹراما کیئر کی صلاحیت میں 50 فیصد اضافہ کرنے کے اقدام میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہیں بتایا گیا کہ بجٹ کے بعد منعقدہ ویبینار کے نتیجے میں تین کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ ان میں پہلی کمیٹی بنیادی ڈھانچے، ادویات، تشخیصی سہولیات اور معیار کا جائزہ لے رہی ہے، دوسری کمیٹی انسانی وسائل، تعلیمی توسیع اور ہنرمندی کے فروغ سے متعلق امور کا جائزہ لے رہی ہے؛ جبکہ تیسری کمیٹی ڈجیٹل نظام اور اسپتال پہنچنے سے قبل فراہم کی جانے والی طبی خدمات کے انضمام سے متعلق امور دیکھ رہی ہے۔ ضلع اسپتالوں میں  ہندوستانی عوامی صحت کے معیارات (آئی پی ایچ ایس) کے مطابق سہولیات کی کمی کا جامع جائزہ بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ مریضوں کی تعداد، بنیادی ڈھانچے اور مجموعی تیاری کی بنیاد پر 613 ضلع اسپتالوں کو مرحلہ وار نفاذ کے لیے مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں سے 160 ضلع اسپتالوں کو پہلے مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا ہے اور مارچ 2027 تک انہیں مضبوط بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ دوسرے مرحلہ میں 203 ضلع اسپتال جبکہ تیسرے مرحلے میں باقی 250 ضلع اسپتال شامل ہوں گے۔ جناب نڈا نے اس بات پر زور دیا کہ قریبی نگرانی ضروری ہے تاکہ پہلے مرحلہ پر مرکوز انداز میں اور مقررہ مدت کے اندر پیش رفت یقینی بنائی جاسکے۔

وزیر موصوف نے نیشنل ایمرجنسی لائف سپورٹ (این ای ایل ایس) تربیت میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ اس تربیت کا مقصد صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ پیشہ ور افراد اور صف اول کے کارکنوں کی ہنگامی طبی خدمات سے متعلق مہارتوں اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اس تربیت کے ذریعہ جان لیوا حالات میں مبتلا مریضوں کی بروقت جانچ، حالت کو مستحکم کرنے اور مؤثر علاج و نگہداشت کے لیے تیاری کو بہتر بنانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ تربیت ضلع اسپتالوں میں ہنگامی اور ٹراما کیئر کی صلاحیت میں توسیع کے اقدام کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔

وزیر موصوف نے بجٹ میں اعلان کردہ معاون طبی پیشہ ور افراد (اے ایچ پی) کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدام میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ اس اقدام کا مقصد اگلے پانچ برسوں کے دوران 10 منتخب شعبوں میں ایک لاکھ مزید معاون طبی پیشہ ور افراد تیار کرنا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ اس سلسلہ میں صنعت، ریاستی حکومتوں، مرکزی اور ریاستی سرکاری اداروں اور اسپتالوں، عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں اور ضابطہ جاتی اداروں کے ساتھ مشاورت کی گئی ہے۔ اخراجاتی مالیاتی کمیٹی (ای ایف سی) کے مسودہ نوٹ کو تیار کرکے متعلقہ وزارتوں اور نیتی آیوگ کو بھیج دیا گیا ہے۔ وزیر موصوف کو مزید بتایا گیا کہ 27 جولائی 2026 کو معزز وزیر خزانہ کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں مالی اعانت کے مختلف متبادل پر غور کیا گیا اور قابلِ عمل سرکاری و نجی شراکت داری (پی پی پی) ماڈل سمیت دیگر امکانات پر بات چیت جاری ہے۔

وزیر موصوف نے محکمہ صحت تحقیق کی جانب سے آگے بڑھائے جارہے اقدامات، جن میں بایوفارما شکتی اور پانچ علاقائی طبی مراکز کا قیام شامل ہے، کا تفصیلی جائزہ لیا۔ بایوفارما شکتی کے تحت ایک ہزار سے زائد تسلیم شدہ کلینیکل ٹرائل مراکز(سی ٹی سی)  پر مشتمل نیٹ ورک قائم کرنے کے مقصد سے صنعت سے وابستہ فریقوں کے ساتھ مشاورت، میڈیکل کالجوں کے ساتھ آگاہی اجلاس اور کلینیکل ٹرائل سے متعلق تربیتی ورکشاپس منعقد کی گئی ہیں۔ مجوزہ 500 کروڑ روپے کے اس اقدام میں مراکز اور ذیلی مراکز پر مشتمل کلینیکل ٹرائل نیٹ ورک(سی ٹی این ڈبلیو) ، بہتر ڈیٹا اور ڈجیٹل نظام، کلینیکل ٹرائلز کی مرکزی سہولت کاری کے لیے ایک ادارہ اور مراکز کی منظوری کا ایک جامع نظام قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ جناب نڈا نے پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے  ہندوستان کی حیاتیاتی ادویات اور کلینیکل تحقیق کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے ضروری ادارہ جاتی اور تحقیقی نظام تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

پانچ علاقائی طبی مراکز کے قیام کی تجویز کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر موصوف کو بتایا گیا کہ متعلقہ تجاویز اور معلومات صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں۔ پانچ ترجیحی بیماریوں اور طبی حالات، یعنی خون میں چکنائی کی غیر معمولی سطح، عمومی اضطرابی عارضہ، قلبی امراض، بے خوابی اور جوڑوں کے گھِساؤ کے مرض کی نشاندہی کی گئی ہے، تاکہ شواہد پر مبنی مربوط علاج کے طریق کار تیار کیے جاسکیں۔ مجوزہ ورکنگ گروپس کے لیے  ہندوستانی طبی تحقیقاتی کونسل (آئی سی ایم آر) اور مرکزی آیورویدک علوم تحقیقی کونسل (سی سی آر اے ایس) کے رابطہ افسران بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ جناب نڈا نے متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا تاکہ یہ اقدام  ہندوستان میں ابھرتے ہوئے طبی قدر پر مبنی سیاحتی نظام میں بامعنی کردار ادا کرسکے۔

وزیر موصوف نے عالمی معیارات اور منظوری کے مقررہ اوقات کے مطابق کام کرنے کے لیے مرکزی ادویات معیارات و کنٹرول تنظیم (سی ڈی ایس سی او) کو ایک مخصوص سائنسی جائزہ کیڈر اور ماہر افرادی قوت کے ذریعے مضبوط بنانے سے متعلق بجٹ تجویز پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہیں بتایا گیا کہ افرادی قوت کے ڈھانچے، عہدوں کی تعداد، تنخواہ کی سطح اور مختلف سطحوں پر مستقل اور لچکدار افرادی قوت کے تناسب کو حتمی شکل دینے کے لیے تشکیل دی گئی ماہر کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ جناب نڈا نے مؤثر، مضبوط اور عالمی معیارات کے مطابق ادویات کے ضابطہ جاتی نظام کو یقینی بنانے کے لیے ضابطہ جاتی صلاحیت اور سائنسی مہارت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ذہنی صحت کی دیکھ بھال کو مضبوط بنانے سے متعلق اقدامات میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز-دو (نمہنس-سکنڈ) کا قیام اور رانچی کے مرکزی ادارۂ نفسیات (سی آئی پی) اور تیج پور کے لوک پریہ گوپی ناتھ بوردولوئی علاقائی ادارۂ ذہنی صحت (ایل جی بی آر آئی ایم ایچ) کو علاقائی اعلیٰ اداروں کے طور پر  فروغ دینا شامل ہے۔ وزیر موصوف کو بتایا گیا کہ نمہنس-سکنڈ سے متعلق ماہر کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے اور مجوزہ ادارے میں ایک ہزار بستروں کی گنجائش کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ رانچی کے سی آئی پی اور تیج پور کے ایل جی بی آر آئی ایم ایچ کو مضبوط بنانے کی مجوزہ اسکیم میں جدید نفسیاتی، اعصابی اور اعصاب کی جراحی کی سہولیات کے ساتھ تحقیق، تربیت اور تعلیمی صلاحیتوں میں اضافہ شامل ہے۔ فوری ادارہ جاتی معاونت کے طور پر بنگلور کا نمہنس دونوں اداروں کی رہنمائی کرے گا، تاکہ انتظامی اور ادارہ جاتی ڈھانچے، تعلیمی لچک، تحقیقی ترقی، طبی انتظام اور کمیونٹی سے مربوط ہونے سے متعلق نشاندہی کردہ خامیوں کو دور کیا جاسکے۔

جناب نڈا نے ریاستوں کو نجی شعبے کے اشتراک سے پانچ علاقائی طبی مراکز قائم کرنے میں معاونت فراہم کرنے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا۔ اس اقدام کا مقصد  ہندوستان کو طبی قدر پر مبنی سیاحت کے لیے عالمی مرکز کے طور پر فروغ دینا ہے۔ مجوزہ علاقائی طبی مراکز میں طبی، تعلیمی اور تحقیقی سہولیات کو آیوش مراکز، طبی قدر پر مبنی سیاحت کی سہولت کاری کے مراکز، تشخیصی خدمات، بعد از علاج نگہداشت اور بحالی کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ مربوط کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ وزیر موصوف کو نیشنل ایسوسی ایشن آف ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز آف انڈیا (نیٹ ہیلتھ)، فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف سی سی آئی- فکی)، سروسز ایکسپورٹ پروموشن کونسل، انویسٹ انڈیا، نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ہاسپٹلز اینڈ ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز اور کوالٹی کونسل آف انڈیا کے ساتھ منعقدہ مشاورت اور صلاحیت سازی کی ورکشاپس کے بارے میں آگاہ کیا گیا، جن میں حیدرآباد میں منعقدہ علاقائی ورکشاپ بھی شامل ہے۔ ان مشاورتی اجلاسوں سے سامنے آنے والے قابلِ عمل نکات کو مناسب کارروائی کے لیے قومی طبی و فلاحی سیاحت فروغ بورڈ، وزارت سیاحت کو بھیجا جائے گا۔

جائزے کے دوران جناب نڈا نے اس بات پر زور دیا کہ بجٹ میں اعلان کردہ مختلف اقدامات ایک دوسرے سے گہرے طور پر منسلک ہیں اور ان کے مؤثر نفاذ کے لیے محکموں، وزارتوں، ریاستوں، اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان مسلسل تال میل ضروری ہے۔ انہوں نے مقررہ مدت میں عمل درآمد، باقاعدہ نگرانی اور بین وزارتی تال میل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے واضح طور پر متعین اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے  اس بات پر بھی زور دیا کہ ماہرین سے مشاورت، ادارہ جاتی جائزے، خامیوں کے تجزیے اور عمل درآمد کے لائحۂ کار کی تیاری سمیت تمام ابتدائی اقدامات کو زمینی سطح پر نمایاں پیش رفت میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

وزیر موصوف کی جانب سے جن اقدامات کا جائزہ لیا گیا، ان کا مجموعی مقصد ہنگامی اور ٹراما کیئر، معاون طبی خدمات اور مریضوں کی دیکھ بھال سے وابستہ افرادی قوت، ادویات کے ضابطہ جاتی نظام کی صلاحیت، طبی تحقیق اور حیاتیاتی ادویات سے متعلق صلاحیتوں، ذہنی صحت کی دیکھ بھال، طبی تعلیم اور خصوصی طبی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔ مارچ 2027 تک 160 ضلع اسپتالوں کو مضبوط بنانے کے پہلے مرحلہ کے ساتھ ساتھ 1.5 لاکھ نگہداشت فراہم کرنے والوں کی جاری تربیت اور مجوزہ ہنرمندی کی تربیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت بجٹ میں کیے گئے اعلانات کو صحت کی خدمات کی فراہمی اور طبی افرادی قوت کی صلاحیت میں ٹھوس بہتری میں تبدیل کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

اجلاس میں مرکزی وزارت صحت کی سکریٹری محترمہ پُنیا سلیلا سری واستوا، محکمۂ صحت تحقیق کے سکریٹری ڈاکٹر راجیو بہل، ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر (قومی صحت مشن) محترمہ ارادھنا پٹنائک، ایڈیشنل سکریٹری (طبی تعلیم) محترمہ ونوڈ کوٹوال، ایڈیشنل سکریٹری جناب وجے نہرا اور وزارت کے تمام جوائنٹ سکریٹریز اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

*****

ش ح- ظ الف- ش ہ ب

UR No. 2694


(ریلیز آئی ڈی: 2304065) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी