شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
سمندری مچھلی کے وسائل کے تجرباتی مالیاتی اثاثہ جاتی کھاتوں کی تدوین کے لیے طریقۂ کار سے متعلق نظریاتی مقالہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 AUG 2026 5:23PM by PIB Delhi
وزارتِ شماریات و پروگرام کے نفاذ (ایم او ایس پی آئی)نے ’’سمندری مچھلی کے وسائل کے تجرباتی مالیاتی اثاثہ جاتی کھاتوں کی تدوین کے لیے طریقۂ کار‘‘ کے عنوان سے ایک نظریاتی مقالہ جاری کیا ہے۔ یہ مقالہ ماحولیاتی و معاشی حسابات کے نظام (ایس ای ای اے) کے مرکزی فریم ورک سے ہم آہنگ ہے، جسے اقوام متحدہ کے شماریاتی کمیشن نے ایک بین الاقوامی شماریاتی معیار کے طور پر منظور کیا ہے۔
2018 سے وزارتِ شماریات و پروگرام کے نفاذ (ایم او ایس پی آئی)اقوام متحدہ کے ماحولیاتی و معاشی حسابات کے نظام (یو این ایس ای ای اے) کے فریم ورک پر عمل کرتے ہوئے ’اینوی اسٹیٹس انڈیا‘ سلسلے کے تحت زمین، پانی، جنگلات، گردہ افشانی، معدنیات وغیرہ جیسے مختلف موضوعات پر ماحولیاتی حسابات مرتب کر رہی ہے۔ اسی بنیاد کو آگے بڑھاتے ہوئے وزارتِ شماریات و پروگرام کے نفاذ نے سمندری مچھلی کے وسائل کے تجرباتی مالیاتی اثاثہ جاتی کھاتے تیار کرنے کے لیے طریقۂ کار وضع کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کی سمت میں ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔
اہمیت
مچھلی کے وسائل قدرتی وسائل کا ایک اہم حصہ ہیں۔ غذائی تحفظ اور معاشی سرگرمیوں کے لیے ماہی گیری پر مسلسل بڑھتے ہوئے انحصار کے باعث مچھلی کے ذخائر کی حالت، پائیداری، طویل مدتی پیداواری صلاحیت اور مچھلی کے وسائل کی قدر کا ماحولیاتی و معاشی حسابات کے فریم ورک کے تحت منظم طریقے سے جائزہ لینا مزید اہم ہو گیا ہے۔ معاشی قدر کا تعین ماہی گیری کے وسائل اور ان کے ماحولیاتی نظام سے حاصل ہونے والے مختلف فوائد کی پیمائش اور باہمی موازنے کا ایک ذریعہ فراہم کرتا ہے، جو ان وسائل کے دانش مندانہ استعمال اور بہتر انتظام میں معاونت کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
نظریاتی مقالے کے بارے میں
اس نظریاتی مقالے میں بھارت کے ماہی گیری کے شعبے کی جامع تفہیم پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے، جس میں معیشت میں اس شعبے کے کردار اور ماہی گیری سے متعلق دیگر اہم اعداد و شمار کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس میں بھارت کے ماہی گیری کے شعبے میں رائج تصورات، اصطلاحات، درجہ بندیوں اور ادارہ جاتی انتظامات کو بھی پیش کیا گیا ہے، ساتھ ہی قدرتی وسائل کے حسابات مرتب کرنے کے لیے متعلقہ اعداد و شمار کی دستیابی کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
اس مقالے میں مزید ایس ای ای اے کے مرکزی فریم ورک کے حساباتی ڈھانچے اور بنیادی تصورات کی وضاحت کی گئی ہے اور سمندری ماہی گیری کے وسائل کے حسابات مرتب کرنے کے لیے ایک طریقۂ کار پیش کیا گیا ہے۔ او ای سی ڈی (2025) کی جانب سے پیش کردہ ‘‘قومی حسابات میں قدرتی وسائل کی پیمائش: تدوینی رہنما’’ میں تجویز کردہ طریقۂ کار کی بنیاد پر اس مقالے میں بھارت کے تناظر میں اس طریقۂ کار کے عملی اطلاق کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں اعداد و شمار کی دستیابی اور موجودہ ادارہ جاتی انتظامات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اس میں دستیاب اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے سمندری ماہی گیری کے وسائل کے حسابات مرتب کرنے کے مرحلہ وار طریقۂ کار کو بھی پیش کیا گیا ہے، جبکہ اعداد و شمار میں موجود اہم خلا، طریقۂ کار سے متعلق رکاوٹوں اور مستقبل میں بہتری کے امکانات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
اہم جھلکیاں:
مالیاتی اثاثہ جاتی کھاتوں کا فریم ورک، ایس ای ای اے پر مبنی ماحولیاتی و معاشی حسابات کے نظام میں طبعی ذخیرے کی حالت، اثاثے کی مدتِ حیات، وسائل کے انحطاط، ازسرِنو بحالی اور مالیاتی قدر کے تعین کو یکجا کرنے کے لیے حساباتی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ طبعی اور مالیاتی کھاتوں کے مربوط جائزے سے یہ اہمیت واضح ہوتی ہے کہ ایس ای ای اے پر مبنی ماحولیاتی و معاشی حسابات کے فریم ورک میں مچھلی کے وسائل کو بیک وقت حیاتیاتی وسائل اور معاشی اثاثوں کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
اس مطالعے کے تحت تیار کیا گیا فریم ورک سمندری وسائل کی دولت میں ہونے والی تبدیلیوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور پائیداری کے جائزے، سمندری وسائل کی منصوبہ بندی اور شواہد پر مبنی ماہی گیری کے انتظام کے لیے ماہی گیری سے متعلق اعداد و شمار کی تجزیاتی افادیت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
یہ طریقۂ کار تجرباتی نوعیت کا ہے اور بنیادی طور پر متبادل تخمینی طریقوں پر مبنی ہے، جنہیں سمندری ماہی گیری کے شعبے میں موجودہ اعداد و شمار کی محدود دستیابی کے باعث اختیار کرنا ضروری ہوا ہے۔ لہٰذا یہ نظریاتی مقالہ ماہرین، محققین، سرکاری اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں سے آرا اور تجاویز طلب کرنے کی کھلی دعوت کے طور پر جاری کیا گیا ہے۔ موصول ہونے والی آرا بھارت کے قومی حسابات کے فریم ورک کے تحت مچھلی کے وسائل کی مالیاتی قدر کے تعین کے لیے ایک معیاری طریقۂ کار کو حتمی شکل دینے میں معاون ثابت ہوں گی، جس سے بھارت ابھرتی ہوئی معیشتوں میں قدرتی سرمائے کے حسابات کے شعبے میں ایک نمایاں مقام حاصل کر سکے گا۔ مچھلی کے وسائل کی درست اور شفاف مالیاتی قدر کا تعین شواہد اور اعداد و شمار پر مبنی پالیسی سازی اور پائیدار ترقی کے لیے اہم بنیادی معلومات فراہم کرے گا۔
آرا اور تجاویز وزارتِ شماریات و پروگرام کے نفاذ کے سماجی اعداد و شمار ڈویژن کے ماحولیات یونٹ کو ۔ ssd-mospi[at]gov[dot]in. پر ارسال کی جا سکتی ہیں
*****
ش ح۔ا ک۔اش ق
U. No. 2668
(ریلیز آئی ڈی: 2303858)
وزیٹر کاؤنٹر : 9