وزارت دفاع
وزیر دفاع اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ نے وہیکل فیکٹری، جبل پور میں ٹی-سیریز ٹینکوں کی اوورہالنگ کے منصوبے کابھومی پوجن کیا
472 کروڑ روپے کا یہ منصوبہ سالانہ 80 ٹینکوں کی اوورہالنگ کرے گا، جس سے بھارتی فوج کی آپریشنل تیاری میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے
جدید ٹیکنالوجی، مضبوط سپلائی چین، مستحکم صنعتی صلاحیت اور متحرک اختراعی صلاحیت رکھنے والے ممالک طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگوں کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ بہتر طور پر تیار ہوں گے:جناب راج ناتھ سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 AUG 2026 3:55PM by PIB Delhi
رکشا منتری جناب راج ناتھ سنگھ اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے 27 اگست 2026 کو منی رتن دفاعی سرکاری شعبے کے ادارے آرمَرڈ وہیکلز نگم لمیٹڈ(اے وی این ایل) کی ایک اکائی وہیکل فیکٹری، جبل پور میں ٹی-سیریز ٹینکوں کی اوورہالنگ کے منصوبے کا بھومی پوجن کیا۔ اس منصوبے کے تحت 472 کروڑ روپے کی تخمینہ جاتی لاگت سے ٹی-72 اور ٹی-90 ٹینکوں کی اوورہالنگ کے لیے سہولیات قائم کی جائیں گی۔ یہ منصوبہ ملک کو خود کفالت کی جانب لے جانے کے سفر میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔
وہیکل فیکٹری، جبل پور میں قائم کی جانے والی سہولیات کے ذریعے سالانہ 80 ٹینکوں کی اوورہالنگ کا منصوبہ ہے، جس سے بھارتی فوج کو اوورہال کیے گئے ٹینک بروقت دستیاب ہوں گے اور اس کی آپریشنل تیاری مزید مضبوط ہوگی۔ بھارتی فوج کو ہر سال 230 ٹینکوں کی اوورہالنگ کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ ہیوی وہیکلز فیکٹری، آوڈی میں اس وقت سالانہ 150 ٹینکوں کی اوورہالنگ کی صلاحیت موجود ہے۔
اپنے خطاب میں وزیر دفاع نے اس منصوبے کو بھارت کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیت اور صنعتی استعداد کا ثبوت قرار دیتے ہوئے اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ آنے والے برسوں میں دنیا کے معروف دفاعی سازوسامان تیار کرنے اور برآمد کرنے والے مراکز میں شامل ہونے کے بھارت کے ہدف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ڈرونز، درست نشانے پر مار کرنے والے ہتھیاروں، میزائلوں، سیٹلائٹس، مصنوعی ذہانت اور سائبر جنگ کے دور میں جنگ کی نوعیت اگرچہ تبدیل ہو رہی ہے، لیکن ٹینکوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ ان کا کردار مزید ارتقا پذیر ہوا ہے۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا، ‘‘جدید جنگ میں کسی ایک پلیٹ فارم پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف صلاحیتوں کو یکجا کرنا ضروری ہے۔ ٹینک، پیدل فوج، توپ خانہ، ڈرون، فضائی طاقت، نگرانی اور درست نشانے والے ہتھیار مل کر ایک مربوط جنگی نظام تشکیل دیتے ہیں، جس کا تصور بھارتی فوج نے اپنے ‘انٹیگریٹڈ بیٹل گروپ’ کے ذریعے پیش کیا ہے۔ ہمیں اپنے ٹینکوں کو جدید میدانِ جنگ کی ضروریات کے مطابق اعلیٰ معیار کے سینسرز اور جدید صلاحیتوں سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ فوجیوں کو ڈرون، میزائل، توپ خانہ، الیکٹرانک جنگی صلاحیتیں، توانائی پر مبنی ہتھیار اور جدید ٹینک فراہم کیے جائیں اور ان تمام صلاحیتوں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔ یہ اوورہالنگ سہولت اس وژن کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔’’
وزیر دفاع نے بتایا کہ ہیوی وہیکلز فیکٹری، آوڈی نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران بھارتی فوج کو تقریباً 4,400 ٹینک فراہم کیے ہیں، جو ملک کی بکتر بند دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اس کے اہم کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا منصوبہ جبل پور کی شناخت کو دفاعی ٹیکنالوجی، مرمت و دیکھ بھال، جدید کاری اور دفاعی سازوسامان کی تیاری کے ایک بڑے مرکز کے طور پر مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹی-72 اور ٹی-90 قسم کے ٹینکوں کی اوورہالنگ کے شعبے میں 25 سالہ تجربہ رکھنے والااے وی این ایل آنے والے برسوں میں معیار، پیداواری صلاحیت، اختراع اور عالمی مسابقت کے نئے معیار قائم کرے گا۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ آتم نربھر بھارت کے لیے حکومت کی پُرعزم کوششیں ملک کے دفاعی شعبے اور بھارت کے بارے میں دنیا کے نقطۂ نظر کو تبدیل کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مسلسل کوششوں کے نتیجے میں دفاعی پیداوار مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر تقریباً 1.80 لاکھ کروڑ روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے، جو 2014 میں 46,000 کروڑ روپے تھی۔ اسی طرح دفاعی برآمدات بھی 1,000 کروڑ روپے سے کم کی سطح سے بڑھ کر تقریباً 39,000 کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے ان کامیابیوں کو بھارت کے عالمی سطح پر ایک بڑے مینوفیکچرنگ مرکز، قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی شراکت دار اور قابلِ اعتماد دفاعی شراکت دار کے طور پر ابھرنے کا مظہر قرار دیا۔
جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، مضبوط اور لچک دار سپلائی چین، مستحکم صنعتی صلاحیت اور متحرک اختراعی صلاحیت رکھنے والے ممالک طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگوں کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ بہتر طور پر تیار ہوں گے۔ اس پس منظر میں انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ اہم دفاعی ضروریات کے لیے مسلح افواج غیر ملکی سپلائی چین پر انحصار نہ کریں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا مقصد دفاعی سازوسامان ملک میں ہی تیار کرنا، مرمت اور دیکھ بھال کا کام بھی ملک کے اندر انجام دینا، موجودہ نظاموں کو جدید ٹیکنالوجی سے اپ گریڈ کرنا اور اگلی نسل کی صلاحیتیں ملک میں ہی تیار کرنا ہے۔‘‘
ٹی سیریز کے ٹینکوں کی اوورہالنگ کے لیے قائم کی جانے والی سہولیات سے ایم ایس ایم ایز کے لیے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، کیونکہ اس کے تحت مکینیکل، برقی، الیکٹرانک اور ہائیڈرولک پرزوں، اسمبلیوں اور ذیلی نظاموں کی ایک وسیع رینج کی طلب پیدا ہوگی۔ ان اشیا کی مقامی سطح پر فراہمی سے ایک مضبوط اور مستحکم سپلائی چین قائم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ ٹینکوں کی اوورہالنگ سے متعلق مینوفیکچرنگ اور ذیلی خدمات کے شعبوں میں مقامی ایم ایس ایم ایز کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں مقامی صنعت کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو فروغ ملے گا اور ایک مضبوط، خود کفیل اور پائیدار صنعتی نظام کی ترقی میں مدد ملے گی۔جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ منصوبہ فوجیوں کے لیے ایک نعمت ثابت ہوگا اور جبل پور اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں اور چھوٹے کاروباری افراد سمیت لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔
وزیر دفاع نے صنعت، سرمایہ کاری اور دفاعی سازوسامان کی تیاری جیسے شعبوں میں مدھیہ پردیش حکومت کی فعال اور پُرعزم کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا، ’’گلوبل انویسٹرز سمٹ 2025، ’انویسٹ ایم پی 3.0‘ کے ذریعے شفاف اور سہل منظوری کا نظام اور صنعت دوست پالیسیاں ریاست کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پُرکشش مرکز کے طور پر مستحکم کر رہی ہیں۔ گوالیار-چمبل خطے میں3,073 ہیکٹر اراضی پر دفاعی سازوسامان کی تیاری کے امکانات اور 16,960 کروڑ روپے سے زائد کی مجوزہ سرمایہ کاری ریاست کے وژن کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ کوششیں مدھیہ پردیش کو بھارت کا اگلا بڑا دفاعی اور ایرو اسپیس مینوفیکچرنگ مرکز بنانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔‘‘
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے جبل پور میں کی جانے والی سرمایہ کاری کو سراہا، جس سے دفاعی ماحولیاتی نظام کو فروغ ملے گا اور مدھیہ پردیش میں ایم ایس ایم ایز کی شمولیت کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ انہوں نے عالمی سطح پر بھارت کے بڑھتے ہوئے قد و قامت کا سہرا وزیر اعظم نریندر مودی کی دوراندیش قیادت کو دیتے ہوئے کہا کہ ملک ہر طرح کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
سکریٹری(دفاعی پیداوار) جناب سنجیو کمار، آرمَرڈ وہیکلز نگم لمیٹڈ(اے وی این ایل) کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر جناب ستیہ برت مکھرجی، نیز محکمۂ دفاعی پیداوار،اے وی این ایل اور دفاعی افواج کے دیگر اعلیٰ عہدیداران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
******
ش ح۔ا ک۔اش ق
U. No. 2660
(ریلیز آئی ڈی: 2303794)
وزیٹر کاؤنٹر : 16