قبائیلی امور کی وزارت
میسورو میں قبائلی زبانوں اور عجائب گھروں کے قومی کنکلیو میں قبائلی عجائب گھروں کے موضوع پر غور و خوض
اجلاسوں میں مستند اندازِ بیان اور برادری کی شمولیت کے ذریعے قبائلی ثقافتی ورثے کے تحفظ پر توجہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 AUG 2026 4:12PM by PIB Delhi

قبائلی زبانوں اور عجائب گھروں کے قومی کنکلیو میں ماہرین، حکام اور برادری کے نمائندوں نے شرکت کی اور قبائلی زبانوں اور ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ قبائلی عجائب گھروں اور قبائلی مجاہدین آزادی کے عجائب گھروں (ٹی ایف ایف ایمز) سے متعلق مباحث میں مستند اندازِ بیان، برادری کی شمولیت اور جدید عجائب گھر کے طریقۂ کار کے ذریعے قبائلی تاریخ، شناخت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ پر توجہ مرکوز کی گئی۔
قبائلی مجاہدین آزادی کے عجائب گھروں (ٹی ایف ایف ایمز) سے متعلق اجلاس کا آغاز قبائلی امور کی وزارت کے ٹی ایف ایف ایم کے جوائنٹ سکریٹری جناب ٹی روموان پائتے کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے تاریخ کے محفوظ مراکز کے طور پر عجائب گھروں کے کردار کو اجاگر کیا، جہاں دستاویزات، اشیا، تصاویر اور دیگر تاریخی شواہد محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف اشیا ہی نہیں بلکہ ان سے وابستہ کہانیوں، پس منظر اور معنویت کو بھی محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
قبائلی عجائب گھروں اور قبائلی مجاہدین آزادی کے عجائب گھروں کا تعارف پیش کرتے ہوئے قبائلی امور کی وزارت کی ڈائریکٹر محترمہ دیپالی ماسرکر نے قبائلی ورثے کی مالامالیت اور ثقافتی شناخت کے تحفظ میں قبائلی عجائب گھروں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ عجائب گھر قبائلی برادریوں کی منفرد خصوصیات کو عصرِ حاضر سے ہم آہنگ اور دلچسپ انداز میں پیش کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بھوپال کے قبائلی عجائب گھر کا حوالہ دیتے ہوئے شرکا کو ترغیب دی گئی کہ وہ عجائب گھر کا دورہ کریں اور وہاں جسمانی نمائشوں اور ڈیجیٹل اجزا کے درمیان قائم توازن کا تجربہ کریں۔

موضوعاتی اجلاس کا آغاز نئی دہلی کے انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈیولپمنٹ (آئی ایچ ڈی) کے وزٹنگ پروفیسر پروفیسر ورجینیئس زیکسا کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے ’’عجائب گھروں میں قبائلی آزادی کی داستانوں کی عکاسی: صداقت، شناخت اور برادری کے نقطۂ نظر‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے قبائلی تاریخ کو مستند انداز میں پیش کرنے اور مقامی قبائلی داستانوں کو قومی تحریکِ آزادی سے جوڑنے پر توجہ مرکوز کی۔انڈیا وژن انسٹی ٹیوٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منیجنگ ٹرسٹی جناب ونود ڈینیئل نے ’’عجائب گھر بطور زندہ ادارے: یادداشت، شناخت اور برادری کے ورثے کا تحفظ‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔آئی جی آر ایم ایس کے جناب امیتابھ پانڈے نے ’’عمارت سے عجائب گھر تک: عجائب گھر کی منصوبہ بندی کے عمل کو سمجھنا‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے عجائب گھر کی منصوبہ بندی، کہانی کے خاکے کی تیاری، جگہ کی منصوبہ بندی اور مستقبل میں اس کے انتظام و دیکھ بھال جیسے امور پر روشنی ڈالی۔سی آر ٹی ایل (این سی ایس ایم) کے سابق ڈائریکٹر اور کری ایٹو میوزیم ڈیزائنرز کے کنسلٹنٹ جناب نٹراج داس گپتا نے ’’عجائب گھروں میں عصری نمائش کی تکنیکیں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بامعنی انضمام‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے عمیق ماحول، ملٹی میڈیا کے ذریعے کہانی بیان کرنے، تعاملی نمائشوں، اے آر/وی آر اور کیو آر کوڈ پر مبنی کہانی بیان کرنے کی تکنیکوں پر گفتگو کی۔بھوپال کے ویر بھارت نیاس کے ڈائریکٹر اور کیوریٹر جناب شری رام تیواری نے ’’عجائب گھر کی تشکیل میں برادری کی شمولیت: قبائلی عجائب گھر بھوپال کا تجربہ‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے برادری کی شمولیت، ناظرین کی شرکت، ادارہ جاتی شراکت داری، آمدنی پیدا کرنے اور وسائل کو متحرک کرنے جیسے پہلوؤں کو اجاگر کیا، جو عجائب گھروں کے پائیدار انتظام و انصرام کے لیے اہم ہیں۔

اختتامی گفتگو کے دوران قبائلی امور کی وزارت کی ڈائریکٹر محترمہ دیپالی ماسرکر نے عجائب گھروں کی ترقی میں برادریوں کی شمولیت، ناظرین کی دلچسپی بڑھانے اور عجائب گھروں کے پائیدار انتظام میں معاونت کے لیے آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ ان میں لائٹ شو کا انعقاد، مہمان خانوں کی سہولت اور ہفتہ وار تعطیلات کے پروگرام تیار کرنا، نیز قبائلی کھانوں کے کیفے، بشمول قبائلی کافی، قائم کرنا شامل ہے۔گفتگو میں مؤرخین، ڈیزائنروں اور عمل درآمد کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اس بات کو بھی اہم قرار دیا گیا کہ عجائب گھر ٹیکنالوجی پر مبنی ہونے کے بجائے کہانی پر مبنی ہوں، تاکہ ان کی اصل توجہ تاریخ، ورثے اور انسانی داستانوں کی مؤثر پیشکش پر برقرار رہے۔
*****
ش ح۔م م - ف ر
U-no-2662
(ریلیز آئی ڈی: 2303790)
وزیٹر کاؤنٹر : 9