وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

کھیلو انڈیا ڈائیلاگ میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے وزیر اعظم کے خطاب کا متن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 AUG 2026 1:35PM by PIB Delhi

نمسکار!

آپ سب نے اتنے شاندار طریقے سے کھیلو انڈیا ڈائیلاگ کے اس پروگرام کا انعقاد کیا ہے۔ میں آپ سب کو بہت بہت مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میں ٹیکنالوجی کے ذریعے اس پروگرام سے جڑے مرکزی کابینہ کے اپنے ساتھیوں، تمام وزرائے اعلیٰ، ریاستی حکومتوں کے متعدد وزراء، پارلیمنٹ میں اپنے ساتھیوں اور ’مائی بھارت‘ کے لاکھوں رضاکاروں کا بھی دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کرتا ہوں۔ آج کے اس پروگرام میں ملک بھر کے کھلاڑی اور کھیلوں کی دنیا سے وابستہ ممتاز شخصیات بھی ہم سب کے ساتھ شامل ہوئی ہیں۔

آپ سب کو معلوم ہے ساتھیو،

دو دن بعد، 29 اگست کوکھیلوں کا قومی دن بھی ہے۔ میں آپ سب کو، ملک بھر کے نوجوانوں کو اور کھیلوں کی دنیا سے وابستہ تمام ساتھیوں کو کھیلوں کے دن کی پیشگی مبارک باد دیتا ہوں۔ یہ دن ماں بھارتی  کے ایک عظیم سپوت میجر دھیان چند جی کو یاد کرنے کا بھی موقع ہوتا ہے۔ 100 سال پہلےہندوستانی فوج کی ہاکی ٹیم نیوزی لینڈ کے دورے پر گئی تھی اور اس ٹیم میں دھیان چند جی بھی شامل تھے۔ یہ دورہ ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کے 100 سال مکمل ہونے کی بنیاد ہے۔ کچھ دن پہلے میں نیوزی لینڈ کے دورے پر گیا تھا۔ اس وقت بھی میں نے نیوزی لینڈ میں انہیں یاد کیا تھا۔ میجر دھیان چند جی نے جن تعلقات کی بنیاد رکھی تھی، آج ہندوستان ان تعلقات کو مزید مستحکم اور خوشحال بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔

ساتھیو،

میں نے رواں برس15 اگست کو لال قلعے سے ملک کے سامنےہندوستان کا کھیلوں سے متعلق وژن پیش کیا ہے۔ جب میں کھیلوں کی بات کرتا ہوں تو یہ صرف تمغے جیتنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ وکست بھارت کی تعمیر میں ہندوستان کے کھیلوں کی طاقت اور ہندوستان کے نوجوانوں کی طاقت کو ایک ساتھ جوڑنے کی مہم ہے۔ میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں—جو کھیلے، وہی کھلے۔ اور کھیل میں کھلنا صرف میدان پر جیتنا نہیں، کھیل میں کھلنے کا مطلب شخصیت کا نکھار، خاندان کھلنا اور ملک کے وقار  کے میں اضافہ کرنا ہے۔

ساتھیو،

جب کوئی کھلاڑی کامیاب ہوتا ہے تو یہ کامیابی صرف اس کی اپنی نہیں ہوتی، بلکہ اس کی کامیابی سے اس کے خاندان کی شناخت بنتی ہے اور اس کی عزت و وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ جس اسکول اور کالج میں اس نے تعلیم حاصل کی، اس کی شہرت بھی بڑھتی ہے۔ اس کے ضلع اور ریاست کی شناخت مزیدمضبوط ہوتی ہے۔ یعنی دنیا اس کھلاڑی کے نام سے اس شہر یا ریاست کو پہچاننے لگتی ہے اور جب ایسی متعدد کامیابیوں کے باعث کوئی علاقہ عالمی کھیلوں کے نقشے پر نمایاں ہوتا ہے تو دنیا کی نظر میں اس شہر کو دیکھنے کا نظریہ بھی بدل جاتا ہے۔ آج کے اس پروگرام میں ملک کے جن سیکڑوں اضلاع کے کھلاڑی شامل ہوئے ہیں، ان میں سے ہر ضلع میں عالمی کھیلوں کے نقشے پر نمایاں ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ اسی صلاحیت کو سمجھتے ہوئے ہمیں اس مکالماتی پروگرام کو آگے بڑھانا ہے۔

ساتھیو،

اس بار لال قلعے سے میں نے کھیلوں سے متعلق ایک بہت بڑے چیلنج کی طرف بھی ملک کی توجہ دلائی ہے۔ یہ چیلنج اولمپکس سے متعلق ہے۔ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ اولمپکس میں جتنے مختلف کھیل ہوتے ہیں،ہندوستان کی ٹیمیں ان میں سے نصف کھیلوں میں حصہ ہی نہیں لیتیں۔ یعنی تمغوں کی مجموعی تعداد کے ایک بہت بڑے حصے کے لیے ہم مقابلہ ہی نہیں کرتے اور کئی دہائیوں سے ایسا ہی ہوتا آ رہا ہے۔ 2012 کے اولمپکس میں ہندوستان  نے صرف 13 کھیلوں میں حصہ لیا تھا۔ 20 سے زیادہ کھیلوں میں توہندوستان کی شرکت ہی نہیں تھی اور ان 20 سے زیادہ کھیلوں میں کئی ایسے کھیل ہیں جن کا نام تک ملک میں لوگوں نے شاید ہی سنا ہو۔ دنیا کے دوسرے ممالک ان کھیلوں میں تمغے جیتتے ہیں اور ہم ان میں حصہ ہی نہیں لیتے۔ تمغوں کی تعداد بڑھانے کے لیے ہمیں ان کھیلوں میں بھی مہارت حاصل کرنی ہی ہوگی۔ مثال کے طور پر سرفنگ اور اسپورٹس کلائبنگ(چٹانوں پر چڑھنے کا مقابلہ)، ہمارے پاس اتنا طویل ساحلی علاقہ ہے، اتنا وسیع پہاڑی خطہ ہے، جہاں اس طرح کے کھیلوں کے لیے قدرتی طور پر دلچسپی پیدا ہو سکتی ہے۔ ہمارے پاس آبی کھیلوں سے لے کر سرمائی کھیلوں تک کے لیے آبادی بھی ہے اور جغرافیہ بھی، لیکن اس کے باوجود ہم ایسے کھیلوں میں دنیا میں کہیں نظر ہی نہیں آتے۔ اس لیے ہمیں مختلف اضلاع میں ایسے امکانات تلاش کرنے ہوں گے ،جہاں کسی ایک مخصوص کھیل کا ماحولیاتی نظام تیار کیا جا سکے اور اس میں آج کے اس پروگرام کا بہت بڑا کردار ہے۔

ساتھیو،

جب ہم 2036 کے اولمپکس کی تیاری کی بات کرتے ہیں، تو ہماری توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ ہمیں آج سے ہی ایسے کھلاڑی تیار کرنے ہیں جو 2036 میں مختلف کھیلوں کے لیے کوالیفائی کریں اور مقابلوں میں حصہ لیں۔ اسی لیے لال قلعے سے میں نے 5 سال سے 15 سال کی عمر کے کھلاڑیوں کی شناخت کے لیے ایک بڑے پیمانے پرٹیلنٹ ہنٹ(صلاحیت کی تلاش)  مہم کا اعلان کیا ہے اور اس میں بھی ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا ہے کہ کس بچے کی کس کھیل میں دلچسپی ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ کون سا بچہ کس کھیل کے لیے موزوں ہے۔ ہمیں اسی حساب سے اس بچے کو تربیت دینی ہوگی اور میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کے لیے حکومت کی جانب سے جوبھی تعاون کی ضرورت ہوگی، حکومت اس میں آپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلے گی۔

ساتھیو،

ہماری حکومت ہندوستان میں 21ویں صدی کا جدید کھیلوں کا ماحولیاتی نظام تشکیل دینے کے لیےمکمل طورپرپرعزم ہے۔ آج کھیلوں اور کھیلوں کی یونیورسٹیوں سے لے کر جدید تربیتی مراکز تک ملک میں ایک ایسا نظام قائم کیا جا رہا ہے، جس میں صلاحیتوں کی شناخت سے لے کر انہیں عالمی سطح تک پہنچانے تک ہر مرحلے پر تعاون فراہم کیا جائے۔ ہم دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ کھیلوں کی سائنس، تربیت، کوچنگ اور تجربات کے تبادلے کے لیے بھی تعاون بڑھا رہے ہیں۔

ساتھیو،

کھیلوں کو لے کر حکومت کتنی سنجیدہ ہے، اس کی ایک مثال یہ پروگرام بھی ہے۔ کھیلو انڈیا ڈائیلاگ صرف کھیلوں پر گفتگو کرنے کا پروگرام نہیں ہے۔ یہ ایسے مکالمے کا ایک پلیٹ فارم ہے، جہاں پیش کیا جانے والا ہر ایک خیال ملک کے کھیلوں سے متعلق وژن کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہونے والا نوجوانوں کا مکالمہ آپ کے خیالات اور امنگوں کو ملک کے خوابوں سے جوڑنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اس پروگرام میں کھیلوں کے ماحولیاتی نظام، صلاحیتوں کی ترقی، انتظامی نظام اور وکست بھارت کے حوالے سے نوجوان کیا سوچتے ہیں اور ان کی تجاویز کیا ہیں، ان تمام امور کو سنا جائے گا اور پالیسی سازی کے عمل میں شامل کیا جائے گا۔ اس لیے میں آپ سب سے کہوں گا کہ زیادہ سے زیادہ اس پلیٹ فارم کا بامعنی استعمال کیجیے، نئے خیالات کو سامنے آنے دیجیے۔ نوجوان طاقت کے یہی نئے خیالات وکست بھارت کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی قوت بنیں گے۔

ساتھیو،

ہم اکثر سنتے ہیں کہ ایک صحت مند معاشرے، ایک مضبوط خاندانی نظام اور کام کرنے کے بہتر طور طریقے کے لیے کھیلوں کے جذبے کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور کھیل کے میدان میں اترے بغیراس اسپورٹس پرسن اسپرٹ کو سیکھنا بہت مشکل ہے۔ کھیل ہمیں صرف چمپئن بننا ہی نہیں سکھاتا، بلکہ ایک بہتر مقابلہ کرنے والا بننا بھی سکھاتا ہے۔ اٹھنا، گرنا اور گر کرپھر سے اٹھنا، کھیل ہمارے اندر یہی جذبہ پیدا کرتا ہے۔

ساتھیو،

کھیلوں سے زندگی کیسے بدلتی ہے، اس کی ایک بڑی مثال ہمارے پیرا ایتھلیٹس ہیں۔ جب کوئی شخص پیرا ایتھلیٹس کو میدان میں کھیلتے ہوئے دیکھتا ہے تو زندگی کے بارے میں سوچنے کا اس کا نظریہ ہی بدل جاتا ہے  اور جب وہ کوئی کامیابی حاصل کرتا ہے تو اس کھلاڑی کے ساتھ ساتھ اس کے پورے خاندان کو بھی ایک نئی زندگی مل جاتی ہے۔ وہ والدین، بھائی بہن، جو ابتدائی دنوں میں اپنے اس بچے کو جدوجہد کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، ان کے لیے اس معذور کھلاڑی کی کامیابی ان کے خوابوں اور حوصلوں کو بھی نئی بلندی عطا کرتی ہے۔

ساتھیو،

میں خود بھی ہمیشہ ایسے کھلاڑیوں سے متاثر ہوتا رہا ہوں۔ اب جیسے آپ سب نے کچھ نام سنے ہوں گے۔ تیر اندازی میں ہماری ایک بیٹی، ایک شاندار کھلاڑی ہیں، نام جانتے ہیں آپ؟ شیتل۔ جب انہوں نے پیرا لمپکس میں تمغہ جیتا تو پورا جموں و کشمیر اور پورا ہندوستان فخر سے سرشار ہو گیا۔ اسی طرح ہماری ایک اور بیٹی اونی لیکھرا ہیں، جنہوں نے دو مرتبہ پیرا لمپکس کے تمغے جیتے ہیں۔ جب بھی میں بیٹی اونی سے ملتا ہوں، مجھے بہت فخر محسوس ہوتا ہے۔ سمت انتیل ہوں، نتیش کمار ہوں اور ابھی ابھی تو آپ نے نام سنا ہوگا، ہمارے جھنڈو کمار۔ ہمارے ایسے پیرا ایتھلیٹس ہیں اور ایسے ہر ساتھی ہم سب کو تحریک دیتے ہیں۔

ساتھیو،

کھیل ایک بہتر زندگی کی ضمانت ہے۔ کھیل ہمیں بہتر زندگی گزارنے کے لیے صحت مند اور توانا بناتے ہیں، ہماری معیارِ زندگی کو بہتر کرتے ہیں۔ ہم سب فوجا سنگھ جی کے بارے میں جانتے ہیں۔ گزشتہ سال 100 برس سے زیادہ عمر میں فوجا سنگھ جی کا انتقال ہوا۔ کھیلوں سے محبت اور جسمانی فٹنس کا جذبہ زندگی بھر کیسے برقرار رہ سکتا ہے، فوجا سنگھ جی اس کی ایک مثال تھے۔ ان کی زندگی اس بات کی بہت بڑی ترغیب ہے کہ کھیل اور معیارِ زندگی ایک دوسرے سے کس طرح جڑے ہوئے ہیں۔

ساتھیو،

کھیلوں کا ایک اور بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ جو لوگ حقیقی معنوں میں کھلاڑی ہوتے ہیں، ان میں منشیات اور نشے سے دور رہنے کی قوتِ ارادی بھی پیدا ہوتی ہے۔ آج جب نوجوانوں کے سامنے نشے کا اتنا بڑا چیلنج موجود ہے، تو کھیل اس سے نمٹنے میں بھی بہت مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔

ساتھیو،

مجھے خوشی ہے کہ آج ہندوستان میں کھیل ایک بہترین پیشے کے طور پر ابھرا ہے۔ معاشرے میں کھیلوں کے حوالے سے لوگوں کا نظریہ بدلا ہے۔ آج آپ دیکھیے، ہمارے ملک میں لوگ ٹرائیتھلون میں حصہ لے رہے ہیں، 5 اور 10 کلومیٹر کی ریس میں دوڑ رہے ہیں۔ دوست احباب مل کر ہائی راکس جیسے چیلنجز مکمل کر رہے ہیں۔ کوئی پہلی بار سر کے بل کھڑے ہونے کی خوشی منا رہا ہے، تو کوئی دوستوں اور خاندان کے ساتھ مل کر پکل بال اور بیڈمنٹن کھیل رہا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں، لیکن اگر انہیں وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ان میں بہت بڑی تبدیلی نظر آئے گی۔ تبدیلی یہ ہے کہ کھیل اب ہماری زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ اگر پڑھائی اور کریئر کا نظام الاوقات بن رہا ہے تو دن بھر کے معمولات میں کھیلوں کے لیے بھی جگہ بن رہی ہے۔ اور یہی تبدیلی ہے، یہی تغیر ہے، جس کی وجہ سے  ہندوستان کے کھیلوں کے مستقبل پر ہمارا اعتماد بھی بڑھ رہا ہے۔

ساتھیو،

ملک میں کھیلوں کا کلچر اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب عام لوگ اس سے وابستہ ہوں۔ جب اسکول کھیلوں کے اوقات کو محض نصابی سرگرمی سے ہٹ کر زندگی کا حصہ سمجھیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اس سے صلاحیتوں کا دائرہ بھی وسیع ہوتا ہے اور کھیلوں کو بطور کریئر اختیار کرنے والے بچوں کو ان کے خاندان کی حمایت بھی ملتی ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اسکرین سے زیادہ کھیلوں کے مراکز کی اہمیت ہے۔ پلے اسٹیشن سے زیادہ کھیل کے میدان کی اہمیت ہے  اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا ، جب آپ سب نوجوان ساتھی اس سوچ کو آگے بڑھائیں گے۔

ساتھیو،

مجھے ہندوستان کے نوجوانوں کی صلاحیت اور اس کی کامیابی پر پورا اعتماد ہے۔ میں ملک کے ہر نوجوان سے کہنا چاہتا ہوں کہ چاہے کھیل کے میدان میں ہوں یا معاشرے کے درمیان، آپ کی شرکت ہی ہندوستان کی طاقت ہے۔ اگر آپ کو کھیلوں سے محبت ہے تو ان سے جڑنے کے بہت سے ذرائع پیدا ہو رہے ہیں۔ اب نئے نئے کھیلوں کے آلات آ گئے ہیں، نئی ٹیکنالوجی آ گئی ہے۔ تربیت اور کوچنگ کے طریقے بدل گئے ہیں۔ کھیلوں کے انعقاد، ان کے مقابلوں اور ان کی مختلف اصناف کی ضروریات بھی بدل گئی ہیں۔ آلات کی ڈیزائننگ، کھیلوں کی ٹیکنالوجی، کھیلوں سے متعلق طب، غذائیت، نفسیات، تجزیات اور ایسے ہی بہت سے شعبوں میں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ آپ کو ان مواقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا ہے۔ اس لیے اس مکالمے میں کھل کر اپنے خیالات سامنے رکھیے۔ نوجوان طاقت کی یہ شرکت وکست بھارت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایک بار پھر آپ سبھی نوجوان ساتھیوں کو بہت بہت نیک خواہشات۔

شکریہ۔

وندے ماترم۔

**** *****

UR-2647

(ش ح۔ م ع ن ۔ ت ع)


(ریلیز آئی ڈی: 2303751) وزیٹر کاؤنٹر : 7