وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

گوا کی آزادی کے ستیہ گرہیوں کو خراج عقیدت: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے  پاترا دیوی میں ازسرنو تعمیر شدہ ہوت آتما اسمرتی اسمارک کا افتتاح کیا


گوا کی آزادی سے لے کر آپریشن سندور تک، بھارت کی خودمختاری کے دفاع کا عزم غیر متزلزل ہے: جناب راج ناتھ سنگھ

“آپریشن سندور اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری مسلح افواج بھارت پر بری نظر رکھنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں”

“مسلح افواج جدید ہتھیاروں سے لیس ہو رہی ہیں اور باہمی اشتراک و انضمام کو مزید مضبوط بنانے کی سمت آگے بڑھ رہی ہیں”

وزیرِ دفاع نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ گوا کی آزادی کی جدوجہد کی میراث کو محفوظ رکھیں، کیونکہ جو نسل اپنی تاریخ کو سمجھتی ہے، وہ مستقبل کو صحیح رخ پرلے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 AUG 2026 8:36PM by PIB Delhi

وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 26 اگست 2026 کوپاترادیوی میں ازسرِ نو تعمیر کیے گئےہوت آتمااسمرتی سمارک کا افتتاح کیا۔ یہ تاریخی مقام پرتگالی اقتدار سے گوا کی آزادی کی جدوجہد سے وابستہ ہے۔ اس موقع پر گوا کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت اور بجلی اور نئی و قابلِ تجدید توانائی کے مرکزی وزیر مملکت جناب شری پد وائی نائک بھی موجود تھے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image001_20260826203758_049e23.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image002_20260826203805_2e7c30.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image003_20260826203814_645886.jpg

اپنے خطاب میں وزیرِ دفاع نے گوا کی آزادی کی تحریک کے ستیہ گرہیوں کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا، جن میں پنجاب کے کرنیل سنگھ، مدھیہ پردیش کی سہودرا دیوی اور مہاراشٹر کے مدھوکر دامودر چودھری شامل تھے۔ انہوں نے اس تحریک کو محض ایک علاقائی جدوجہد قرار دینے کے بجائے اسے ہندوستان کے قومی شعور اور اتحاد کا مظہر قرار دیا۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا، ‘‘قومی اتحاد علاقائیت، فرقہ واریت اور ذات پات پر مبنی تنگ نظری جیسے نظریات سے بالاتر ہے۔ پاترادیوی ایک طاقتور پیغام دیتا ہے کہ اگرچہ بھارت میں مختلف علاقائی، سماجی اور ثقافتی شناختیں موجود ہیں، لیکن ’بھارتی ہونا‘ وہ جذبہ ہے جو ہم سب کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ پاترا دیوی میں ستیہ گرہیوں نے بے پناہ حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ بھارت پُرامن ذرائع سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکتا ہے۔ تاہم، جب کسی خودمختار ملک کی علاقائی سالمیت داؤ پر لگی ہو اور پُرامن کوششیں اپنی حد تک پہنچ جائیں، تو قوم کو اپنی پوری طاقت استعمال کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔’’

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image004_20260826203821_5e358d.jpg

 

بھارتی دفاعی افواج نے 1961 میں آپریشن وجے کے دوران گوا کی آزادی کے لیے جس پیشہ ورانہ مہارت، بہادری اور نظم و ضبط کے ساتھ کامیابی سے کارروائی انجام دی، اسے سراہتے ہوئے وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ فوجیوں کی جانب سے دکھائی گئی شجاعت نے دنیا بھر کی افواج کے لیے ایک مثال قائم کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی دفاعی افواج نے جس خود اعتمادی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں، اس سے ایک ایسی روایت قائم ہوئی جو آج بھی جاری ہے، اور آپریشن سندور اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ انہوں نے پھر واضح کیا کہ آپریشن سندور نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارتی دفاعی افواج بھارت پر بری نظر رکھنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ گوا کی آزادی صرف ماضی کی فوجی بہادری کو یاد کرنے کا موقع نہیں، بلکہ یہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ بھارتی دفاعی افواج کو ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہمیشہ چوکس، باصلاحیت اور ہر طرح سے تیار رہنا چاہیے۔

1961 کے بعد بھارت میں آنے والی غیر معمولی تبدیلی اور ترقی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا:”آج ہماری دفاعی افواج جنگی جہازوں، لڑاکا طیاروں، جدید ریڈار نظام، نیٹ ورک پر مبنی جنگی صلاحیتوں اور طویل فاصلے تک مؤثر فضائی طاقت جیسے جدید ترین ساز و سامان کے ذریعے قومی مفادات کا تحفظ کر رہی ہیں۔ تینوں مسلح افواج کے درمیان مزید باہمی تعاون، مشترکہ کارروائی اور انضمام کی سمت پیش رفت جاری ہے۔ ہمارے پاس ایک وسیع معیشت، باصلاحیت نوجوان اور تیزی سے وسعت پذیر دفاعی صنعتی نظام موجود ہے۔ ہم متعدد شعبوں میں اپنی مقامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ ہم خود کو دفاعی ساز و سامان کے ایک بڑے درآمد کنندہ سے بتدریج ایک اہم عالمی دفاعی سازوسامان تیار اور برآمد کرنے والی قوم میں تبدیل کر رہے ہیں۔ دفاعی برآمدات، جو 2014 سے پہلے محض 600 کروڑ روپے تھیں، آج بڑھ کر 38,000 کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہیں، جو ایک ریکارڈ ہے۔ اسی طرح دفاعی پیداوار، جو کبھی صرف 40,000 کروڑ روپے تھی، اب بڑھ کر 1.81 لاکھ کروڑ روپے کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اگر مغربی ایشیا کا بحران نہ ہوتا تو اب تک ہم دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن چکے ہوتے۔’’

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image005_20260826203830_313eb9.jpg

بڑھتی ہوئی ناری شکتی کا ذکر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جو خواتین کبھی آزادی کی جدوجہد میں صفِ اول میں کھڑی تھیں، وہ آج لڑاکا طیارے اڑا رہی ہیں، فوج میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں، خلائی مشنوں میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اور اختراع و کاروبار کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

وزیر دفاع نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے مجاہدین آزادی کی قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والی آزادی کا احترام اور اس کی حفاظت کریں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی محض اپنے خیالات کے اظہار کا حق نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ قومی اتحاد کو برقرار رکھنے، آئینی اقدار کا احترام کرنے، قانون کی پابندی کرنے اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینے کی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ اس آزادی کے ساتھ ساتھ ان اقدار اور جذبے کو بھی محفوظ رکھا جائے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کیا جائے جو اس آزادی کی بنیاد ہیں۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاترادیوی کے شہیدوں کی داستانیں تاریخ کی کتابوں میں محض نام اور تاریخیں بن کر نہیں رہ جانی چاہئیں، بلکہ نوجوانوں کو آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی زندگیوں، جدوجہد، بہادری اور قربانیوں سے تحریک حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ”جب ہمارے نوجوان گوا کا سفر کریں تو انہیں اس یادگار کا ضرور دورہ کرنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ ہماری قومی سالمیت کو محفوظ رکھنے کے لیے کتنی بڑی قیمت چکانی پڑی۔ جو نسل اپنی تاریخ کو سمجھتی ہے، وہ اپنے مستقبل کو صحیح سمت لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔“

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image006_20260826203841_325ca0.jpg

راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ جناب سدانند شیٹ تنوادے، پرنیم کے رکن اسمبلی جناب پروین ارلیکر، گوا، دمن اور دیو فریڈم فائٹرز ایسوسی ایشن کے صدر جناب روہیداس دیسائی، ریاستی حکومت کے اعلیٰ افسران اور ستیہ گرہیوں کے اہل خانہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

ہوت آتما اسمرتی اسمارک کے بارے میں

گوا حکومت نے گوا اسٹیٹ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعے تقریباً 9.50 کروڑ روپے کی لاگت سے اس یادگار کی بڑے پیمانے پر ازسرِنو ترقی اور تزئین و آرائش کا کام انجام دیا۔ تزئین و آرائش کے بعد اس یادگار کو ایک جامع تعلیمی اور یادگاری مرکز کی شکل دی گئی ہے، جہاں مرکزی یادگار کو نئے انداز میں تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ مجسموں کی تنصیب، معلوماتی مراکز اور آزادی کی جدوجہد کی تاریخ کو اجاگر کرنے والی دیواری تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔

پاترادیوی ہی وہ مقام تھا جہاں آزادی کی جدوجہد کا ایک فیصلہ کن باب رقم ہوا، جس نے اس جگہ کو پرتگالی اقتدار سے گوا کو آزاد کرانے کے لیے دکھائی گئی بہادری، قربانی اور اجتماعی عزم کی ایک مؤثر علامت بنا دیا۔ 15 اگست 1955 کو بھارت بھر سے ہزاروں رضاکاروں نے گوا میں پُرامن ستیہ گرہ میں حصہ لیا۔ بھارتی پرچم اٹھائے ستیہ گرہیوں کا پہلا گروپ پترادیوی کے راستے گوا میں داخل ہوا، جہاں پرتگالی فوج نے مشین گنوں سے ان پر فائرنگ کی۔ پاترادیوی میں کئی ستیہ گرہی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ اس تحریک کے دوران مختلف مقامات پر بھی دیگر ستیہ گرہی شہید ہوئے۔

اس یادگار کی ازسرِنو ترقی کا مقصد بالخصوص نوجوان نسل سمیت آنے والے زائرین کو ان مجاہدینِ آزادی اور رضاکاروں کی قربانیوں کو سمجھنے اور یاد رکھنے کا موقع فراہم کرنا ہے، جنہوں نے گوا کی آزادی میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔

********

ش ح۔ ع و۔ج ا

U-2636


(ریلیز آئی ڈی: 2303635) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Marathi