PIB Backgrounder
مائیکرو فوڈ پروسیسنگ بازار میں زمینی سطح کی اختراعات کی پذیرائی
جہاں ہندوستان کے ذائقوں کو نئے افق ملتے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 AUG 2026 11:50AM by PIB Delhi
انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر میں ہندوستان کے متنوع پکوانوں کی ایک قومی نمائش میں زائرین کا خیرمقدم کیا گیا۔ اسٹالوں پر منفرد، نسلی اور روایتی کھانوں کی ایک متاثر کن صف پیش کی گئی، جن میں سے ہر ایک نچلی سطح کی کاروباری سرگرمی علاقائی ورثے کی ایک الگ داستان بیان کر رہا تھا۔
اسی پُرجوش پس منظر میں، وزارتِ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز نے 24 اور 25 اگست 2026 کو پی ایم ایف ایم ای (پردھان منتری فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز) بازار کا انعقاد کیا۔ 25 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائش کنندگان کو یکجا کرتے ہوئے، اس بازار نے ہندوستان کے بھرپور پکوانی تنوع کا جشن منایا۔ اس تقریب نے مائیکرو فوڈ انٹرپرائزز، ایس ایچ جیز، ایف پی اوز، کوآپریٹیوز اور کاروباری افراد کو اپنی مصنوعات کی نمائش، خریداروں سے رابطہ قائم کرنے اور نئی منڈیوں کو تلاش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ باجرے اور مصالحوں سے لے کر اچار، نمکین، مشروبات اور دیگر ویلیو ایڈڈ غذائی مصنوعات تک، بازار میں مختلف اشیا پیش کی گئیں۔ اس نے یہ بھی اجاگر کیا کہ کس طرح مقامی اجزا اور روایتی علم کو وسیع تر رسائی رکھنے والے امید افزا برانڈز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ 29 جون 2020 کو شروع کی گئی پی ایم ایف ایم ای اسکیم مالی، تکنیکی اور کاروباری معاونت کے ذریعے مائیکرو فوڈ انٹرپرائزز کی مدد کرتی ہے، جس سے کاروباری افراد کو نئی اکائیاں قائم کرنے یا موجودہ اکائیوں کو مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔
فراز کی کہانی اس بڑی تبدیلی کا حصہ ہے جو آج ہندوستان کے مائیکرو فوڈ پروسیسنگ شعبے میں جاری ہے۔ پی ایم ایف ایم ای بازار میں کھڑے فراز نے دیکھا کہ زائرین ایس ایچ ایچ ای فوڈز کے اسٹال پر رک رہے تھے، جہاں ان کی ٹیم فخر کے ساتھ بہار سے اپنے سفر کی داستان سنا رہی تھی۔ فراز کے لیے یہ محض بازار کا ایک لمحہ نہیں تھا، بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی تھی کہ ان کا چھوٹا سا کاروبار کتنا طویل سفر طے کر چکا ہے۔
ایس ایچ ایچ ای فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ کا آغاز 2021 میں ایک سادہ خیال کے ساتھ ہوا: بہار کے پسندیدہ مکھانا کو ایک زیادہ جدید شناخت دینا۔ ٹیم نے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے ساتھ تجربات شروع کیے، جن میں مکھانا ملی ہوئی کوکیزاور آسان استعمال کے لیے تیار کیے گئے چھوٹے اور زیادہ سہولت بخش مکھانا کے پیک شامل تھے۔ 2021 میں پی ایم ایف ایم ای اسکیم سے وابستگی نے اس ادارے کو نمایاں فروغ دیا، اس کی رسائی اور شناخت مضبوط کی، برانڈ کی تشکیل میں مدد دی اور کاروبار کے نئے مواقع کے دروازے کھولے۔ پی ایم ایف ایم ای بازار خود بھی صارفین تک رسائی اور کاروباری روابط قائم کرنے کا ایک قیمتی ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
اسکیم کے اثرات مزید وسیع ہوئے، جس سے ایس ایچ ایچ ای فوڈز کو اپنے پروسیسنگ یونٹ کو اپ گریڈ کرنے میں مدد ملی۔ پی ایم ایف ایم ای کی کریڈٹ سے منسلک سرمایہ سبسڈی کے تحت، جو فی یونٹ 10 لاکھ روپے تک کی کل منصوبہ جاتی لاگت کا 35 فیصد فراہم کرتی ہے، کمپنی کو 10 لاکھ روپے کے قرض کے مقابلے میں 3 لاکھ روپے سے زیادہ کی سبسڈی موصول ہوئی۔ اس تعاون نے اسے مزید مسابقتی بننے، اپنی کارروائیوں کو باضابطہ بنانے اور ترقی کے نئے راستے کھولنے میں مدد دی۔ اس معاونت سے انہوں نے بہتر مشینری میں سرمایہ کاری کی اور اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں روزانہ صرف 100 کلوگرام کی پروسیسنگ سے پیداوار بڑھ کر کم از کم 1,000 کلوگرام روزانہ ہو گئی۔ اس ترقی کی جھلک ان کی فروخت میں بھی نظر آتی ہے: 2021 میں 2.5 سے 3 لاکھ روپے سے بڑھ کر ایس ایچ ایچ ای فوڈز کی فروخت اب 14 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ فراز کے لیے یہ اعداد و شمار عزم، معاونت اور تیزی سے حقیقت کا روپ دھارتے خواب کی داستان بیان کرتے ہیں۔ جیسے جیسے یہ اسکیم ہندوستان کے متنوع غذائی منظرنامے میں اپنی رسائی بڑھا رہی ہے، اس کے اثرات ہر خطے میں ایک مختلف ذائقہ اختیار کر رہے ہیں۔
ادے پور میں اس اثر کو روایت، فطرت اور مقصد نے نئی شکل دی ہے۔ 2017 سے قبائلی وید(ٹرائبل وید) نے دو جہانوں، یعنی قبائلی دانش اور آیوروید، کو یکجا کیا ہے؛ یہ امتزاج اس کے نام ہی میں خوبصورتی سے جھلکتا ہے۔ جامن کا ہر موسم اس سفر میں نئی توانائی بھرتا ہے، جب 3,000 سے 5,000 قبائلی خواتین پھل جمع کرنے کے لیے جنگلات کا رخ کرتی ہیں اور پھر اسے جامن کے سرکے، کیوبز اور اسٹرپس جیسی منفرد اور محفوظ کیمیکلز سے پاک مصنوعات میں تبدیل کرتی ہیں۔ ان خواتین کے لیے یہ منصوبہ محض آمدنی کا ذریعہ نہیں، بلکہ روزگار فراہم کرنے، معاش کو مضبوط بنانے اور ان کی برادریوں کے لیے نئے امکانات پیدا کرنے کا وسیلہ بھی ہے۔
پی ایم ایف ایم ای نے اس سفر کو مزید آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بہتر مشینری نے کاروباری سرگرمیوں کو مضبوط بنایا، جبکہ وسیع تر بازار تک رسائی نے قبائلی وید (ٹرائبل وید )کی مصنوعات کو پہلے سے کہیں زیادہ دور تک پہنچنے میں مدد دی۔ آج آرڈر ایمیزون، فلپ کارٹ اور برانڈ کی اپنی ویب سائٹ کے ذریعے موصول ہوتے ہیں، جبکہ یہ سفر ہندوستانی سرحدوں سے آگے بڑھ کر دبئی اور امریکہ کے صارفین تک بھی پہنچ چکا ہے۔ ایک معمولی کسٹمر بیس سے شروع ہونے والا یہ کاروبار اب راجستھان کے جنگلات سے بہت آگے تک پھیل چکا ہے اور ایک سادہ خیال کو آگے بڑھا رہا ہے: جب روایت کو مواقع میسر آتے ہیں تو روایت اور ترقی، دونوں پروان چڑھ سکتے ہیں۔
مہاراشٹر میں میور ہانڈے کا سفر بہت کم وسائل سے شروع ہوا: ایک چھوٹا سا یونٹ اور ایک بڑا خواب۔ 13 سال قبل قائم ہونے والا سویا رچ سویا اور ٹوفو کے شعبے میں کام کرتا ہے۔ اس میں سویا کو پیس کر دودھ تیار کیا جاتا ہے، جسے بعد میں خمیر کرکے ٹوفو بنایا جاتا ہے، جبکہ نئی مصنوعات تیار کرنے کے لیے پودینہ اور اسموکڈ سمیت مختلف ذائقے شامل کیے جاتے ہیں۔ لیکن جدت طرازی کے لیے مناسب مشینری درکار ہوتی ہے اور مشینری کے لیے سرمایہ کاری ضروری ہے۔ پی ایم ایف ایم ای سے پہلے مالی وسائل کی کمی ایک مستقل رکاوٹ بنی ہوئی تھی، جبکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نے توسیع کے عمل کو مزید سست کر دیا تھا۔
سویا رچ نے 2021 میں پی ایم ایف ایم ای اسکیم میں شمولیت اختیار کی اور اس معاونت نے بیک وقت متعدد ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کی۔ 20 لاکھ روپے کی لاگت والے منصوبے کے لیے ادارے نے اسکیم کے تحت منصوبے کی لاگت کے 35 فیصد کے مساوی سرمایہ سبسڈی کے ساتھ بینک قرض حاصل کیا۔ معاونت صرف مشینری تک محدود نہیں رہی بلکہ برانڈنگ کو مضبوط بنانے، رسائی بڑھانے اور کاروبار کو سرکاری پورٹلز سے جوڑنے میں بھی مدد ملی۔ نتائج خود اس کامیابی کی گواہی دیتے ہیں: ایک چھوٹے سے یونٹ سے شروع ہونے والا سویا رچ اب آٹھ شہروں میں کام کر رہا ہے اور اس کی ماہانہ فروخت تقریباً 2 لاکھ روپے سے بڑھ کر تقریباً 35 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔ یہ سفر ایک سادہ پیغام دیتا ہے: صحیح معاونت کے ساتھ چھوٹی شروعات بھی بہت دور تک پہنچ سکتی ہے۔ اگرچہ یہ کہانی چھوٹے پیمانے سے شروع ہو کر وسیع تر ہوئی، لیکن ایک اور کہانی کئی دہائیاں پہلے شروع ہوئی تھی اور آج بھی نئے افق تلاش کر رہی ہے۔
پیوش موہنتی کے لیے فوڈ پروسیسنگ محض ایک کاروبار نہیں، بلکہ ایک ورثہ ہے، جس کا آغاز 1995 میں اوڈیشہ میں ہوا تھا۔ ملاتی فوڈ پروڈکٹس میں باجرے کی مختلف اقسام کی احتیاط سے صفائی، پیسائی، پروسیسنگ اور پیکیجنگ کی جاتی ہے۔ برسوں تک قابلِ اعتماد مشینری کی کمی نے ادارے کے متعین کردہ معیار کو حاصل کرنا مشکل بنا رکھا تھا۔ 2024 میں پی ایم ایف ایم ای کے ساتھ وابستگی نے ایک نیا امکان پیدا کیا: 9 لاکھ روپے سے زیادہ کی سرمایہ سبسڈی کے ذریعے یونٹ کو اپ گریڈ کرنا اور بہتر پروسیسنگ مشینری میں سرمایہ کاری ممکن بنانا۔
اس کا فرق تیزی سے نمایاں ہوا۔ بہتر مشینری نے مصنوعات کے معیار کو بلند کیا اور فروخت میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا۔ ملاتی فوڈ پروڈکٹس نے اپنی مارکیٹنگ کو ایمیزون اور فلپ کارٹ تک وسعت دی، جبکہ تجارتی میلوں میں شرکت نے نئے مواقع کے دروازے کھولے، جس سے مصنوعات کی نمائش میں اضافہ ہوا، معلومات حاصل ہوئیں اور مارکیٹ سے قیمتی روابط قائم ہوئے۔ تاہم، شاید سب سے بامعنی تبدیلی نہ تو فروخت کے اعداد و شمار میں نظر آتی ہے اور نہ ہی مشینری کی اپ گریڈیشن میں، بلکہ اس اعتماد میں نظر آتی ہے جو اب اس سے آگے دیکھنے کا حوصلہ دیتا ہے جسے کبھی ممکن سمجھا جاتا تھا۔ مضبوط صلاحیتوں اور مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی موجودگی کے ساتھ، ملاتی فوڈ پروڈکٹس اب اگلے سال برآمدی امکانات تلاش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یوں تقریباً تین دہائیوں پر محیط یہ ورثہ ہندوستانی سرحدوں سے آگے سفر کرنے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔
یہ کہانیاں دراصل اسی بارے میں ہیں کہ صرف کاروبار ہی نہیں بڑھ رہے، بلکہ خوابوں کو بڑا دیکھنے کی ہمت بھی پیدا ہو رہی ہے۔ اپنے رنگوں، خوشبوؤں اور ذائقوں سے آگے، اس بازار نے اپنے پیچھے ایک زیادہ پائیدار چیز چھوڑی ہے: ایک خاموش یاد دہانی کہ ایک خواب، جب اسے ایک موقع دیا جائے، زندگی بدل سکتا ہے۔
حوالہ جات
وزارت فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2302922®=3&lang=1
پی آئی بی بیک گراؤنڈر
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=155134&ModuleId=3®=48&lang=2
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں
***
UR-2621
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2303534)
وزیٹر کاؤنٹر : 4