وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم نے 53ویں پرگتی میٹنگ کی صدارت کی
وزیر اعظم نے ریلوے، سڑک اور بجلی کے شعبوں سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے چھ اہم منصوبوں کا جائزہ لیا
زیرِ جائزہ منصوبے 9 ریاستوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 30,000 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری شامل ہے
وزیر اعظم نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو انفرادی حصوں یا پیکیج کے بجائے ایک مربوط مجموعے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے
وزیر اعظم نے منصوبوں کے نفاذ کے تمام مراحل میں مسلسل اصلاحات اور وزارتوں و ریاستوں میں فعال اور پیش قدمی پر مبنی کام کے کلچر پر زور دیا
وزیر اعظم نے کہا کہ رفتار کے ساتھ معیار کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے
ایگری اسٹیک کا جائزہ لیتے ہوئے، وزیر اعظم نے زرعی اعداد و شمار سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا
سائبر فراڈ اور ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ کے حوالے سے وزیر اعظم نے تربیت، عوامی بیداری، سائبر تحفظ سے متعلق تعلیم اور مربوط کارروائی پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 AUG 2026 8:56PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج دن میں سیوا تیرتھ میں پرگتی (PRAGATI) کی 53ویں میٹنگ کی صدارت کی۔ پرگتی فعال حکمرانی اور بر وقت نفاذ (پرو ایکٹو گورننس اینڈ ٹائملی امپلیٹیشن) کے لیے آئی سی ٹی سے فعال، کثیر جہتی پلیٹ فارم ہے۔
میٹنگ کے دوران وزیر اعظم نے ریلوے، سڑک اور بجلی کے شعبوں سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے چھ اہم منصوبوں کا جائزہ لیا۔ یہ منصوبے 9 ریاستوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی مجموعی لاگت 30,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ رابطے کے نظام کو مضبوط بنانے، صنعتی اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے حوالے سے اہمیت کے حامل ان منصوبوں کا جائزہ خاص طور پر مقررہ مدت کی پابندی، مختلف اداروں کے درمیان تال میل، زیر التوا مسائل کے حل اور تیزی سے تکمیل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے لیا گیا۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تاخیر کے نتائج صرف لاگت میں اضافے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ اس کے باعث شہریوں، کاروباری اداروں اور معیشت کے لیے مطلوبہ فوائد کی فراہمی میں بھی تاخیر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو الگ الگ حصوں، سیکشن یا پیکیج کے طور پر نہیں بلکہ ایک مربوط مجموعے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور ان کی نگرانی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی پیکیج میں ہونے والی پیش رفت بالآخر پورے منصوبے کی بر وقت تکمیل اور اسے فعال بنانے میں تبدیل ہونی چاہیے۔ لہٰذا وزارتوں اور ریاستوں سے کہا گیا کہ وہ منصوبے کے آغاز سے اختتام تک ایک جامع طریقۂ کار اپنائیں اور ان اہم خامیوں کو دور کریں جو مجموعی طور پر منصوبے کو فعال کرنے اور اس کے فوائد کی فراہمی میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے وزارتوں اور ریاستی حکومتوں میں فعال اور پیش قدمی پر مبنی کام کے کلچر کو فروغ دینے پر زور دیا، جس میں منصوبے کے نفاذ کی ہر سطح پر زیادہ ذمہ داری اور ملکیت کا احساس ہو۔
وزیر اعظم نے بنیادی ڈھانچے کی خدمات کے لیے مشترکہ یوٹیلیٹی کوریڈور کے امکانات تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جہاں بھی یہ قابل عمل ہو، خاص طور پر بڑے نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی منصوبہ بندی کے دوران۔ انہوں نے وزارتوں اور ریاستوں سے کہا کہ وہ تکنیکی اور اقتصادی موزونیت کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کے مرحلے ہی میں اس طرح کے مربوط طریقۂ کار کا جائزہ لیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ منصوبوں کے نفاذ کی رفتار کے ساتھ معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے وزارتوں، ریاستوں اور نفاذی اداروں سے کہا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی اختیار کریں اور ہر مرحلے پر معیار کی یقین دہانی اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنائیں۔
ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن کے تحت ایگری اسٹیک (AgriStack) کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نے زرعی اعداد و شمار سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت سمیت جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجیوں سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی اعداد و شمار کے ماحولیاتی نظام کو زرعی ویلیو چین کے تمام مراحل، یعنی زرعی مداخل کی منصوبہ بندی سے لے کر پروسیسنگ تک، مؤثر طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، تاکہ زیادہ با خبر اقدامات، بہتر ہدف بندی اور اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے ایگری اسٹیک کے ماحولیاتی نظام کی تشکیل میں ریاستوں اور مرکزی حکومت کی کوششوں کو سراہا اور کسانوں کے لیے بہتر نتائج کی فراہمی میں اس کے استعمال کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
سائبر فراڈ کے معاملات، جن میں ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ کے واقعات بھی شامل ہیں، کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ تربیت، بیداری اور تعلیم پر مسلسل توجہ مرکوز کرتے ہوئے روک تھام کے اقدامات کو مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مسلسل اور ہدف پر مبنی عوامی بیداری کی مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر بزرگ شہریوں، نوجوانوں اور دیگر کمزور طبقات کے لیے، تاکہ انہیں عام فراڈ کے طریقوں، خطرے کی علامات اور محفوظ ڈیجیٹل طریقۂ کار سے واقف کرایا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ اہلکاروں کی باقاعدہ استعداد سازی پر بھی زور دیا، تاکہ سائبر فراڈ کے ابھرتے ہوئے طریقوں کی بر وقت شناخت کی جا سکے اور ان کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔
*****
ش ح۔ ف ش ع
U: 2611
(ریلیز آئی ڈی: 2303365)
وزیٹر کاؤنٹر : 15