صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود نے سمگر ششو بال سواستھ کاریہ کرم (ایس ایس بی ایس کے) پر نیشنل ورکشاپ کا انعقاد کیا


بچوں کی صحت کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے ابتدائی شناخت، خطرے کی بنیاد پر فالو اپ اور بروقت کارروائی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں: محترمہ ارادھنا پٹنائک، ایڈیشنل سیکریٹری و مشن ڈائریکٹر، نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم)

خطرے سے دوچار نومولود اور بچوں کی ابتدائی شناخت اور مزید مؤثر فالو اَپ کے لیے خطرے کی سطح کے مطابق نگہداشت، نیز بچوں کی ڈیجیٹل نگرانی، گھریلو دوروں، فالو اپ اور ریفرل کے لیے شیشو ایپ

ورکشاپ میں ایس ایس بی ایس کے کے تحت ڈیجیٹل نگرانی اور نگہداشت کے تسلسل کو مضبوط بنانے پر توجہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 AUG 2026 5:08PM by PIB Delhi

مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) نے 24–25 اگست 2026 کو مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھا جی نگر میں سمگر ششو بال سواستھ کاریہ کرم (ایس ایس بی ایس کے) پر دو روزہ نیشنل ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ یہ ورکشاپ محترمہ ارادھنا پٹنائک، ایڈیشنل سیکریٹری اور مشن ڈائریکٹر، نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم)، وزارت صحت و خاندانی بہبود کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس میں حکومت ہند کی وزارت صحت و خاندانی بہبود کے اعلیٰ افسران، حکومت مہاراشٹر کے نمائندگان، تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے بچوں کی صحت اور آشا پروگرام کے ریاستی نوڈل افسران، تکنیکی ماہرین اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔

ورکشاپ میں ایس ایس بی ایس کے کے عملی رہنما خطوط کو ریاستی، ضلعی، صحت کی سہولت اور کمیونٹی کی سطح پر مؤثر انداز میں نافذ کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی، جس میں خاص طور پر پیدائش سے لے کر تین سال کی عمر تک کے نومولود بچوں اور کم عمر بچوں کے لیے نگہداشت کے تسلسل کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

 

 

کلیدی خطاب کرتے ہوئے محترمہ ارادھنا پٹنائک، ایڈیشنل سیکریٹری و مشن ڈائریکٹر، نیشنل ہیلتھ مشن، وزارت صحت و خاندانی بہبود، حکومت ہند نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ بھارت نے نومولود بچوں اور بچوں کی اموات میں کمی لانے کے سلسلے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم اب باقی ماندہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے کمزور اور خطرے سے دوچار نومولود اور بچوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بالخصوص زندگی کے پہلے 7 دنوں کو نومولود کی بقا کے لیے اور پہلے 3 سالوں کو دماغ کی بہترین نشوونما کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے، ہر بچے کی بقا، نشوونما اور ترقی کے لیے ایس ایس بی ایس کے کے تحت نگہداشت کے تسلسل پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے معمول کی خدمات کی فراہمی سے آگے بڑھ کر ابتدائی شناخت، خطرے کی بنیاد پر فالو اَپ اور بروقت کارروائی کی جانب منتقل ہونے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی، جس میں ریاستوں کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے تاکہ ایس ایس بی ایس کے کے فریم ورک کو بچوں کی صحت کے نتائج میں قابل پیمائش بہتری میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مؤثر عمل درآمد کے لیے آشا کارکنوں، اے این ایم، کمیونٹی ہیلتھ افسران، طبی افسران اور آنگن واڑی کارکنوں کے درمیان مضبوط ٹیم ورک ضروری ہوگا، جسے مؤثر نگرانی، ریفرل روابط اور پروگرام کی مانیٹرنگ سے تقویت دی جائے گی۔

 

 

افتتاحی اجلاس کا آغاز ڈاکٹر شوبھنا گپتا، ڈپٹی کمشنر و انچارج (چائلڈ ہیلتھ اینڈ آر بی ایس کے)، وزارت صحت و خاندانی بہبود کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ انہوں نے دو روزہ قومی ورکشاپ کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتے ہوئے ایس ایس بی ایس کے کے مؤثر نفاذ کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مربوط اور باہم اشتراکی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔

نومولود اور بچوں کی صحت اور بقا کے حوالے سے ریاست مہاراشٹر کا نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے، جناب سنجے شری پتراؤ کٹکر، کمشنر و مشن ڈائریکٹر (این ایچ ایم)، حکومت مہاراشٹر نے نومولود اور بچوں کی بقا کو بہتر بنانے اور قومی پروگرام کی ترجیحات کو زمینی سطح پر عملی جامہ پہنانے میں ریاستی قیادت اور صحت کے نظام کی مؤثر کارروائی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ترقیاتی شراکت داروں نے بھی اجلاس سے خطاب کیا، جن میں ڈاکٹر ہیمنت شاہ، ڈائریکٹر (سی آئی ایف ایف)، ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن، انڈیا؛ ڈاکٹر پشپا دیو چودھری، ٹیم لیڈ ڈبلیو ایچ او انڈیا؛ محترمہ ناندے پٹا، چیف آف ہیلتھ، یونیسیف انڈیا اور جناب اروِن گڈگل، بھارت میں ناروے کے ڈپٹی سفیر شامل تھے۔ انہوں نے نومولود اور بچوں کی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے اور ایس ایس بی ایس کے کے نفاذ کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

افتتاحی اجلاس کے دوران ایس ایس بی ایس کے سے متعلق پروگرام کے وسائل بھی جاری کیے گئے، جن میں ایس ایس بی ایس کے کی افتتاحی ویڈیو، شیشو ایپ کی ویڈیو اور فرنٹ لائن کارکنوں کے لیے ایس ایس بی ایس کے کی تربیتی ویڈیوز شامل تھیں۔ ان وسائل کا مقصد پروگرام سے متعلق ابلاغ، آگاہی اور تربیت کے ساتھ ساتھ صلاحیت سازی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

 

 

ورکشاپ میں شیشو ایپ پر خصوصی توجہ دی گئی، جو ایس ایس بی ایس کے کے نفاذ میں معاونت فراہم کرنے والا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ یہ ایپ ’خطرے سے دوچار‘ نومولود اور بچوں کی شناخت اور ان کی ڈیجیٹل فہرست سازی، گھریلو دوروں کی منصوبہ بندی اور نگرانی، ریفر کیے گئے بچوں کے فالو اَپ، معاون نگرانی اور پروگرام کی مانیٹرنگ کے لیے تیار کی گئی ہے۔ یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم بچے کی صحت کا ایک طویل مدتی پروفائل تیار کرنے میں معاونت کرے گا، جس سے نومولود کی مدت سے ابتدائی بچپن تک بچے کی عمر بڑھنے کے ساتھ معلومات کے تسلسل اور فالو اَپ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ اس میں ٹیکنالوجی کو بروقت فیصلہ سازی کے لیے ایک معاون ذریعہ بنانے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ ہمدردانہ اور خاندان پر مرکوز نگہداشت کو پروگرام کی فراہمی کا بنیادی جزو برقرار رکھا گیا ہے۔

ورکشاپ میں کمیونٹی اور بنیادی صحت کی نگہداشت کے پلیٹ فارمز کے ذریعے فالو اپ کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی، جن میں آیوشمان آروگیہ مندر کے ذیلی سینٹر اور بچوں کی صحت کی خدمات فراہم کرنے والے دیگر پلیٹ فارم شامل ہیں، تاکہ صحت، غذائیت، نشوونما یا ترقی سے متعلق مسائل کے ساتھ شناخت کیے گئے بچوں کا فالو اَپ ضائع نہ ہو۔

ورکشاپ کے دوران منعقدہ خصوصی تکنیکی اجلاسوں میں ایس ایس بی ایس کے کے اہم اجزا کا احاطہ کیا گیا، جن میں خطرے کی شناخت اور خطرے کی سطح کے مطابق نگہداشت؛ گھریلو دوروں کے شیڈول؛ زچگی کے بعد ماں کی صحت اور ذہنی صحت؛ شیر خوار اور کم عمر بچوں کی خوراک؛ جسمانی نشوونما اور ترقی کی نگرانی؛ پرورش پر مبنی نگہداشت اور ابتدائی بچپن کی نشوونما؛ خطرے کی علامات کی شناخت؛ ریفرل اور فالو اپ؛ مشترکہ گھریلو دورے؛ معاون نگرانی؛ اور شیشو ایپ کا استعمال شامل تھے۔

 

 

پرورش پر مبنی نگہداشت میں خاندان کے کردار پر خصوصی زور دیا گیا۔ شرکاء نے بچوں کی ضروریات کے مطابق نگہداشت، عمر کے لحاظ سے موزوں کھیل اور بات چیت، مناسب خوراک کے طریقوں اور صحت و نشوونما سے متعلق مسائل کی ابتدائی شناخت میں ماؤں، باپ، دادا دادی، نانا نانی اور خاندان کے دیگر افراد کو شامل کرنے کی اہمیت پر تبادلۂ خیال کیا۔

تمام شرکاء کے ساتھ گروپ ورک بھی کیا گیا، جس میں عمل درآمد کی تیاری، عملی چیلنجوں، تربیت اور صلاحیت سازی کی ضروریات، باہمی اشتراک کے طریقۂ کار اور ریاستی سطح پر مخصوص عمل درآمد کی حکمت عملیوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان مباحث سے ایس ایس بی ایس کے کے نفاذ میں ریاستوں کے فعال شراکت دار اور مشترکہ ذمہ دار ہونے کی اہمیت مزید واضح ہوئی۔

 

 

سمگر ششو بال سواستھ کاریہ کرم (ایس ایس بی ایس کے) کے بارے میں

 

سمگر ششو بال سواستھ کاریہ کرم (ایس ایس بی ایس کے) کا آغاز مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جناب جے پی نڈا نے 29 جون 2026 کو مرکزی کونسل برائے صحت و خاندانی بہبود (سی سی ایچ ایف ڈبلیو) کی 16ویں کانفرنس کے دوران کیا۔ یہ پروگرام نومولود بچوں اور کم عمر بچوں کی صحت کے حوالے سے بھارت کے نقطۂ نظر میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔ ایچ بی این سی اور ایچ بی وائی سی کو پیدائش سے 36 ماہ کی عمر تک گھر اور کمیونٹی پر مبنی نگہداشت کے ایک متحد، خطرے کی سطح کے مطابق اور ڈیجیٹل طور پر فعال تسلسل میں مربوط کرتے ہوئے، یہ پروگرام ”پہلے تین سال، مکمل دیکھ بھال“ کے وژن کے تحت بچوں کی بقا سے آگے بڑھ کر صحت مند نشوونما اور ترقی، غذائیت، پرورش پر مبنی نگہداشت، ماں کی بہبود، بیماری اور نشوونما سے متعلق مسائل کی ابتدائی شناخت، اور بروقت ریفرل اور فالو اپ پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

ایس ایس بی ایس کے کی ایک اہم خصوصیت خطرے کی سطح کے مطابق نگہداشت ہے، جس کے تحت ’خطرے سے دوچار‘ نومولود اور بچوں کو زیادہ کثرت سے فالو اپ، اضافی گھریلو دورے، زیادہ قریب سے نگرانی اور ریفرل کے لیے مضبوط معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ پروگرام میں ’خطرے سے دوچار‘ بچوں کے لیے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز اور بنیادی صحت کی نگہداشت کی ٹیموں کے ذریعے مشترکہ گھریلو دوروں کا بھی انتظام ہے، جس سے مربوط جائزہ، مضبوط طبی نگرانی اور مشاورت، اور گھر پر فراہم کی جانے والی نگہداشت اور صحت کی سہولیات کے درمیان بہتر تسلسل کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔

                                               **************

 

ش ح۔ ف ش ع

25-08-2026

                                                                                                                                       U: 2589

 


(ریلیز آئی ڈی: 2303261) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी