نیتی آیوگ
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے ہنرمندی کے فروغ کے نظام کو نئے انداز میں تشکیل دینے کے عزم کا اعادہ کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 AUG 2026 6:19PM by PIB Delhi

نیتی آیوگ نے’’ رمیجننگ اسکلنگ فار وکست بھارت  “@2047کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جو وکست بھارتکی ضروریات سے ہم آہنگ ہنرمندی کے ایک جامع نظام کے لیے لائحۂ عمل پیش کرتی ہے۔ رپورٹ میں سیکھنے والوں/افرادی قوت کے 5 اہم زمروں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں 15 سے 29 سال کی عمر کےاین ای ای ٹی-نیٹ نوجوان بھی شامل ہیں۔ اس سے مراد ایسے نوجوانوں کا مجموعہ ہے جو درج ذیل زمروں میں شامل ہیں (i) رضاکارانہ کام/گھریلو کاروبار میں مصروف،(ii) گھریلو ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں،(iii) صحت کی حالت کے باعث کام کرنے کے قابل نہیں (iv) فارغ وقت گزار رہے ہیں، اور(v) دیگر۔

رپورٹ کے بعض حصوں میں 8.7 کروڑ این ای ای ٹی-نیٹ نوجوانوں کی تعداد کو غلط طور پر بے روزگار سمجھا گیا ہے۔ رپورٹ میںاین ای ای ٹی-نیٹسے مراد ایسے نوجوان ہیں جو روزگار کی تلاش نہیں کر رہے، جبکہاین ای ای ٹی-نیٹ کا مکمل مفہوم’ ناٹ این ایجوکیشن، امپلائمنٹ اور ٹریننگ‘یعنی تعلیم، روزگار یا تربیت میں شامل نہ ہونا ہے۔ لہٰذا، اس تعداد کو بے روزگاری کی شرح کے پیمانے یا بے روزگار افراد کی تعداد میں اضافے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ بے روزگار افراد ایک بالکل الگ زمرہ ہیں، جن کا تعلقاین ای ای ٹی-نیٹ کے تخمینے کے لیے استعمال کیے گئے آبادی کے دائرے سے مختلف آبادی سے ہے۔

نیتی آیوگ کی رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ان اعداد و شمار کے حساب کے لیے استعمال کیا گیا ڈیٹا این ایس ایس کے 78ویں راؤنڈ پر مبنی ہے، جوکووڈ-19 وبا کے دوران (مالی سال 2020-21) جمع کیا گیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں شدید خلل پیدا ہوا تھا، اس لیے رپورٹ میں دئیے گئے اعداد و شمار معمول کے رجحان سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس بات کی عکاسی اس حقیقت سے بھی ہوتی ہے کہ حالیہ ترین پی ایل ایف ایس راؤنڈ(پی ایل ایف ایس- (2025 میں نوجوانوں کیاین ای ای ٹی-نیٹ شرح نمایاں طور پر کم ہے۔

حکومت مضبوط اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے پُرعزم ہے۔ اسی مقصد کو آسان بنانے کے لیے پیریاڈک لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) کو 2017-18 میں متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے سالانہ تخمینے فراہم کیے جانے لگے۔ اس سے قبل این ایس ایس او کے روزگار و بے روزگاری سے متعلق سروے ہر پانچ سال میں ایک مرتبہ منعقد ہوتے تھے، جس کے نتیجے میں حقیقی اشاریوں کی دستیابی میں خاصا وقفہ رہتا تھا۔ جائزے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور اسے بین الاقوامی طریق کار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جنوری 2025 سےپی ایل ایف ایس میں مزید بہتری کی گئی، جس کے تحت سروے کی مدت کو جنوری تا دسمبر کے کیلنڈر سال کے دورانیہ میں منتقل کر دیا گیا۔

وکست بھارت@2047 کے ویژن کی تکمیل کے لیے حکومت نوجوانوں کو ہنرمند بنانے اور انہیں مستقبل کی ترقی کے لیے تیار کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت رپورٹ کی اشاعت سے قبل ہی حکومت نے وزارتِ ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کے ذریعے رپورٹ میں تجویز کردہ اہم اصلاحات پر عملی اقدامات شروع کر دیے تھے۔ مرکزی بجٹ 2026-27 میں 600 کروڑ روپے کی ’انٹیگریٹیڈ اسکیم اِن اسکلنگ آرکیٹیکچر (آئی ایس ایس اے)کا تعارف جو مذکورہ رپورٹ کے اجرا کی پیشگی بنیاد کے طور پر پیش کیا گیا، حکومت کے ارادے کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مقصد تعلیم، ہنرمندی، روزگار اور زندگی بھر سیکھنے کے نظاموں کے درمیان باہمی ربط اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔

*****

ش ح- ظ الف- ج

UR No. 2585


(ریلیز آئی ڈی: 2303244) وزیٹر کاؤنٹر : 12
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati