شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 ایک سوپچاس کروڑ روپے اور اس سے زیادہ مالیت کے مرکزی شعبہ کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر فلیش رپورٹ


 پیمانہ پورٹل نے جولائی 2026 تک 37.11 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے 1,775 بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی نگرانی کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 AUG 2026 4:00PM by PIB Delhi

وزارت شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی)اپنے ’پیمانہ‘ پلیٹ فارم کے ذریعے مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی نگرانی کو مسلسل مضبوط بنا رہی ہے، جس سے مختلف وزارتوں میں منصوبوں کی بہتر نگرانی، بروقت جائزہ اور اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی ممکن ہو رہی ہے۔ جولائی 2026 تک، پورٹل37.11 لاکھ کروڑ روپے کی مالیت کے 1,775 بنیادی ڈھانچہ کے منصوبوں کی نگرانی کر رہا ہے۔

اہم نکات

  • جولائی 2026 تک 17 مرکزی وزارتوں/محکموں کے تحت 1,775 جاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی نگرانی کی جا رہی ہے، جن کی مجموعی نظرثانی شدہ لاگت 37.11 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں پر اب تک ہونے والا مجموعی خرچ 19.26 لاکھ کروڑ روپے ہے، جو نظرثانی شدہ منصوبہ جاتی لاگت کا تقریباً 51.91 فیصد بنتا ہے۔ یہ منصوبوں کے نفاذ میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
  • منصوبوں کا ایک نمایاں حصہ تکمیل کے اعلیٰ مراحل میں ہے۔ 675 منصوبوں (تقریباً 38 فیصد) میں 80فیصد سے زیادہ طبعی پیش رفت ہو چکی ہے، جبکہ 305 منصوبے (تقریباً 17 فیصد) 80 فیصد سے زیادہ مالی تکمیل حاصل کر چکے ہیں۔ اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبوں کی ایک متوازن پائپ لائن موجود ہے، جس میں منصوبے نفاذ کے ابتدائی اور اعلیٰ دونوں مراحل میں تقسیم ہیں۔
  • ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس شعبہ، جو محکمہ اقتصادی امور (ڈی ای اے) کی ہم آہنگ ماسٹر لسٹ(ایچ ایم ایل) کے مطابق ہے، جاری منصوبوں کی سب سے زیادہ تعداد رکھتا ہے، جس میں 1,246 منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی نظرثانی شدہ تخمینی لاگت 19.81 لاکھ کروڑ روپے ہے، جو رابطہ کاری پر مبنی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو دی جانے والی ترجیح کو اجاگر کرتی ہے۔

 

  • 1,775 جاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں 735 میگا منصوبے شامل ہیںجن کی منصوبہ جاتی لاگت1,000 کروڑ  روپے یا اس سے زیادہ ہے) جن کی اصل لاگت 28.77 لاکھ کروڑ روپے ہے، جبکہ 1,040بڑے منصوبے (جن کی منصوبہ جاتی لاگت150 کروڑ روپے  یا اس سے زیادہ لیکن1,000 کروڑ روپےسے کم ہے،شامل ہیں جن کی مجموعی لاگت 4.93 لاکھ کروڑ روپے ہے۔
  • طبعی اور مالی پیش رفت مجموعی طور پر ایک دوسرے کے متوازی ہے۔ بڑی تعداد میں منصوبے ابتدائی مرحلے( (0–20فیصداور تکمیل کے قریب اعلیٰ مرحلے( (81–100فیصدمیں ہیں۔ یہ صورتِ حال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایک جانب نئے شروع کیے گئے منصوبوں کی پائپ لائن موجود ہے، جبکہ دوسری جانب بہت سے منصوبے تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ 81–100 فیصد کے مرحلے میں طبعی پیش رفت مالی پیش رفت سے زیادہ ہے، جبکہ ابتدائی مراحل میں مالی پیش رفت نسبتاً زیادہ ہے، جو منصوبوں کے نفاذ کے دوران ابتدائی سطح پر ہونے والے اخراجات کے رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image001_20260825162812_9ff212.png

2 . وزارتوں/محکموں کے لحاظ سے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی پیش رفت

  • سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت کے پاس منصوبوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے، جس کے تحت 993 منصوبے (56 فیصد) شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی مجموعی نظرثانی شدہ لاگت میں اس کا حصہ 9.62 لاکھ کروڑ روپے (26 فیصد) ہے، جو قومی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اس وزارت کے مرکزی کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
  • وزارت ریلوے 190 منصوبے (11 فیصد) نافذ کر رہی ہے، جن کی مجموعی نظرثانی شدہ لاگت 6.38 لاکھ کروڑ روپے (17 فیصد) ہے۔
  • وزارت کوئلہ کے تحت 121 منصوبے (7 فیصد) نافذ کیے جا رہے ہیں، جن کی مجموعی نظرثانی شدہ لاگت 2.22 لاکھ کروڑ روپے (6 فیصد) ہے۔
  • وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس، وزارت بجلی، وزارت ہاؤسنگ و شہری امور اور محکمہ آبی وسائل، دریائی ترقی و گنگا احیاء بالترتیب 103، 98، 50اور 38 منصوبے نافذ کر رہے ہیں۔ ان منصوبوں کی متعلقہ نظرثانی شدہ لاگت بالترتیب 4.23لاکھ کروڑ روپے، 6.08 لاکھ کروڑ روپے،3.78 لاکھ کروڑ  روپےاور 2.01 لاکھ کروڑ روپےہے۔
  • باقی 182 منصوبے (10 فیصد) جن کی مجموعی نظرثانی شدہ لاگت 2.78لاکھ کروڑ (8 فیصد) ہے، مختلف وزارتوں/محکموں میں تقسیم ہیں۔ ان میں اعلیٰ تعلیم، شہری ہوا بازی، فولاد، ٹیلی مواصلات، محنت و روزگار، بندرگاہیں، جہاز رانی و آبی گزرگاہیں، صحت و خاندانی بہبود، کان کنی، ڈی پی آئی آئی ٹی اور کھیل کے شعبے شامل ہیں۔(ضمیمہ I ملاحظہ کریں)

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image002_20260825162827_16e264.png

3 .ڈی ای اے کی بنیادی ڈھانچے کی ہم آہنگ ماسٹر لسٹ کے مطابق شعبہ وار بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی پیش رفت

  • ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس بدستور سب سے نمایاں شعبہ ہے۔ اس میں 1,246 منصوبے (کل منصوبوں کا 70 فیصد) شامل ہیں، جن کی مجموعی نظرثانی شدہ لاگت 19.81لاکھ کروڑ روپے (53 فیصد) ہے۔ یہ معاشی انضمام اور لاجسٹکس کی کارکردگی میں سڑکوں اور شاہراہوں، ریلوے، ہوابازی، شہری عوامی نقل و حمل، جہاز رانی اور اندرون ملک آبی گزرگاہوں کے مرکزی کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
  • توانائی کا شعبہ دوسرے نمبر پر ہے، جس میں 205 منصوبوں کی مجموعی نظرثانی شدہ لاگت 10.66 لاکھ کروڑ روپے (29 فیصد) ہے۔ یہ تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے، بجلی کی پیداوار، ترسیل و تقسیم کے نیٹ ورکس اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام پر مسلسل توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔
  • مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کے تحت 31منصوبے شامل ہیں، جن کی مجموعی لاگت 1.34 لاکھ کروڑ روپے (4 فیصد) ہے۔ یہ منصوبے ڈجیٹل رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے ہدفی اقدامات کی نمائندگی کرتے ہیں۔
  • پانی اور صفائی ستھرائی کے شعبے میں 53 منصوبے شامل ہیں، جن کی مجموعی لاگت 2.05 لاکھ کروڑ روپے (5 فیصد) ہے۔ یہ ضروری شہری خدمات پر مسلسل توجہ کو اجاگر کرتا ہے۔
  • سماجی اور تجارتی بنیادی ڈھانچے کے تحت 91منصوبے شامل ہیں، جن کی نظرثانی شدہ لاگت 0.99لاکھ کروڑ روپے (3 فیصد) ہے۔ یہ تعلیم، صحت، رئیل اسٹیٹ، سیاحت، مہمان نوازی اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں منتخب سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔
  • دیگرکے زمرے میں 149 منصوبے شامل ہیں، جن کی مجموعی لاگت 2.26 لاکھ کروڑ (6 فیصد) ہے۔ یہ کوئلہ، فولاد، دھاتوں اور کان کنی جیسے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے تنوع کی نشاندہی کرتا ہے۔(ضمیمہ II ملاحظہ  فرمائیں)

4.مکمل ہونے والے منصوبے اور نئے شامل کیے گئے منصوبے

  • جولائی 2026 کے دوران شروع کیے گئے نمایاں منصوبوں میں شامل ہیں:
    • ’’سریکاکولم–انگول گیس پائپ لائن پروجیکٹ‘‘-وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس کا منصوبہ، جس کی لاگت 2,810کروڑ ہے۔
    • ’’علی گڑھ–کانپور پیکیج I(علی گڑھ–بھڈواس)‘‘وزارت سڑک نقل و حمل و شاہراہوں کا منصوبہ، جس کی لاگت 2,069.6 کروڑ ہے۔
    • ’’دوارکا ایکسپریس وے پیکیج- III، دہلی/ہریانہ سرحد سے آر او بی گروگرام کے آغاز تک‘‘-وزارت سڑک نقل و حمل و شاہراہوں کا منصوبہ، جس کی لاگت  2,298.37   روپےکروڑ ہے۔
    • ’’گجرات کے کھڈوا علاقے میں ممکنہ قابل تجدید توانائی زون سے بجلی کے انخلا کے لیے ٹرانسمیشن سسٹم، مرحلہ- IV، 7-  جی ڈبلیو –پارٹ ای4‘‘وزارت بجلی کا منصوبہ جس کی لاگت 224.41 کروڑ ہے۔
  • جولائی 2026 کے دوران 36 اضافی منصوبوں کو’پیمانہ‘کی نگرانی میں شامل کیا گیا۔ ان میں محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کے 16، وزارت فولاد کے 9، وزارت سڑک نقل و حمل و شاہراہوں کے 6، محکمہ فروغ صنعت و داخلی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے 3، وزارت ہاؤسنگ و شہری امور کا 1 اور وزارت بجلی کا 1 منصوبہ شامل ہے۔ ان میں درج ذیل نمایاں منصوبے شامل ہیں:
    • "میجا تھرمل پاور پروجیکٹ، مرحلہ دوم (3×800 میگاواٹ)‘‘ 38,358 کروڑ روپے
    • ’’جے پور میٹرو ریل پروجیکٹ، مرحلہ دوم (پرہلاادپورہ تا توڑی موڑ)‘‘  13,037.66 کروڑ روپے
    • ’’چترا سے دیوریا گاؤں میںاین ایچ-100 کے ساتھ جنکشن تک 6 لین گرین فیلڈ وارانسی–رانچی–کولکاتا ہائی وے، کلومیٹر 222.000 تا 253.000، پیکیج-9‘‘1,418.16 کروڑ روپے

5 .پریس ریلیز کی اگلی تاریخ

اگست 2026 کی فلیش رپورٹ 25 ستمبر 2026 کو جاری کی جائے گی۔

نوٹ

  1. یہ پریس ریلیز ایم او ایس پی آئی کی جولائی 2026 کی فلیش رپورٹ کے اہم نکات کا خلاصہ پیش کرتی ہے، جو 150 کروڑ روپے اور اس سے زیادہ مالیت کے مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سے متعلق ہے۔ تفصیلی معلومات PAIMANA-PROJ پورٹل پر دستیاب ہیں یا ذیل میں دیے گئے کیو آر کوڈ کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
  2. پیمانہ کے پروجیکٹ مانیٹرنگ انٹرفیس کا نام تبدیل کرکے پیمانہ –پی آر او جے کر دیا گیا ہے، جسے پہلے’پیمانہ‘کہا جاتا تھا۔ مزید برآں، سینٹرل ریپوسٹوری آف ابفرا اسٹرکچر پروجیکٹ- پیمانہ-سی آر آئی پی، جسے ایم او ایس پی آئی نے جولائی 2026 میں شروع کیا، بنیادی ڈیٹا ذخیرہ/ان پٹ پرت کے طور پر کام کرتا ہے۔پیمانہ –سی آر آئی پی پورٹل پر تقریباً 80 فیصد ڈیٹااے پی آئی ایس کے ذریعے اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ یہ قومی سطح پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے مرکزی ذخیرے کے طور پر کام کرتا ہے، جس سے بنیادی ڈھانچے کی نگرانی کو معیاری بنانے اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے باخبر فیصلہ سازی میں معاونت ملتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/aug/image004_20260825163048_caaa5d.jpg

I ضمیمہ -  

مرکزی سیکٹر کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی وزارت/محکموں کے لحاظ سے پیش رفت

نمبرشمار

وزارت/محکمہ

پروجیکٹ کاؤنٹ (نمبر)

نظر ثانی شدہ لاگت

(لاکھ کروڑ روپےمیں)

مجموعی اخراجات

( لاکھ کروڑروپے میں)

1

روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت

993

9.62

4.61

2

وزارت ریلوے

190

6.38

4.59

3

وزارت کوئلہ

121

2.22

0.60

4

پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت

103

4.23

2.28

5

وزارت بجلی

98

6.08

2.10

6

ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت

50

3.78

1.97

7

محکمہ آبی وسائل، دریا کی ترقی اور جی آر

38

2.01

1.42

8

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

35

0.26

0.11

9

ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ

31

1.34

1.03

10

محکمہ اعلیٰ تعلیم

30

0.15

0.09

11

وزارت اسٹیل

27

0.30

0.13

12

شہری ہوا بازی کی وزارت

25

0.23

0.12

13

شعبہ برائے فروغ صنعت اور اندرونی تجارت

12

0.21

0.02

14

وزارت محنت اور روزگار

9

0.02

0.01

15

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت

6

0.14

0.10

16

کانوں کی وزارت

6

0.12

0.07

17

محکمہ کھیل

1

0.01

0.01

 

 مجموعی

1775

37.11

19.26

 

II ضمیمہ-   

سیکٹر وار (ڈی ای اے کی بنیادی ڈھانچے کی ہم آہنگ ماسٹر لسٹ کے مطابق) سنٹرل سیکٹر انفراسٹرکچر پروجیکٹس کی پیشرفت

 

نمبر شمار

ایچ ایم ایل زمرہ

پروجیکٹ کاؤنٹ

(نمبر)

نظر ثانی شدہ لاگت (لاکھ کروڑ روپے )

مجموعی اخراجات (لاکھ کروڑ روپے)

1

ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس

1246

19.81 روپے

11.23

2

توانائی

205

10.66 روپے

4.43

3

پانی اور صفائی

53

2.05 روپے

1.45

4

سماجی اور تجارتی

91

0.99

0.39

5

مواصلات

31

1.34 روپے

1.03

6

 دیگر

149

2.26 روپے

0.73

 

 مجموعی

1775

37.11

19.26

 

*****

ش ح- ظ الف- ج

UR No.2574

 


(ریلیز آئی ڈی: 2303215) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: हिन्दी , English , Tamil