جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت نے پی ایم جن من اور ڈی اے جے جی یو اے کے تحت نئی شمسی توانائی اسکیم نافذ کی، جس کے ذریعہ انتہائی کمزور قبائلی گروہوں اور قبائلی بستیوں کو 100 فیصد مرکزی مالی معاونت سے بجلی فراہم کی جائے گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 JUL 2026 7:00PM by PIB Delhi

نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کے مرکزی وزیر مملکت جناب شری پد یسو نائک نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت (ایم این آر ای)پردھان منتری جن جاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان(پی ایم جن من) اور دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اتکرش ابھیان(ڈی اے جے جی یو اے)کے تحت نئی شمسی توانائی اسکیم(انتہائی کمزور قبائلی گروہوں اور قبائلی بستیوں/دیہات کے لیے)نافذ کر رہی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد انتہائی کمزور قبائلی گروہوں اور قبائلی بستیوں/دیہات میں بجلی سے محروم گھرانوں کو بجلی فراہم کرنا، انتہائی کمزور قبائلی گروہوں کے علاقوں میں کثیر المقاصد مراکز کو شمسی توانائی سے آراستہ کرنا اور شناخت شدہ قبائلی بستیوں/دیہات میں سرکاری اداروں کو آف گرڈ شمسی توانائی نظام کے ذریعے شمسی توانائی سے لیس کرنا ہے، جہاں گرڈ کے ذریعے بجلی کی فراہمی تکنیکی اور معاشی اعتبار سے قابلِ عمل نہیں ہے۔نئی شمسی توانائی اسکیم کے تحت مختلف اجزا کے لیے 100 فیصد مرکزی مالی معاونت فراہم کرنے کی گنجائش ہے، جس کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں۔

نمبر شمار

اجزاء

مرکزی حصہ (100فیصد)

.1

قبائلی اور انتہائی کمزور قبائلی گروہوں کے گھرانوں کے لیے 0.3 کلوواٹ کے آف گرڈ شمسی توانائی نظام کی فراہمی

فی گھرانہ 50,000 روپے یا اصل لاگت، دونوں میں سے جو کم ہو۔

.2

شمسی اسٹریٹ لائٹنگ اور انتہائی کمزور قبائلی گروہوں (پی وی ٹی جی) کے علاقوں میں کثیر المقاصد مراکز (ایم پی سیز) میں روشنی کا انتظام (صرف پی ایم جن من کے جزو کے تحت)

 فی ایم پی سی ایک لاکھ روپئے

.3

آف گرڈ شمسی توانائی نظام کے ذریعے سرکاری اداروں کو شمسی توانائی سے آراستہ کرنا (صرف ڈی اے جے جی یو اے کے جزو کے تحت)

کسی ادارے میں20 کلو واٹ کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت کے لیےایک لاکھ فی کلو واٹ

 

نئی شمسی توانائی اسکیم کے تحت 30 جون 2026 تک 57.10 کروڑ روپے کی مرکزی مالی معاونت جاری کی جا چکی ہے۔

نئی شمسی توانائی اسکیم میں قبائلی امور کی وزارت کی جانب سے شناخت شدہ قبائلی اور انتہائی کمزور قبائلی گروہوں (پی وی ٹی جی)کے علاقوں میں بجلی سے محروم ایک لاکھ گھرانوں کو آف گرڈ شمسی توانائی نظام فراہم کرکے بجلی سے منور کرنے کا انتظام ہے۔ اس اسکیم کے تحت پی ایم جن من کے تحت منظور شدہ انتہائی کمزور قبائلی گروہوں کے علاقوں میں1,500 کثیر المقاصد مراکز (ایم پی سیز) کو بھی شمسی توانائی سے آراستہ کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

نئی شمسی توانائی اسکیم کے تحت 30 جون 2026 تک مختلف ریاستوں میں آف گرڈ شمسی توانائی نظام کے ذریعہ11,838 گھرانوں کو بجلی فراہم کیے جانے کی اطلاع ہے۔

بجلی کی وزارت سے موصولہ معلومات کے مطابق جہاں بھی ممکن ہو، جاری نظرثانی شدہ تقسیم شدہ شعبہ اسکیم(آر ڈی ایس ایس)کے تحت بجلی سے محروم گھرانوں کو گرڈ کے ذریعہ بجلی فراہم کرنے کے لیے ریاستوں کو معاونت دی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت پی ایم جن من کے تحت شناخت کیے گئے انتہائی کمزور قبائلی گروہوں (پی وی ٹی جی)سے تعلق رکھنے والے گھرانوں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے 13 ریاستوں میں مجموعی طور پر 521.45 کروڑ روپے مالیت کے کاموں کی منظوری دی گئی ہے، جس کے لیے 331.49 کروڑ روپے کی مجموعی بجٹ میں معاونت مقرر کی گئی ہے۔ اسکیم کے رہنما خطوط کے مطابق ان اقدامات کے ذریعے 1,39,126 پی وی ٹی جی گھرانوں کو گرڈ سے بجلی کا کنکشن فراہم کیا جانا ہے۔ 24 جولائی2026 تک پی وی ٹی جی سے تعلق رکھنے والے 1,38,620 گھرانوں کو بجلی فراہم کی جا چکی ہے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے چھوٹے دکانداروں یا تجارتی احاطوں کے منتظمین کو اپنی تجارتی تنصیبات پر شمسی پینل لگانے کے لیے کوئی سبسڈی فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔

قبائلی علاقوں میں چھوٹے کاروباری افراد کو تجارتی استعمال کے لیے شمسی توانائی اختیار کرنے کی ترغیب دینے کے مقصد سے کسی نئی سبسڈی اسکیم پر غور کرنے کی ایسی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔

 

*****

ش ح۔ م ح ۔ ص ج

U. No-2557

 


(ریلیز آئی ڈی: 2303041) وزیٹر کاؤنٹر : 19
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी