خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعتوں کی وزارت
حکومت پی ایل آئی ایس ایف پی آئی اور پی ایم ایف ایم ای اسکیموں کے ذریعہ خوراک کی مصنوعات کی پروسیسنگ، برآمدات اور روزگار کے مواقع کو فروغ دے رہی ہے
پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم کی کارکردگی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 JUL 2026 4:47PM by PIB Delhi
فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کی وزارت مالی سال22-2021سےمالی سال27-2026 تک کے لیے 10,900 کروڑ روپے کے منظور شدہ بجٹ کے ساتھ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریزکے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی ایس ایف پی آئی) نافذ کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اہل اضافی فروخت کے مقررہ اہداف حاصل کرنے پر کارکردگی کی بنیاد پر ترغیبات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد ملک میں فوڈ پروسیسنگ سے متعلق مصنوعات اور اس کی قدر میں اضافے کو فروغ دینا، عالمی معیار کے بڑے خوراکی مصنوعات تیار کرنے والے اداروں کے قیام میں معاونت کرنا، بین الاقوامی منڈیوں میں ہندوستانی غذائی برانڈز کو فروغ دینا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔اس وقت اسکیم کے تحت 127 کمپنیوں کی مجموعی طور پر 163 درخواستیں شامل ہیں۔ جن میں 69 انتہائی چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں (ایم ایس ایم ایز) بھی شامل ہیں۔ منظور شدہ منصوبے 22 ریاستوں کے 212 مقامات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ جون 2026 تک 3,271.44 کروڑ روپے کی ترغیبی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔اس اسکیم نے خوراکی مصنوعات کی پروسیسنگ کی صلاحیت میں توسیع، فروخت اور برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کو متحرک کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسکیم کے تحت کی گئی سرمایہ کاری کے نتیجے میں سالانہ 34 لاکھ میٹرک ٹن خوراکی مصنوعات کی پروسیسنگ کی اضافی صلاحیت پیدا ہوئی ہے۔
پی ایل آئی ایس ایف پی آئی کے تحت منظور شدہ درخواست گزاروں نے 7,722 کروڑ روپے کی طے شدہ سرمایہ کاری کے مقابلے میں 9,207 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے اور 2.50 لاکھ کے ہدف کے مقابلے میں تقریباً 3.35 لاکھ براہِ راست اوربالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ پی ایل آئی اسکیم کے تحت معاونت یافتہ مصنوعات کی فروخت مالی سال 20-2019 میں 58,758 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 26-2025 میں 1,08,854 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔
پی ایل آئی ایس ایف پی آئی کے تحت خواہش مند اضلاع میں منظور شدہ یونٹس کی تفصیلات ضمیمے میں فراہم کی گئی ہیں۔
وزارت نے 2008 سے پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا کے تحت چلنے والی اسکیم کے ایک جزو کے طور پر میگا فوڈ پارک اسکیم نافذ کی۔ اس اسکیم کے تحت کلسٹر پر مبنی ’ہب اینڈ اسپوک‘ طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے ابتدائی پروسیسنگ، ذخیرہ، مشترکہ پروسیسنگ اور دیگر معاون بنیادی ڈھانچے کی سہولیات قائم کی گئیں۔ میگا فوڈ پارک اسکیم کو یکم اپریل 2021 سے بند کر دیا گیا ہے۔
اس اسکیم کے تحت 25 ریاستوں میں مجموعی طور پر 41 میگا فوڈ پارکس کی منظوری دی گئی۔ جن میں سے 25 اس وقت فعال ہیں۔ ان منصوبوں کے ذریعے سالانہ 28.57 لاکھ میٹرک ٹن ذخیرہ و محفوظ کرنے کی صلاحیت اور سالانہ 15.41 لاکھ میٹرک ٹن پروسیسنگ کی صلاحیت پیدا ہونے کی توقع ہے۔ ان سے تقریباً 86,881 کسانوں کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ ساتھ 1,02,440 براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی بھی توقع ہے۔
پی ایل آئی ایس ایف پی آئی کے تحت حکومت ’برانڈنگ اور مارکیٹنگ‘ کے جزو کے ذریعہ بیرونِ ملک ہندوستانی غذائی مصنوعات کی برآمدات اور ان کی برانڈنگ کو فروغ دے رہی ہے۔ منظور شدہ درخواست گزاروں کو بیرونِ ملک برانڈنگ اور مارکیٹنگ پر ہونے والے اہل اخراجات کا 50 فیصد مالی ترغیبی امداد کے طور پر فراہم کیا جاتا ہے۔تاہم یہ رقم غذائی مصنوعات کی فروخت کے 3 فیصد یا سالانہ 50 کروڑ روپے، دونوں میں سے جو رقم کم ہو، تک محدود ہے۔
پی ایل آئی ایس ایف پی آئی اہل اضافی فروخت پر کارکردگی سے منسلک ترغیبات کے ذریعے ملک میں غذائی مصنوعات کی پروسیسنگ اور قدر میں اضافے کو بھی فروغ دیتی ہے۔ منظور شدہ درخواست گزاروں کی جانب سے کی گئی سرمایہ کاری سے پروسیسنگ کی صلاحیت میں توسیع کے ساتھ ساتھ جدید پروسیسنگ، پیکیجنگ اور مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز کو اپنانے میں بھی مدد ملی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اختراعی اور نامیاتی غذائی مصنوعات تیار کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے ایک الگ زمرہ بھی مختص کیا گیا ہے۔
وزارت پردھان منتری مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز فارملائزیشن اسکیم (پی ایم ایف ایم ای) بھی نافذ کر رہی ہے۔ پی ایم ایف ایم ای اسکیم طلب پر مبنی ایک اسکیم ہے، جس کا مقصد صلاحیت سازی، قرض کی سہولت، ٹیکنالوجی کو جدید بنانے اور بازار سے روابط قائم کرنے کے ذریعے مائیکرو فوڈ پروسیسنگ ادارے قائم کرنے یا موجودہ اداروں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے مالی، تکنیکی اور کاروباری معاونت فراہم کرنا ہے۔اس اسکیم کے تحت نئے ادارے قائم کرنے اور موجودہ اداروں کو جدید بنانے کے لیے اہل منصوبے کی لاگت کا 35 فیصد، زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے فی یونٹ تک، قرض سے منسلک سرمایہ جاتی سبسڈی فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جدید پروسیسنگ، جانچ، پیکیجنگ اور ذخیرہ کاری کی سہولیات سے لیس مشترکہ بنیادی ڈھانچے اور مشترکہ انکیوبیشن مراکز قائم کرنے میں بھی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ مشترکہ برانڈز کی تیاری، پیکیجنگ، لیبلنگ اور معیار کو یکساں بنانے کے لیے اہل منصوبے کی لاگت کے 50 فیصد تک برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے۔جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے اور برآمدات کے لیے کاروباری اداروں کی تیاری بہتر بنانے کے مقصد سے اس اسکیم کے تحت کاروباری صلاحیت کی ترقی کے پروگرام، مصنوعات کے لحاظ سے مخصوص تربیت اور تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ معاونت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی انٹرپرینیورشپ اینڈ مینجمنٹ (نیفٹم) اور ریاستی سطح کے تکنیکی اداروں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔
ضمیمہ
پی ایل آئی ایس ایف پی آئی کے تحت خواہش مند اضلاع میں واقع یونٹس
|
نمبر شمار
|
ریاست
|
خواہش مند ضلع
|
پی ایل آئی ایس کے تحت طبقہ
|
پی ایل آئی ایس کے تحت سرمایہ کاری (کروڑ میں)
|
صورتحال
|
|
1
|
بہار
|
مظفر پور
|
کھانے کے لیے تیار/ پکانے کے لیے تیار
|
18.50
|
فعال
|
|
2
|
بہار
|
بیگوسرائے
|
پھل اور سبزیاں
|
113.00
|
فعال
|
|
3
|
جھارکھنڈ
|
رانچی
|
کھانے کے لیے تیار/ پکانے کے لیے تیار
|
5.06
|
فعال
|
|
4
|
اتراکھنڈ
|
ادھم سنگھ نگر
|
نامیاتی مصنوعات
|
0.00
|
فعال
|
|
5
|
اتراکھنڈ
|
ادھم سنگھ نگر
|
کھانے کے لیے تیار/ پکانے کے لیے تیار
|
6.05
|
فعال
|
|
6
|
اتراکھنڈ
|
ادھم سنگھ نگر
|
جوار کی مصنوعات
|
0.00
|
فعال
|
|
7
|
اتراکھنڈ
|
ادھم سنگھ نگر
|
جوار کی مصنوعات
|
0.00
|
فعال
|
|
8
|
اتراکھنڈ
|
ادھم سنگھ نگر
|
پھل اور سبزیاں
|
126.67
|
فعال
|
|
9
|
اتراکھنڈ
|
ادھم سنگھ نگر
|
جوار کی مصنوعات
|
0.00
|
فعال
|
|
10
|
اتراکھنڈ
|
ادھم سنگھ نگر
|
جوار کی مصنوعات
|
0.00
|
فعال
|
نوٹ: خوراکی مصنوعات کی صنعت کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم کے تحت موٹے اناج اور نامیاتی مصنوعات کے شعبوں کے لیے طے شدہ سرمایہ کاری کی کوئی شرط نہیں ہے۔
یہ معلومات خوراکی مصنوعات کی صنعتوں کے وزیر جناب چراغ پاسوان نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
******
ش ح۔ م ح۔ص ج
U.NO.255
(ریلیز آئی ڈی: 2303035)
وزیٹر کاؤنٹر : 18