سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
روڈ سیفٹی پر علاقائی منتھن کانفرنس
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 AUG 2026 9:07PM by PIB Delhi
سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت (ایم او آر ٹی ایچ) نے آج ممبئی میں مغربی ریاستوں مہاراشٹر، گجرات، گوا اور مرکز کے زیر انتظام علاقے دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو (ڈی این ایچ اینڈ ڈی ڈی) میں ای-انفورسمنٹ، مربوط ڈیٹا نظام، محفوظ گاڑیوں، بہتر ہنگامی ردعمل اور ضلعی سطح پر مضبوط صلاحیت کے ذریعے سڑکوں کی حفاظت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے علاقائی منتھن کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس کی صدارت روڈ سیفٹی سے متعلق سپریم کورٹ کمیٹی کے چیئر مین معزز جسٹس اے ایم ساپرے (سبکدوش) نے کی۔ روڈ سیفٹی سے متعلق سپریم کورٹ کمیٹی کے رکن جناب سنجے بندیوپادھیائے اور سڑک نقل و حمل و شاہراہوں کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری (ٹرانسپورٹ) جناب محمود احمد سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔کانفرنس کے دوران درج ذیل امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا: -
الف ۔صفر ہلاکتوں والے اضلاع کا اقدام: سب سے زیادہ توجہ کے مستحق علاقوں پر توجہ مرکوز کرنا
نیک نیتی اور اچھی اسکیموں کو درست سمت اور مناسب ترجیحات کے ساتھ نافذ کرنا ضروری ہے۔ زیرو فیٹلٹی ڈسٹرکٹ (زیڈ ایف ڈی) اقدام کے ذریعے اس سوال کا حکمت عملی پر مبنی جواب تلاش کیا جا رہا ہے کہ سب سے پہلے کہاں کارروائی کی جائے اور جامع انداز میں کس طرح اقدامات کیے جائیں۔ زیڈ ایف ڈی ماڈل کو ملک بھر میں وسعت دی گئی ہے، جس کے تحت 15 ریاستوں کے 100 اہم اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں انجینئرنگ، قانون کے نفاذ، ہنگامی طبی امداد اور بیداری و تعلیم پر مشتمل جامع 360 درجے کی مداخلت پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ان 100 اضلاع میں ہر ضلع میں سالانہ اوسطاً 400 سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ہر ضلع میں حادثات کی مخصوص نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا زیڈ ایف ڈی فریم ورک سڑک حادثات میں ہونے والی ہلاکتوں میں نمایاں کمی لانے کے لیے ایک ثابت شدہ حکمت عملی پیش کرتا ہے۔
ب۔پی ایم راحت: علاج کی عدم دستیابی کے باعث کسی بھی متاثرہ شخص کی جان نہیں جانی چاہیے
تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر متاثرہ شخص کو پہلے ایک گھنٹے، یعنی سنہری گھنٹے (گولڈن آور )کے دوران اسپتال پہنچا دیا جائے تو 50 فیصد ہلاکتوں کو روکا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود ملک بھر میں حادثات کے متاثرین بروقت طبی امداد کے بغیر پڑے رہتے ہیں، اہل خانہ رقم کا انتظام کرنے کے لیے پریشان ہوتے ہیں اور اسپتال ادائیگی کی یقین دہانی نہ ہونے کی صورت میں علاج شروع کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ پی ایم راحت اسکیم اسی المناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کا فیصلہ کن اقدام ہے۔
پی ایم راحت اسکیم کے تحت حادثے کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ 7 دن تک 1.5 لاکھ روپے تک کاکیش لیس علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ اس میں بیمہ کی حیثیت سے قطع نظر سڑک حادثات کے تمام متاثرین کا علاج شامل ہے۔ اس اسکیم کو حقیقی معنوں میں انقلابی بنانے والی بات اس کی ٹیکنالوجی پر مبنی مضبوط بنیاد ہے، جس میں ای-ڈی اے آر (سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت) کو ٹی ایم ایس 2.0 (این ایچ اے) کے ساتھ مربوط کرنا اور 112 ہنگامی ہیلپ لائن سے منسلک کرنا شامل ہے۔ پہلی مرتبہ محکمہ نقل و حمل، محکمہ صحت اور پولیس ایک ہی ڈیٹا سے ریئل ٹائم میں کام کر رہے ہیں اور ان کا مشترکہ مقصد یہ ہے کہ طبی امداد میں تاخیر کے باعث کسی بھی متاثرہ شخص کی جان نہ جائے۔
ج۔ راہ ویر: نیک مددگار کے حوصلے کو خراج تحسین
بہترین ہنگامی طبی امداد کا نظام بھی اس وقت مؤثر طور پر کام نہیں کر سکتا جب حادثے کے مقام پر ابتدائی انتہائی اہم لمحات میں کوئی مدد کے لیے آگے نہ بڑھے۔ اسی مقصد کے لیے راہ ویر اسکیم متعارف کرائی گئی ہے۔ راہ ویر ان نیک مددگاروں کے لیے حکومت ہند کی جانب سے باقاعدہ اعتراف اور انعام کا نظام ہے، جو غیر یقینی صورت حال اور خطرے کے باوجود رک کر حادثے کے شکار شخص کی جان بچانے کا فیصلہ کرتے ہیں اور اسے سنہری گھنٹے (گولڈن آور)کے اندر اسپتال پہنچاتے ہیں۔
ہر راہ ویر جو کسی سنگین حادثے میں کسی شخص کی جان بچاتا ہے، خواہ اس حادثے میں بڑی سرجری، دماغ یا ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ، کم از کم تین دن اسپتال میں داخل رہنے یا دورانِ علاج موت کا معاملہ شامل ہو، اسے ہر واقعے کے لیے 25,000 روپے نقد انعام اور تعریفی سند دی جائے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ ان نیک مددگاروں کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہے، یعنی کسی بھی راہ ویر کے خلاف اس کی رضامندی کے بغیر قانونی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ پی ایم راحت اور راہ ویر مل کر حادثے کے لمحے سے لے کر مکمل صحت یابی تک ہنگامی طبی امداد کا ایک مکمل سلسلہ تشکیل دیتے ہیں۔
د۔ سڑک سرکشا متر: روڈ سیفٹی کے علم برداروں کی ایک برادری کی تشکیل
سڑک حادثات کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 18 سے 45 سال کی عمر کے افراد تمام ہلاکتوں میں 66.1 فیصد کا حصہ ہیں، جو روڈ سیفٹی سے متعلق اقدامات میں نوجوانوں کو شامل کرنے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت سڑک سرکشا متر (ایس ایس ایم) پروگرام شروع کیا گیا، جو نوجوانوں کی قیادت میں سڑکوں کی حفاظت کا ایک اقدام ہے اور جسے سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت اور نوجوانوں کے امور و کھیلوں کی وزارت نے مشترکہ طور پر وضع کیا ہے۔
اس پروگرام کا مقصد مائی بھارت پلیٹ فارم کے ذریعے تربیت یافتہ نوجوان رضاکاروں کو شامل کرکے ضلعی سطح پر روڈ سیفٹی سے متعلق اقدامات کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے تحت ملک کے 100 ایسے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جہاں سڑک حادثات میں ہلاکتوں کی شرح سب سے زیادہ ہے اور جہاں ڈسٹرکٹ روڈ سیفٹی کمیٹیاں (ڈی آر ایس سی) بنیادی انتظامی نظام کے طور پر کام کرتی ہیں۔ یہ رضاکار محض خاموش تماشائی نہیں بلکہ روڈ سیفٹی کے لیے باقاعدہ ذمہ داریوں کے ساتھ کام کرنے والے تربیت یافتہ افراد ہیں۔ انہیں حادثے کے مقام پر رابطہ کار، روڈ سیفٹی آڈیٹرز کے لیے اعداد و شمار جمع کرنے والے اور بیداری و عوامی شمولیت کے ذمہ دار کے طور پر مخصوص ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ہر ذمہ داری ضلعی سطح پر روڈ سیفٹی سے متعلق کارروائی کے ایک مخصوص پہلو میں مدد کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ایسے نوجوان رہنماؤں کا ایک مضبوط دستہ تیار ہو رہا ہے جو ہلاکتوں میں کمی لانے اور سڑکوں کو مزید محفوظ بنانے کے لیے وقف ہے۔
ای۔ ڈیٹا پر مبنی مقامی سطح کے اقدامات: حل کے پیچھے کارفرما سائنسی طریقۂ کار
یہ جاننا کہ حادثات کہاں پیش آتے ہیں، صرف پہلا قدم ہے۔ اس معلومات کی بنیاد پر منظم انداز میں، بڑے پیمانے پر اور درست ذرائع و وسائل کے ذریعے کارروائی کرنا اصل چیلنج ہے۔ ڈیٹا پر مبنی مقامی سطح کے اقدامات (ڈی ڈی ایچ آئی) کا فریم ورک اسی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ڈی ڈی ایچ آئی ضلعی روڈ سیفٹی کمیٹیوں (ڈی آر ایس سی) کو محض اندازے اور تجربے کی بنیاد پر منصوبہ بندی سے نکال کر شواہد پر مبنی اقدامات کی جانب منتقل کرنے کے قابل بناتا ہے۔
ڈی ڈی ایچ آئی کا لائحۂ عمل پانچ مراحل پر مشتمل ایک منظم چکر کی پیروی کرتا ہے: ہم آہنگی اجلاس، صلاحیت سازی، اقدامات کی منصوبہ بندی، نفاذ اور اثرات کا جائزہ۔ ہر ضلع میں پروگرام کے مقاصد پر باہمی ہم آہنگی سے کام کا آغاز ہوتا ہے، اس کے بعد صلاحیت سازی کے مرحلے میں طریقۂ کار کو آسان بنایا جاتا ہے اور افراد کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے، پھر متعلقہ ضلع میں حادثات کی مخصوص نوعیت کے مطابق مقامی سطح کے اقدامات کی نشاندہی اور ان کا نفاذ کیا جاتا ہے۔
یہ پانچوں پروگرام محض الگ الگ اقدامات نہیں ہیں بلکہ روڈ سیفٹی کے ایک مربوط اور جامع نظام کے باہم جڑے ہوئے اجزا ہیں۔ سڑک سرکشا متر کے ذریعے عوامی شمولیت ضلعی سطح کی منصوبہ بندی میں معاون بنتی ہے، اعداد و شمار پر مبنی معلومات قانون کے نفاذ اور انجینئرنگ سے متعلق اقدامات کی سمت متعین کرتی ہیں، نیک مددگار ہنگامی طبی امداد تک رسائی میں اہم کڑی کا کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ نقدی سے پاک علاج اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سنہری گھنٹے(گولڈن آور) کا کوئی لمحہ ضائع نہ ہو۔ لہٰذا تمام ریاستی اور ضلعی حکام پر زور دیا گیا کہ وہ اس ورکشاپ سے حاصل ہونے والی معلومات اور تجربات کو زمینی سطح تک لے جائیں اور ان پروگراموں کو اپنے روڈ سیفٹی منصوبوں میں شامل کریں۔
کانفرنس میں اس بات کی توثیق کی گئی کہ سڑک حادثات میں ہلاکتوں میں کمی لانے کے لیے ٹیکنالوجی، قانون کے نفاذ، گاڑیوں کی حفاظت، ہنگامی طبی امداد، حادثات کی تفتیش اور ادارہ جاتی صلاحیت کے شعبوں میں مربوط اقدامات ضروری ہیں۔
ریاستوں اور اضلاع پر زور دیا گیا کہ وہ ان مباحث کو زمینی سطح پر مقررہ مدت کے اندر عملی اقدامات میں تبدیل کریں اور محفوظ سڑکوں اور صفر ہلاکتوں والے اضلاع کے ہدف کی جانب قانون کے نفاذ اور سڑکوں کی حفاظت کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں۔
کانفرنس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ریاستیں سڑک حادثات میں ہونے والی ہلاکتوں کی بنیادی وجوہات کا تجزیہ کریں گی، سڑک حادثات اور ہلاکتوں میں کمی لانے کے لیے عملی منصوبہ تیار کریں گی اور 2030 تک سڑک حادثات میں ہونے والی ہلاکتوں میں 50 فیصد کمی لانے کے بھارت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ضلع کی سطح پر روڈ سیفٹی منصوبہ تیار کریں گی۔
********
) ش ح ۔ ش آ۔ م ش)
U.No. 2551
(ریلیز آئی ڈی: 2303034)
وزیٹر کاؤنٹر : 10