قبائیلی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قبائلی زبانوں اور عجائب گھروں سے متعلق قومی کانکلیو کرناٹک کے میسور میں آغاز


آدی وانی پلیٹ فارم کے ساتھ آئی او ایس ایپلی کیشن کا اجرا، پانچ نئی زبانوں کو بھی شامل کیا گیا

قبائلی امور کی وزارت نے مصنوعی ذہانت پر مبنی باٹ ’جاگو‘ کا بھی آغاز کیا

قبائلی امور کی وزارت اور مرکزی ادارہ برائے ہندوستانی زبانوں (سی آئی آئی ایل) کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے

प्रविष्टि तिथि: 24 AUG 2026 9:14PM by PIB Delhi

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00186HI.jpg

قبائلی امور کی وزارت نے آج کرناٹک کے میسور میں قبائلی زبانوں اور عجائب گھروں سے متعلق تین روزہ قومی کانکلیو کا آغاز کیا۔ اس کانکلیو میں پالیسی سازوں، ماہرینِ لسانیات، محققین، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور قبائلی برادریوں کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا ہے۔ جہاں قبائلی زبانوں کی دستاویز بندی اور ان کے احیاء کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں قبائلی عجائب گھروں اور قبائلی مجاہدینِ آزادی کے عجائب گھروں (ٹی ایف ایف ایم) کو مزید مضبوط بنانے کے امور پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔

افتتاحی اجلاس میں قبائلی امور کی وزارت کے معزز مرکزی وزیر مملکت جناب درگا داس اوئیکے، کرناٹک حکومت کے قبائلی بہبود کے معزز وزیر جناب رگھومورتی، میسور حلقے کے معزز رکن پارلیمنٹ جناب یدویر کرشن دت چامراج وڈیار، قبائلی امور کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب اننت پرکاش پانڈے، کرناٹک حکومت کے قبائلی بہبود کے محکمہ کی سکریٹری محترمہ کانگاولی، آئی اے ایس اور مرکزی ادارہ برائے ہندوستانی زبانوں (سی آئی آئی ایل) کے ڈائریکٹر پروفیسر بسوراجا کوڈگنٹی کے علاوہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

کارروائی کا آغاز قومی گیت، قومی ترانے اور ’ناد گیتے‘ کی پیش کش سے ہوا، جس کے بعد روایتی چراغ روشن کرنے کی تقریب منعقد کی گئی۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان قبائلی ترقی کے ایک تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ حکومت قبائلی زبانوں، زبانی روایات اور ثقافتی ورثے کو ہندوستان کی تہذیبی شناخت کا ایک اہم حصہ قرار دیتے ہوئے ان کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ بہت سی قبائلی زبانیں اور بولیاں بنیادی طور پر زبانی روایت کے ذریعے ہی نسل در نسل زندہ ہیں، اس لیے ان کی منظم دستاویز بندی، ٹیکنالوجی کی مدد سے احیا اور قبائلی عجائب گھروں اور قبائلی مجاہدینِ آزادی کے عجائب گھروں جیسے مخصوص مراکز کا قیام ملک کی فوری ترجیحات میں شامل ہے۔ یہ ’وکست بھارت@2047‘ کے سفر کی جانب اٹھائے جانے والے متعدد اقدامات میں سے ایک ہے۔

یہ کانکلیو قبائلی امور کی وزارت نے کرناٹک حکومت کے کرناٹک اسٹیٹ ٹرائبل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(کے ایس ٹی آر آئی)اور مرکزی ادارہ برائے ہندوستانی زبانوں کے اشتراک سے منعقد کیا ہے۔ قومی کانکلیو میں ملک کی مختلف ریاستوں سے 150 سے زائد شرکا نے شرکت کی۔

کرناٹک کی ابتدائی درسی کتابوں کا اجرا

ایک خصوصی تقریب میں کرناٹک حکومت کے قبائلی بہبود کے محکمہ نے کے ایس ٹی آر آئی کے اشتراک سے قبائلی زبانوں میں تیار کردہ کرناٹک کی ابتدائی درسی کتابوں کا اجراء کیا۔ ان میں جماعت اول کے لیے جینو کروبہ زبان کی ابتدائی درسی کتاب شامل ہے، جس میں کنڑ زبان، ریاضی اور ماحولیاتی علوم کے مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ’سنیویشا‘، ’پراگیتی نوٹا‘ اور ’تٹیگلو‘ فلیش کارڈز بھی جاری کیے گئے۔

قبائلی امور کی وزارت اور مرکزی ادارہ برائے ہندوستانی زبانوں کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط کئے گئے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002BLYF.jpg

 

قبائلی امور کی وزارت اور مرکزی ادارہ برائے ہندوستانی زبانوں (سی آئی آئی ایل) کے درمیان زبانوں کی دستاویز بندی اور لسانی ذخیرے کی تیاری سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس مفاہمت کے تحت سی آئی آئی ایل قبائلی زبانوں سے متعلق اعداد و شمار اور معلومات وزارت کے ساتھ شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ زبانوں کی دستاویز بندی کے عمل میں معاونت فراہم کرے گا۔

مکمل طور پر فعال آدی وانی پلیٹ فارم اور مصنوعی ذہانت پر مبنی بوٹ کا اجرا

اجلاس کے دوران ’جاگو‘ نامی قبائلی امور کی وزارت کے باضابطہ مصنوعی ذہانت پر مبنی گفتگو کرنے والے معاون اور اس کے لوگو نما کردار کا بھی اجرا کیا گیا۔ جاگو کو اس مقصد سے تیار کیا گیا ہے کہ قبائلی بہبود کی اسکیموں، پروگراموں، اقدامات اور معلوماتی ذخیروں سے متعلق معلومات کو تلاش کرنا، سمجھنا اور ان تک رسائی حاصل کرنا آسان ہو۔ یہ ایک ذہین پلیٹ فارم کے ذریعے وزارت کی جانب سے فراہم کردہ مستند معلومات کو ایک جگہ یکجا کرتا ہے۔

کانکلیو کی ایک اہم خاص بات جدید خصوصیات سے لیس آدی وانی پلیٹ فارم کا اجرا تھا۔ اس کے تحت نئی آئی او ایس ایپلی کیشن متعارف کرائی گئی، پانچ نئی زبانوں کو شامل کیا گیا اور آدی وانی کا نیا لوگو بھی جاری کیا گیا۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں کرناٹک حکومت کے قبائلی بہبود کے محکمہ کی سکریٹری محترمہ کانگاولی، آئی اے ایس، نے قبائلی زبانوں کے حوالے سے اجتماعی مکالمے کی فوری ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کسی زبان کا خاتمہ صرف زبان کے نقصان تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے وابستہ ثقافت اور روایات بھی متاثر ہوتی ہیں اور رفتہ رفتہ معدوم ہو سکتی ہیں۔

مرکزی ادارہ برائے ہندوستانی زبانوں کے ادارہ جاتی خطاب میں ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر بسوراجا کوڈگنٹی نے کہا کہ زبانیں تاریخ کی زندہ شہادت ہوتی ہیں اور نسل در نسل برادریوں کے علم اور تجربات کو اپنے اندر محفوظ رکھتی ہیں۔ انہوں نے قبائلی برادریوں کے مالا مال اور قدیم ثقافتی ورثے کو اجاگر کرتے ہوئے قبائلی زبانوں کے تحفظ کے لیے زمینی سطح پر دستاویز بندی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور قبائلی نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔

اپنے افتتاحی کلمات میں قبائلی امور کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب اننت پرکاش پانڈے نے کہا کہ قبائلی زبانوں اور ورثے کا تحفظ ’وکست بھارت@2047‘ کے وژن کا ایک اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کی بنیاد عزتِ نفس، علم اور برادری کی قیادت میں کیے جانے والے اقدامات پر ہونی چاہیے۔

اس موقع پر میسور حلقے کے رکن پارلیمنٹ جناب یدویر کرشن دت چامراج وڈیار نے اپنی زبانوں اور زبانی روایات کے ذریعے بھارت کی بنیادی تہذیبی روایات کے تحفظ میں قبائلی برادریوں کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خاص طور پر کمزور قبائلی گروہوں کی بڑی تعداد تک پی ایم جن من پہل کی رسائی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور قبائلی مصنوعات کو مضبوط بازار روابط کے ذریعے مرکزی دھارے کی منڈیوں تک پہنچانے کی اہمیت اجاگر کی۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی امور کے معزز مرکزی وزیر مملکت جناب درگا داس اوئیکے نے کہا کہ سب سے بڑا مقصد قبائلی برادریوں کو مساوی حیثیت کے ساتھ سماج کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے مسلسل مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تاریخی بیانیوں میں قبائلی برادریوں کی موجودگی اور ان کے نمایاں کردار کو بھی اجاگر کیا، جن میں مختلف تاریخی حوالوں میں قبائلی برادریوں کا ذکر شامل ہے۔

اجلاس میں قبائلی برادریوں کے تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے اور اسے دستاویزی شکل دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا، جس میں بھگوان برسا منڈا کی عظیم تاریخی میراث بھی شامل ہے۔

تکنیکی اجلاس

دن کی کارروائی کے لیے بنیادی نکات اور پس منظر پیش کرتے ہوئے قبائلی امور کی وزارت کے ڈپٹی سکریٹری جناب گنیش ناگاراجن کی پیشکش کے بعد دوپہر کے اجلاس میں تین پینل مباحثے منعقد ہوئے۔

پہلا پینل’دستاویز بندی، زبانوں کو درپیش خطرات اور برادری کی قیادت میں احیا‘ کے موضوع پر تھا۔ اس میں قبائلی زبانوں کی موجودہ دستاویز بندی کی صورتِ حال اور برادریوں کی قیادت میں زبانوں کے احیا کے مختلف ماڈلز کا جائزہ لیا گیا۔ پینل میں کوڈِن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر آر کارتھک نارائنن، تیج پور یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر امیلیش گوپے، آئی آئی ٹی کانپور کے شعبۂ ہیومینیٹیز اینڈ سوشل سائنسز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر چیترا پٹاسوامی اور سی آئی آئی ایل کے لیکچرر کم جونیئر ریسرچ آفیسر ڈاکٹر سوجوائے سرکار شامل تھے۔

دوسرا پینل’ٹیکنالوجی اور قبائلی زبانوں کا امتزاج‘ کے موضوع پر تھا۔ اس میں قبائلی زبانوں کی دستاویز بندی کے لیے دستیاب تکنیکی وسائل کا جائزہ لیا گیا، جن میں خودکار تقریر کی شناخت، متن کو آواز میں تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی، مشینی ترجمہ، لسانی ذخیرے کی تیاری، کی بورڈز اور فونٹس شامل ہیں۔ اجلاس میں قبائلی لسانی معلومات کے تحفظ، ان کے غلط استعمال کے ممکنہ خطرات اور حفاظتی اقدامات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ قبائلی زبانوں سے متعلق اعداد و شمار اور مواد کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران صبح کے رجسٹریشن کاؤنٹر پر ریکارڈ کی گئی آڈیو کے ذریعے براہِ راست ترجمے کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا گیا۔ پینل میں سی آئی آئی ایل میسور کے ڈاکٹر نارائن کمار چودھری، آئی ایس آئی بنگلورو کے ڈی آر ٹی سی کے سابق سربراہ پروفیسر اے آر ڈی پرساد، آئی آئی ٹی دھارواڑ کے پروفیسر دلیپ اے ڈی، اَن ریئل ٹیک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ریتیش کمار اور کی اسٹون فاؤنڈیشن کی پروگرام کوآرڈینیٹر رنجنی پرساد شامل تھیں۔

قبائلی طلبہ کے لیے کثیر لسانی تعلیم: تدریس، مواد اور نتائج‘ کے موضوع پر تھا۔ اس میں قبائلی اسکولوں کے لیے قبائلی زبانوں کی تدریس اور نصاب، تعلیمی مواد کی تیاری میں موجود خلا، ابتدائی درسی کتابوں، لغات اور اساتذہ کے لیے رہنما کتابچوں کی دستیابی، نیز قبائلی زبان میں مہارت اور روزگار کے بہتر مواقع کے درمیان تعلق پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ پینل میں سی آئی آئی ایل کے ڈائریکٹر پروفیسر بسوراجا کوڈگنتی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی پروفیسر مناتی پانڈا، این سی ای آر ٹی کے ڈاکٹر راما نجم میگناتھن اور ایل ایل ایف کے ارونابھ کوور شامل تھے۔

کیرالہ، اڈیشہ، سکم اور جھارکھنڈ کے چار قبائلی تحقیقی اداروں نے زبانوں کے تحفظ کے سلسلے میں اپنی بہترین کارکردگی اور جاری منصوبوں پر پریزنٹیشنز پیش کیں۔

کانکلیو 25 اگست 2026 کو بھی جاری رہے گا، جس میں قبائلی برادریوں کی ترجیحات اور خواہشات پر ایک پینل مباحثہ، میسور اعلامیے کو اپنانے اور اس پر دستخط کرنے کی تقریب اور قبائلی مجاہدینِ آزادی کے عجائب گھروں (ٹی ایف ایف ایم)سے متعلق متعدد اجلاس شامل ہوں گے۔

*****

ش ح۔ م ح ۔ ص ج

U. No-2550

 


(रिलीज़ आईडी: 2302990) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Kannada