سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پانچواں اسپیس — جہاں تعلیم ذمہ داری سے ہم آہنگ ہوتی ہے


مرکزی وزیر ڈاکٹر ویریندر کمار نے اسکولی طلبہ سے تعلیم، ڈیجیٹل ذمہ داری اور انسانی وقار کے موضوعات پر بات چیت کی

प्रविष्टि तिथि: 24 AUG 2026 6:17PM by PIB Delhi

سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ویریندر کمار نے آج نوجوان نسل کی بات سننے، ان کے مسائل اور خدشات کو سمجھنے اور ایسا ماحول پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جہاں وہ بلا جھجھک اپنے خیالات اور مشکلات کا اظہار کر سکیں۔

قومی دارالحکومت میں آج ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں منعقدہ ’’پانچواں اسپیس — جہاں تعلیم ذمہ داری سے ہم آہنگ ہوتی ہے‘‘ پروگرام سے اسکولی طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کمار نے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول میں والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو نوجوانوں کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر محض تنقید کرنے کی بجائے ان کے مسائل اور نقطۂ نظر کو سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ مؤثر طور پر رابطہ قائم کرنا چاہیے۔

اس پروگرام کا انعقاد قومی کمیشن برائے خواتین نے ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر، یونیسکو نئی دہلی اور ماؤنٹ آبو پبلک اسکول کے اشتراک سے کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001KZU3.jpg

ڈاکٹر ویریندر کمار نے طلبہ، والدین اور اساتذہ کے درمیان مضبوط جذباتی تعلق برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ نوجوانوں کو مشکلات کا سامنا ہونے کی صورت میں رہنمائی اور تعاون حاصل کرنے میں آسانی ہو۔

مرکزی وزیر نے ہر بچے کی انفرادی صلاحیتوں، امنگوں اور ضروریات کو سمجھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ محض چیزوں کو دیکھنے کے بجائے انہیں گہرائی اور بامعنی انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے، یعنی ‘‘دِرِشٹی سے اَنتردِرِشٹی کی طرف’’ — ظاہری مشاہدے سے گہری بصیرت کی جانب بڑھنا۔

ڈاکٹر کمار نے ‘‘پانچویں اسپیس’’ کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ گھر، اسکول، ثقافت، معاشرہ، شہریت، علم اور ڈیجیٹل دنیا کے باہمی امتزاج کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خاص طور پر تیزی سے ڈیجیٹل ہوتی دنیا میں پروان چڑھنے والے نوجوانوں کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ اخلاقیات، ذمہ داری اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔

اس باہمی تبادلۂ خیال کے دوران طلبہ کو مرکزی وزیر سے براہِ راست سوالات کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع ملا۔ وزیر  موصوف نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہمیشہ تجسس برقرار رکھیں، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ملک کے مستقبل کی تشکیل میں اپنے کردار سے باخبر رہیں۔

اس پروگرام میں بچوں کے حقوق، تحفظ، صنفی مساوات، انسانی وقار، ڈیجیٹل ذمہ داری اور ذمہ دار شہری ہونے کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان موضوعات پر اظہارِ خیال کرنے والی ممتاز شخصیات میں قومی کمیشن برائے تحفظِ حقوقِ اطفال کے رکن سکریٹری ڈاکٹر سنجیو شرما، ماؤنٹ ابو پبلک اسکول کی پرنسپل ڈاکٹر جیوتی اروڑہ اور قومی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن وجے لکشمی راحت شامل تھیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002RZNO.jpg

مرکزی وزیر اور طلبہ کے درمیان ہونے والے اس باہمی بات چیت میں اس بات کو اجاگر کیاگیا کہ مکالمے، ہمدردی اور باہمی سمجھ بوجھ کے ذریعے نسلوں کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی، تعلیم کا مقصد صرف نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں کامیابی کے لیے تیار کرنا ہی نہیں، بلکہ انہیں ذمہ دارانہ رویے اور انسانی وقار کے ساتھ اپنے شہری فرائض ادا کرنے کے لیے بھی تیار کرنا ہونا چاہیے۔

*****

 ش ح۔ ک ح۔ ج ا

U.No. 2533


(रिलीज़ आईडी: 2302861) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Kannada