کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

این اے کے تحت مختص تلابیرا دوئم اور سوئم کوئلہ کانوں نے مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ پیداوار حاصل کی

प्रविष्टि तिथि: 24 AUG 2026 11:25AM by PIB Delhi

 حکومت ہند  کی جانب سے ملک کی کوئلہ پیداوار اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو نامزد اتھارٹی کے تحت مختص اور نیلام کی گئی کوئلہ کانوں کے ذریعے مزید تقویت مل رہی ہے۔ اڈیشہ میں واقع تلابیرا دوئم و سوئم کھلی کان کو کوئلہ کانوں (خصوصی دفعات) ایکٹ، 2015 کے شیڈول سوم کے تحت 2 مئی 2016 کو این ایل سی انڈیا لمیٹڈ کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ یہ کان نامزد اتھارٹی کے تحت مختص ان کانوں میں شامل ہے جو پیداوار، ترسیل، ٹیکنالوجی کے استعمال، حفاظتی اقدامات، ماحولیاتی انتظام، روزگار اور مقامی برادری کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

سنبھل پور اور جھارسوگوڑا اضلاع میں واقع یہ کان ملکی سطح پر کوئلے کی دستیابی میں ایک اہم کردار ادا کرنے والی کان کے طور پر ابھری ہے۔ مالی سال  26-2025 میں تلابیرا دوئم و سوئم نے 19.14 ملین ٹن کی اپنی اب تک کی سب سے زیادہ سالانہ کوئلہ پیداوار حاصل کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.28 فیصد سالانہ اضافہ ہے۔ کان نے 21 مارچ 2026 کو ایک دن میں 1,26,138.07 ٹن کی اپنی اب تک کی سب سے زیادہ یومیہ پیداوار اور مارچ 2026 میں 3.39 ملین ٹن کی اپنی اب تک کی سب سے زیادہ ماہانہ پیداوار بھی ریکارڈ کی۔

پیداوار کے ساتھ کوئلے کی ترسیل کے شعبے میں بھی کان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مالی سال 26-2025 میں کان نے 17.69 ملین ٹن کی اپنی اب تک کی سب سے زیادہ سالانہ ترسیل حاصل کی۔ اس میں سے تقریباً 10.72 ملین ٹن کوئلہ بجلی کے شعبے کو، جبکہ 6.97 ملین ٹن غیر ضابطہ شدہ شعبے کو فراہم کیا گیا۔ تلابیرا دوئم و سوئم سے حاصل ہونے والا کوئلہ متعدد ریاستوں میں بجلی پیدا کرنے والے مراکز کی ضروریات پوری کرتا ہے، جن میں این ٹی پی سی داریپالی، این ٹی پی سی گڈارواڑہ، این ٹی پی سی کھرگون، این ٹی پی سی کڈگی اور اڈیشہ، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، کرناٹک، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور مغربی بنگال کے دیگر بجلی گھر شامل ہیں۔

کان نے پیداوار شروع ہونے کے بعد سے مسلسل ترقی کی رفتار برقرار رکھی ہے۔ 14 اگست 2026 تک کان سے مجموعی طور پر 72.23 ملین ٹن کوئلہ پیدا کیا جا چکا ہے، جبکہ مجموعی ترسیل 70.89 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ کارکردگی حکومت کے کوئلہ بلاک مختص کرنے کے نظام کے تحت مختص کیے گئے کوئلے کے وسائل کو عملی طور پر بروئے کار لانے سے حاصل ہونے والے نمایاں نتائج کی عکاسی کرتی ہے۔

تلابیرا دوئم و سوئم میں آپریشنل کارکردگی بڑھانے میں ٹیکنالوجی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ڈیجیٹل لاجسٹکس مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ریڈیو فریکوئنسی شناخت پر مبنی گاڑیوں کی تصدیق، مصنوعی ذہانت سے لیس کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی سے مزین داخلی و خارجی راستوں کی مدد سے کوئلے کی نقل و حمل اور ترسیل کی مکمل نگرانی ڈیجیٹل طور پر کی جاتی ہے۔ اس نظام کے نفاذ کے بعد داخلی دروازے پر ہر گاڑی کی کارروائی کا اوسط وقت 1.42 منٹ سے کم ہو کر 0.54 منٹ رہ گیا، جبکہ خالی گاڑی کے وزن کی پیمائش کا وقت 1.34 منٹ سے گھٹ کر 0.48 منٹ ہو گیا۔

کان میں گرد و غبار پر قابو پانے کے نظام سے لیس سطحی کان کنی کی مشینیں، جی پی ایس پر مبنی گاڑیوں کے بیڑے کا انتظام اور جیو فینسنگ، جی این ایس ایس وصول کنندگان کے ساتھ تھری ڈی زمینی لیزر اسکیننگ، ڈرون کے ذریعے سروے، ٹرکوں میں کوئلہ بھرنے کا خودکار نظام، ماحول کی مسلسل ہوا کے معیار کی نگرانی کرنے والے اسٹیشن اور سی سی ٹی وی نگرانی کا نظام بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

 

تلابیرا دوئم و سوئم کھلی کان میں ڈیجیٹل لاجسٹکس مینجمنٹ سسٹم (ڈی ایل ایم ایس) کا نفاذ کیا گیا ہے، جس کے ذریعے کوئلے کی نقل و حمل اور ترسیل کی مکمل نگرانی اور کنٹرول ڈیجیٹل طریقے سے کیا جا رہا ہے۔

 

1.jpg2.jpg

 

 

کان کی آپریشنل کارکردگی کے ساتھ ذمہ دارانہ اور ماحول دوست کان کنی کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ کان کے لیز علاقے کے اندر 23.43 ہیکٹر رقبے میں شجرکاری کی گئی ہے، جہاں 64,288 پودے لگائے گئے ہیں، جبکہ لیز علاقے سے باہر 29.48 ہیکٹر رقبے میں 65,202 پودے لگائے گئے ہیں۔ کان میں 11.68 کلوواٹ کی شمسی توانائی کی صلاحیت بھی نصب کی گئی ہے، جس میں قریبی دیہات میں شمسی اسٹریٹ لائٹس اور کان کے بنیادی ڈھانچے میں شمسی روشنی کا انتظام شامل ہے۔ گرد و غبار پر قابو پانے کے لیے گیلی ڈرلنگ، پانی کا چھڑکاؤ، دھند پیدا کرنے والی توپیں، مستقل آب پاشی کے نظام، ہوا روکنے والی رکاوٹیں، ٹرک دھونے کے نظام اور سڑکوں کی مشینی صفائی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

کان کی حفاظت کی کارکردگی کا ایک اہم جزو ہے اور کان کے آغاز سے اب تک کوئی مہلک حادثہ پیش نہیں آیا۔ حفاظتی اقدامات میں حفاظتی انتظامی منصوبہ، نقل و حمل کی سڑکوں اور ٹریفک کے بہتر انتظام، ذاتی حفاظتی آلات کے استعمال کی پابندی، دھماکہ خیز کارروائیوں کے بہتر طریقۂ کار، حفاظتی تربیت اور ’آران سیفٹی ایپ‘ کے ذریعے قریب الوقوع حادثات کی رپورٹنگ شامل ہیں۔ کان کو سالانہ کان کنی حفاظتی پندرہ روزہ تقریبات کے تحت متعدد اعزازات بھی حاصل ہو چکے ہیں، جبکہ کوئلہ وزارت کی اسٹار ریٹنگ تشخیصی نظام کے تحت مالی سال 21-2020 سے مالی سال 25-2024 تک مسلسل پانچ برس فائیو اسٹار ریٹنگ حاصل کی ہے۔

اس کان کے اثرات صرف پیداوار اور توانائی کی فراہمی تک محدود نہیں ہیں۔ تلابیرا دوئم و سوئم سے روزگار کے 3,277 مواقع پیدا ہوئے ہیں، جن میں 1,277 براہِ راست جبکہ تقریباً 2,000 بالواسطہ روزگار کے مواقع شامل ہیں، جو نقل و حمل اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کے ذریعے پیدا ہوئے ہیں۔ منصوبے سے متاثرہ پانچ افراد نے بھوبنیشور کے اسکل ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ میں ہنرمندی کی ترقی کی تربیت حاصل کی، جبکہ 101 دیہی نوجوانوں اور خواتین کو آر ایس ای ٹی آئی اور پی ایم کے وی وائی مراکز کے ذریعے پائیدار ذریعۂ معاش سے متعلق تربیت فراہم کی گئی۔

کمیونٹی کی ترقی بھی اس منصوبے کے وسیع تر اثرات کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ مالی سال 26-2025 میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت 5.32 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جس سے صحت، پینے کے پانی، تعلیم، طلبہ کے لیے اسکول آمدورفت، دیہی بنیادی ڈھانچے، کھیلوں، ثقافتی سرگرمیوں اور شمسی روشنی سے متعلق اقدامات کی معاونت کی گئی۔ صحت اور خون عطیہ کرنے کے کیمپوں سے تقریباً 1,500 افراد مستفید ہوئے، جبکہ ٹینکروں کے ذریعے پینے کے پانی کی فراہمی سے تقریباً 10,000 افراد کو فائدہ پہنچا۔ مالی سال 2026-27 میں جولائی 2026 تک مزید 4.20 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جن سے پینے کے پانی کی فراہمی، صحت کی سہولیات، شمسی روشنی، اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز کے بنیادی ڈھانچے، دیہی سڑکوں، کمیونٹی سہولیات اور آبی ذخائر کی بحالی سمیت مختلف اقدامات کیے گئے۔

 

تلابیرا دوئم و سوئم کھلی کان، این ایل سی انڈیا لمیٹڈ کی جانب سے میگا طبی کیمپ کا انعقاد

 

1234.jpg

 

2016 میں مختص کیے جانے سے لے کر مسلسل اعلیٰ پیداواری صلاحیت کے ساتھ کام کرنے تک، اس کان نے یہ ثابت کیا ہے کہ عملی طور پر بروئے کار لائے گئے کوئلے کے وسائل ملکی کوئلہ پیداوار میں اضافے، توانائی کے تحفظ، ٹیکنالوجی پر مبنی کان کنی، حفاظتی اقدامات، ماحولیاتی تحفظ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مالی سال 26-2025میں ریکارڈ پیداوار اور ترسیل، 72.23 ملین ٹن کی مجموعی پیداوار، 70.89 ملین ٹن کی مجموعی ترسیل اور نمایاں سماجی، معاشی و ماحولیاتی نتائج کے ساتھ تلابیرا دوئم و سوئم بھارت کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور خود کفیل بھارت اور ترقی یافتہ بھارت کے وسیع تر وژن کو آگے بڑھانے میں نامزد اتھارٹی کے تحت مختص کوئلے کے وسائل کے مؤثر کردار کی ایک نمایاں مثال بن کر ابھری ہے۔

****

ش ح۔ش ت۔ ش ا

U. NO.: 2508


(रिलीज़ आईडी: 2302642) आगंतुक पटल : 22
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Telugu