قبائیلی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قبائلی امور کی وزارت کرناٹک کے میسورو میں قبائلی زبانوں اور عجائب گھروں کے موضوع پر قومی اجلاس منعقد کرے گی


’’آدی وانی‘‘ پلیٹ فارم میں بڑی توسیع کی جائے گی، مزید 5 نئی زبانیں شامل کی جائیں گی، ’’آدی وانی‘‘ کی آئی او ایس ایپ جاری کی جائے گی؛ ’’ٹرائیبوٹ‘‘ پلیٹ فارم کا آغاز کیا جائے گا؛ قبائلی عجائب گھروں اور قبائلی مجاہدینِ آزادی کے عجائب گھروں کے لیے قومی سطح کے لائحۂ عمل پر غور کیا جائے گا

प्रविष्टि तिथि: 23 AUG 2026 5:22PM by PIB Delhi

قبائلی امور کی وزارت 24 سے 26 اگست 2026 تک کرناٹک کے شہر میسورو میں قبائلی زبانوں اور عجائب گھروں کے موضوع پر سہ روزہ قومی اجلاس منعقد کرے گی۔ اس اجلاس میں پہلی مرتبہ ایک ہی پلیٹ فارم پر قبائلی زبانوں کی دستاویز بندی، تحفظ اور احیا کے حوالے سے قومی سطح پر غور و خوض کیا جائے گا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں قبائلی عجائب گھروں اور قبائلی مجاہدینِ آزادی کے عجائب گھروں کو مزید مستحکم بنانے پر بھی گفتگو ہوگی۔ یہ قومی اجلاس 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کے لیے وزیرِ اعظم کے طے کردہ لائحۂ عمل کو آگے بڑھاتا ہے، جس میں بھارت کے روایتی نظام ہائے علم کی تجدید اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ترقی کے سفر میں کوئی بھی برادری پیچھے نہ رہ جائے، جامع قومی ترقی کے بنیادی ستون قرار دیے گئے ہیں۔

بھارت کی قبائلی برادریاں سینکڑوں زبانوں اور بولیوں کی امین ہیں۔ ان میں سے بہت سی زبانیں اب تک تحریری شکل اختیار نہیں کر سکیں، بہت سی زبانیں تعلیمی نصاب اور تدریس کا حصہ نہیں ہیں اور کئی زبانیں نئی نسل تک منتقل ہونا بھی تقریباً بند ہو چکی ہیں۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کسی قبائلی زبان کے خاتمے کے ساتھ اس سے وابستہ ماحولیاتی، طبی، زرعی اور ثقافتی علم کا ایک پورا ذخیرہ بھی ختم ہو جاتا ہے، وزارت نے قبائلی تحقیقاتی اداروں اور ریاستی قبائلی بہبود کے محکموں کے نیٹ ورک کے ذریعے یہ قومی اجلاس منعقد کیا ہے۔ اس کا مقصد قبائلی برادریوں کی ترجیحات کو مرکزی حیثیت دینا اور قبائلی زبانوں کی دستاویز بندی، تحفظ اور احیا کے لیے قومی لائحۂ عمل وضع کرنا ہے۔

یہ اجلاس 2016 میں یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعظم کی جانب سے پیش کیے گئے اس تصور کو بھی آگے بڑھائے گا، جس میں بھارت کی آزادی کی جدوجہد میں قبائلی برادریوں کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف کیا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں وزارت نے 10 ریاستوں میں 11 قبائلی مجاہدینِ آزادی کے عجائب گھروں کے قیام کی منظوری دی ہے، جن میں سے چار کا افتتاح ہو چکا ہے۔ اجلاس میں قبائلی عجائب گھروں اور قبائلی مجاہدینِ آزادی کے عجائب گھروں کے لیے ایک مشترکہ ویژن پر غور کیا جائے گا، تاکہ انہیں عصرِ حاضر کی مؤثر نمائش، داستان گوئی اور برادری سے جڑے ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرنے والے فعال اداروں کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔

یہ وزیرِ اعظم کے اس وسیع تر نظریے کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ زبان محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی برادری کی ثقافت، ورثے اور روایتی علم کا زندہ خزانہ ہے۔ اس تصور میں قبائلی زبانوں کو ایک مرکزی اور نہایت اہم مقام حاصل ہے۔

قومی اجلاس کا افتتاح جناب درگاداس اوئیکے، معزز مرکزی وزیرِ مملکت برائے قبائلی امور کریں گے۔ اس موقع پر جناب رگھومورتی، معزز وزیر برائے قبائلی بہبود محکمہ، کرناٹک؛ جناب اننت پرکاش پانڈے، جوائنٹ سیکریٹری، قبائلی امور کی وزارت؛ محترمہ کناگاولی، آئی اے ایس، سیکریٹری، قبائلی بہبود محکمہ، کرناٹک؛ اور پروفیسر بسواراجا کوڈاگنٹی، ڈائریکٹر، مرکزی ادارۂ زبان ہائے ہند موجود ہوں گے۔

افتتاحی اجلاس میں قبائلی زبانوں میں کرناٹک کی ابتدائی درسی کتابوں کی رونمائی، قبائلی امور کی وزارت اور مرکزی ادارۂ زبان ہائے ہند کے درمیان یادداشتِ مفاہمت پر دستخط، چیٹ بوٹ کا آغاز اور آدی وانی پلیٹ فارم کی ایک بڑی تجدید پیش کی جائے گی۔ اس میں آئی او ایس کے لیے نئی موبائل ایپ کا اجرا، پانچ نئی زبانوں کا اضافہ اور پلیٹ فارم پر متعدد نئی سہولیات شامل ہوں گی۔

پہلے روز کی کارروائی میں قبائلی زبانوں کی دستاویز بندی کی موجودہ صورتِ حال اور برادری کی قیادت میں زبانوں کے احیا کے طریقۂ کار پر مذاکرے ہوں گے۔ اس کے علاوہ زبان سے متعلق ٹیکنالوجی کے موضوع پر بھی گفتگو ہوگی، جس میں خودکار گفتار کی شناخت، متن کو تقریر میں تبدیل کرنا، مشینی ترجمہ، لسانی ذخیرے کی تیاری اور اس سے متعلق معلومات کے تحفظ اور تجارتی استعمال کے خدشات شامل ہوں گے۔ اسی طرح کثیر لسانی تعلیم کے موضوع پر بھی غور کیا جائے گا۔ ملک بھر کے قبائلی تحقیقی ادارے اپنی زبانوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پیش کریں گے۔

دوسرے روز کا آغاز اس موضوع پر مذاکرے سے ہوگا کہ قبائلی برادریاں خود اپنی زبانوں کے احیا کی کوششوں سے کیا توقعات رکھتی ہیں۔ اس مذاکرے میں نچلی سطح پر کام کرنے والے کارکنوں اور قبائلی برادریوں سے وابستہ ماہرینِ لسانیات شرکت کریں گے۔ اس کے بعد قبائلی زبانوں سے متعلق ممکنہ اعلامیے کا مسودہ تیار کیا جائے گا، اسے منظور کیا جائے گا اور اس پر دستخط کیے جائیں گے۔

اس کے بعد اجلاس کا رخ عجائب گھروں سے متعلق امور کی جانب ہوگا۔ اس سلسلے میں قبائلی آزادی کی جدوجہد کی داستانوں کو حقیقی اور مستند انداز میں پیش کرنے، عجائب گھروں کو یادداشت اور شناخت کے زندہ مراکز کے طور پر فروغ دینے، عمارت کی تعمیر سے لے کر نمائش کے قیام تک عجائب گھر کی منصوبہ بندی، جدید نمائش کی تکنیکوں اور مصنوعی حقیقت اور مجازی حقیقت (اے آر/وی آر) سمیت جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور تعاملی کیوسک کے استعمال پر اجلاس ہوں گے۔ اس کے علاوہ عجائب گھروں کی تشکیل میں قبائلی برادریوں کی شرکت پر بھی غور کیا جائے گا، جس کے لیے قبائلی عجائب گھر، بھوپال جیسے اداروں کے تجربات سے استفادہ کیا جائے گا۔

اس قومی اجلاس میں قبائلی امور کی وزارت اور ریاستی قبائلی بہبود کے محکموں کے اعلیٰ افسران، قبائلی تحقیقی اداروں اور عمل درآمد کرنے والے اداروں کے نمائندے، قبائلی زبانوں کے ماہرین، عجائب گھروں کے ماہرین، منتظمینِ نمائش، تحفظِ ورثہ اور ٹیکنالوجی کے ماہرین، مؤرخین، ماہرینِ بشریات، قبائلی برادریوں کے نمائندے اور روایتی علم کے امین ملک بھر سے شرکت کریں گے۔

قومی اجلاس کے متوقع نتائج میں قبائلی زبانوں کی دستاویز بندی کی قومی سطح پر جامع صورتِ حال مرتب کرنا؛ برادری کی قیادت میں زبانوں کے احیا کے ایسے نمونوں کی مختصر فہرست تیار کرنا جنہیں وسیع پیمانے پر نافذ کیا جا سکے؛ قبائلی اسکولوں میں کثیر لسانی تعلیم کے لیے ایک قابلِ عمل طریقۂ کار وضع کرنا؛ قبائلی زبانوں سے متعلق اعلامیے کو منظور کرنا اور قبائلی عجائب گھروں اور قبائلی مجاہدینِ آزادی کے عجائب گھروں کے لیے ایک مشترکہ قومی ویژن تشکیل دینا شامل ہے، جس کے تحت تحقیق، نمائش کی ترتیب، تحفظِ ورثہ اور قبائلی برادریوں کی شرکت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-2499


(रिलीज़ आईडी: 2302549) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Kannada