امور داخلہ کی وزارت
امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے سلی گوڑی میں ایس ایس بی کے مختلف پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا، اور فوجی اہلکاروں سے بات چیت کی
سلی گوڑی کوریڈور، جو 8 ریاستوں اور 3 ملکوں سے جڑا ہوا ہے، براہ راست ملک کی سلامتی سے وابستہ ہے، مودی حکومت ایک سہ فریقی سلامتی نیٹ ورک کے ذریعے اسے ناقابل تسخیر بنا رہی ہے
’ایک سرحد، ایک فورس‘ کے تحت، ایس ایس بی کو سب سے مشکل ذمہ داری سونپی گئی ہے – یعنی نیپال اور بھوٹان کے ساتھ بغیر باڑ والی کھلی سرحد کی حفاظت، پورا ملک ان اہلکاروں کے عزم اور دوستانہ پڑوسی ممالک کے ساتھ ان کے ثقافتی لگاؤ کا احترام کرتا ہے
آزادی کے 80 سال بعد، لال قلعہ سے مکمل 'وندے ماترم' گایا گیا، اس لازوال تخلیق کے ذریعے بنکم بابو نے یہ پیغام دیا تھا کہ آزاد بھارت کو صرف ثقافتی قوم پرستی کو اپنا کر ہی آگے بڑھنا چاہیے
مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک بل پاس کروا کر مکمل 'وندے ماترم' کو ثقافتی پروگراموں کا حصہ بنا دیا ہے، اس سے بنکم بابو کا حب الوطنی کا پیغام بچوں اور نوجوانوں تک پہنچ رہا ہے
گھس بیٹھ کو روکنا اور مغربی بنگال اور ملک کو محفوظ بنانا ہمارا عزم ہے، اور اس کے لیے باڑ لگانا سب سے مضبوط قدم ہے، جناب سوویندو جی نے محض 45 دنوں میں بی ایس ایف اور ایس ایس بی کو 1,139 ایکڑ زمین فراہم کرائی
مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ نے کبھی ایس ایس بی اور بی ایس ایف کے پروگراموں میں شرکت نہیں کی، ایس ایس بی، بی ایس ایف اور آئی ٹی بی پی کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی ایجنسیاں نہیں ہیں؛ یہ سرحدوں کی حفاظت کرنے والی فورسز ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کو ان اہلکاروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے
دہلی-سلی گوڑی کوریڈور بھی 2026-27 کے بجٹ میں منظور شدہ 7 ہائی اسپیڈ ریل کوریڈورز میں شامل ہے، یہ 2 سے 3 سال کے اندر دہلی سے سلی گوڑی تک کا سفر محض چند گھنٹوں میں ممکن بنا دے گا
امرت بھارت اسکیم کے ذریعے، ہم سلی گوڑی اور جلپائی گوڑی اسٹیشنوں کی کایا پلٹ کر رہے ہیں، اور وائبڑنٹ ولیجز پروگرام کے تحت سرحدی دیہاتوں کو جوڑ کر، ہم ایک محفوظ، مامون اور متحرک زمینی سرحد کے تصور کو آگے بڑھا رہے ہیں
प्रविष्टि तिथि:
21 AUG 2026 6:14PM by PIB Delhi
امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج مغربی بنگال کے سلی گوڑی میں سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے مختلف پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا، اور اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کی۔ اس موقع پر، مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ جناب سوویندو ادھیکاری، دارجیلنگ کے لوک سبھا ایم پی جناب راجو بسٹا، مرکزی ہوم سکریٹری جناب گووِند موہن، انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے ڈائریکٹر جناب مہیش دکشت، سکریٹری (بارڈر مینجمنٹ) ڈاکٹر راجیندر کمار، اور ایس ایس بی کے ڈائریکٹر جنرل جناب سنجے سنگھل سمیت کئی دیگر سینئر افسران موجود تھے۔

امورِ داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ 150ویں یومِ آزادی کا موقع انتہائی خاص تھا۔ انہوں نے کہا کہ قومی گیت 'وندے ماترم' کی تخلیق کے 150 سال اور ملک کی آزادی کے 80 سال مکمل ہونے کے بعد، تاریخ میں پہلی بار اہل وطن اور پوری دنیا نے لال قلعہ کی فصیل سے مکمل 'وندے ماترم' کی دھن سنی۔ انہوں نے کہا کہ بنکم چندر چٹوپادھیائے کی اس لازوال تخلیق 'وندے ماترم' نے نہ صرف ہماری تحریکِ آزادی کو ایک نئی رفتار دی بلکہ اس کو ایک وژن بھی فراہم کیا کہ آزاد ہندوستان کیسا ہونا چاہیے۔ جناب شاہ نے کہا کہ بنکم چندر چٹوپادھیائے کی اس تخلیق نے یہ واضح کر دیا تھا کہ آزاد ہندوستان کو ثقافتی قوم پرستی کو اپنا کر ہی آگے بڑھنا چاہیے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آزادی کے وقت ملک کی تقسیم کے بعد بھی، اہم اپوزیشن جماعت نے 'وندے ماترم' کو کبھی پورے دل سے قبول نہیں کیا۔ عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے پارلیمنٹ میں 'وندے ماترم' گایا جاتا تھا اور ہر کوئی کھڑا ہوتا تھا، لیکن یہ دیکھ کر افسوس ہوتا تھا کہ پورا گیت نہیں گایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ نے حال ہی میں پارلیمنٹ سے ایک بل پاس کروا کر مکمل 'وندے ماترم' کو سرکاری پروگراموں کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ ایک تاریخی قدم ہے۔ اس سے یہ یقینی ہوگا کہ ہماری آنے والی نسلوں، بشمول بچوں اور نوجوانوں تک بنکم چندر چٹوپادھیائے جی کا لازوال پیغام پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسکولوں میں روزانہ مکمل 'وندے ماترم' گایا جائے تو بچوں میں یقیناً حب الوطنی کا گہرا جذبہ پیدا ہوگا۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 'سپت دھارا'—طاقت کے ان سات دھاروں کا اعلان کیا ہے جو ملک کو بااختیار بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ملک کے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سات اہم دھاروں—مینوفیکچرنگ کی طاقت، دفاعی قوت، زراعت اور فوڈ پروسیسنگ، سبز اور نیلگوں معیشت، ٹیکنالوجی اور اختراع، گتی شکتی (بنیادی ڈھانچہ)، اور بھارت کی سافٹ پاور (ثقافتی اثر و رسوخ)—سے جڑیں اور تعمیرِ وطن میں حصہ لیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم مودی نے 2047 تک 100 گیگا واٹ نیوکلیئر پاور کی صلاحیت حاصل کرنے اور آئندہ تین برسوں میں آٹھ نئے سیمی کنڈکٹر پلانٹس شروع کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے ان سات دھاروں کے بل بوتے پر، جب ہندوستان اپنی آزادی کی صد سالہ تقریب منائے گا، تو ملک دنیا بھر میں ہر شعبے میں سب سے آگے ہوگا۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ نے کبھی ایس ایس بی اور بی ایس ایف کے پروگراموں میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس بی، بی ایس ایف اور آئی ٹی بی پی کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی ایجنسیاں نہیں ہیں، بلکہ سرحدوں کی حفاظت کرنے والی فورسز ہیں، اور تمام سیاسی جماعتوں کو ان اہلکاروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ جناب شاہ نے کہا کہ گھس بیٹھ کو روکنا اور مغربی بنگال اور ملک کو محفوظ بنانا ہمارا عزم ہے، اور اس کے لیے باڑ لگانا سب سے مضبوط اقدام ہے۔ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ جناب سوویندو ادھیکاری کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب سے انہوں نے عہدہ سنبھالا ہے، مرکز کو سرحدی سیکیورٹی کے لیے ریاستی حکومت سے فوری اور ہر ممکن تعاون حاصل ہوا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ مغربی بنگال میں حکومت بننے کے محض 45 دنوں کے اندر، حکومتِ ہند کو بی ایس ایف اور ایس ایس بی کے لیے 1,139 ایکڑ زمین موصول ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ زمین کے وہ ٹکڑے تھے جن کا مطالبہ حکومتِ ہند 2014 سے کر رہی تھی، لیکن بنگال کی پچھلی حکومت نے انہیں فراہم نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے عوام نے ایک ایسی حکومت کا انتخاب کیا ہے جو قومی سلامتی کو اولیت دیتی ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ آج سلی گوڑی میں ایس ایس بی کے فرنٹیر ہیڈ کوارٹرز کی انتظامی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے، جو 80 ایکڑ پر تعمیر کی جائے گی۔ انہوں نے مطلع کیا کہ آج ٹھاکر گنج میں 19ویں بٹالین، کشن گنج میں 12ویں بٹالین کا ای-سنگِ بنیاد، اور نیو جلپائی گوڑی میں ٹرانزٹ کیمپ کا سنگِ بنیاد بھی رکھا گیا۔ جناب شاہ نے کہا کہ ایس ایس بی اہلکاروں کو انتظامی اور رہائشی سہولیات فراہم کرنے کے لیے آج یہاں مجموعی طور پر 189 کروڑ روپے کے نئے پروجیکٹوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب سے وہ وزیر داخلہ بنے ہیں، سیکیورٹی فورسز کی ضروریات—خواہ وہ ایس ایس بی ہو، بی ایس ایف ہو یا آسام رائفلز—وزارتِ داخلہ کے ایجنڈے پر ہمیشہ اولین ترجیحات میں شامل رہی ہیں۔

امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ ایس ایس بی کی ایک شاندار تاریخ ہے۔ 1965 سے، ایس ایس بی نے منی پور، جموں و کشمیر اور تریپورہ میں اپنی موجودگی کو وسعت دی، اس کے بعد 1975 میں میگھالیہ، 1976 میں سکم، 1985 میں راجستھان اور گجرات، اور 1989 میں ناگالینڈ، میزورم اور جنوبی بنگال تک پھیلاؤ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں بھی ایس ایس بی کو تعینات کیا گیا، اس کے اہلکاروں نے قابلِ تعریف کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے دن رات انتھک محنت کی۔ انہوں نے کہا کہ کارگل جنگ کے بعد، جب 'ایک سرحد، ایک فورس' کی پالیسی اپنائی گئی، تو ایس ایس بی کو نیپال اور بھوٹان جیسے دوستانہ پڑوسی ممالک کے ساتھ کھلی سرحدوں کی حفاظت کی سب سے مشکل ذمہ داری سونپی گئی۔ 2001 سے، ایس ایس بی کو 1,751 کلومیٹر طویل ہند-نیپال سرحد پر اور 2004 سے ہند-بھوٹان کی تقریباً 700 کلومیٹر طویل سرحد پر تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی سرحد پر باڑ لگا دی جاتی ہے، تو اس کی حفاظت کرنے والی فورس کی ذمہ داری کچھ حد تک آسان ہو جاتی ہے۔ تاہم، ایس ایس بی کو بغیر باڑ والی کھلی سرحدوں کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے، جو کہ سب سے مشکل اسائنمنٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اکثر یہ کہتے ہیں کہ ایس ایس بی کے اہلکاروں کے پاس سب سے مشکل ذمہ داریوں میں سے ایک ہے کیونکہ وہ کھلی سرحدوں پر تعینات ہیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ پورا ملک ایس ایس بی اہلکاروں کے تال میل، وطن کی حفاظت کے لیے ان کے عزم اور دونوں دوستانہ پڑوسی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کے تعاون کا احترام کرتا ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی حکومت نے قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے سلی گوڑی کوریڈور کی تزویراتی اہمیت کو پوری طرح تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حساس اور تزویراتی طور پر اہم کوریڈور آٹھ ریاستوں کو جوڑتا ہے۔ تین بین الاقوامی سرحدیں—نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش—سلی گوڑی کوریڈور سے ملتی ہیں، اور اس کی سیکیورٹی براہِ راست ملک کی سلامتی سے وابستہ ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ مودی حکومت نے ایک سہ فریقی گریڈ کے ذریعے سلیگوڑی کوریڈور کو محفوظ بنا کر قومی سلامتی کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس گنجان آباد کوریڈور میں حکومت نے اپنی چوکسی، موجودگی اور تسلط میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے وقت بہ وقت مختلف آپریشنوں اور مشقوں میں حصہ لیا ہے، لیکن ایک کسر باقی رہ گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سلی گوڑی کوریڈور کو مکمل طور پر مضبوط اور محفوظ بنانے کے لیے حکومتِ ہند کی ایجنسیوں کو 560 ایکڑ زمین کی ضرورت تھی، جو مغربی بنگال کی پچھلی حکومت نے فراہم نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ ہند 560 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ کے لیے اصولی منظوری دینے پر مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ جناب سوویندو ادھیکاری کی ستائش کرتی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر تعاون جناب امت شاہ نے کہا کہ صرف سیکیورٹی فورسز ہی کسی علاقے کی سیکیورٹی کو یقینی نہیں بنا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی علاقے میں بڑھتی ہوئی آبادی، نقل مکانی اور سیاحت وہاں ہماری موجودگی کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی-سلی گوڑی کوریڈور بھی 2026-27 کے بجٹ میں منظور شدہ 7 ہائی اسپیڈ ریل کوریڈورز میں شامل ہے، جو 2 سے 3 سال کے اندر دہلی سے سلی گوڑی تک کا سفر محض چند گھنٹوں میں ممکن بنا دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے امرت بھارت اسکیم کے تحت سلیگوڑی اور جلپائی گوڑی اسٹیشنوں کی کایا پلٹ کی ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ وائبڑنٹ ولیجز پروگرام کے ذریعے، ہم نہ صرف دیہاتوں کو جوڑ رہے ہیں بلکہ ان دیہاتوں میں رہنے والے بھارتیوں کے ساتھ ایک مضبوط جذباتی رشتہ قائم کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم، جو 6,839 کروڑ روپے کے اخراجات سے شروع کی گئی ہے، بنگلہ دیش اور بھوٹان کی سرحدوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت محفوظ، مامون اور متحرک زمینی سرحدوں کے اپنے تصور کو آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج یہاں ہمارے اہلکاروں کے لیے سہولیات کو بہتر بنانے اور ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے 190 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس سے اہلکاروں کے ذہن، جسم اور روح کو راحت ملے گی اور انہیں کام کرنے کا ایک بہتر ماحول فراہم ہوگا۔

اپنے خطاب کے دوران، وزیر داخلہ نے شہنائی کے معروف استاد، استاد بسم اللہ خان اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کو ان کی برسیوں پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ استاد بسم اللہ خان نے بھارتی موسیقی کو عالمی سطح پر لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے راگوں اور راگنیوں کو فروغ دیا اور کلاسیکی موسیقی کی ہندوستان کی مالامال روایت کو مقبول بنانے کے لیے کام کیا۔ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے پہلی مرتبہ ریاست کی انتظامی تنظیمِ نو کے لیے کوششیں کیں اور رام جنم بھومی تحریک میں نمایاں تعاون دیا۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:2451
(रिलीज़ आईडी: 2302121)
आगंतुक पटल : 9