قبائیلی امور کی وزارت
کیرالہ میں درج فہرست قبائل
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 JUL 2026 1:40PM by PIB Delhi
آج لوک سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے قبائلی امور کے مرکزی وزیر مملکت جناب درگاداس اوئیکے نے بتایا کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق کیرالہ میں درج فہرست قبائل کی آبادی 4,84,839 ہے، جو ریاست کی مجموعی آبادی کا 1.45 فیصد ہے۔ درج فہرست قبائل کی سب سے زیادہ آبادی والے اضلاع وایناڈ، اڈوکی، پالکڑ، کاسرگوڑ اور کنور ہیں۔
درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندوں (جنگلاتی حقوق کی شناخت) ایکٹ، 2006 کو متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے، جبکہ قبائلی امور کی وزارت ان سے موصول ہونے والی ماہانہ پیش رفت رپورٹوں کے ذریعے اس ایکٹ کے نفاذ کی نگرانی کرتی ہے۔ قبائلی امور کی وزارت کی ماہانہ پیش رفت رپورٹ کے مطابق، اس ایکٹ کے تحت انفرادی جنگلاتی حقوق کے 2,923 اور اجتماعی جنگلاتی حقوق کے 110 ٹائٹل جاری کیے گئے ہیں، یعنی مجموعی طور پر جنگلاتی حقوق کے 3,033 ٹائٹل تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
حکومت درج فہرست قبائل، بشمول کیرالہ میں رہنے والے قبائلی افراد کی سماجی و اقتصادی ترقی کو اعلیٰ ترجیح دیتی ہے۔ زمین کے حقوق، تعلیم، صحت، غذائیت اور روزگار سے متعلق مسائل کو جنگلاتی حقوق ایکٹ، 2006 اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کی مختلف اسکیموں کے نفاذ کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔ زمین سے بے دخلی یا زمین کے حقوق کی منتقلی سے متعلق معاملات ریاستی حکومت کی جانب سے متعلقہ ریاستی قوانین کے تحت نمٹائے جاتے ہیں، جبکہ صحت اور غذائیت سے متعلق اقدامات مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے مختلف پروگراموں کے باہمی اشتراک اور ہم آہنگی کے ذریعے نافذ کیے جاتے ہیں۔
قبائلی ذیلی منصوبے اور دیگر مرکزی سرپرستی والی اسکیموں کے تحت کیرالہ حکومت کو جاری کیے گئے فنڈز کی سال وار تفصیلات:
(رقم کروڑ روپے میں)
|
نمبر شمار
|
اسکیم
|
2021-22
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
|
1
|
قبائلی سب پلان اسکیم #
|
781.36
|
859.50
|
859.50
|
859.50
|
920.00
|
|
2
|
قبائلی تحقیقی اداروں(ٹی آر آئیز) کو تعاون
|
-
|
-
|
-
|
3.00
|
1.04
|
|
3
|
ایس ٹی طلباء کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ
|
3.47
|
-
|
4.36
|
1.00
|
0.75
|
|
4
|
ایس ٹی طلباء کے لیے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ
|
25.16
|
-
|
46.89
|
29.00
|
62.36
|
|
5
|
پی ایم جن من*
|
-
|
-
|
2.29 *
|
-
|
-
|
|
6
|
آئین کے آرٹیکل 275(1) کے تحت گرانٹس
|
-
|
8.18
|
19.10
|
3.96
|
-
|
|
7
|
پی ایم اے اے جی وائی
|
-
|
-
|
0.61
|
0.30
|
-
|
*: پی ایم جن من اسکیم 15 نومبر 2023 کو شروع کی گئی تھی۔
#: ریاستی ٹی ایس پی
حکومت مختلف اقدامات کے ذریعے کیرالہ میں درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے مسلسل تعاون فراہم کر رہی ہے:
- دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اُتکرش ابھیان: معزز وزیر اعظم نے 2 اکتوبر 2024 کو دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اُتکرش ابھیان کا آغاز کیا۔ اس مہم میں 17 متعلقہ وزارتوں کے ذریعے 25 اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں۔ اس کا مقصد پانچ برسوں کے دوران 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 549 اضلاع اور 2,911 بلاکس کے 63,843 دیہات میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کو مکمل طور پر دور کرنا، ہاسٹل، آنگن واڑی مراکز اور موبائل طبی یونٹس جیسی سماجی سہولیات فراہم کرنا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے وَن دھن وکاس کیندر قائم کرنا ہے۔ اس مہم سے 5 کروڑ سے زائد قبائلی افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ اس مہم کے لیے مجموعی طور پر 79,156 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، جس میں مرکزی حکومت کا حصہ 56,333 کروڑ روپے اور ریاستی حکومتوں کا حصہ 22,823 کروڑ روپے ہے۔
- درج فہرست قبائل کے طلبہ کے لیے میٹرک سے قبل وظائف: یہ اسکیم جماعت نویں اور دسویں میں زیر تعلیم طلبہ کے لیے ہے۔ تمام ذرائع سے والدین کی سالانہ آمدنی 2.50 لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ دن کے اوقات میں اسکول آنے والے طلبہ کو ماہانہ 225 روپے اور ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ کو ماہانہ 525 روپے کا وظیفہ سال میں 10 ماہ کی مدت کے لیے دیا جاتا ہے۔ وظائف ریاستی حکومت یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے ذریعے تقسیم کیے جاتے ہیں۔ شمال مشرقی اور پہاڑی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں، جیسے ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور جموں و کشمیر کے علاوہ تمام ریاستوں میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان اخراجات کی تقسیم کا تناسب 75:25 ہے، جبکہ ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں یہ تناسب 90:10 ہے۔ ایسے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جہاں قانون ساز اسمبلی موجود نہیں ہے، اخراجات کا 100 فیصد حصہ مرکزی حکومت برداشت کرتی ہے۔
- درج فہرست قبائل کے طلبہ کے لیے میٹرک کے بعد وظیفہ: اس اسکیم کا مقصد میٹرک یا ثانوی سطح کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے درج فہرست قبائل کے طلبہ کو مالی معاونت فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔ تمام ذرائع سے والدین کی سالانہ آمدنی 2.50 لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ تعلیمی اداروں کی جانب سے وصول کی جانے والی لازمی فیس متعلقہ ریاست کی فیس مقرر کرنے والی کمیٹی کی جانب سے طے کردہ حد تک واپس کی جاتی ہے، جبکہ زیر تعلیم کورس کے لحاظ سے ماہانہ 230 روپے سے 1,200 روپے تک وظیفہ دیا جاتا ہے۔ اس اسکیم کو ریاستی حکومتیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ نافذ کرتی ہیں۔ شمال مشرقی ریاستوں اور پہاڑی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں، یعنی ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور جموں و کشمیر کے علاوہ تمام ریاستوں میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان اخراجات کی تقسیم کا تناسب 75:25 ہے، جبکہ ان ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں یہ تناسب 90:10 ہے۔ ایسے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جہاں قانون ساز اسمبلی موجود نہیں ہے، اخراجات کا 100 فیصد حصہ مرکزی حکومت برداشت کرتی ہے۔
- درج فہرست قبائل کے طلبہ کی اعلیٰ تعلیم کے لیے قومی اسکالرشپ اسکیم (جسے پہلے ٹاپ کلاس اسکالرشپ اسکیم کہا جاتا تھا): اس اسکیم کے تحت مینجمنٹ، طب، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قانون وغیرہ جیسے پیشہ ورانہ شعبوں میں اعلیٰ درجے کے منتخب سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کورسز کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے وظائف فراہم کیے جاتے ہیں۔ وہ تمام درج فہرست قبائل کے طلبہ اس اسکیم کے تحت وظیفہ حاصل کرنے کے اہل ہیں جن کے والدین کی سالانہ آمدنی 6.0 لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہے اور جو وزارت کی جانب سے نامزد کردہ 265 اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ اسکیم 2007-08 میں شروع کی گئی تھی۔ (ب) درج فہرست قبائل کے طلبہ کی اعلیٰ تعلیم کے لیے قومی فیلوشپ اسکیم: یہ مرکزی شعبے کی ایک اسکیم ہے، جس کی مکمل مالی اعانت قبائلی امور کی وزارت کرتی ہے۔ اس کے تحت مستحق درج فہرست قبائل کے طلبہ کو ماسٹر ڈگری مکمل کرنے کے بعد بھارت میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے فیلوشپ دی جاتی ہے۔ یہ اسکیم 2005-06 میں شروع کی گئی تھی۔ ہر سال پی ایچ ڈی کے لیے نئی فیلوشپس کی کل تعداد 750 ہوگی۔ ماسٹر ڈگری میں کم از کم 55 فیصد نمبر حاصل کرنے والے اور 36 سال تک کی عمر کے درج فہرست قبائل کے طلبہ اس اسکیم کے تحت فیلوشپ کے لیے درخواست دینے کے اہل ہیں۔ فیلوشپ کی رقم یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی مقررہ شرحوں کے مطابق ہے۔
- درج فہرست قبائل کے طلبہ کے لیے قومی بیرونِ ملک اسکالرشپ: یہ قبائلی امور کی وزارت کی مرکزی شعبے کی ایک اسکیم ہے، جس کے تحت مستحق درج فہرست قبائل کے طلبہ کو بیرونِ ملک عالمی سطح پر سرفہرست 1000 درجہ بندی والے اداروں اور یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے وظائف دیے جاتے ہیں۔ یہ درجہ بندی تازہ ترین کیو ایس عالمی درجہ بندی کے مطابق ہوتی ہے۔ یہ اسکیم 1954-55 میں شروع کی گئی تھی۔ اس اسکیم کو وزارتِ خارجہ کے ذریعے بیرونِ ملک واقع بھارتی سفارت خانوں اور مشنز کے توسط سے نافذ کیا جاتا ہے۔ ہر سال 20 وظائف دیے جاتے ہیں۔ ایسے درج فہرست قبائل کے طلبہ، جن کے خاندان کی سالانہ آمدنی 6.0 لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہے، اس اسکیم کے تحت وظیفے کے لیے درخواست دینے کے اہل ہیں۔
- پردھان منتری جن جاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان (پی ایم جن من): حکومت نے 18 ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں رہنے والی 75 خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروہوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے پردھان منتری جن جاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان (پی ایم جن من) شروع کیا ہے۔ اس مشن کا مقصد تین برسوں کے دوران محفوظ رہائش، صاف پینے کا پانی، تعلیم، صحت اور غذائیت تک بہتر رسائی، سڑک اور مواصلاتی رابطے، بجلی سے محروم گھرانوں میں بجلی کی فراہمی اور پائیدار روزگار کے مواقع جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ان مقاصد کو 9 متعلقہ وزارتوں کے ذریعے نافذ کیے جانے والے 11 اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جائے گا، جن میں ہاسٹل اور موبائل طبی یونٹس بھی شامل ہیں۔ پی ایم جن من کے لیے مجموعی طور پر 24,104 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، جس میں مرکزی حکومت کا حصہ 15,336 کروڑ روپے اور ریاستی حکومتوں کا حصہ 8,768 کروڑ روپے ہے۔
- آئین کے آرٹیکل 275(1) کے تحت گرانٹس: آئین کے آرٹیکل 275(1) کی شق کے تحت درج فہرست قبائل کی آبادی رکھنے والی ریاستوں کو درج فہرست علاقوں میں انتظامیہ کے معیار کو بہتر بنانے اور قبائلی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے گرانٹس جاری کی جاتی ہیں۔ یہ ایک خصوصی علاقائی پروگرام ہے اور ریاستوں کو 100 فیصد مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ درج فہرست قبائل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومتوں کو فنڈز جاری کیے جاتے ہیں، تاکہ تعلیم، صحت، ہنرمندی کی ترقی، روزگار، پینے کے پانی، صفائی ستھرائی وغیرہ کے شعبوں میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق سرگرمیوں کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔
- درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی رضاکارانہ تنظیموں کو امدادی گرانٹ: درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی رضاکارانہ تنظیموں کو امدادی گرانٹ کی اسکیم کے تحت وزارت تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مختلف منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ ان منصوبوں میں رہائشی اسکول، غیر رہائشی اسکول، ہاسٹل، موبائل طبی مراکز، 10 یا اس سے زیادہ بستروں والے اسپتال، روزگار اور ذریعۂ معاش سے متعلق منصوبے وغیرہ شامل ہیں۔
- ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول (ای ایم آر ایس): اس اسکیم کا مقصد دور دراز اور قبائلی علاقوں میں درج فہرست قبائل کے طلبہ کو معیاری رہائشی تعلیم فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ ملک کے بہترین تعلیمی اداروں کے مساوی معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔ ان اسکولوں میں جدید تعلیمی بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ قبائلی طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے ضروری سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
- پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن (پی ایم جے وی ایم): اس مشن کا مقصد درج فہرست قبائل کے لیے پائیدار روزگار اور ذرائعٔ معاش کو فروغ دینا ہے۔ اس کے تحت معمولی جنگلاتی پیداوار اور دیگر قبائلی مصنوعات پر مبنی ویلیو چین کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے قدر میں اضافہ، کاروباری صلاحیتوں کی ترقی، مارکیٹنگ میں معاونت اور قبائلی پیداوار کنندگان کی تنظیموں کو مضبوط بنانے کے ذریعے پائیدار معاشی مواقع کو فروغ دیا جاتا ہے۔
- قبائلی تحقیق، معلومات، تعلیم، ابلاغ اور تقریبات (ٹی آر آئی-ای سی ای): اس اسکیم کے تحت قبائلی تحقیقی اداروں کو تحقیق، دستاویز سازی، استعدادِ کار میں اضافے، قبائلی ثقافت کے تحفظ اور فروغ، بیداری پیدا کرنے، معلومات کی ترسیل اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں معاونت کے لیے مدد فراہم کی جاتی ہے۔
- قومی درج فہرست قبائل مالیاتی و ترقیاتی کارپوریشن (این ایس ٹی ایف ڈی سی): قبائلی امور کی وزارت کے تحت کام کرنے والی یہ ایک اعلیٰ سطحی تنظیم ہے، جو خصوصی طور پر درج فہرست قبائل کی معاشی ترقی کے لیے قائم کی گئی ہے اور روزگار و ذرائعِ معاش پیدا کرنے کے لیے مختلف اسکیمیں نافذ کرتی ہے۔ این ایس ٹی ایف ڈی سی اہل درج فہرست قبائلی برادریوں کو رعایتی شرح پر قرضے فراہم کرتی ہے۔
- درج فہرست قبائل کے لیے وینچر کیپیٹل فنڈ (وی سی ایف-ایس ٹی): اس اسکیم کو قومی درج فہرست قبائل مالیاتی و ترقیاتی کارپوریشن (این ایس ٹی ایف ڈی سی) کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے، جس کا مقصد درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد کو آمدنی پیدا کرنے والے کاروباری ادارے قائم کرنے اور ان کی توسیع کے لیے رعایتی شرائط پر وینچر کیپیٹل معاونت فراہم کرنا ہے۔
- وزارتوں/محکموں اور کیرالہ حکومت کے ساتھ باہمی اشتراک کے ذریعے صحت، تعلیم، پینے کے پانی، رابطے اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا۔
***
ش ح۔ ش ت۔ م الف
U. No- 2427
(ریلیز آئی ڈی: 2301977)
وزیٹر کاؤنٹر : 10