دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 بہار کے لیے 11.19 لاکھ پکے مکانات کی منظوری، 13,427 کروڑ روپے مختص، غریب کنبوں کو نئی امید اور باوقار زندگی ملے گی: جناب شیوراج سنگھ چوہان


‘‘وندے ماترم قومی فخر کا معاملہ ہے’’: جناب شیوراج سنگھ چوہان نے قومی گیت کا صرف ایک حصہ گانے کے کانگریس کے فیصلے پر تنقید کی

دو برس میں بہار کے لیے 24.30 لاکھ مکانات کی منظوری، 29,164 کروڑ روپے خرچ: جناب شیوراج سنگھ چوہان

بہار میں پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا نافذ کی جائے گی، فصلوں کے نقصان کے خلاف کسانوں کا تحفظ مزید مضبوط ہوگا: جناب شیوراج سنگھ چوہان

شیوراج سنگھ چوہان نے خواتین کو معاشی بااختیار بنانے پر زور دیا؛ لاکھ پتی دیدیوں اور اپنی مددآپ گروپوں کی تیار کردہ مصنوعات کے لیے مارکیٹ فراہم کرنے کے لیے ‘‘شی مارٹس’’ قائم کیے جائیں گے

بہار میں کسان شناختی کارڈ بنانے میں نمایاں پیش رفت، 53.83 لاکھ کسان شناختی کارڈ تیار: جناب شیوراج سنگھ چوہان

प्रविष्टि तिथि: 20 AUG 2026 4:03PM by PIB Delhi

زراعت  اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج پٹنہ میں ریاستی سطح پر منعقدہ پردھان منتری آواس یوجنا پروگرام میں بہار کے لیے اہم اقدامات کے ایک بڑے پیکیج کا اعلان کیا۔ انہوں نے ریاست کے غریب کنبوں کے لیے 11,18,937 پکے مکانات کی منظوری کے ساتھ 13,427 کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا۔اس پروگرام میں بہار کے وزیر اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری اور ریاستی حکومت کے سینئر وزرا نے شرکت کی اور اس میں جناب چوہان نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے جامع ترقی کے وژن کے مطابق ریاست کے کسانوں، خواتین اور دیہی آبادی کے لیے کئی اہم اعلانات بھی کیے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00153XI.jpg

‘‘وندے ماترم قومی فخر کا معاملہ ہے’’: جناب شیوراج سنگھ چوہان

کانگریس پارٹی پر سخت سیاسی حملہ کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ ‘‘وندے ماترم’’ کا صرف ایک حصہ گانے کا فیصلہ ملک کے جذبات اور قومی گیت کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وندے ماترم‘‘ کسی مخصوص سیاسی جماعت کا معاملہ نہیں، بلکہ بھارت ماتا کے احترام کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گیت بھارت کی تحریکِ آزادی کے دوران تحریک اور حوصلے کا ذریعہ رہا ہے اور اسے مکمل طور پر گانا ہر بھارتی کا فرض ہے۔ جناب چوہان نے کانگریس پر ووٹ بینک کی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں سیاسی مفادات کے حصول کے لیے بھارت کی یکجہتی، ثقافت اور قومی شناخت سے وابستہ علامتوں کو مسخ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’وندے ماترم‘‘ مکمل طور پر گایا جانا چاہیے اور قومی فخر سے وابستہ اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

بہار کے لیے 11.18 لاکھ پکے مکانات کی منظوری

بہار کے لیے ایک بڑے رہائشی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ ریاست کے غریب کنبوں کے لیے 11,18,937 پکے مکانات کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے لیے 13,427 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور منظوری کا خط وزیر اعلیٰ کے حوالے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام محض مکانات کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ غریب کنبوں کو عزت، تحفظ اور بہتر معیارِ زندگی فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ جناب چوہان نے کہا،‘‘پکا مکان صرف اینٹ اور سیمنٹ سے بنا ہواڈھانچہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ پورے کنبے کے لیے عزت اور خود اعتمادی کی علامت ہوتا ہے۔’’انہوں نے کہا کہ ایک مکان کنبوں کو سردی، گرمی، بارش اور طوفان کی سختیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی ہر غریب کنبے کو پکا مکان فراہم کرنے کی عہدبستگی اب بہار میں بڑے پیمانے پر حقیقت بن رہی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0020B29.jpg

دو برس میں 24 لاکھ سے زائد مکانات کی منظوری

گزشتہ دو برس کے دوران ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ بہار کے لیے اب تک 24,30,327 مکانات کی منظوری دی جا چکی ہے، جن پر مجموعی طور پر 29,164 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت محض اعلانات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ترقیاتی فوائد زمینی سطح پرمستفیدین تک پہنچیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں سرکاری اسکیموں کے تحت فراہم کیے جانے والے فنڈز زیادہ شفافیت کے ساتھ مستفیدین کے کھاتوں تک منتقل کیے جا رہے ہیں۔ سابقہ حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ پہلے غریبوں کے لیے مختص پوری رقم ہمیشہ ان تک نہیں پہنچ پاتی تھی، جبکہ موجودہ نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ایک ایک روپیہ اپنے مقررہ مستحق تک پہنچے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ فوائد غریب کنبوں کا جائز حق ہیں، انہیں خیرات یا کسی احسان کے طور پر نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے بہار میں رہائشی پروگرام کے نفاذ کو تیز کرنے میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان بہتر تال میل کو بھی اہم قرار دیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003GE7K.jpg

فصل بیمہ بہار کے کسانوں کو تحفظ فراہم کرے گا

جناب چوہان نے پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، جسے اب بہار میں نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم کسانوں کو سیلاب، خشک سالی، ضرورت سے زیادہ بارش اور دیگر قدرتی آفات کے باعث فصلوں کو ہونے والے نقصان سے تحفظ فراہم کرے گی۔فصلوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اہل کسانوں کو معاوضہ دیا جائے گا، جس سے زراعت سے وابستہ غیر یقینی صورتحال میں کمی آئے گی۔ جناب چوہان نے کہا کہ کسان ملک کی غذائی سلامتی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور انہیں قدرتی خطرات سے تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے بہار حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فصل بیمہ کے نفاذ کو کسانوں کے مفاد میں ایک اہم اور دور رس اقدام قرار دیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004N1MD.jpg

زراعت اورگزربسرکے دیہی ذرائع کو مضبوط بنانا

مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ بہار میں زراعت محض ایک اقتصادی سرگرمی نہیں بلکہ لاکھوں کنبوں کے روزگار کی بنیاد ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسانوں کو قدرتی خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا اور مرکز و ریاستی حکومت مل کر زراعت کو زیادہ منافع بخش اور قدرتی خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فصل بیمہ کے ساتھ ساتھ فصلوں کی سرکاری خرید، معاونتی نظام اور ٹیکنالوجی تک رسائی کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔ جناب چوہان نے کہا،‘‘اگر کسان مضبوط ہوگا تو گاؤں مضبوط ہوگا، اور اگر گاؤں مضبوط ہوگا تو بہار مضبوط ہوگا۔’’ انہوں نے زور دیا کہ زرعی پالیسیوں کے فوائد زمینی سطح پر حقیقی طور پر لوگوں تک پہنچنے چاہئیں۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق سے واقف ہوں اور فصل بیمہ اسکیم کے تحت دستیاب فوائد سے بروقت استفادہ کریں۔

مزید لکھ پتی دیدی بنانے پر توجہ

جناب چوہان نے خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے پر بھی خصوصی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں لاکھوں خواتین اپنی مدد آپ گروپوں کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد پہلے ہی لکھ پتی دیدی بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی آمدنی میں اضافہ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔خود روزگار، گروپ کی بنیاد پر کاروباری سرگرمیوں اور بینکاری و مالی خدمات تک رسائی کے ذریعے دیہی خواتین کاروباری شخصیات کے طور پر ابھر رہی ہیں اور اپنے اور اپنے کنبوں کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی محض معاشی نہیں بلکہ سماجی بھی ہے۔ جب خواتین معاشی طور پر مضبوط ہوتی ہیں تو پورے کنبے کی معاشی اور سماجی حالت بہتر ہوتی ہے۔ انہوں نے ’’لکھ پتی دیدی‘‘ اقدام کو دیہی ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے درمیان ایک اہم رابطہ قرار دیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005O0C7.jpg

خواتین کاروباری افراد کی معاونت کے لیے ضلع سطح پر مارکیٹیں قائم کی جائیں گی

جناب چوہان نے زور دیا کہ خواتین کے گروپوں کی جانب سے پیداوار میں اضافہ کافی نہیں ہوگا، جب تک ان کی تیار کردہ مصنوعات کو مارکیٹ تک رسائی بھی حاصل نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں ‘‘شی مارٹس’’ قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی، جہاں جیودیکا دیدیوں اور خواتین کے  اپنی مدد آپ گروپوں کو اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دیہی خواتین کو صرف مصنوعات تیار کرنے میں ہی نہیں بلکہ مصنوعات کی تیاری، پیکجنگ اور مارکیٹنگ میں بھی تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا،‘‘گاؤں میں تیار ہونے والی مصنوعات اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہیں جب ان کے لیے مناسب مارکیٹ موجود ہو۔’’ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مارکیٹ سے جوڑنے کے ایسے اقدامات سے خواتین کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ان کی معاشی خود مختاری مضبوط ہوگی، جبکہ دیہی معیشت کو بھی نئی سمت ملے گی۔

کسان شناختی کارڈ بنانے میں پیش رفت پر بہار کی ستائش

مرکزی وزیر نے کسان شناختی کارڈ بنانے میں بہار کی پیش رفت کو بھی سراہا اور بتایا کہ ریاست میں اب تک 53,83,000 کسان شناختی کارڈ بنائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان شناختی کارڈ کے ذریعے اہل کسانوں تک سرکاری اسکیموں کے فوائد براہِ راست اور تیزی سے پہنچانا آسان ہوگا، جبکہ شفافیت میں اضافہ اور مستفیدین کی شناخت کا عمل بھی آسان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل کسان شناخت سے سرکاری خدمات زیادہ مؤثر ہوں گی اور کسانوں کے اندراج سے لے کر انہیں فوائد کی فراہمی تک کے پورے عمل کو مزید منظم کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ باقی کسانوں کا اندراج بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

سڑکیں، مکانات اور زراعت: دیہی ترقی کے تین بنیادی ستون

جناب چوہان نے پردھان منتری گرام سڑک یوجنا اور دیہی رابطے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دیہی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سڑکیں، مکانات اور زراعت تین بنیادی ضروریات ہیں۔ بہتر سڑکیں گاؤں کو منڈیوں اور ضروری خدمات سے جوڑیں گی، پکے مکانات کنبوں کو تحفظ فراہم کریں گے اور مضبوط زراعت دیہی آمدنی میں اضافے میں مدد دے گی۔انہوں نے کہا کہ مرکز اور بہار حکومت مل کر ریاست کے دیہات کو تبدیل کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں کہ بہار ماضی کے ترقیاتی چیلنجز سے آگے بڑھتے ہوئے ملک کی ترقی کی داستان کا ایک اہم حصہ بنے۔ جناب چوہان نے وزیر اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری کی قیادت میں کام کر رہی ریاستی حکومت کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ بہار کی ترقی کے لیے مرکز اور ریاست کے درمیان مضبوط تال میل ناگزیر ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر عزم ظاہر کیا کہ حکومت ترقی کے ہر محاذ پر بہار کو آگے لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔

پروگرام میں بڑی تعداد میں خواتین، مستفیدین، عوامی نمائندوں اور افسران نے شرکت کی۔ نائب وزیر اعلیٰ جناب وجے کمار چودھری، وزیر زراعت جناب وجے کمار سنہا، وزیر دیہی ترقی جناب شراون کمار، وزیر محصولات و بازآبادکاری جناب ونود کمار جیسوال، امداد باہمی کے وزیر جناب رام کرپال یادو، وزیر جناب سنیل کمار، وزیر دیہی امور محترمہ سویتا گپتا، سماجی بہبود کی وزیر اور کئی دیگر عوامی نمائندے بھی موجود تھے۔

*****

ش  ح۔ا ع خ - ف ر

U-no-2373


(रिलीज़ आईडी: 2301618) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati