وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
ماہی گیری کے محکمے کے سکریٹری نے چھتیس گڑھ میں تلپیا مچھلی پالنےوالے کسانوں اور ویلیو چین سے وابستہ متعلقہ فریقوں سے بات چیت کی اوربرآمدات پر مبنی کلسٹر کی ترقی کے لیے لائحہ عمل تیار کیا
حکومت نے 34 ماہی گیری کے پیداواری اور پروسیسنگ کلسٹروں کے ذریعے مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے کلسٹر پر مبنی طریقہ کار اپنایا ہے
چھتیس گڑھ سمندری غذا کی برآمدات میں تنوع کے لیے نئی راہیں کھولتے ہوئے ویلیو ایڈڈ تلپیا مصنوعات کی برآمد شروع کرنے والی پہلی اندرونی ریاست بن کر ابھری ہے
प्रविष्टि तिथि:
20 AUG 2026 4:08PM by PIB Delhi
حکومت ہند کی ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت (ایم او ایف اے ایچ اینڈ ڈی) کے محکمہ ماہی گیری کے سکریٹری ڈاکٹر ابھلکش لیکھی، نے 20 اگست 2026 کو رائے پور، چھتیس گڑھ میں پی ایم ایم ایس وائی کے تحت نوٹیفائی کیے گئے تلپیا کلسٹر کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک باہمی اجلاس کی صدارت کی۔ اس دوران مرکزی سکریٹری نے تلپیا مچھلی کے کسانوں، کاروباری افراد، برآمد کنندگان اور دیگر متعلقہ فریقوں سے بات چیت کی تاکہ زمینی سطح پر درپیش خامیوں اور چیلنجوں کو سمجھا جا سکے۔


یہ اجلاس ہائبرڈ طریقے سے منعقد ہوا، جس میں 1,300 سے زائد تلپیا مچھلی کے کسانوں اور ویلیو چین سے وابستہ متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومت ہند کے ماہی گیری کے محکمے کے عہدیداران، چھتیس گڑھ کے ریاستی ماہی گیری کے محکمے کے افسران، نوٹیفائی کیے گئے ماہی گیری کلسٹروں کے نمائندگان، آئی سی اے آر کے ماہی گیری سے متعلق اداروں کے سائنس دانوں اور این ایف ڈی بی، ایم پی ای ڈی اے، نابارڈ(این اے بی اے آر ڈی )، ماہی گیری سے متعلق کوآپریٹو اداروں، سمندری غذائی مصنوعات کے برآمد کنندگان اور دیگر اہم متعلقہ فریقوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں ریاست میں تلپیا کی پیداوار، پروسیسنگ اور برآمدات کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کو مضبوط بنانے پر غور و خوض کیا گیا۔
بات چیت کے دوران ماہی گیری کے محکمے، ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت(ایم او ایف اے ایچ اینڈڈی) کے سکریٹری ڈاکٹر ابھلکش لیکھی نے مچھلی کے کسانوں، کاروباری افراد اور دیگر متعلقہ فریقوں کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ان کی کاوشوں نے بھارت کے ماہی گیری کے شعبے کی غیر معمولی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی تجارتی رکاوٹوں کے باوجود بھارت نے ریکارڈ 198 لاکھ ٹن مچھلی کی پیداوار حاصل کی ہے اور 73,890.46 کروڑ روپے مالیت کی سمندری غذائی مصنوعات برآمد کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ میں پی ایم ایم ایس وائی کے تحت معیاری مچھلی کے بیج، خوراک اور جدید آبی زراعت کی ٹیکنالوجی کے لیے تقریباً 900 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ریاست کی مچھلی کی پیداوار دوگنی ہو کر تقریباً 10 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔حکومت کے کلسٹر پر مبنی ترقیاتی طریقۂ کار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوٹیفائی کیے گئے ماہی گیری کے کلسٹروں کو پیداوار، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹ سے روابط کے شعبوں میں مکمل اور مربوط اقدامات کے ذریعے تعاون فراہم کیا جا رہا ہے، تاکہ مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہو اور برآمدات کو فروغ ملے۔انہوں نے ریاستی حکومت، تحقیقی اداروں، برآمد کنندگان اور کسانوں پر زور دیا کہ وہ ویلیو چین میں موجود خامیوں کو دور کرنے، آئی سی اے آر کے اداروں کے ساتھ روابط مضبوط بنانے، صلاحیت سازی کو بہتر کرنے اور ریاست کے لیے برآمدات کا ایک جامع لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے قریبی تعاون کریں۔ انہوں نے ایم پی ای ڈی اے سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ چھتیس گڑھ میں اپنی موجودگی کو وسعت دے اور متعلقہ فریقوں کے لیے منڈی تک رسائی، برآمدات کے فروغ اور بین الاقوامی سطح پر مواقع فراہم کرنے میں سہولت پیدا کرے۔
اجلاس کے بعد مرکزی سکریٹری نے رائے پور کے مانا میں واقع ایم ایم ہیچریز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تلپیا میں جینیاتی بہتری اور آبی زراعت کے شعبے کے لیے اعلیٰ معیار کے مچھلی کے بیج کی پیداوار سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا اور مچھلی کے کسانوں سے بھی بات چیت کی۔ایم ایم ہیچری ایک خصوصی تلپیا ہیچری ہے، جو معیاری مچھلی کے بیج کی پیداوار اور جینیاتی طور پر بہتر بلیک اسٹرین تلپیا کی افزائش و ترقی کے لیے کام کرتی ہے۔ اپنے جاری جینیاتی بہتری کے پروگرام کے ذریعے یہ ہیچری مچھلی کے بیج کے معیار، پیداواریت اور مجموعی طور پر فارم کی کارکردگی کو بہتر بنا رہی ہے، جس سے تلپیا کی پرورش کے فروغ میں نمایاں مدد مل رہی ہے۔


ان کوششوں کی حمایت کے لیے پی ایم ایم ایس وائی کے انٹرپرینیورشپ ماڈل کے تحت 5 کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ہیچری کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور رسدی معاونت کے لیے پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کے تحت 35 لاکھ روپے کی کارکردگی گرانٹ بھی دی گئی ہے، جس سے تلپیا کی ایک مضبوط ویلیو چین کی ترقی میں اس کے کردار کو مزید تقویت ملی ہے۔یہ ہیچری ملک بھر میں معیاری تلپیا مچھلی کے بیج فراہم کرتی ہے اور چھتیس گڑھ میں تقریباً 25,000 ٹن تلپیا کی پیداوار میں مدد کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
تلپیا ایک ایسی میٹھے پانی کی مچھلی ہے جس کی عالمی سطح پر تجارت ہوتی ہے اور افریقہ، یورپ اور ایشیا کی منڈیوں میں اس کی مضبوط مانگ ہے، جس کے باعث اس میں برآمدات کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ چھتیس گڑھ نے پہلے ہی تلپیا کی برآمد شروع کر دی ہے اور 382 ٹن تلپیا امریکہ برآمد کیا جا چکا ہے۔ تلپیا کی پیداوار اور پروسیسنگ کلسٹر سے توقع ہے کہ بہتر پیداوار، پروسیسنگ، معیار کی یقین دہانی اور مارکیٹ سے روابط کے ذریعے ویلیو چین کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جس سے برآمدات کو فروغ ملے گا اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
ڈاکٹر سُربھی رائے، جوائنٹ سکریٹری (سمندری ماہی گیری)، ماہی گیری کے محکمے، ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت(ایم او ایف اے ایچ اینڈ ڈی )، حکومت ہند نے بتایا کہ برآمدات کو فروغ دینے کے لیے 34 ماہی گیری کلسٹروں کو ترقی کے مراکز کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے آخری مرحلے کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، آئی او ٹی، بایوفلاک اور آر اے ایس سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور ایف آئی ڈی ایف، کے سی سی اور مارکیٹ روابط کے درمیان موجود خلا کو دور کرکے کم قرضی استعمال کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
آئی سی اے آر کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (فشریز سائنس) ڈاکٹر جے کے جینا نے چھتیس گڑھ میں ملک کے ایک اہم تلپیا مرکز اور معیاری مچھلی کے بیج کی پیداوار کے مرکز کے طور پر ابھرنے کی وسیع صلاحیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پائیدار اور بیماریوں سے پاک آبی زراعت کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے حیاتیاتی تحفظ کے اقدامات کو مضبوط بنانے اور معیاری مچھلی کے بیج کے استعمال کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ مچھلی جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین کے سب سے سستے اور غذائیت سے بھرپور ذرائع میں شامل ہے، اس لیے غذائی اور خوراک تحفظ کو بہتر بنانے میں تلپیا کی پرورش کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست بڑے پیمانے پر تلپیا کی پیداوار اور مچھلی کے بیج کی فراہمی کے لیے موزوں حیثیت رکھتی ہے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور برآمدات میں اضافے کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
بات چیت کے دوران کسانوں نے تلپیا کاشتکاری کی ترقی اور مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرنے والے کئی چیلنجوں کی نشاندہی کی۔ اہم مسائل میں معیاری مچھلی کے بیج کی دستیابی، صنعتی سرگرمیوں کے لیے نوٹیفائی کیے گئے علاقوں میں پانی کے کرائے کے باعث بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور پیداوار کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کو چلانے کے لیے درکار بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمت شامل ہیں۔ کسانوں نے خام مال اور دیگر ضروری اشیا کی لاگت کم کرنے اور منافع میں بہتری کے لیے ہدف پر مبنی سبسڈی فراہم کرنے کی درخواست کی۔انہوں نے خاص طور پر چھوٹے اور قبائلی مچھلی کے کسانوں کے لیے صلاحیت سازی کے پروگراموں کی ضرورت پر بھی زور دیا، جن میں جدید پیداواری طریقے، برآمدی سرٹیفیکیشن کے تقاضے، مربوط مچھلی پروری اور بین الاقوامی منڈی کے معیارات شامل ہوں۔ متعلقہ فریقوں (اسٹیک ہولڈرز)نے مارکیٹ سے مضبوط روابط قائم کرنے، اضافی پیداوار کو کھپانے کے لیے گھریلو بازاروں کو فروغ دینے اور برآمدات کے لیے مزید تعاون فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ادارہ جاتی قرض اور ورکنگ کیپیٹل تک رسائی کو بھی ایک اہم رکاوٹ قرار دیا گیا، جبکہ کسانوں نے قرض حاصل کرنے کے پیچیدہ درخواست طریقہ کار کی نشاندہی کی۔ شرکا نے ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے، مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے اور برآمدات کے لیے تیاری مضبوط کرنے کی غرض سے تبادلہ پروگرام، مطالعاتی دوروں، بین الاقوامی تعاون اور بینکوں سے قرض حاصل کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کی سفارش بھی کی۔
ریاستی ماہی گیری کے محکمے، آئی سی اے آر کے اداروں، ایم پی ای ڈی اے اور دیگر متعلقہ فریقوں (اسٹیک ہولڈرز)کے نمائندوں نے پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن میں مدد کے لیے کامن فسیلٹی سینٹر (سی ایف سی) قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر چھوٹے پیمانے پر مچھلی پالنے والے کسانوں کے لیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فارم گیٹ قیمتیں کم ہونے سے منافع میں کمی آتی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں۔متعلقہ فریقوں نے فضلے کے بہتر استعمال کے لیے سرکلر اکانومی کے طریقہ کار کو اپنانے کی بھی تجویز دی اور کلسٹر میں پائیداری، پروسیسنگ اور مارکیٹ سے روابط کو مضبوط بنانے کے لیے آئی سی اے آر اور این ایف ڈی بی سے تکنیکی مدد طلب کی۔
نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر وجے کمار بہیرا نے تلپیا کلسٹر کے آئندہ پانچ سالہ منصوبے کے بارے میں بتایا اور ویلیو چین سے وابستہ تمام متعلقہ فریقوں(اسٹیک ہولڈرز)کی توقعات کو اجاگر کیا۔
پس منظر
جھارکھنڈ ، تمل ناڈو ، اڈیشہ ، اتر پردیش ، مغربی بنگال ، مہاراشٹر ، مدھیہ پردیش ، بہار اور کیرالہ کے ساتھ ساتھ چھتیس گڑھ ان ریاستوں میں شامل ہے جن کی شناخت محکمہ نے تلپیا کی ترقی کے امکانات کے طور پر کی ہے۔ ریاست اپنے میٹھے پانی کے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے پیمانے پر برآمدات پر مبنی تلپیا کی پیداوار کو فروغ دے سکتی ہے، جسے پروسیسنگ، کولڈ چین، معیار کی یقین دہانی اور بین الاقوامی منڈی کی ضروریات سے مربوط کیا جائے۔اندرون ملک ماہی گیری اور آبی زراعت کے تیزی سے پھیلاؤ سے بھارت کی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدی فہرست میں تنوع پیدا کرنے کا ایک اہم موقع سامنے آیا ہے۔ برآمدات پر مبنی ابھرتی ہوئی مچھلی کی اقسام میں تلپیا کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ، آبی زراعت کے نظام سے مطابقت اور بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت کے باعث نمایاں اہمیت حاصل ہوئی ہے۔
بھارت نے مالی سال 2025-26 میں شناخت شدہ میٹھے پانی کی مچھلیوں کی 32,324 میٹرک ٹن مقدار برآمد کی، جس کی مالیت 535.21 کروڑ روپے رہی۔ تلپیا دنیا میں سب سے زیادہ تجارت کی جانے والی میٹھے پانی کی مچھلیوں میں سے ایک ہے اور منجمد فلٹس اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی عالمی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔مالی سال 2025-26 میں بھارت نے 22,601 میٹرک ٹن تلپیا برآمد کیا، جس کی مالیت 189.73 کروڑ روپے تھی۔ حجم کے لحاظ سے یہ بھارت کی میٹھے پانی کی مچھلیوں کی سب سے بڑی برآمد رہی۔ تاہم، عالمی منڈی میں بھارت کا حصہ اب بھی محدود ہے، جو برآمدات میں تنوع پیدا کرنے اور مستقبل میں ترقی کے نمایاں امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔
تلپیا کلسٹر میں 9 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری ہوئی ہے، جس میں قرض فراہم کرنے والے اداروں کی جانب سے مالی ندد کے ذریعے 4 کروڑ روپے سے زائد اور این ایف ڈی بی کے انٹرپرینیورشپ ماڈل کے تحت 5 کروڑ روپے شامل ہیں۔ ان اقدامات سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے اور کلسٹر میں ویلیو چین کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے ذریعے ایک مضبوط آبی زراعت کے ماحولیاتی نظام کی ترقی میں مدد مل رہی ہے۔
********
) ش ح ۔ ش آ۔ ج)
U.No. 2374
(रिलीज़ आईडी: 2301574)
आगंतुक पटल : 14