سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ناگالینڈ کے نائب وزیر اعلیٰ یانتھونگو پیٹن نے ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی؛ شمال مشرق میں ترقی اور رابطے پر تبادلۂ خیال


وزیر اعظم نریندر مودی کی مسلسل توجہ کی بدولت شمال مشرقی خطہ  قومی ترقی کے مرکزی دھارے کے اور زیادہ قریب پہنچ گیا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

प्रविष्टि तिथि: 20 AUG 2026 3:15PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم  کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)  اور وزیر اعظم کے  دفتر، عملے، عوامی شکایات و پنشن و ایٹمی توانائی اور خلاءکے وزیر مملکت  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران شمال مشرقی خطے میں ہونے والی تبدیلی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کے ترقی پر مبنی نقطۂ نظر کے نمایاں نتائج میں سے ایک ہے۔

وزیر موصوف نے شمال مشرقی خطے کو قومی ترقی کے ایجنڈے میں نمایاں مقام دینے پر وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج یہ خطہ رابطے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور اقتصادی مواقع کے ایک نئے دور سے گزر رہا ہے۔ سڑکوں اور ریلوے سے لے کر ہوائی اڈوں، آبی گزرگاہوں اور ڈیجیٹل رابطے تک، خطے میں ترقی کی رفتار میں نمایاں تیزی آئی ہے، جس سے یہاں کے لوگوں کی ملک کے دیگر حصوں تک رسائی بڑھ گئی ہے اور ترقی کے نئی راہیں کھلی ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ناگالینڈ کے نائب وزیر اعلیٰ اور امور داخلہ و سرحدی امور کے انچارج، جناب یانتھونگو پیٹن نے ووکھا ضلع کے عوامی نمائندوں کے ہمراہ ان سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی ۔ وفد میں 39 سانیس اسمبلی حلقے کے رکن اسمبلی اور زراعت کے مشیر جناب ماتھونگ یانتھن، 38 ووکھا اسمبلی حلقے کے رکن اسمبلی جناب وائی. مون بیمو ہمتسوئی، اور 40 بھنڈاری اسمبلی حلقے کے رکن اسمبلی و ایس پی ڈی بی بھنڈاری کے چیئرمین جناب اچوم بیمو کیکن شامل تھے۔ ملاقات کے دوران رابطے، بنیادی ڈھانچے، روزگار کے ذرائع اور انسان و جنگلی حیات کے تنازع سے متعلق مختلف ترقیاتی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ناگالینڈ اور پورے شمال مشرقی خطے کی مجموعی ترقی کے تعلق سے بھی گفتگو کا موقع ملا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ شمال مشرقی خطے کی ترقی کو اب ملک کی مجموعی ترقی کے سفر سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا رہا ہے۔ بہتر رابطہ اور بنیادی ڈھانچہ ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں جن سے یہ خطہ بھارت کی اقتصادی ترقی میں اہم رول ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کے لیے قدرتی باب کےطور پر بھی ابھر رہا ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں میں خطے نے جو پیش رفت کی ہے، وہ جغرافیائی مشکلات پر قابو پانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل پالیسی توجہ کی عکاس ہے کہ فاصلہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

مرکزی وزیر جناب جتیندر سنگھ نے کہا کہ رابطہ اس تبدیلی کا بنیادی محور رہا ہے۔ سڑکوں اور شاہراہوں کے پھیلاؤ سے بازاروں اور ضروری خدمات تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے، ریلوے رابطہ بتدریج ریاستی دارالحکومتوں اور دور دراز علاقوں تک پہنچ رہا ہے، جبکہ فضائی رابطے نے سیاحت، تجارت، صحت اور ہنگامی خدمات کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ اندرونِ ملک آبی گزرگاہیں بھی نقل و حمل کے ایک متبادل اور پائیدار وسیلے کے طور پر اہمیت حاصل کر رہی ہیں، جس سے بھارت خطے کے باقی حصے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ روابط مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔

شمال مشرق میں فضائی رابطے کی توسیع اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ خطے میں فعال ہوائی اڈوں کی تعداد جو 2014 میں 9 تھی 2026 میں بڑھ کر یہ تعداد  17 ہو گئی ہے، جو 78 فیصد اضافہ ہے۔ نئے ہوائی اڈوں کی تعمیر اور موجودہ ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے سے دشوار گزار علاقوں اور تھوڑی تھوڑی دور پر واقع بستیوں والے خطے میں رسائی نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔

علاقائی فضائی رابطے کی اسکیم ’اڑان‘ نے شمال مشرق میں ہوائی سفر تک رسائی کو مزید وسعت دی ہے۔ تقریباً 90 علاقائی روٹس فعال کیے جا چکے ہیں، جن کے ذریعے چھوٹے قصبوں کو علاقائی مراکز اور بڑے شہروں سے جوڑا گیا ہے۔ پاکیونگ اور ہولونگی جیسے ہوائی اڈوں سمیت نئی اور مستحکم ہوابازی سہولیات اور تیزو اور روپسی جیسے مقامات پر بہتر بنائی گئی سہولیات نے وسیع تر علاقائی فضائی نیٹ ورک کی تشکیل میں اہم رول  ادا کیا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ بہتر رابطے کے اثرات محض نقل و حمل تک محدود نہیں ہیں۔ تیز تر اور آسان آمدورفت سے تعلیم اور صحت کی خدمات تک رسائی بہتر ہوتی ہے، سیاحت اور مقامی کاروبار کو فروغ حاصل ہوتا ہے، زرعی اور دیگر مصنوعات کی نقل و حرکت آسان ہوتی ہے اور روزگار و سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر جتیندرسنگھ نے کہا کہ شمال مشرق جیسے دشوار گزار جغرافیائی خطے میں رابطہ براہِ راست عوام کے معیارِ زندگی اور اقتصادی خودمختاری سے جڑا ہوا ہے۔

وزیر موصوف نے خطے میں شاہراہوں، ریلوے، آبی گزرگاہوں اور ڈیجیٹل رابطے سمیت بنیادی ڈھانچے کی وسیع تر توسیع کا بھی ذکر کیا۔ مثال کے طور پر شمال مشرق میں قومی آبی گزرگاہوں کی تعداد 2014 میں ایک سے بڑھ کر 2024 میں 20 ہو گئی ہے، جبکہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھی نمایاں توسیع ہوئی ہے اور ہزاروں گرام پنچایتوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ رابطے سے جوڑا گیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ترقی کی یہ رفتار شمال مشرق کو محض جغرافیائی طور پر دور دراز خطے کے تصور سے نکال کر اسٹراٹیجک ، اقتصادی اور تکنیکی اہمیت کے حامل خطے میں تبدیل کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ وزیر وموصوف نے کہا کہ خطے کی نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، حیاتیاتی تنوع اور اسٹراٹیجک محل وقوع ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، بشرطیکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ کاروبار، جدت طرازی، سیاحت، زراعت اور ہنرمندی کے فروغ کے مواقع بھی پیدا کیے جائیں۔

وفد نے ترقی کے اسی وسیع پس منظر میں ووکھا اور ملحقہ علاقوں سے متعلق متعدد مخصوص مسائل بھی اٹھائے۔ ان میں ووکھا–میراپانی سڑک کو گولاگھاٹ تک قومی شاہراہ قرار دینے کی تجویز، ووکھا–بوکاجان سڑک کی اپ گریڈیشن اور ووکھا ضلع ہیڈکوارٹر میں ضلعی دفتر کمپلیکس، کثیر مقصدی  مارکیٹ کمپلیکس، اسٹیڈیم اور رابطہ سڑکوں سمیت بنیادی ڈھانچے کی ضروریات شامل تھیں۔ نمائندوں نے کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکوں کی خراب حالت اور اس کے نتیجے میں آمدورفت اور اقتصادی سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات کی جانب بھی توجہ دلائی۔

ووکھا ضلع میں انسان اور ہاتھی کے درمیان تنازع کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔ نمائندوں نے فصلوں کی تباہی، املاک کو نقصان اور مقامی آبادی کی سلامتی و روزگار سے متعلق خدشات کا ذکر کیا اور متاثرہ علاقوں کے لیے جامع پالیسی اقدامات اور خصوصی پیکیج کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ایسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایسا طریقۂ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو مقامی لوگوں کے روزگار کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خطے کی مالا مال جنگلی حیات کا بھی تحفظ کرے، اور اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مناسب تال میل ضروری ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ملاقات کے دوران اٹھائے گئے ترقیاتی مسائل کو شمال مشرق میں رابطے اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی وسیع تر کوششوں کے تناظر میں زیر غور لایا جائے گا۔ داکٹر سنگھ نے کہا کہ مقصد محض بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بہتر رابطے سے بہتر مواقع، مضبوط روزگار اور بھارت کی ترقی کی داستان میں خطے کی زیادہ مؤثر شمولیت ممکن ہو۔

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران پورے شمال مشرق میں نظر آنے والی تبدیلی نے ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کا نقطۂ نظر خطے کی منفرد ثقافتی، ماحولیاتی اور سماجی خصوصیات کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے قومی ترقی کے مرکزی دھارے کے مزید قریب لانا ہے۔

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ مرکز اور شمال مشرقی ریاستوں کے درمیان مسلسل شراکت داری خطے کی ترقی کو مزید تیز کرے گی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ بہتر رابطے، وسیع ہوتے بنیادی ڈھانچے اور بڑھتے ہوئے اقتصادی مواقع کے ساتھ شمال مشرق ’وکست بھارت‘ کا ایک اہم محرک بننے اور بھارت کی ترقی و خوشحالی میں اپنی بھرپور صلاحیت کے مطابق رول ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔ ش م۔ت ا )

U. No. 2370


(रिलीज़ आईडी: 2301573) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali-TR , Assamese