PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

بھارت میں بنیادی ڈھانچے کی تبدیلی: کنکٹیوٹی سے صلاحیت سازی تک

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 6:48PM by PIB Delhi

ترقی کی بنیاد کو مضبوط کرنا

 

گزشتہ 12 برسوں کے دوران بھارت کے بنیادی ڈھانچے کے منظرنامے میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ نقل و حمل اور لاجسٹکس سے لے کر رہائش اور پانی تک، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اب مربوط منصوبہ بندی اور بڑے پیمانے پر توسیع کی جانب بڑھ گئی ہے۔ اس سے رابطہ کاری مضبوط ہوئی ہے، ضروری خدمات تک رسائی بہتر ہوئی ہے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیادمستحکم ہوئی ہے ۔ عوامی سرمایہ جاتی اخراجات مالی سال 2014-15 میں تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2026-27 میں 12.2 لاکھ کروڑ روپے ہو گئے ہیں، جس سے اس پیش رفت کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔

ریل نقل و حرکت کا نیا دور

بھارتی ریلوے تیز تر طریقے سے  محفوظ  طریقے سے اور جدید نقل و حرکت کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ بجلی کاری، جدید حفاظتی نظام، تیز رفتار ریل اور نئی نسل کی ٹرینیں ریلوے نیٹ ورک کو نئی شکل دے رہی ہیں۔

  • ریلوے بجٹ مالی سال 2014-15 میں 32,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2026-27 میں 2.78 لاکھ کروڑ روپے تک ہو گیا ہے۔
  • ریلوے بجلی کاری 2014 سے پہلے تقریباً 20 فیصد تھی، جو جولائی 2026 تک بڑھ کر 99.6 فیصد ہو گئی ہے۔
  • 162 وندے بھارت، 2 وندے بھارت سلیپر اور 72 امرت بھارت خدمات نے رابطہ کاری اور سفر کے تجربے کو بہتر بنایا ہے۔
  • کَوچ ورژن 4.0 جولائی 2026 تک 2,633 روٹ کلومیٹر پر فعال کر دیا گیا ہے۔
  • ممبئی–احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور 508 کلومیٹر طویل روٹ پر تیار کیا جا رہا ہے، جس کی ڈیزائن رفتار 350 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
  • امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت شناخت کیے گئے 1,340 اسٹیشنوں میں سے 261 اسٹیشنوں کی ازسرنو ترقی 18 جولائی 2026 تک مکمل ہو چکی ہے۔
  • ملک میں تیار کردہ پہلا ہائیڈروجن فیول سیل ٹرین سیٹ جولائی 2026 میں شروع کیا گیا۔ یہ 10 کوچز پر مشتمل ٹرین ہے، جس میں تقریباً 2,600 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور یہ جند–سونی پت سیکشن پر چل رہی ہے۔ یہ ٹرین دورانِ سفر خود بجلی پیدا کرتی ہے، جبکہ اس کے واحد ضمنی اخراجات بھاپ اور حرارت ہیں۔

سڑکیں اور شاہراہیں: بھارت کو جوڑنے والا وسیع نیٹ ورک

زیادہ وسیع اور مضبوط سڑکوں کا نیٹ ورک مختلف خطوں کو ایک دوسرے کے مزید قریب لا رہا ہے۔ قومی شاہراہوں، دیہی سڑکوں اور اہم راہداریوں کی توسیع سے لوگوں اور اشیا کی آمدورفت زیادہ آسان ہو رہی ہے۔

  • بھارت کے پاس سڑکوں کا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا  نیٹ ورک ہے، جس کی مجموعی لمبائی 63.73 لاکھ کلومیٹر ہے۔
  • قومی شاہراہوں کی لمبائی مالی سال 2014 میں 91,287 کلومیٹر  تھی  جو مارچ 2026 میں تقریباً 61 فیصد بڑھ کر 1,46,572 کلومیٹر ہو گئی ہے۔
  • چار لین اور اس سے زیادہ چوڑی قومی شاہراہوں کی لمبائی 2014 میں 18,371 کلومیٹر تھی جو بڑھ کر 45,516 کلومیٹر ہو گئی ہے۔
  • پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت سڑکوں کی لمبائی 2000-2014 کے دوران 3.86 لاکھ کلومیٹر تھی جو بڑھ کر 2014-2026 کے دوران 4.11 لاکھ کلومیٹر ہو گئی ہے۔ ستمبر 2024 سے پی ایم جی ایس وائی-4 کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد 2029 تک 25,000 غیر مربوط آبادیوں کو سڑک رابطے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
  • بھارت مالا کے تحت 31 مارچ 2026 تک 22,590 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے۔

پل اور سرنگیں: انجینئرنگ کے نئے محاذ

انجینئرنگ کے میدان میں ہونے والی پیش رفت ، بھارت کو درپیش بعض انتہائی دشوار جغرافیائی چیلنجوں پر قابو پا رہی ہے۔ یہ منصوبے دشوار گزار علاقوں میں آمدورفت کے لیے نئے راستے کھول رہے ہیں۔

  • چناب پل (2025): دنیا کا سب سے بلند ریلوے محرابی پل، جو دریائے چناب سے 359 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ 1,315 میٹر طویل فولادی ڈھانچہ جموں–سری نگر رابطے کو مضبوط بنا رہا ہے۔
  • انجی کھڈ برج  (2025): جموں و کشمیر میں بھارت کا پہلا کیبل اسٹیڈ ریلوے پل
  • پمبن  برج  (2025): بھارت کا پہلا عمودی طور پر اٹھنے والا ریلوے بحری پل، جو رامیشورم کو اصل سرزمین سے جوڑتا ہے۔ اس کی لمبائی 2.07 کلومیٹر ہے اور اس کے عمودی طور پر اٹھنے والے حصے کی لمبائی 72.5 میٹر ہے۔
  • زیڈ-مورہ/سونمرگ سرنگ (2025): جموں و کشمیر کے برفانی تودوں کے خطرے والے علاقے میں ہر موسم میں آمدورفت کی سہولت فراہم کرنے والی 12 کلومیٹر طویل سرنگ، جو لداخ کی جانب آمدورفت کو بہتر بناتی ہے۔
  • سدرشن سیتو (2024): گجرات میں اوکھا کو بیٹ دوارکا سے جوڑنے والا 2.32 کلومیٹر طویل پل ہے
  • اٹل سرنگ (2020): 9.02 کلومیٹر طویل سرنگ، جو 10,000 فٹ سے زیادہ بلندی پر واقع دنیا کی سب سے طویل شاہراہ سرنگ ہے اور منالی کو لاہول-اسپیتی سے جوڑتی ہے۔
  • ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی سرنگ (2017): جموں اور سری نگر کے درمیان 9 کلومیٹر طویل ہر موسم میں قابلِ استعمال سرنگ، جس سے سفر کا وقت تقریباً 2 گھنٹے کم ہو گیا ہے۔

 

 

شہری ہوا بازی اور علاقائی فضائی رابطہ

فضائی رابطہ اب مزید شہروں، قصبوں اور دور دراز علاقوں تک پہنچ رہا ہے۔ ہوائی اڈوں، اڑان روٹس اور ڈیجیٹل مسافروں کی خدمات میں توسیع سے ملک بھر میں ہوائی سفر مزید قابلِ رسائی ہو رہا ہے۔

  • اڑان کے تحت 15 جولائی 2026 تک 679 روٹس کے ذریعے 95 ہوائی اڈوں، ہیلی پورٹس اور واٹر ایروڈرومز کو جوڑا گیا، جس سے 1.68 کروڑ سے زیادہ مسافر مستفید ہوئے۔
  • فعال ہوائی اڈوں کی تعدادجو 2014 میں 74 تھی جولائی 2026 میں بڑھ کر 165 ہو گئی ہے۔
  • 2014 کے بعد 25 گرین فیلڈ ہوائی اڈوں کو منظوری دی گئی ہے۔
  • ڈیجی یاترا 38 ہوائی اڈوں پر فعال ہے۔ اس ایپ کے ذریعے 10 کروڑ سے زیادہ آسان اور بلارکاوٹ سفر ممکن ہوئے ہیں، جبکہ اسے 2.4 کروڑ سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔
  • ترمیم شدہ اڑان کو مارچ 2026 میں مالی سال 2026-27 سے مالی سال 2035-36 تک کے لیے 28,840 کروڑ روپے کے مالی تخمینے کے ساتھ منظوری دی گئی۔ اس کے تحت علاقائی فضائی رابطے کو آخری منزل تک مضبوط بنانے کے لیے 100 نئے ہوائی اڈوں اور 200 جدید ہیلی پیڈز کے قیام کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

میٹرو: بڑے پیمانے پر شہری نقل و حمل کا فروغ

بھارت کا شہری نقل و حرکت کا نیٹ ورک پیمانے اور دائرۂ کار دونوں کے ہی لحاظ سے وسیع ہو رہا ہے۔ میٹرو رابطہ اب مزید شہروں تک پھیل چکا ہے، جبکہ جدید نظام شہری نقل و حمل کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔

  • میٹرو نیٹ ورک جو  2014 میں 248 کلومیٹر تھاسے 2026 بڑھ کر میں 1,155 کلومیٹر سے زیادہ ہو گیا ہے۔
  • میٹرو رابطے والے شہروں کی تعداد 5 سے بڑھ کر 26 ہو گئی ہے، جبکہ روزانہ مسافروں کی تعداد 1.15 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔
  • کولکاتا میں 2024 میں بھارت کی پہلی زیرِ آب میٹرو سرنگ فعال کی گئی۔
  • کوچی میں بھارت کا پہلا واٹر میٹرو نظام فعال کیا گیا، جس کی پہلی کشتی دسمبر 2021 میں چلائی گئی۔

بھارت کی بحری پیش رفت

بڑھتی ہوئی معیشت اور وسعت پذیر تجارت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھارت اپنے بحری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا رہا ہے۔ بندرگاہوں، آبی گزرگاہوں اور بحری بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری سے ایک زیادہ مضبوط اور مربوط نظام تشکیل پا رہا ہے۔

  • اہم بندرگاہوں کی کارگو ہینڈلنگ صلاحیت 2014 میں 873 ملین میٹرک ٹن سالانہ سے تقریباً دوگنی ہو کر 2026 میں 1,728 ملین میٹرک ٹن سالانہ ہو گئی ہے۔
  • جہازوں کے ٹرن اراؤنڈ وقت میں بہتری آئی ہے اور یہ 94 گھنٹے سے کم ہو کر 2025-26 میں 48.8 گھنٹے رہ گیا ہے۔
  • مالی سال 2025-26 کے دوران اہم بندرگاہوں نے مجموعی طور پر 915.17 ملین ٹن کارگو ہینڈل کیا، جو مالی سال 2014-15 کے 581 ملین ٹن سے کہیں زیادہ ہے۔
  • ساگر مالا پروگرام نے بندرگاہوں پر مبنی ترقی، ساحلی رابطے اور لاجسٹکس کے انضمام کو مضبوط بنایا ہے۔
  • قومی آبی گزرگاہوں کی تعداد 2014 میں 5 سے بڑھ کر 2026 میں 111 ہو گئی ہے، جن میں سے فعال تعداد 32  ہے۔
  • 2025 میں بھارت دنیا کا نمبر ایک جہاز ری سائیکلنگ ملک بن گیا۔ عالمی حصہ 2024 کے 30.1 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 35.4 فیصد ہو گیا، جبکہ 2.99 ملین مجموعی ٹن (جی ٹی) جہاز ری سائیکل کیے گئے، جو 2024 کے 1.86 ملین جی ٹی کے مقابلے میں تقریباً 60 فیصد زیادہ ہے۔
  • عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ کنٹینر پورٹ پرفارمنس انڈیکس (سی پی پی آئی) 2025 کے مطابق جواہر لال نہرو بندرگاہ کو 22واں مقام حاصل ہوا۔
  • بھارت میری ٹائم انشورنس پول (بی ایم آئی پی) کا آغاز 12 مئی 2026 کو کیا گیا۔ یہ 1.5 ارب امریکی ڈالر کا ملکی بیمہ پول ہے، جسے 1.4 ارب امریکی ڈالر (12,980 کروڑ روپے) کی خودمختار ضمانت حاصل ہے۔ اس کے تحت بھارتی پرچم بردار یا بھارتی کنٹرول والے جہازوں کے لیے جہاز اور مشینری، کارگو، تحفظ اور آئیڈیمنٹی ،جنگی خطرات کا بیمہ فراہم کیا جاتا ہے۔ 29 جولائی 2026 تک اس پول کے تحت کارگو جنگی خطرات اور جہاز جنگی خطرات کا احاطہ کرنے والی مجموعی طور پر 1,608 پالیسیاں جاری کی جا چکی ہیں۔

لاجسٹکس اور صنعتی صلاحیت کو مضبوط بنانا

بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی اب تیزی سے ایک باہم مربوط نیٹ ورک کے طور پر کی جا رہی ہے، جو صنعت اور تجارت میں معاونت فراہم کرتا ہے ۔ گتی شکتی سے لے کر صنعتی راہداریوں تک، توجہ باہمی رابطہ کاری، کارکردگی اور مینوفیکچرنگ صلاحیت کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔

  • پی ایم گتی شکتی قومی  ماسٹر پلان نے 58 وزارتوں اور محکموں کے بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کو 3,291 سے زیادہ ڈیٹا لیئرز کے استعمال کے ذریعے مربوط کیا ہے۔
  • 11 اگست 2026 تک نیٹ ورک پلاننگ گروپ کے نظام کے ذریعے 396 بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کا جائزہ لیا گیا ہے، جن کی مجموعی تخمینی لاگت تقریباً 18.66 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ ان میں سے 256 پروجیکٹوں کو منظوری دی جا چکی ہے اور 198  جب کہ پروجیکٹ زیرِ عمل ہیں۔
  • نیشنل لاجسٹکس پالیسی نے کثیر ذرائع پر مبنی لاجسٹکس کی کارکردگی اور سپلائی چین کے انضمام کو مضبوط کیا ہے۔
  • پراگتی کے تحت 85 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے 382 پروجیکٹوں  کا جائزہ لیا گیا اور 2,958 مسائل حل کیے گئے۔
  • انڈیا انڈسٹریل لینڈ بینک (آئی آئی ایل بی) پر 4,220 سے زیادہ صنعتی پارکس درج کیے گئے ہیں۔
  • ملک بھر میں 272 پلگ اینڈ پلے صنعتی پارکس فعال ہیں۔
  • 7 صنعتی راہداریوں کے تحت 20 صنعتی اسمارٹ شہروں کی منظوری دی گئی ہے۔
  • بھاویہ اسکیم کو مارچ 2026 میں 100 نئے پلگ اینڈ پلے صنعتی پارکس تیار کرنے کے لیے منظوری دی گئی۔
  • بھاویہ رسائن اسکیم کو 24 جولائی 2026 کو 3,030 کروڑ روپے کے مالی تخمینے کے ساتھ منظوری دی گئی۔ یہ اسکیم مالی سال 2026-27 سے مالی سال 2030-31 تک پانچ برسوں کے دوران نافذ کی جائے گی۔
  • مینوفیکچرنگ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 7 پردھان منتری مترا پارکس تجویز کیے گئے ہیں۔

پانی، رہائش اور شہری ترقی

بنیادی ڈھانچے کی یہ پیش رفت براہِ راست لوگوں کے گھروں اور روزمرہ ضروریات تک پہنچ رہی ہے۔ نل کے ذریعے پانی کی فراہمی اور سستی رہائش سے لے کر شہری تجدید تک، یہ اقدامات دیہی اور شہری بھارت میں بہتر معیارِ زندگی کی تشکیل کر رہے ہیں۔

  • جل جیون مشن (جے جے ایم) کے تحت دیہی علاقوں میں نل کے ذریعے پانی کی فراہمی کی کوریج 2019 میں 3.23 کروڑ تھی جو10اگست   2026  تک بڑھ کر تقریباً 15.91 کروڑ گھرانوں تک پہنچ گئی ہے۔
  • جے جے ایم 2.0 کو مارچ 2026 میں منظوری دی گئی۔ مشن کی مدت بڑھا کر دسمبر 2028 تک کر دی گئی ہے اور اس کے لیے 8.69 لاکھ کروڑ روپے کا بڑھا ہوا مالی تخمینہ مقرر کیا گیا ہے۔
  • پردھان منتری آواس یوجنا-شہری (پی ایم اے وائی-یو) کے تحت 12 اگست 2026 تک 99.25 لاکھ مکانات مکمل کیے جا چکے ہیں۔ پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے تحت تقریباً 96 فیصد مکانات خواتین کے نام پر مختص کیے گئے ہیں۔
  • پردھان منتری آواس یوجنا-دیہی (پی ایم اے وائی-جی) کے تحت منظور شدہ 3.91 کروڑ مکانات میں سے 3.13 کروڑ مکانات 12 اگست 2026 تک مکمل ہو چکے ہیں۔ پی ایم اے وائی-جی کے تحت منظور شدہ تقریباً 75 فیصد مکانات خواتین کے نام پر یا مشترکہ ملکیت میں ہیں۔
  • سوامیہ فنڈ نے، جو 2019 میں شروع کیا گیا تھا، جون 2026 تک 63,000 سے زیادہ مکانات مکمل کیے، جس سے تقریباً 2.52 لاکھ افراد مستفید ہوئے۔
  • امرت اور امروت 2.0 کے تحت 2015 سے اب تک تقریباً 2.79 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔
  • اسمارٹ سٹیز مشن کے تحت مارچ 2026 تک مجموعی طور پر 7,790 پروجیکٹ مکمل کیے جا چکے ہیں، جن کی مالیت 1,56,257 کروڑ روپے ہے۔

مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار بھارت کے لیے بنیادی ڈھانچہ

بھارت میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا سفر قومی ترقی کے پیمانے اور عزائم میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ توجہ اب ایسے مضبوط اور زیادہ صلاحیت والے نظام کی تعمیر کی جانب منتقل ہو گئی ہے جو نہ صرف آج تیزی سے ترقی کرتی معیشت کی ضروریات پوری کریں بلکہ مستقبل کی ضروریات کو بھی مدِنظر رکھیں۔ مجموعی طور پر یہ اقدامات ایک زیادہ مؤثر، جامع اور مستقبل کے لیے تیار بھارت کی مضبوط بنیاد استوار کر رہے ہیں۔

حوالہ جات

وزیر اعظم کے دفتر

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1703457&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2133723&reg=3&lang=2

https://www.pmindia.gov.in/en/news_updates/cabinet-approves-implementation-of-the-pradhan-mantri-awaas-yojana-gramin-pmay-g-during-fy-2024-25-to-2028-29/

 

کابینہ

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2295480&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2292445&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2292433&reg=48&lang=2

 

 

وزارت دفاع

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1796961&reg=3&lang=2

 

وزارت خزانہ

https://www.indiabudget.gov.in/doc/eb/sbe87.pdf

https://www.indiabudget.gov.in/doc/eb/sbe87.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2257087&reg=3&lang=1


شہری ہوا بازی کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2267024&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2245471&reg=1&lang=1


ریلویز کی وزارت


https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2256054&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2248962&v=1&v=1fdkfdkfmdskf&regv=s11%60&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1882109&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2209846&reg=1&lang=1

ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2223878&reg=3&lang=1

https://pmayg.dord.gov.in/netiayHome/Home.aspx

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2293938&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2231861&reg=6&lang=1

https://pmay-urban.gov.in/

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2266262&reg=48&lang=2


اطلاعات ونشریات کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2098788&reg=3&lang=2

تجارت و صنعت کی وزارت


https://indiaindustriallandbank.gov.in/login1

https://pmgatishakti.gov.in/pmgatishakti/login

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2131526&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2225808&reg=3&lang=2

 

جل شکتی کی وزارت

 

https://www.jalshakti-dowr.gov.in/static/uploads/2026/02/71facba772426d78db2d39f8c0c2a34b.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2295509&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=158959&ModuleId=3&reg=48&lang=1


بجلی کی وزارت

 

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2215761&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2157549&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2215761&reg=3&lang=2

 

سڑک نرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت

 

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2223330&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2220128&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2290493&reg=48&lang=2

 

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت


https://nextgen.ehospital.gov.in/dashboard/

 

بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزر گاہوں کی وزارت

 

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2202412&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2249113&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2227665&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2297606&reg=48&lang=1

الیکٹرانکس اور اطلاعاتی  ٹیکنالوجی کی وزارت(ایم ای آئی ٹی وائی)

https://www.digilocker.gov.in/web/statistics

https://pmwani.gov.in/wani

 

دیہی ترقی کی وزارت

 

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2201070&reg=3&lang=1

https://pmgsy.dord.gov.in/dbweb

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2288999&reg=48&lang=2

 

پریس انفارمیشن بیورو

 

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154355&ModuleId=3&reg=3&lang=2

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2022/jul/doc20227169101.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2214872&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2278422&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2293256&reg=48&lang=1

India’s Infrastructure Transformation: From Connectivity to Capacity

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔ ش م ۔ت ا )

U. No. 2366


(रिलीज़ आईडी: 2301567) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali