عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
سینئر چیف ایگزیکٹو میری جوئل سینڈرین ویلیئر کی قیادت میں ماریشس کے سول سرونٹس کے وفد نےمرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی اور تبادلۂ خیال کیا؛ یہ وفد نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس (این سی جی جی)کے زیر اہتمام صلاحیت سازی میں اضافے کے پروگرام میں شرکت کر رہا ہے
صلاحیت سازی میں اضافہ، مسلسل،عہدے کی نوعیت کے مطابق اور اہلیت پر مبنی سیکھنے کے عمل میں تبدیل ہونا چاہیے:ڈاکٹر جتیندر سنگھ
بھارت اور ماریشس نے سینئر سول سرونٹس کے لیے چوتھے خصوصی صلاحیت سازی پروگرام کے ذریعے عوامی انتظامیہ کے شعبے میں تعاون کومزیدمستحکم کیا
بھارت اور ماریشس کو سرکاری خدمات میں تربیت، سیکھنے اور جدت طرازی کے شعبوں میں ادارہ جاتی روابط کو مزید مستحکم کرنا چاہیے:ڈاکٹر جتیندر سنگھ
این سی جی جی اور ماریشس کے درمیان شراکت داری کے تحت بھارت 5 سال کے دوران ماریشس کے500 سول سرونٹس کو تربیت فراہم کرے گا
प्रविष्टि तिथि:
20 AUG 2026 3:07PM by PIB Delhi
سینئر چیف ایگزیکٹو میری جوئل سینڈرین ویلیئر کی قیادت میں ماریشس کے سول سرونٹس کے وفدنےمرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی اور تبادلۂ خیال کیا۔ یہ وفد نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس (این سی جی جی) کے زیر اہتمام صلاحیت سازی میں اضافے کے پروگرام میں شرکت کر رہا ہے۔
وزیراعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، نیز محکمۂ جوہری توانائی اور محکمۂ خلاء کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس (این سی جی جی) کے زیر اہتمام ماریشس کے سینئرسول سرونٹس کے لیے منعقدہ چوتھے خصوصی صلاحیت سازی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صلاحیت سازی میں اضافہ روایتی تربیت کے دائرے سے آگے بڑھ کر مسلسل، عہدے کی نوعیت کے مطابق اور اہلیت پر مبنی سیکھنے کے عمل میں تبدیل ہونا چاہیے، تاکہ تیزی سے بدلتے ہوئے حکمرانی کے ماحول میں سول سرونٹس مستقبل کے تقاضوں کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔
نئی دہلی میں17 سے 22 اگست 2026 تک نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس (این سی جی جی) کے زیر اہتمام ماریشس کے سینئر سول سرونٹس کے لیے چوتھے خصوصی صلاحیت سازی پروگرام کے ذریعے بھارت اور ماریشس کے درمیان عوامی انتظامیہ اور صلاحیت سازی میں اضافے کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام میں ماریشس کی11 وزارتوں اور محکموں کے 15 سینئر افسران شرکت کر رہے ہیں۔ یہ پروگرام حکمرانی کے طریقۂ کار، ادارہ جاتی تجربات اور عوامی خدمات کی فراہمی کے مختلف طریقوں کے باہمی تبادلے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔
وزیرموصوف نے بتایا کہ این سی جی جی نے مارچ 2025 میں ماریشس کی سرکاری خدمات اور انتظامی اصلاحات کی وزارت کے ساتھ ایک مفاہمت نامہ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت پانچ سال کے دوران ماریشس کے 500 سول سرونٹس کو تربیت فراہم کی جائے گی۔ موجودہ پروگرام اس نوعیت کا چوتھا صلاحیت سازی پروگرام ہے۔ اس سے قبل منعقد کیے گئے تین پروگراموں میں ماریشس کی مختلف وزارتوں اور محکموں کے 70 سول سرونٹس نے شرکت کی تھی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صلاحیت سازی میں اضافہ روایتی اور ایک مرتبہ کی جانے والی تربیت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے مسلسل، عہدے کی نوعیت کے مطابق اور اہلیت پر مبنی سیکھنے کے عمل کی جانب بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی کے شعبے میں ٹیکنالوجی، اعداد و شمار، مصنوعی ذہانت اور شہریوں کو خدمات فراہم کرنے کے نئے طریقوں کے باعث مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اس لیے سول سرونٹس کو مستقبل کے تقاضوں کے لیے ہمہ وقت تیار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس شعبے میں بھارت کے تجربات ماریشس کے ساتھ شیئر کرنے اور انہیں ماریشس کی سرکاری خدمات کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے امکانات تلاش کرنے کے لیے بھارت کی آمادگی کا بھی اظہار کیا۔
وزیرموصوف نے اٹل بہاری واجپائی انسٹی ٹیوٹ آف پبلک سروس اینڈ انوویشن (اے بی وی آئی پی ایس آئی) کو بھارت اور ماریشس کے درمیان ایک اہم ادارہ جاتی پل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اے بی وی آئی پی ایس آئی اور بھارت کے مختلف اداروں، بشمول لال بہادر شاستری نیشنل اکیڈمی آف ایڈمنسٹریشن (ایل بی ایس این اے اے)، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (آئی آئی پی اے) اور انسٹی ٹیوٹ آف سکریٹریٹ ٹریننگ اینڈ مینجمنٹ (آئی ایس ٹی ایم) کے درمیان مزید مضبوط روابط قائم کیے جا سکتے ہیں۔ ان روابط کے دائرے میں اساتذہ اور تربیتی صلاحیت میں اضافہ، مشترکہ پروگراموں کی تشکیل، ادارہ جاتی ترقی، علم کا تبادلہ، کیس اسٹڈیز اور جہاں مفید ہو، مشترکہ تحقیق بھی شامل ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے شہریوں پر مرکوز حکمرانی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی، عوامی شکایات کے ازالے اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ حکمرانی کے شعبے میں بھارت کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ انتظامی اصلاحات، ادارہ جاتی جواب دہی اور خدمات کی فراہمی میں شہریوں پر خصوصی توجہ بھی ضروری ہے۔
اس پروگرام کو حکمرانی سے متعلق متعدد عصری موضوعات کے گرد ترتیب دیا گیا ہے، جن میں مصنوعی ذہانت اور حکمرانی، بھارت کا ڈیجیٹل سرکاری بنیادی ڈھانچہ، عوامی شکایات کے ازالے اور نگرانی کا مرکزی نظام (سی پی جی آر اے ایم ایس)، شکایات کا ازالہ، تعلیم اور خدمات کی فراہمی میں ڈیجیٹل تبدیلی، پنشن اصلاحات، آدھار، سرمایہ کاری کا فروغ اور ایم ایس ایم ایز کے لیے کاروبار کرنے میں آسانی، کاروباری سرگرمیوں کا فروغ، ٹھوس کچرے کا انتظام اور شہری بلدیاتی ادارے شامل ہیں۔ پروگرام کے تحت مختلف اداروں اور اقدامات کے مطالعاتی دورے بھی شامل ہیں، جن میں ایف آئی ٹی ٹی، آئی آئی ٹی دہلی میں اسٹارٹ اَپ انڈیا، پردھان منتری سنگرہالیہ، پرائیڈ، پی ایم گتی شکتی اور الیکشن کمیشن آف انڈیا شامل ہیں۔
وزیرموصوف نے باہمی حکمرانی کے تجربات سے سیکھنے کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ صلاحیت سازی میں اضافہ صرف افسران کو تربیت کے لیے بھیجنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا مقصد یہ بھی ہونا چاہیے کہ افسران یہ سمجھ سکیں کہ کسی دوسرے ملک کی انتظامیہ چیلنجز سے کس طرح نمٹتی ہے، کون سے طریقۂ کار مؤثر ثابت ہوتے ہیں اور مختلف حالات میں کن تجربات اور اسباق کو اپنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے امرت گیان کوش کا حوالہ دیتے ہوئے اسے عوامی انتظامیہ کے تجربات کو دستاویزی شکل دینے اور انہیں سرکاری افسران کے لیے عملی سیکھنے کے مواد میں تبدیل کرنے کی ایک اہم پہل قرار دیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سمندر کے کنارے رہنے والی اقوام کی حیثیت سے بھارت اور ماریشس کے لیے بلیو اکانومی، سمندری ٹیکنالوجیز، ماہی گیری، سمندرکے پانی کو میٹھا کرنے اور پائیدار ترقی کو باہمی دلچسپی کے اہم شعبے قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی پروگراموں، ماہرین اور عملی تجربہ رکھنے والے افراد کے باہمی تبادلے اور مشترکہ سیکھنے کے اقدامات کے ذریعے استعدادِ کار میں اضافے کے تعاون کو ان ابھرتے ہوئے شعبوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔
وزیرموصوف نے کہا کہ تعاون کے اگلے مرحلے میں انفرادی پروگراموں سے آگے بڑھ کر دونوں ممالک کی سرکاری خدمات کے درمیان زیادہ منظم اور دیرپا شراکت داری قائم کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے اے بی وی آئی پی ایس آئی اور بھارت کے تربیتی اداروں کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے، آئی جی او ٹی کرم یوگی شراکت داری کو مزید فروغ دینے اور ماریشس کے سرکاری افسران کی ضروریات سے خصوصی طور پر متعلق تعلیمی و تربیتی مواد تیار کرنے کی تجویز پیش کی۔
یہ پروگرام صلاحیت سازی میں اضافے کے شعبے میں بھارت اور ماریشس کے درمیان وسیع تر تعاون کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ماریشس بھارتی تکنیکی و اقتصادی تعاون (آئی ٹی ای سی) پروگرام کے بڑے مستفید ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور اسے ہر سال تقریباً 500 تربیتی نشستیں فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ 2007 سے اب تک موریشس کے تقریباً 5,600 شہریوں نے سول اور دفاعی شعبوں کے تحت تربیت حاصل کی ہے۔
اس پروگرام میں شرکت کرنے والے ماریشس کے سینئر سرکاری افسران کے وفد میں جناب دونن جوئے داسائے، مستقل سکریٹری، وزارتِ تعلیم و انسانی وسائل؛ محترمہ پھول رینی رامپادارتھ، مستقل سکریٹری، وزارتِ مقامی حکومت؛ محترمہ میری جوئل سینڈرین ویلیئر، سینئر چیف ایگزیکٹو، کابینہ دفتر؛ جناب فرحان خان ظہور، مستقل سکریٹری، وزارتِ اطلاعاتی ٹیکنالوجی، مواصلات و اختراع؛ اور محترمہ اندرا پداروتھ روچایا، مستقل سکریٹری، وزارتِ صنعت، چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں اور کوآپریٹیوز شامل ہیں۔
******
ش ح۔م ع۔اش ق
U. No. 2369
(रिलीज़ आईडी: 2301556)
आगंतुक पटल : 11