دیہی ترقیات کی وزارت
زراعت اور دیہی ترقی سے وابستہ افراد کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ’شکتی کی سپت دھارا‘ کے وژن کے تحت متحد ہو کر کام کرنا ہوگا: جناب شیوراج سنگھ چوہان
وزیر اعظم مودی کے ’وکست بھارت‘ کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے بھارتی زراعت کو خوشحال اور خود کفیل بنائیں گے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
’’شکتی کی سپت دھارا‘‘ کی روشنی میں زراعت اور دیہی ترقی کا لائحۂ عمل تیار کرکے اسے نئی سمت دینے کا کام شروع کر دیا گیا ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
وکست بھارت 2047 کی تعمیر کے لیے زیادہ پیداوار، بہتر معیار اور غذائی اشیا کی پروسیسنگ پر توجہ دی جارہی ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
کسانوں کی پیداوار کو کھیتوں سے عالمی منڈیوں تک پہنچانے کا عزم ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور دیہی خواتین کو بااختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں: جناب شیوراج سنگھ چوہان
تین کروڑ ’لکھ پتی دیدی‘ کا ہدف حاصل کیا گیا؛ اب چھ کروڑ ’لکھ پتی دیدی‘ بنانے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں: جناب شیوراج سنگھ چوہان
خود کفیل بھارت کے لیے کسان، سائنس داں، غذائی اشیا کے پروسیسرز اور برآمد کنندگان مل کر کام کریں گے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
ملک سب سے پہلے: فرض کو اپنی شناخت بنائیں اور وکست بھارت کی تعمیر کے لیے کام کریں: جناب شیوراج سنگھ چوہان
وزیر اعظم مودی کے وکست بھارت کے خواب کو عزم، صلاحیت اور کامیابی میں بدلنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
प्रविष्टि तिथि:
18 AUG 2026 6:22PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعے کی فصیل سے ’شکتی کی سپت دھارا‘ کا اعلان کیا تھا۔ اسے عملی سطح پر نافذ کرنے کے لیے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان کی پہل پر آج پُسا میں واقع سی. سبرامنیم آڈیٹوریم میں وزارتِ زراعت و کسان بہبود اور وزارتِ دیہی ترقی کے تحت آنے والے محکموں کے لیے پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔اس پروگرام کے دوران زراعت و کسان بہبود اور دیہی ترقی کےمرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے افسران، ملازمین، سائنس دانوں، کسانوں، لکھ پتی دیدیوں، غذائی اشیا کی پروسیسنگ سے وابستہ افراد، برآمد کنندگان اور کسان پیداوار تنظیموں (ایف پی اوز) کے نمائندوں کو اجتماعی عہد دلایا کہ وہ ایک ترقی یافتہ، خوشحال، خود کفیل اور بااختیار بھارت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔اس موقع پر وزیر مملکت جناب بھاگیرتھ چودھری اور ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسنی کے علاوہ چاروں محکموں کے سکریٹری بھی موجود تھے۔

زراعت اور غذائی اشیا کی پروسیسنگ ’شکتی کی سپت دھارا‘ کے اہم محرکات
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ’شکتی کی سپت دھارا‘ کے ذریعے ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے واضح لائحۂ عمل پیش کیا ہے۔ زراعت اور غذائی اشیا کی پروسیسنگ اس وژن کا ایک اہم ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ کرنے پر توجہ دینی ہوگی بلکہ پیداوار کے معیار، سلامتی اور عالمی معیارات کے مطابق ہونے کو بھی یقینی بنانا ہوگا، تاکہ بھارتی کسانوں کی پیداوار عالمی منڈیوں میں مضبوط مقام حاصل کر سکے۔جناب چوہان نے کہا کہ یہ پروگرام محض ایک رسمی تقریب نہیں، بلکہ زراعت اور دیہی ترقی کے پورے نظام کی اجتماعی وابستگی کا اظہار ہے۔ کسان، سائنس داں، افسران، ملازمین، غذائی اشیا کی پروسیسنگ سے وابستہ افراد، برآمد کنندگان، خود امدادی گروپوں سے وابستہ خواتین اور کسان پیداوار تنظیمیں، سب اس کوشش میں برابر کے شراکت دار ہیں۔ ہر فرد کی ایک اہم ذمہ داری ہے اور وزیر اعظم کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
ملک سب سے پہلے
جناب چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے واضح طور پر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں اور فرائض کو اپنی زندگی کا بنیادی اصول بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری خدمت دراصل ملک اور اس کے عوام کی خدمت کا عزم ہے۔ کسانوں، غریبوں، ماؤں اور بہنوں اور دیہی برادریوں کی خدمت بھارت ماتا کی خدمت کے مترادف ہے۔ اپنی ذمہ داریوں کو دیانت داری اور خلوص کے ساتھ ادا کرنا ہی حقیقی حب الوطنی ہے۔جناب چوہان نے کہا کہ لال قلعے کی فصیل سے وزیر اعظم کی جانب سے کیے گئے عہد کو پورا کرنے کی پہلی ذمہ داری وزراء، افسران اور ملازمین پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے تمام افسران اور ملازمین سے اپیل کی کہ وہ اپنے متعلقہ محکموں کے لیے واضح اہداف مقرر کریں، ٹھوس لائحۂ عمل تیار کریں اور عزم، دیانت داری اور محنت کے ساتھ ان پر عمل درآمد کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے عہد اسی وقت پورے ہو سکتے ہیں جب ہم سب انہیں اپنا عہد سمجھ کر ان کی تکمیل کے لیے پوری لگن کے ساتھ کام کریں۔

کھیت سے عالمی منڈیوں تک
جناب چوہان نے کہا کہ بھارتی زراعت کو کھیت سے عالمی منڈیوں تک جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بھارتی کسان مرچ، مصالحہ جات، پھل، پھول، روایتی غذائی اشیا اور مختلف دیگر زرعی اجناس سمیت متعدد اقسام کی پیداوار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پیداوار کے معیار کو بہتر بنا کر اور انہیں عالمی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق تیار کرکے کسانوں کے لیے مواقع میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ غذائی اشیا کی پروسیسنگ، پیکیجنگ، برانڈنگ اور برآمدات کے ذریعے کسانوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ کسان، غذائی اشیا کی پروسیسنگ سے وابستہ افراد اور برآمد کنندگان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے تمام متعلقہ فریقوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کر باہمی تال میل کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جناب چوہان نے کہا کہ اگر بھارتی زرعی مصنوعات معیار، خالص پن اور قابلِ اعتماد ہونے کا ثبوت پیش کریں تو عالمی منڈیاں انہیں بخوشی قبول کریں گی۔ بھارت اور پوری دنیا میں قدرتی طریقۂ کاشت، نامیاتی کاشت کاری اور کیمیکل سے پاک طریقۂ کاشت کے ذریعے تیار کی جانے والی مصنوعات کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ اس لیے کسانوں کو تکنیکی رہنمائی، منڈی سے متعلق معلومات اور بہتر پروسیسنگ کی سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔
زرعی لائحۂ عمل پر توجہ
جناب چوہان نے کہا کہ قومی سطح کے زرعی لائحۂ عمل کے علاوہ ہر ریاست اور ہر ضلع کے لیے الگ الگ زرعی لائحۂ عمل بھی تیار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مختلف علاقوں میں موسمی حالات، مٹی، پانی کی دستیابی اور فصلوں کا انداز مختلف ہے۔ اس لیے فصلوں کی پیداوار، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کے منصوبے مقامی حالات کے مطابق تیار کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے مختلف فصلوں کی ملکی اور عالمی منڈیوں میں مانگ کا سائنسی جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایسے جائزوں کی بنیاد پر کسانوں کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی ہے اور انہیں موزوں فصلیں اختیار کرنے، معیار بہتر بنانے اور جدید زرعی طریقے اپنانے کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمۂ زرعی تحقیق و تعلیم، بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل، کرشی وگیان کیندر، ریاستی حکومتوں اور دیگر اداروں کو مل کر نئی ٹیکنالوجی کسانوں تک پہنچانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔جناب چوہان نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی، مشینی کاری، مصنوعی ذہانت، بہتر بیجوں اور جدید زرعی طریقوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے پیداوار اور فی ہیکٹر پیداواری صلاحیت، دونوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

پیداوار میں اضافہ، لاگت میں کمی
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں حکومت کی ترجیحات پیداوار میں اضافہ، لاگت میں کمی، معیار میں بہتری اور کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت یقینی بنانا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو موسم، منڈیوں اور پیداوار سے متعلق بروقت اور درست معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔ قدرتی طریقۂ کاشت، نامیاتی کاشت کاری، آب پاشی، پانی کا تحفظ، فصلوں میں تنوع اور زراعت پر مبنی آمدنی کے دیگر ذرائع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے مقامی وسائل پر مبنی مربوط زرعی نظام اور نمونے تیار کیے جانے چاہئیں۔جناب چوہان نے کہا کہ زراعت کے شعبے کی کامیابیاں اہم ہیں، لیکن یہ صرف سنگِ میل ہیں، منزل نہیں۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے نئے اہداف مقرر کیے ہیں اور اب تمام محکموں کو ان کے حصول کے لیے مزید تیزی اور سنجیدگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔
چھ کروڑ لکھ پتی دیدیوں کا ہدف
دیہی ترقی میں لکھ پتی دیدی پہل کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ تین کروڑ دیہی خواتین کو لکھ پتی دیدی بنانے کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ اب وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے چھ کروڑ لکھ پتی دیدیاں بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید تین کروڑ لکھ پتی دیدیاں بنانے سے دیہی معیشت میں بڑی تبدیلی آئے گی۔خود امدادی گروپوں سے وابستہ خواتین کو ہنر مندی کی ترقی، مالی مدد، منڈیوں تک رسائی اور کاروباری مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ جناب چوہان نے کہا کہ دیہی خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کو بہتر منڈی تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ’شی مارٹس‘ اور برانڈنگ جیسے اقدامات کو فروغ دیا جائے گا۔ دست کاری کی اشیا، غذائی مصنوعات، آیورویدک مصنوعات، روایتی اشیا اور دیہی خواتین کی تیار کردہ دیگر مصنوعات کو ملک بھر کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک کی منڈیوں تک پہنچانے کی کوششیں کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف ان کی آمدنی بڑھانے تک محدود نہیں ہے۔ اس سے خاندان، گاؤں اور پوری دیہی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ دیہی خواتین کو خود کفیل بنانا ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے ایک اہم پیشگی شرط ہے۔
گاؤں میں ترقی کی نگرانی
جناب چوہان نے کہا کہ ترقی یافتہ گاؤں کے بغیر ترقی یافتہ بھارت کے وژن کو حقیقت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ دیہی علاقوں میں پکے مکانات، سڑکوں، پانی کے تحفظ، روزگار، ذریعۂ معاش، خواتین کو بااختیار بنانے اور زراعت پر مبنی سرگرمیوں کی ترقی کو تیز کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دیہی ترقی کی تمام اسکیموں کے اثرات زمینی سطح پر واضح طور پر نظر آنے چاہئیں۔ افسران اور ملازمین کو صرف اپنے دفاتر تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ موقع پر جا کر اسکیموں کی حقیقی صورتِ حال کا جائزہ لینا چاہیے۔ محکمانہ اعداد و شمار اور زمینی حقائق کے درمیان بہتر مطابقت ضروری ہے۔مرکزی وزیر نے پانی کے تحفظ، دریاؤں کی بحالی، زمین کے وسائل کے تحفظ اور دیہی ذریعۂ معاش سے متعلق پروگراموں کے نفاذ میں تیزی لانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکیموں کی کامیابی کا حقیقی جائزہ گاؤں اور مستفیدین کی سطح پر لیا جانا چاہیے۔
کامیابی کے چار منتر
افسران اور ملازمین کو اپنی ذمہ داریوں کے تئیں لگن کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے جناب چوہان نے کامیابی کے چار منتر بیان کیے: ’’پاؤں میں چکر، منہ میں شکر، سینے میں آگ اور ماتھے پر برف‘‘۔ان چار اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پاؤں میں چکر‘ کا مطلب مسلسل متحرک رہنا اور کام کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے ضرورت پڑنے پر موقع پر جانا ہے۔ ’منہ میں شکر‘ کا مطلب ساتھیوں اور عوام کے ساتھ خوش اخلاقی اور احترام کا رویہ اختیار کرنا اور ایک مضبوط ٹیم تشکیل دینا ہے۔ ’سینے میں آگ‘ اپنے اہداف حاصل کرنے کے جذبے اور عزم کی علامت ہے، جبکہ ’ماتھے پر برف‘ مشکل حالات میں صبر، تحمل اور توازن برقرار رکھنے کا مفہوم رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پہلی کوشش میں کامیابی نہ ملے تو مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ مسلسل محنت اور صبر بالآخر کامیابی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
شراکت داری ہی کامیابی کی کلید ہے
مرکزی وزیر جناب چوہان نے کہا کہ زراعت اور دیہی ترقی سے وابستہ تمام متعلقہ فریقوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ کسان، سائنس داں، افسران، ملازمین، غذائی اشیا کی پروسیسنگ سے وابستہ افراد، برآمد کنندگان، کسان پیداوار تنظیمیں اور خود امدادی گروپ، سب اس عمل کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی تحقیقی اداروں اور کرشی وگیان کیندروں کو کسانوں کی حقیقی ضروریات کی بنیاد پر تحقیقی اور تکنیکی حل فراہم کرنے چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کھیت سے منڈی تک پوری ویلیو چین کو مضبوط بنانے سے کسانوں کو بہتر آمدنی اور صارفین کو معیاری مصنوعات فراہم ہوں گی۔ جناب چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت تیزی سے خود کفالت اور ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس سفر میں زراعت اور دیہی ترقی کے محکموں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
شرکا نے اپنے تجربات بیان کیے
پروگرام کے دوران کسانوں، لکھ پتی دیدیوں، برآمد کنندگان اور کسان پیداوار تنظیموں کے ارکان نے اپنے تجربات بیان کیے۔ محترمہ للیتا نے لکھ پتی دیدی پہل اور خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے اپنے تجربات کے ساتھ ساتھ دیہی خواتین کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ جناب ونود کمار سینی نے زراعت اور کاشت کاری کے شعبے میں اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے پیداوار، ٹیکنالوجی اور منڈیوں سے متعلق مسائل کو اجاگر کیا۔جناب مکیش جین نے زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ اور مارکیٹنگ سے متعلق تجاویز پیش کیں، جبکہ جناب پرفل گوسوامی نے کسان پیداوار تنظیموں اور کسانوں کو منڈیوں سے جوڑنے کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کیے۔ پروگرام میں کسان، لکھ پتی دیدیاں، برآمد کنندگان، غذائی اشیا کی پروسیسنگ سے وابستہ افراد اور کسان پیداوار تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ تمام شرکا نے کسانوں کی آمدنی بڑھانے، معیاری پیداوار کو فروغ دینے اور دیہی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

سکریٹریوں نے اپنے محکموں کے لائحۂ عمل اور ترجیحات پیش کیں
چاروں محکموں کے سکریٹریوں نے بھی اپنے متعلقہ محکموں کے لائحۂ عمل اور ترجیحات پیش کیں۔ زرعی تحقیق و تعلیم کے محکمہ کے سکریٹری اور بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منگی لال جٹ نے زرعی تحقیق، نئی ٹیکنالوجی اور سائنسی اختراعات کے بارے میں گفتگو کی۔ محکمۂ زراعت و کسان بہبود کےسکریٹری جناب آتش چندرا نے زرعی پیداوار، کسانوں کی آمدنی اور معیار میں بہتری سے متعلق امور پر روشنی ڈالی۔ محکمۂ دیہی ترقی کےسکریٹری جناب روہت کنسل نے لکھ پتی دیدی پہل، دیہی ذریعۂ معاش اور خوشحال دیہات کی ترقی سے متعلق ترجیحات بیان کیں۔ محکمۂ اراضی وسائل کےسکریٹری جناب نریندر بھوشن نے زمین کے تحفظ، پانی کے انتظام اور قدرتی وسائل کے بہتر استعمال کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کیے۔
اجتماعی عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا عہد
پروگرام کے اختتام پر مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے موجود تمام افراد کو اجتماعی عہد دلایا اور ان سے اپیل کی کہ وہ یومِ آزادی کے موقع پر وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے اعلان کردہ ’شکتی کی سپت دھارا‘ کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پوری لگن، عزم اور صلاحیت کے ساتھ کام کریں۔اس عہد کے تحت شرکا نے زراعت کو مزید خوشحال بنانے، غذائی پیداوار کو مضبوط کرنے، غذائی اشیا کی پروسیسنگ کو وسعت دینے، بھارتی زرعی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے، کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور ان کی محنت کو مناسب احترام اور قدر دلانے کے لیے کام کرنے کا عزم کیا۔شرکا نے تین کروڑ لکھ پتی دیدیاں بنانے کا ہدف حاصل ہونے کے بعد اب چھ کروڑ لکھ پتی دیدیاں بنانے کے ہدف کے حصول کے لیے کام کرنے، ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دینے اور فرض کو اپنی زندگی کا بنیادی اصول بنانے کا بھی عہد کیا۔جناب چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ایک ترقی یافتہ بھارت کا خواب دیکھا ہے اور اس خواب کو عزم، صلاحیت اور کامیابی میں تبدیل کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ زراعت اور دیہی ترقی سے وابستہ تمام افراد مل کر کام کریں گے اور ایک خوشحال، بااختیار، خود کفیل اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں اپنی بھرپور شراکت دیں گے۔
*****
(ش ح-ع ح -م ش)
U.R . 2299
(रिलीज़ आईडी: 2301071)
आगंतुक पटल : 5