PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

مہر بند اور برآمد کے لیے روانہ


 ہندوستان کے تجارتی معاہدوں کا عملی نفاذ

प्रविष्टि तिथि: 18 AUG 2026 11:45AM by PIB Delhi

 ہندوستان کے آزاد تجارتی معاہدوں کا سفر اب معاہدوں کے دائرے کو وسیع کرنے سے آگے بڑھ کر ان کے ذریعے حاصل ہونے والی منڈی تک رسائی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی سمت میں گامزن ہے۔ حالیہ برآمداتی کارکردگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ آزاد تجارتی معاہدوں کے شراکت دار ممالک تجارتی اعتبار سے تیزی سے اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ ابتدائی برآمداتی فوائد، ترجیحی اصل ملک سرٹیفکیٹ کے اجرا میں اضافہ اور ان منڈیوں کو برآمد کی جانے والی اشیا کے دائرے میں وسعت اس تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ کاروباری ادارے ان معاہدوں سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانا شروع کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان کو ترجیحی فوائد تک رسائی حاصل کرنے اور نئی منڈیوں میں داخل ہونے میں مدد دینے والے اقدامات بھی اس منتقلی کو تقویت دے رہے ہیں۔

بھارت کی آزاد تجارتی معاہدوں کے تحت برآمداتی صورت حال

گزشتہ ایک دہائی کے دوران  ہندوستان  نے زیادہ پراعتماد اور مستقبل پر نظر رکھنے والی تجارتی حکمت عملی اپنائی ہے اور اپنے آزاد تجارتی معاہدوں کے نیٹ ورک کو وسعت دی ہے۔ ہر معاہدہ  ہندوستانی منڈی کے حجم، ملک کی معاشی صلاحیت اور اس کے 1.4 ارب عوام کی صلاحیتوں پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

حالیہ تجارتی معاہدوں میں دنیا کی بڑی منڈیاں شامل ہیں، جن سے تجارتی شراکت داری کا دائرہ وسیع ہوا ہے اور برآمد کنندگان کے لیے مختلف النوع مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004UEDO.jpg

نئے تجارتی روابط کے قیام کے ساتھ ساتھ  ہندوستان  اب ان معاہدوں کے مؤثر استعمال پر بھی توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ اس کا مقصد منڈی تک رسائی کو زیادہ سے زیادہ برآمد کنندگان کی شرکت، سرمایہ کاری اور روزگار میں تبدیل کرنا ہے، جبکہ ملکی ترجیحات کا بھی تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔ یہ متوازن حکمت عملی 2047 تک وکست بھارت کے سفر میں آزاد تجارتی معاہدوں کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اختیار کی گئی ہے۔

آزاد تجارتی معاہدوں سے منسلک منڈیوں میں برآمدی کارکردگی

 ہندوستان  کا بڑھتا ہوا تجارتی معاہدوں کا نیٹ ورک برآمد کنندگان کو متعدد منڈیوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس توسیع کو ملک کی بڑھتی ہوئی برآمداتی بنیاد سے بھی تقویت مل رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات ریکارڈ 863.1 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جن میں اشیا کی برآمدات 441.8 ارب امریکی ڈالر رہیں۔ یہ رفتار مالی سال 2026-27 میں بھی برقرار ہے۔

  • اپریل تا جون 2026 کے دوران مجموعی برآمدات کا تخمینہ 232.73 ارب امریکی ڈالر لگایا گیاتھا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 11.37 فیصد زیادہ ہے۔

مجموعی برآمداتی کارکردگی میں  ہندوستان  کے آزاد تجارتی معاہدوں کے شراکت دار ممالک اشیا کی برآمدات کے لیے اہم منڈیوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جدول 1: مالی سال 2025-26 میں آزاد تجارتی معاہدوں کے شراکت دار ممالک کو  ہندوستان  کی اشیا کی برآمدات

آزاد تجارتی معاہدے کی منڈی

برآمدات (ملین امریکی ڈالر)

آزاد تجارتی معاہدوں کے گروپ

آسیان

38,416.33

سافٹا

25,774.68

ایف ٹی اے ممالک

یو اے ای

37,359.11

برطانیہ

13,444.19

سنگاپور

11,863.66

نیپال

7,447.11

آسٹریلیا

7,284.17

ملیشیا

6,825.55

جاپان

6,039.50

جمہوریہ کوریا

6,012.03

سری لنکا

5,516.83

تھائی لینڈ

5,058.60

عمان

4,021.48

بھوٹان

1,252.86

نیوزی لینڈ*

566.51

ماریشس

473.64

ماخذ: وزارت تجارت اور صنعت

* دستخط شدہ، ابھی تک موثر ہونا باقی ہے۔

 
       

ان منڈیوں میں متحدہ عرب امارات اور آسٹریلیا  ہندوستان  کے حالیہ تجارتی معاہدوں کے تحت ہونے والی ابتدائی پیش رفت کی عمدہ مثال ہیں۔

ہندوستان کے نئی نسل کے آزاد تجارتی معاہدے: ابتدائی کامیابی کی مثالیں

 ہندوستان-متحدہ عرب امارات جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ: تجارت میں ابتدائی فوائد کا حصول

 ہندوستان -متحدہ عرب امارات جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ یکم مئی 2022 کو نافذ ہوا۔ یہ ایک دہائی میں  ہندوستان  کا پہلا جامع آزاد تجارتی معاہدہ تھا، جس کے لیے مذاکرات ریکارڈ 88 دن میں مکمل کیے گئے۔

سب سے بڑی انفرادی آزاد تجارتی معاہدے کی برآمداتی منڈی: مالی سال 2025-26 میں  ہندوستان نے متحدہ عرب امارات کو 37,359.11 ملین امریکی ڈالر مالیت کی اشیا برآمد کیں۔  ہندوستان کے تجارتی معاہدوں میں متحدہ عرب امارات  ہندوستان کی سب سے بڑی برآمداتی منزل رہا۔

دوطرفہ تجارت 100 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز: مالی سال 2024-25 میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 100.06 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو 19.6 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ سنگ میل معاہدے کے نفاذ کے صرف تین سال کے اندر حاصل کیا گیا۔

کامیابی سے وسیع تر شراکت داری کو فروغ: دوطرفہ تجارت میں کامیابی کے بعد  ہندوستان اور متحدہ عرب امارات نے 2032 تک تجارت کو دوگنا کرکے 200 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا نیا ہدف مقرر کیا۔

 ہندوستان -آسٹریلیا اقتصادی تعاون اور تجارتی معاہدہ: کامیاب تجارتی شراکت داری میں توسیع

 ہندوستان -آسٹریلیا اقتصادی تعاون اور تجارتی معاہدہ 29 دسمبر 2022 کو نافذ ہوا۔ یہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں کسی ترقی یافتہ معیشت کے ساتھ  ہندوستان کا پہلا تجارتی معاہدہ ہے۔

مضبوط برآمداتی کارکردگی: مالی سال 2024-25 میں دونوں ممالک کے درمیان مجموعی دوطرفہ تجارت 24.1 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ آسٹریلیا کو  ہندوستان کی برآمدات مالی سال 2020-21 میں 4 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 7.28 ارب امریکی ڈالر ہو گئیں، جو 80 فیصد سے زیادہ اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔

مکمل ڈیوٹی فری منڈی تک رسائی: آسٹریلیا نے اپنی 98.3 فیصد محصولات کی مدات پر فوری طور پر صفر ڈیوٹی کے تحت رسائی فراہم کی۔ 2026 سے  ہندوستان کی تمام برآمدات اب آسٹریلوی منڈی میں صفر ڈیوٹی کے تحت رسائی کی اہل ہیں۔

نئے اقدامات کے ذریعے کامیابی کو آگے بڑھانا: اقتصادی تعاون اور تجارتی معاہدہ زیادہ وسیع اور پرامید جامع اقتصادی تعاون معاہدے کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جس پر اس وقت مذاکرات جاری ہیں۔ اس کا مقصد اشیا، خدمات، نقل و حرکت، ڈجیٹل تجارت، اصل ملک کے قواعد اور تعاون کے ابھرتے ہوئے شعبوں کو شامل کرنا ہے۔

ابتدائی فوائد محصولات میں رعایت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور برآمد کی جانے والی اشیا کے وسیع تر دائرے سے بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کاروباری ادارے ان معاہدوں سے پیدا ہونے والے مواقع سے تیزی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

حالیہ آزاد تجارتی معاہدوں کے تحت برآمدات میں سہولت اور مصنوعات میں تنوع

برآمد کنندگان کو آزاد تجارتی معاہدوں کے فوائد تک رسائی میں سہولت

تجارتی معاہدہ ترجیحی بنیادوں پر منڈی تک رسائی فراہم کرتا ہے، جبکہ اس سے عملی فائدہ اٹھانے کا انحصار برآمد کنندگان کی جانب سے دستیاب مراعات سے فائدہ اٹھانے پر ہوتا ہے۔ آزاد تجارتی معاہدے کے تحت برآمد کنندگان کو عموماً اپنی اشیا کے اصل ملک کا ثبوت فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ معاہدے کے تحت دستیاب ترجیحی محصولاتی سہولت کے اہل ہیں۔

ترجیحی اصل ملک سرٹیفکیٹ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اشیا مقررہ اصول اصل ملک پر پوری اترتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں اہل اشیا پر کم یا صفر کسٹم ڈیوٹی عائد ہوتی ہے۔

مختلف معاہدوں میں ان کے نفاذ کے مختلف مراحل کے مطابق ترجیحی منڈی تک رسائی سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

  • متحدہ عرب امارات جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ اور آسٹریلیا اقتصادی تعاون و تجارتی معاہدہ جو 2022 سے نافذ العمل ہیں، کے تحت بڑی تعداد میں اصل ملک کے سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں، جو محصولاتی رعایتوں کے بھرپور استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
  • نئے معاہدوں کے تحت بھی ابتدائی طور پر اچھی پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ یوروپی آزاد تجارتی انجمن کے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے کے اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے کے بعد 7,885 اصل ملک کے سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے۔ عمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے کے جون 2026 میں نفاذ کے بعد 783 اصل ملک کے سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔

ترجیحی اصل ملک کے سرٹیفکیٹ کے اجرا میں اضافے کو حکومت کے ان اقدامات سے تقویت مل رہی ہے جن کے ذریعے برآمد کنندگان کے لیے طریق کار کو آسان بنایا گیا ہے۔

  1. ای-اصل ملک سرٹیفکیٹ 2.0: یہ نظام ترجیحی اور غیر ترجیحی اصل ملک کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مکمل ڈجیٹل نظام فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے برآمد کنندگان، جاری کرنے والے اداروں اور ایوان ہائے تجارت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لایا گیا ہے۔ آدھار پر مبنی برقی دستخط اور کیو آر کوڈ کے ذریعے تصدیق محفوظ توثیق اور تیز تر خدمات کی فراہمی میں معاون ہیں۔
  2. آزاد تجارتی معاہدوں کے تحت آسان بنائے گئے قواعد: نئے معاہدوں کے تحت دستاویزات سے متعلق تقاضوں کو بھی آسان بنایا گیا ہے۔
  •  ہندوستان -یوروپی آزاد تجارتی انجمن تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدہ اور  ہندوستان-برطانیہ جامع اقتصادی تجارتی معاہدہ برآمد کنندگان کو خود اقراری کے ذریعے اصل ملک ثابت کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
  • برطانیہ کے ساتھ معاہدہ درآمد کنندہ کے علم کو بھی تسلیم کرتا ہے اور 1,000 پاؤنڈ سے کم مالیت کی کھیپ کے لیے اصل ملک سے متعلق دستاویزات کی شرط ختم کرتا ہے۔ ان دفعات سے برقی تجارت کے ذریعے بھیجی جانے والی کھیپوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کو سہولت ملتی ہے۔
  •  ہندوستا ن-آسٹریلیا اقتصادی تعاون و تجارتی معاہدہ متعدد اہل مصنوعات کو ایک ہی اصل ملک کے سرٹیفکیٹ میں شامل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005NNX8.jpg

  1. ٹریڈ کنیکٹ کے ذریعہ معاونت: یہ پلیٹ فارم مذکورہ اقدامات کو مزید مؤثر بناتے ہوئے برآمد کنندگان کو آزاد تجارتی معاہدوں کے فوائد کی نشاندہی کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کا ٹیرف ایکسپلورر مختلف منڈیوں میں محصولات کے نظام الاوقات تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ برآمد کنندگان، بشمول چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے، تجارتی معلومات حاصل کر سکتے ہیں، رہنمائی طلب کر سکتے ہیں اور اصل ملک کے سرٹیفکیٹ سے متعلق مسائل اٹھا سکتے ہیں، جس سے برآمداتی طریق کار کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں درکار محنت کم ہوتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006FZAB.png

آزاد تجارتی معاہدوں کی منڈیوں تک مختلف النوع مصنوعات کی وسیع تر رسائی

آزاد تجارتی معاہدے کی وسعت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ شراکت دار ممالک کی منڈیوں میں کتنی مختلف اقسام کی مصنوعات پہنچ رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں ہندوستان کے متعدد تجارتی معاہدوں کے تحت مصنوعات کی سطح پر یہ توسیع نمایاں طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

جدول 2: حالیہ آزاد تجارتی معاہدوں کے تحت برآمد کی جانے والی محصولاتی مدات میں توسیع

بازار

ابتدائی ٹیرف لائن کوریج

تازہ ترین ٹیرف لائن کوریج (2025-26)

اضافہ

یو اے ای

7,546 (2021-22)

8,053

6.7فیصد

آسٹریلیا

5,396 (2020-21)

5,668

5.0فیصد

ماریشس

3,593 (2021-22)

4,345

20.9فیصد

عمان

2,879

(مئی2026)

3,371

(جون2026)

17.08فیصد

 

آزاد تجارتی معاہدوں کے ذریعے  ہندوستانی اشیا اور ہنرمند افراد کو عالمی منڈیوں سے جوڑنا

اشیائے تجارت کے لیے منڈی تک وسیع تر رسائی

حالیہ آزاد تجارتی معاہدے شراکت دار ممالک کی محصولات کی مدات کے ایک بڑے حصے تک ترجیحی رسائی فراہم کرتے ہیں۔

  1. پہلے سے نافذ معاہدے
  • ہندوستان -برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ:  ہندوستانی برآمدات کا تقریباً 99 فیصد برطانیہ میں بغیر کسٹم ڈیوٹی کے داخل ہو سکتا ہے۔
  •  ہندوستان -عمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ: رعایتیں عمان کی 98 فیصد محصولاتی مدات پر لاگو ہوتی ہیں۔
  •  ہندوستان-یوروپی آزاد تجارتی انجمن تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدہ: 92.2 فیصد محصولاتی مدات، جو  ہندوستان کی 99.6 فیصد برآمدات کی نمائندگی کرتی ہیں۔
  •  ہندوستان-ماریشس جامع اقتصادی تعاون و شراکت داری معاہدہ: ترجیحی منڈی تک رسائی  ہندوستان کی 310 مصنوعات کی مدات کے لیے دستیاب ہے۔
  •  ہندوستان-متحدہ عرب امارات جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ: متحدہ عرب امارات کی 97 فیصد محصولاتی مدات، جو  ہندوستان کی 99 فیصد برآمدات کا احاطہ کرتی ہیں۔
  •  ہندوستان-آسٹریلیا اقتصادی تعاون و تجارتی معاہدہ:  ہندوستانی برآمدات کے لیے آسٹریلیا کی 100 فیصد محصولاتی مدات پر ڈیوٹی فری رسائی دستیاب ہے۔
  1. نفاذ کے منتظر معاہدے
  •  ہندوستان-یوروپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ: یوروپی یونین کی 97 فیصد محصولاتی مدات پر ترجیحی سہولت، جو دوطرفہ تجارت کی تقریباً 99.5 فیصد مالیت کا احاطہ کرتی ہے۔
  •  ہندوستان-نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ: معاہدے کے نافذ ہوتے ہی  ہندوستان کی 100 فیصد برآمدات کے لیے ڈیوٹی فری رسائی دستیاب ہوگی۔

یہ معاہدے محنت پر مبنی کئی شعبوں میں منڈی تک رسائی کو وسیع کرتے ہیں۔ ان میں ٹیکسٹائل، زراعت اور تیار شدہ غذائی اشیا، چمڑا اور جوتے، سمندری مصنوعات، جواہرات اور زیورات، قالین اور دست کاری کی مصنوعات شامل ہیں۔ ان شعبوں میں وسیع تر مواقع چھوٹے پیدا کنندگان اور مقامی کاروباری اداروں کو بین الاقوامی تجارت میں زیادہ فعال طور پر حصہ لینے کے قابل بناتے ہیں۔

مزید برآں، مرحلہ وار محصولاتی رعایت اور عبوری انتظامات کسانوں اور ملکی معیشت کے حساس شعبوں کے تحفظ کے لیے حکومتی پالیسی کی گنجائش برقرار رکھتے ہیں۔

 ہندوستانی خدمات کے لیے نئے مواقع

اشیا کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے حالیہ آزاد تجارتی معاہدوں نے خدمات فراہم کرنے والوں اور پیشہ ور افراد کے لیے بھی مواقع میں اضافہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ روزگار، برآمدات اور مجموعی معاشی سرگرمیوں میں خدمات کے شعبہ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔

 ہندوستان کے تقریباً 30 فیصد روزگار کا تعلق خدمات کے شعبے سے ہے۔ مزید برآں، مالی سال 2025-26 میں خدمات کی برآمدات 421.3 ارب امریکی ڈالر رہیں۔ شعبے کے وسیع حجم کے پیش نظر یہ ہندوستان کے آزاد تجارتی معاہدوں کا ایک اہم حصہ ہے۔

منڈی تک رسائی، پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت اور متعلقہ معاون اقدامات سے متعلق اہم وعدوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

  •  ہندوستانی پیشہ ور افراد کے لیے  ہندوستان-نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ 5,000 تک ہنرمند  ہندوستانی شہریوں کے لیے تین سال تک قیام کا ایک خصوصی راستہ فراہم کرتا ہے۔ ان شعبوں میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، صحت، تعلیم، تعمیرات، آیوش، یوگا، فنون طبخ اور موسیقی شامل ہیں۔ دیگر اہم دفعات میں 118 خدماتی شعبوں میں وعدے اور 139 شعبوں میں انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ شامل ہے۔

مزید تفصیلی معلومات کے لیے: بھارت-نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط

انتہائی پسندیدہ ملک(ایم ایف این) کا درجہ کیا ہے؟

انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ عدم امتیاز کا ایک اصول ہے، جس کے تحت کسی ملک کے تمام تجارتی شراکت داروں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔

انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ کیا ہے؟

انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ عدم امتیاز کا ایک اصول ہے، جس کے تحت کسی ملک کے تمام تجارتی شراکت داروں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔

 ہندوستان-یوروپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کے تحت 144 خدماتی ذیلی شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جن میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی سے متعلق خدمات، پیشہ ورانہ خدمات، کاروباری خدمات، تعلیمی خدمات، مالی خدمات، سیاحتی خدمات اور تعمیراتی خدمات شامل ہیں۔ دیگر دفعات میں کاروباری زائرین اور ایک ہی کمپنی کے اندر منتقل ہونے والے ملازمین کی نقل و حرکت میں سہولت، زیرکفالت افراد کے داخلے اور کام کرنے کے حقوق شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی تحفظ کے معاہدوں، طلبہ کی نقل و حرکت اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کے مواقع کے لیے پانچ سالہ فریم ورک بھی فراہم کیا گیا ہے۔

مزید تفصیلی معلومات کے لیے: بھارت-یوروپی یونین شراکت داری: یوروپی یونین کے ساتھ  ہندوستان کے بڑھتے ہوئے روابط

  •  ہندوستان-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے کے تحت نقل و حرکت سے متعلق دفعات میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی، صحت، مالیات اور تعلیم کے شعبوں سے وابستہ پیشہ ور افراد شامل ہیں۔ ان دفعات کے ذریعے کاروباری زائرین، ایک ہی کمپنی کے اندر منتقل ہونے والے ملازمین، معاہداتی خدمات فراہم کرنے والوں اور آزاد پیشہ ور افراد کے لیے داخلے کے عمل کو آسان بنایا گیا ہے۔ متعلقہ دوہری شراکت کی ادائیگی سے متعلق معاہدہ بھی دوہری سماجی تحفظ کی ادائیگیوں کو روکتا ہے، جس سے اندازاً 4,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت متوقع ہے۔

مزید تفصیلی معلومات کے لیے:  ہندوستان-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ نافذ العمل

  • ہندوستان-یوروپی آزاد تجارتی انجمن تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے کے تحت ہندوستانی خدمات فراہم کرنے والوں کو سوئٹزرلینڈ میں 128، ناروے میں 114، آئس لینڈ میں 110 اور لیختن اسٹائن میں 107 ذیلی شعبوں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔ ان مواقع میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور کاروباری خدمات، پیشہ ورانہ خدمات، تعلیمی خدمات، ذرائع ابلاغ اور ثقافتی خدمات شامل ہیں۔ معاہدے میں نرسنگ، چارٹرڈ اکاؤنٹنسی اور فن تعمیر کے شعبوں میں باہمی تسلیمِ اسناد کے معاہدے بھی شامل ہیں۔

مزید تفصیلی معلومات کے لیے: ہندوستان-یوروپی آزاد تجارتی انجمن تجارتی معاہدہ: 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 10 لاکھ ملازمتوں کو فروغ

  •  ہندوستان-عمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ ایک ہی کمپنی کے اندر منتقل ہونے والے ملازمین، معاہداتی خدمات فراہم کرنے والوں، کاروباری زائرین اور آزاد پیشہ ور افراد کے عارضی داخلے اور قیام کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

مزید تفصیلی معلومات کے لیے:  ہندوستان-عمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ

  •  ہندوستان-آسٹریلیا اقتصادی تعاون و تجارتی معاہدے کے تحت آسٹریلیا نے تقریباً 135 خدماتی ذیلی شعبوں میں وعدے کیے ہیں۔ 120 ذیلی شعبوں میں انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ بھی دیا گیا ہے، جن میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی، کاروباری خدمات، صحت، تعلیم اور سمعی و بصری خدمات شامل ہیں۔
  •  ہندوستان-متحدہ عرب امارات جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے کے تحت بھارتی خدمات فراہم کرنے والوں کو 11 وسیع شعبوں کے تقریباً 111 ذیلی شعبوں تک رسائی حاصل ہے۔ ان میں کاروباری، مواصلاتی، تعمیراتی، تعلیمی، مالی، صحت، سیاحتی، نقل و حمل، ماحولیاتی اور ثقافتی خدمات شامل ہیں۔
  •  ہندوستان-ماریشس جامع اقتصادی تعاون و شراکت داری معاہدہ 11 وسیع شعبوں کے تقریباً 115 ذیلی شعبوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ ان میں پیشہ ورانہ، کمپیوٹر، ٹیلی مواصلات، مالی، تعلیمی، سیاحتی، نقل و حمل، سمعی و بصری اور یوگا خدمات شامل ہیں۔

 ہندوستان  کے آزاد تجارتی معاہدوں کے سفر کو آگے بڑھانا

 ہندوستان  کے حالیہ آزاد تجارتی معاہدے اب نفاذ کے ایک مزید گہرے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ جیسے جیسے کاروباری ادارے ان معاہدوں کے تحت حاصل شدہ منڈی تک رسائی سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے، ان کے اثرات بھی وسیع ہوں گے۔ اس سے برآمداتی سرگرمیوں میں زیادہ کاروباری اداروں کی شرکت بڑھے گی، تجارت میں تنوع آئے گا اور شراکت دار ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

حالیہ معاہدوں کے نفاذ کے مزید گہرے مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ ساتھ بھارت اپنے مستقبل کے تجارتی ایجنڈے کو بھی وسعت دے رہا ہے۔ تقریباً دس تجارتی معاہدوں پر بات چیت جاری ہے، جن میں یوریشیائی اقتصادی یونین، پیرو، چلی، اسرائیل، کینیڈا اور مالدیپ کے ساتھ نئی بات چیت شامل ہے۔ اس کے علاوہ  ہندوستان-کوریا جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے اور  ہندوستان-سری لنکا اقتصادی و تکنیکی تعاون معاہدے جیسے موجودہ معاہدوں کو بھی مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔

اس وسیع ہوتے ہوئے تجارتی نیٹ ورک کا بنیادی مقصد ایک بڑے عزم میں پوشیدہ ہے:  ہندوستانی عوام کی صلاحیتوں، کاروباری جذبے اور امنگوں کو دنیا بھر کی مزید منڈیوں تک پہنچانا۔

References:

Prime Minister's Office (PMO):

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2216270&lang=1&reg=3

Ministry of Commerce & Industry:

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2290437

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2284139&lang=2&reg=48

https://www.commerce.gov.in/files/2026-04/Annual_0.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1810279&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2195127&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1812730&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2248223&lang=1&reg=3

https://www.trade.gov.in/pages/certificate-of-origin

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2149736&reg=48&lang=2

https://content.dgft.gov.in/Website/HBP_07_2026_Chapter_02.pdf

https://www.trade.gov.in/pages/about-trade-connect-eplatform

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2267513&reg=48&lang=2

https://www.commerce.gov.in/files/2026-04/final_1.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2288851&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2236134&lang=1&reg=3

https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/188/AU1405_0GOh6X.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1821785&reg=48&lang=2

World Customs Organization:

https://www.wcoomd.org/en/topics/origin/overview/faq-origin.aspx#Q6

World Trade Organisation:

https://www.wto.org/english/thewto_e/whatis_e/tif_e/agrm6_e.htm

Department of Foreign Affairs & Trade (Australian Government):

https://www.dfat.gov.au/trade/agreements/in-force/australia-india-ecta/australia-india-ecta-official-text/chapter-4-rules-origin

https://www.dfat.gov.au/trade/agreements/in-force/australia-india-ecta/outcomes/australia-india-ecta-benefits-australia-overview

PIB Archives:

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=154945&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2177724&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2240065&lang=1&reg=3

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2233417&reg=3&lang=1

Click to see pdf.pdf

*******

(ش ح۔ظ ا۔م ذ)

U.R .2274

 


(रिलीज़ आईडी: 2300954) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati