کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم-پرنام ملک بھر میں کھادوں کے متوازن استعمال، نامیاتی اور قدرتی کاشت کاری کو فروغ دیتا ہے


پی ایم-پرنام اسکیم کے تحت2025-26 میں5 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے کیمیائی کھادوں کی کھپت میں کمی کی۔

حکومت نے مٹی کی صحت بہتر بنانے کیلئے نامیاتی کاشت کاری، قدرتی کاشت کاری اور غذائی اجزا کے درست انتظام کو فروغ دیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 AUG 2026 4:04PM by PIB Delhi

مرکزی حکومت دھرتی ماتا کی بحالی، آگاہی پیدا کرنے، پرورش اور بہتری کے لئے پی ایم پروگرام (پی ایم-پرنام) کے ذریعے کھادوں کے متوازن اور پائیدار استعمال کو فروغ دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مٹی کی صحت بہتر بنانے، کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کرنے اور ماحول دوست و پائیدار زراعت کو فروغ دینے کے لئے نامیاتی کاشت کاری، قدرتی کاشت کاری اور غذائی اجزا کے درست اور مؤثر انتظام کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔

اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے) نے 28 جون 2023 کو 2024-2023 سے 2026-2025 تک کی مدت کے لیے پی ایم-پرنام اسکیم کی منظوری دی تھی۔ یہ اسکیم ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے کھادوں کے متوازن استعمال، متبادل کھادوں کو اپنانے، نامیاتی کاشت کاری کو فروغ دینے اور وسائل کے تحفظ کی ٹیکنالوجیز کے نفاذ کے لیے شروع کی گئی عوامی تحریک کی حمایت کرتی ہے۔ یہ اسکیم تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ ہے اور گزشتہ تین مالی برسوں کی اوسط کھپت کے مقابلے میں کیمیائی کھادوں، یعنی یوریا، ڈی اے پی، این پی کے اور ایم او پی، کی کھپت میں کمی لانے پر مراعات فراہم کرتی ہے۔ مراعات کی رقم کھادوں پر دی جانے والی سبسڈی میں ہونے والی بچت کے 50 فیصد کے برابر ہے۔ اس میں سے 95 فیصد رقم متعلقہ ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے مختص کی جاتی ہے، جبکہ 5 فیصد رقم مرکزی حکومت کے پاس رہتی ہے۔ ریاست کے حصے میں سے 65 فیصد رقم سرمایہ جاتی اخراجات کے منصوبوں کے لیے استعمال کی جانی ہے، بالخصوص مرکز کے زیر اہتمام اسکیموں کے تحت، جبکہ باقی 30 فیصد رقم معلومات، تعلیم اور مواصلات (آئی ای سی) سے متعلق اقدامات سمیت دیگر سرگرمیوں کے لیے دستیاب ہے۔

2025-26 کے دوران دادرا اور نگر حویلی، دہلی، گوا، منی پور اور میزورم سمیت 5 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کیمیائی کھادوں (یوریا، ڈی اے پی، این پی کے اور ایم او پی) کی کھپت میں گزشتہ تین مالی برسوں کی اوسط کھپت کے مقابلے میں مجموعی طور پر 0.18 لاکھ میٹرک ٹن کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ حکومت نے بتایا ہے کہ اس اسکیم کے تحت مراعات کی رقم ابھی تک تقسیم نہیں کی گئی ہے۔

حکومت نے کسانوں کو غذائی اجزا کے مؤثر اور متوازن استعمال کے لیے جدید اور درست زرعی تکنیکوں کی تربیت دینے اور محکمہ زراعت و کسان بہبود کی مختلف اسکیموں کے ذریعے معیاری نامیاتی کھاد کی بڑے پیمانے پر پیداوار کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ تفصیلات درج ذیل ہیں:

نامیاتی کاشت کاری (پی کے وی وائی اور ایم او وی سی ڈی این ای آر)

ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی) اور شمال مشرقی ریاستوں کے لیے ‘‘مشن آرگینک ویلیو چین ڈیولپمنٹ فار نارتھ ایسٹرن ریجن’’ (ایم او وی سی ڈی این ای آر) کے ذریعے 2016-2015 سے نامیاتی کاشت کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ دونوں اسکیموں میں نامیاتی کاشت کاری سے وابستہ کسانوں کو پیداوار سے لے کر پروسیسنگ، تصدیق اور مارکیٹنگ تک مکمل معاونت فراہم کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ ان اسکیموں کا بنیادی مقصد سپلائی چین تشکیل دینے کے لیے چھوٹے اور معمولی کسانوں کو ترجیح دیتے ہوئے نامیاتی کاشت کاری کے کلسٹرز قائم کرنا ہے۔ دونوں اسکیمیں ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے ذریعے نافذ کی جاتی ہیں۔

پی کے وی وائی کے تحت نامیاتی کاشت کاری کو فروغ دینے کے لیے تین سال کے دوران 31,500 روپے فی ہیکٹر کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں سے 15,000 روپے فی ہیکٹر کی رقم کسانوں کو کھیت کے اندر اور کھیت سے باہر نامیاتی اجزا کی خریداری کے لیے براہِ راست فائدہ منتقلی کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔

ایم او وی سی ڈی این ای آر کے تحت کسان پروڈیوسر تنظیموں کے قیام، کسانوں کو نامیاتی اجزا کی فراہمی اور دیگر سرگرمیوں کے لیے تین سال کے دوران 46,500 روپے فی ہیکٹر کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں سے 15,000 روپے فی ہیکٹر کی امداد کسانوں کو براہِ راست فراہم کی جاتی ہے، جبکہ 32,500 روپے فی ہیکٹر کی رقم کھیتی سے متعلق اور کھیتی سے باہر استعمال ہونے والے نامیاتی اجزا کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔ اس رقم میں کسانوں کو براہِ راست فائدہ منتقلی کے طور پر دی جانے والی 15,000 روپے کی رقم بھی شامل ہے۔

پی کے وی وائی اسکیم کے تحت اس کے آغاز سے 30 جون 2026 تک 18.93 لاکھ ہیکٹر رقبے کو نامیاتی کاشت کاری کے تحت لایا گیا ہے۔ اس سے 33.63 لاکھ کسان مستفید ہوئے ہیں اور مجموعی طور پر 2,811.36 کروڑ روپے (مرکزی حصہ) جاری کیے گئے ہیں۔

ایم او وی سی ڈی این ای آر اسکیم کے تحت اس کے آغاز سے 30 جون 2026 تک 2.36 لاکھ ہیکٹر رقبے کو نامیاتی کاشت کاری کے تحت لایا گیا ہے۔ اس سے 2 لاکھ 74 ہزار کسان مستفید ہوئے ہیں اور مجموعی طور پر 1,548.62 کروڑ روپے (مرکزی حصہ) جاری کیے گئے ہیں۔

قومی مشن برائے قدرتی کاشت کاری (این ایم این ایف)

حکومت 25 نومبر 2024 کو شروع کیے گئے قومی مشن برائے قدرتی کاشت کاری (این ایم این ایف) کو بھی نافذ کر رہی ہے۔ اس کا مقصد مویشی پروری، متنوع فصلوں کے نظام اور روایتی بھارتی زرعی علم کے ساتھ مربوط کیمیائی اجزا سے پاک کاشت کاری کو فروغ دینا ہے۔ اس مشن کا مجموعی مالیاتی حجم 2,481 کروڑ روپے ہے، جس میں مرکزی حکومت کا حصہ 1,584 کروڑ روپے اور ریاستی حکومتوں کا حصہ 897 کروڑ روپے ہے۔ یہ مشن 15ویں مالیاتی کمیشن کی مدت یعنی مارچ 2026 تک نافذ رہے گا۔ قدرتی کاشت کاری اپنانے والے کسان فی ایکڑ فی سال 4,000 روپے کی پیداوار پر مبنی ترغیبی رقم کے اہل ہیں۔ یہ ترغیب دو سال تک دی جائے گی اور فی کسان زیادہ سے زیادہ ایک ایکڑ رقبے تک محدود ہے۔

مالی سال 2026-2025 کے دوران اس مشن کے تحت 10.32 لاکھ ہیکٹر رقبے پر محیط 18,893 کلسٹرز قائم کیے گئے۔ ان میں 20.93 لاکھ کسان شامل تھے۔ زمینی سطح پر عمل درآمد میں معاونت کے لیے 33,257 کرشی سَکھیوں/برادری وسائل سے وابستہ افراد (سی آر پی) کو تربیت دی گئی اور 7,601 حیاتیاتی اجزا کے وسائل مراکز (بی آر سی) قائم کیے گئے۔ اس کے علاوہ 33.89 لاکھ کسانوں کو قدرتی کاشت کاری کے بارے میں بیدار کیا گیا، 18.13 لاکھ مٹی کے نمونے جمع کیے گئے اور مالی سال 2026-2025 کے دوران 725 کروڑ روپے کے بجٹ مختص کیے جانے کے مقابلے میں 599.68 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ قدرتی کاشت کاری سرٹیفکیشن نظام (این ایف سی ایس) کے تحت 22.47 لاکھ سے زیادہ کسانوں کا اندراج کیا جا چکا ہے، جن میں سے 14.43 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔

غذائی اجزا کے درست اور مؤثر انتظام کو فروغ دینے کے لیے بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) نے 14 زرعی ماحولیاتی خطوں میں 50 فصلوں کے لیے ڈرِپ فرٹیگیشن پروگرام تیار کیے ہیں۔ ان پروگراموں کو زرعی سائنس مراکز (کے وی کے)، زمینی سطح پر عملی مظاہروں، کھیتوں میں مظاہروں اور کسانوں کے تربیتی پروگراموں کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے۔ آئی سی اے آر نے فارم یارڈ مینِیور (ایف وائی ایم)، فاسفو کمپوسٹ، ورمی کمپوسٹ، حیاتیاتی طور پر افزودہ کمپوسٹ، بلدیاتی ٹھوس فضلے سے تیار کردہ کمپوسٹ اور افزودہ خمیر شدہ نامیاتی کھادوں کے استعمال کو بھی معیاری بنایا اور فروغ دیا ہے۔ یہ کام عملی مظاہروں، عوامی بیداری مہمات، تربیتی پروگراموں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے تشہیر کے ذریعہ انجام دیا جا رہا ہے۔

کیمیکل و کھاد کی وزارت میں وزیر مملکت محترمہ انوپریا پٹیل نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کیں۔

***

ش ح۔ ک ا۔ م ش

U.NO.2264


(ریلیز آئی ڈی: 2300780) وزیٹر کاؤنٹر : 19
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati