سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پارلیمانی سوال: ملک میں اختراع کے مضبوط ماحولیاتی نظام کی تشکیل
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 AUG 2026 3:47PM by PIB Delhi
حکومت نے ملک بھر میں اختراعی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے تحقیق و ترقی، اختراع، انکیوبیشن، پروٹوٹائپ کی تیاری، دانشورانہ ملکیت کی تخلیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی، کاروباری صلاحیتوں کے فروغ اور اسٹارٹ اپس کی ترقی کی حمایت کے ذریعے مختلف پالیسی، ادارہ جاتی اور مالی اقدامات کیے ہیں۔
ملک میں تحقیق و ترقی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) قائم کیا گیاہے۔ اس کا مقصد تحقیق میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانا اور قومی ترجیحات کے مطابق بین شعبہ جاتی تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ اے این آر ایف قدرتی اور ریاضی علوم، انجینئرنگ و ٹیکنالوجی، ارضی علوم، صحت، زراعت اور انسانی و سماجی علوم کے سائنسی و تکنیکی باہمی ربط کے شعبوں میں تحقیق، اختراع اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے اعلیٰ سطح کی تزویراتی سمت فراہم کرتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ملک بھر کی یونیورسٹیوں، کالجوں، تحقیقی اداروں اور تحقیق و ترقی کی تجربہ گاہوں میں تحقیق و ترقی کو فروغ دینا، اسے وسعت دینا اور اختراع کے کلچر کو پروان چڑھانا ہے۔ اے این آر ایف کی دیگر اہم پہلوں میں برقی گاڑیوں، جدید مواد، طبی ٹیکنالوجی، سائنس و انجینئرنگ کے لیے مصنوعی ذہانت، اہم خام مال، ڈرونز، پانی اور سماجی اختراعات جیسے بلند اثر رکھنے والے شعبوں میں ترقی کے لیے مشن ‘‘مہا’’ پروگرام شامل ہیں۔ یونیورسٹیوں میں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کو فروغ دینے کے لیے مرکز و ذیلی مراکز پر مشتمل نیٹ ورک، فیلوشپس، مراکزِ فضیلت وغیرہ کے ذریعے تحقیق اور اختراع کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے تیز رفتار اختراع و تحقیق کے لیے شراکت داری یعنی‘‘پئیر’’ پروگرام بھی نافذ کیا گیا ہے۔
حکومت نے ابھرتے ہوئے اور تزویراتی شعبوں میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے چھ سال کے عرصے میں ایک لاکھ کروڑ روپے کے فنڈ کے ساتھ تحقیق، ترقی اور اختراع فنڈ بھی قائم کیا ہے۔ تحقیق، ترقی اور اختراع یعنی آر ڈی آئی اسکیم کے تحت توانائی کا تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، ڈیپ-ٹیک، کوانٹم ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل زراعت، ڈیجیٹل معیشت وغیرہ جیسے کئی تزویراتی اہمیت کے حامل ٹیکنالوجی شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
خیالات کی تخلیق، تحقیق اور پروٹوٹائپ کی تیاری سے لے کر تجارتی سطح پر فروغ اور توسیع تک اختراع کے مکمل دورِ حیات کی معاونت کے لئے حکومت نے کئی اہم اقدامات شروع کیے ہیں۔ ان میں محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کی قومی اختراعی ترقی و فروغ کی پہل (این آئی ڈی ایچ آئی)، محکمہ صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کی اسٹارٹ اپ انڈیا پہل، نیتی آیوگ کا اٹل اختراعی مشن، محکمہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی کی بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل کے پروگرام، اور وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ٹیکنالوجی کے حصول و کاروباری ترقی اور متعلقہ پہلیں شامل ہیں۔
محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کی ‘‘وگیان دھارا’’ اسکیم ملک میں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور تعلیمی اداروں میں تحقیق و ترقی کی تجربہ گاہوں کو فروغ دے کر سائنس و ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کے لیے نافذ کی گئی ہے۔ اس کے تحت ایف آئی ایس ٹی یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سائنس و ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے فنڈ، پرَس (یونیورسٹی تحقیق اور سائنسی عمدگی کا فروغ)، ایس اے آئی ایف (جدید تجزیاتی آلات کی سہولیات) اور ساتھی (جدید تجزیاتی و تکنیکی معاونت کے ادارے) جیسے پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔ یہ مراکز تحقیق، اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے جدید ترین بنیادی ڈھانچے تک رسائی فراہم کرتے ہیں اور اختراعی ماحولیاتی نظام کو فروغ دیتے ہیں۔
محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے ‘‘انسپائر’’ پروگرام یعنی متاثر کن تحقیق کے لیے سائنس کے حصول میں اختراع نے اپنے چار اہم اجزاملین مائنڈز اگمینٹنگ نیشنل ایسپریشن اینڈ نالج، انسپائر اسکالرشپ فار ہائر ایجوکیشن، انسپائر فیلوشپ اور انسپائر فیکلٹی فیلوشپ کے ذریعے تعلیمی اور تحقیقی عمل کے مختلف مراحل میں سائنسی صلاحیتوں کو منظم انداز میں پروان چڑھایا ہے۔ حکومت نے انسپائر پروگرام کی رسائی اور شمولیت کو وسیع کرنے کے لیے متعدد ہدفی اقدامات کیے ہیں، جن میں ملک بھر کے دیہی، دور دراز والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے وِمن اِن سائنس اینڈ انجینئرنگ—نالج اِنوالوومنٹ اِن ریسرچ ایڈوانسمنٹ تھرو نرچرنگ پروگرام نے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں خواتین کی شرکت اور ان کے فروغ کے سلسلے میں اہم پیش رفت کی ہے۔
اس کے علاوہ، ریاستی سائنس و ٹیکنالوجی پروگرام کے تحت ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی سطح پر سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ریاستی سائنس و ٹیکنالوجی کونسلوں کو مالی امداد فراہم کرکے مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
حکومت بین شعبہ جاتی سائبر-فزیکل نظام کے قومی مشن، ٹیکنالوجی کی ترقی کے پروگراموں، صنعت و تعلیمی اداروں کے باہمی تعاون، اختراعی چیلنجز، دانشورانہ ملکیت کے تحفظ اور تحقیق و آزمائش کے بنیادی ڈھانچے کے ذریعے ابھرتے ہوئے اور تزویراتی شعبوں میں اختراع کو فروغ دے رہی ہے۔ اس میں بالخصوص دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں واقع اداروں سے وابستہ خواتین کاروباریوں، طلبہ اور اختراع کاروں کی حوصلہ افزائی پر زور دیا جاتا ہے۔
قومی کوانٹم مشن کا آغاز بھی ایک اہم تزویراتی پہل ہے، جس کا مقصد کوانٹم ٹیکنالوجیز میں سائنسی اور صنعتی تحقیق و ترقی کو فروغ دینا، اسے پروان چڑھانا اور وسعت دینا، نیز ایک فعال اور اختراعی ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے۔ کوانٹم مشن کے تحت کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم مواصلات، کوانٹم سینسنگ اور کوانٹم مواد و آلات کے شعبوں میں چار موضوعاتی مراکز (ٹی-ہب) قائم کیے گئے ہیں۔
حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے نے حیاتیاتی تیاری اور حیاتیاتی پیداوار جیسے نئے اجزا کے ساتھ بایوٹیکنالوجی ریسرچ، انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ (بایو رائیڈ) اسکیم شروع کی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد اختراع کو فروغ دینا، حیاتیاتی کاروبار کی حوصلہ افزائی کرنا اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی و حیاتیاتی تیاری کے شعبوں میں بھارت کو عالمی سطح پر قائدانہ مقام دلانا ہے۔ اس کے علاوہ اعلیٰ صلاحیت کی حامل حیاتیاتی تیاری کو فروغ دینے کے لیے ‘‘معیشت، ماحولیات اور روزگار کے لیے حیاتیاتی ٹیکنالوجی (بایو ای تھری)’’ پالیسی بھی نافذ کی گئی ہے۔
سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) نے اپنے مشن پر مبنی تحقیق و ترقی کے پروگرام زراعت و حیاتیاتی ٹیکنالوجی، کیمیکلز، بنیادی ڈھانچے، ماحولیات، توانائی، صحت کی خدمات اور جدید مواد جیسے تزویراتی شعبوں میں قومی ترجیحات کے مطابق ترتیب دیے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور مصنوعات کے عملی استعمال میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے سی ایس آئی آر نے ممبئی میں عالمی معیار کا اختراعی مرکز، سی ایس آئی آر-آئی سی، قائم کیا ہے۔
حکومت نے بھارتی خلائی پالیسی 2023، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے ضوابط میں نرمی اور ان اسپیس کی سہولت و اجازت کے ذریعے خلائی اختراعی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنایا ہے۔ وینچر کیپیٹل اور ٹیکنالوجی اپنانے کے فنڈ، ابتدائی مالی معاونت، بھارتی خلائی تحقیق تنظیم (اسرو) کے بنیادی ڈھانچے تک رسائی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، کم لاگت والی آزمائشی سہولیات اور پی ایس ایل وی آربیٹل ایکسپیریمنٹل ماڈیول پلیٹ فارم کے ذریعے مدار میں توثیق جیسی پہلوں نے نجی شعبے کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس نے تیزی سے ترقی کی ہے، نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے اور مقامی طور پر تیار کردہ لانچ وہیکلز، سیٹلائٹس اور پے لوڈ کی صلاحیتوں کو تقویت ملی ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی خلائی معیشت میں بھارت کی شراکت داری میں بھی وسعت آئی ہے۔
نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اختراعی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف تحقیقی اداروں اور صنعتوں کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے پروگرام نافذ کر رہی ہے۔
حکومت نے مجموعی گھریلو پیداوار میں تحقیق و ترقی پر ہونے والے اخراجات میں اضافہ کرنے اور تحقیق و اختراع میں نجی شعبے کی شرکت بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کی ’’تحقیق و ترقی کے اعداد و شمار 2026-2025 رپورٹ کے مطابق ملک میں تحقیق و ترقی پر مجموعی اخراجات 2020-2019 میں 1,32,567.01 کروڑ روپے، جو مجموعی گھریلو پیداوار کا 0.66 فیصد تھا، سے بڑھ کر 2023-24 میں 2,44,767.81 کروڑ روپے ہو گئے، جو مجموعی گھریلو پیداوار کا 0.84 فیصد ہے۔
ان اقدامات نے ملک میں اختراع اور اسٹارٹ اپ کے ماحولیاتی نظام کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بھارت میں صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے سے تسلیم شدہ اسٹارٹ اپس کی تعداد 24 لاکھ سے زیادہ ہے، جن میں نصف سے زیادہ اسٹارٹ اپ دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں قائم ہیں۔ سائنسی اشاعتوں کے معاملے میں بھارت اس وقت عالمی سطح پر تیسرے اور پیٹنٹ درخواستیں دائر کرنے والے ممالک میں چھٹے مقام پر ہے۔ عالمی اختراعی اشاریے میں بھارت کی درجہ بندی 2015 میں 81ویں مقام سے بہتر ہو کر 2025 میں 38ویں مقام پر پہنچ گئی، جو ملک کی بہتر ہوتی ہوئی اختراعی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔ ملک میں اختراعی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کی مختلف پہلوں کے نتیجے میں یہ اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
***
ش ح ۔ک ا۔م ش
U. No.2257
(ریلیز آئی ڈی: 2300764)
وزیٹر کاؤنٹر : 16