عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
ٹیکنالوجی پر مبنی پنشن خدمات کی فراہمی سے کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور افرادی قوت و مالی وسائل کی بھی خاطر خواہ بچت ہوئی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے قومی انوبھو ایوارڈز کی9ویں تقریب اور 60ویں قبل از ریٹائرمنٹ کونسلنگ ورکشاپ کے موقع پر قومی انوبھو ایوارڈز سے نوازا
حکومت بزرگ شہریوں کے لیے زندگی کو آسان بنانے کی خاطر پنشن قوانین کو مزید آسان بنانے اور خاندانی پنشن کے فوائد کو مستحکم کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
انوبھو ایوارڈز ریٹائرڈ ملازمین کے تجربات کو حکمرانی میں اصلاحات کے لیے قیمتی رائے اور اثاثے میں تبدیل کرتے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
60ویں قبل از ریٹائرمنٹ کونسلنگ ورکشاپ میں تقریباً 800 سرکاری افسران ریٹائرمنٹ سے قبل ایک جگہ جمع ہوئے
प्रविष्टि तिथि:
17 AUG 2026 4:07PM by PIB Delhi
عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی پنشن خدمات کی فراہمی سے کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور افرادی قوت کے ساتھ ساتھ مالی وسائل کی بھی خاطر خواہ بچت ہوئی ہے۔ انہوں نے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنشن نظام کو مزید آسان، مؤثر اور بدلتی ہوئی سماجی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے مسلسل استعمال اور پنشن یافتگان کی آراء سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔
نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقدہ 9ویں قومی انوبھو ایوارڈز تقریب2026 اور 60ویں قبل از ریٹائرمنٹ کونسلنگ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پنشن کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کا مقصد نہ صرف پنشن یافتگان کے لیے زندگی کو آسان بنانا ہے بلکہ پورے انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائر ہونے والے اور ریٹائر ہو چکے ملازمین کے تجربات نظام کی خامیوں کی نشاندہی کرنے اور حکومتی طریقۂ کار کو بہتر بنانے کے لیے قیمتی رائے فراہم کرتے ہیں۔
تقریب میں محکمہ پنشن و پنشن یافتگان بہبود کی سکریٹری محترمہ نودیتا شکلا ورما، ریلوے بورڈ کے ایڈیشنل ممبر (انسانی وسائل)جناب پراواش پی پانڈے، اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے نائب منیجنگ ڈائریکٹر جناب چندر شیکھر شرما، محکمہ پنشن و پنشن یافتگان بہبود کے اعلیٰ افسران اور مختلف وزارتوں و محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تقریب کے دوران پانچ ایوارڈیافتگان کو قومی انوبھو ایوارڈز سے نوازا اور جیوری ایوارڈز بھی پیش کیے۔
وزیر موصوف نے پنشن مترا سے متعلق رہنما کتاب، انوبھو ایوارڈیافتگان کے اعزاز ناموں پر مشتمل کتابچہ اور ملک گیر ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ مہم-5 کے رہنما خطوط بھی جاری کیے۔ تقریب کے دوران قومی انوبھو ایوارڈیافتگان 2026 پر مبنی ایک مختصر فلم بھی دکھائی گئی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کے تحت 2015 میں شروع کیے گئے انوبھو اقدام کا مقصد سرکاری ملازمین کی جانب سے عوامی خدمت کے دوران برسوں میں حاصل کیے گئے وسیع تجربے کو محفوظ کرنا اور اس سے استفادہ کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انوبھو کی اہمیت صرف انفرادی ایوارڈ یافتگان کو اعزاز دینے تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہر تجربہ حکومت کو پالیسیوں، طریقۂ کار اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے عملی اور قیمتی رائے فراہم کر سکتا ہے۔
وزیر موصوف نے انوبھو اقدام کے ابتدائی برسوں کے ایک ایوارڈیافتہ کی جانب سے بیان کیے گئے ایک تجربے کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیاحت کے شعبے میں کام کرنے والی ایک ملازمہ نے ایک خصوصی کورس کے ذریعے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا موقع طلب کیا تھا۔ تربیت پر انتظامی وقت اور وسائل کی خاصی سرمایہ کاری کیے جانے کے بعد اسے کسی دوسرے محکمے میں منتقل کر دیا گیا۔ بعد ازاں وہ ملازمہ دوبارہ سیاحت کے شعبے میں واپس آ گئی۔تاہم اس تجربے نے اس اہم سوال کو جنم دیا کہ انتظامی فیصلے بعض اوقات ادارہ جاتی سرمایہ کاری، مہارت اور عوامی وسائل کے ضیاع کا سبب کیسے بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ایسے تجربات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ انوبھو ادارہ جاتی سیکھنے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ خدمات انجام دینے والے اور ریٹائر ہو چکے ملازمین کے تجربات ان نظامی خامیوں کی نشاندہی کرنے میں مدد کر سکتے ہیں جو بصورتِ دیگر نظر انداز رہ سکتی ہیں اور حکومت کو زمینی سطح کے حقیقی تجربات کی بنیاد پر اپنے طریقۂ کار کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بدلتی ہوئی انتظامی اور سماجی ضروریات کے مطابق پنشن کے طریقۂ کار کو مسلسل آسان بنا رہی ہے۔ پنشن فارم سے غیر ضروری دفعات کو ختم کیا گیا ہے اور پیچیدہ طریقۂ کار کی جگہ آسان عمل اختیار کیے گئے ہیں۔ حالیہ اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ خاندانی پنشن کی دفعات کو بھی موجودہ سماجی حالات کے تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ جس میں اہل بیٹیوں اور خاندان کے دیگر افراد سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پنشن نظام میں مسلسل اصلاحات کا عمل جاری رہنا چاہیے اور ان اصلاحات کی بنیاد تجربات، آراء اور بدلتی ہوئی سماجی ضروریات پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے پنشن یافتگان اور ریٹائر ہونے والے ملازمین سے اپیل کی کہ وہ اپنی تجاویز مسلسل پیش کرتے رہیں، تاکہ محکمہ اپنی خدمات اور طریقۂ کار میں مزید بہتری لاتا رہے۔
وزیر موصوف نے ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ اور چہرے کی تصدیق کے اقدامات سے آنے والی تبدیلی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے پہلے رائج جسمانی تصدیق کی ضرورت کو ایک زیادہ آسان ڈیجیٹل عمل سے بدل دیا ہے۔ یہ اقدام اب ایک وسیع عوامی مہم کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس میں بینک، سرکاری محکمے، پنشن یافتگان کی انجمنیں اور خاندان کے افراد بزرگ شہریوں کو ان کے ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ جمع کرانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پنشن خدمات میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ایک جانب سہولت میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب انتظامی نظام پر بوجھ بھی کم ہوا ہے۔ انہوں نے پنشن عدالتوں کا بھی ذکر کیا جنہوں نے موقع پر ہی شکایات کے ازالے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پنشن سے متعلق شکایات کے ازالے اور مسائل کو ان کی بنیادی سطح پر حل کرکے مقدمات کی نوبت کم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ بھوشیہ پورٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی دیگر اقدامات نے پنشن کے معاملات کی کارروائی اور خدمات کی فراہمی کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ انہوں نے پنشن سے متعلق خدمات اور معلومات کو ایک مربوط نظام میں لانے کے لیے محکمہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جس سے پنشن یافتگان کے لیے مطلوبہ سہولیات اور معاونت تک رسائی مزید آسان ہو گئی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ قبل از ریٹائرمنٹ مشاورتی ورکشاپ کا تصور اس سوچ کے تحت پیش کیا گیا تھا کہ 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے والے ملازمین عموماً اچھی صحت کے حامل ہوتے ہیں اور کئی دہائیوں کی عوامی خدمت کے دوران قیمتی پیشہ ورانہ تجربہ حاصل کر چکے ہوتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اس تجربے کو غیر مستعمل رہنے دینے کے بجائے حکومت ایسے مواقع پیدا کر رہی ہے، جن کے ذریعے ان کا علم مہارت اور توانائی ملک کی تعمیر و ترقی میں مسلسل اپنا کردار ادا کر سکے۔
60ویں قبل از ریٹائرمنٹ مشاورتی ورکشاپ میں قومی دارالحکومت خطے میں تعینات حکومتِ ہند کے تقریباً800 ایسے افسران نے شرکت کی جو مارچ 2027 میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔ ورکشاپ میں ریٹائرمنٹ فوائد، مرکزی حکومت کی صحت اسکیم کی سہولیات اور طریقۂ کار، ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ اور چہرے کی تصدیق، سائبر سیکورٹی، پنشن یافتگان کے لیے سرمایہ کاری کے اختیارات، بھوشیہ اور مربوط پنشن یافتگان پورٹل، خاندانی پنشن، انکم ٹیکس سے متعلق امور، سی پینگرامز اور انوبھو جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔
محکمہ پنشن و پنشن یافتگان بہبود کی سکریٹری محترمہ نودیتا شکلا ورما نے کہا کہ انوبھو ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے ادارہ جاتی تجربات کو محفوظ کرنے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اب تک اس پورٹل پر 14,000 سے زیادہ تجربات شیئر کیےجا چکے ہیں۔ جبکہ 2026 کے ایوارڈز کے لیے2,000 سے زیادہ نامزدگیاں موصول ہوئیں، جو اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ انہوں نے پنشن مترکی تقرری، ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ مہم، پنشن عدالتوں اور ایک مربوط پنشن یافتگان کے نظام کی تشکیل کے لیے محکمہ کی کوششوں کے بارے میں بھی بتایا۔ جس کے تحت پنشن سے متعلق متعدد خدمات اور معلومات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب کرایا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تمام قومی انوبھو ایوارڈیافتگان اور جیوری ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو مبارک باد دی اور کہا کہ وہ سرکاری ملازمین جنہوں نے کئی دہائیوں تک عوامی خدمت کے لیے اپنی خدمات وقف کی ہیں۔ ملک کا ایک قیمتی قومی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے پنشن اصلاحات کا مقصد محض ریٹائرمنٹ فوائد کی کارروائی مکمل کرنا نہیں، بلکہ ان افراد کی عزتِ نفس، سہولت اور ان کے تجربے
و مہارت سے مسلسل استفادے کو یقینی بنانا بھی ہے، جنہوں نے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔


****
ش ح۔م ح ۔اش ق
U. No. 2229
(रिलीज़ आईडी: 2300519)
आगंतुक पटल : 13