وزارات ثقافت
وزارت ثقافت نے دہلی، امرتسر اور کولکتہ میں تقسیم ہند کی ہولناکیوں کی یاد میں یاد گار دن منایا
ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں بھی ملک بھر میں یادگار دن کی تقریبات منعقد کی گئیں
پروگراموں میں تقسیم ہند کے متاثرین کو یاد کیا گیا اور متاثرہ افراد کے حوصلے اور ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کیا گیا
प्रविष्टि तिथि:
15 AUG 2026 10:56PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کی وزارت ثقافت نے 14 اگست 2026 کو دہلی، امرتسر اور کولکاتا میں منعقدہ مختلف یادگاری پروگراموں کے ذریعے تقسیم ہند کے مظالم کے واقعات کی یاد میں یادگار دن منایا۔ ان پروگراموں میں تقسیم ہند سے وابستہ بے پناہ انسانی مصائب، نقل مکانی اور جانی و مالی نقصانات کو یاد کیا گیا۔ ان تقریبات کا مقصد تقسیم ہند کے کرب کو برداشت کرنے والے لوگوں کی یادوں کو محفوظ رکھنا، ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور آنے والی نسلوں کو اتحاد، سماجی ہم آہنگی اور انسانی وقار کی اہمیت سے آگاہ کرنا تھا۔

دہلی: کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں خصوصی تقریب

نئی دہلی میں وزارتِ ثقافت نے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں خصوصی تقریب کا اہتمام کیا، جس میں حکومت ہند کی وزارت ثقافت کے سکریٹری جناب وویک اگروال نے شرکت کی۔ اس موقع پر اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس (آئی جی این سی اے) کے رکن سکریٹری ڈاکٹر سچیدانند جوشی، این ڈی ایم سی کے چیئرمین و رکن جناب منوج کمار دویدی، حکومت قومی راجدھانی خطہ دہلی کے محکمہ فنون، ثقافت و زبان کے سکریٹری جناب کے- مہیش، اور دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ ہندوستانی زبانیں و ادبی مطالعات کے پروفیسر روی پرکاش ٹیک چندانی بھی موجود تھے۔ پروگرام میں پُروقار یادگاری تقریب کے ساتھ تقسیم ہند کے ہولناک واقعات پر مبنی نمائش بھی منعقد کی گئی، جس میں تاریخی دستاویزات، تصاویر، نقشے اور ذاتی واقعات پر مشتمل مواد پیش کیا گیا، جس کے ذریعے تقسیم ہند سے جڑی انسانی داستانوں اور تلخ تجربات کو اجاگر کیا گیا۔
مورخہ14 اگست 2026 کی صبح اس نمائش کا افتتاح حکومت قومی راجدھانی خطہ دہلی کے توانائی، شہری ترقی، تعلیم، اعلیٰ تعلیم، تربیت و تکنیکی تعلیم کے وزیر جناب آشیش سود نے کیا۔ اس کے بعد نمائش شہریوں اور طلبہ کے لیے کھول دی گئی۔ صبح 11 بجے سے دوپہر 3 بجے تک اسکولی طلبہ نے نمائش کا دورہ کیا۔ اس اقدام کے ذریعے نوجوانوں کو تقسیم ہند کی تاریخ سے واقف ہونے اور ان لوگوں کے تجربات کو سمجھنے کا موقع ملا، جنہوں نے نقل مکانی، جدائی اور نقصان کے کرب کو برداشت کیا تھا۔
پروگرام میں ایک مختصر دستاویزی فلم کی باضابطہ نمائش اور اجرا بھی شامل تھا، جس میں نقل مکانی کرنے والی اور تقسیم ہند سے متاثرہ برادریوں کی تاریخ، ثقافتی ورثے اور ان کی خدمات کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر ’’دہری بھئی ودیش’’ (شعری مجموعہ) کے عنوان سے نظموں کا مجموعہ بھی پیش کیا گیا، جسے آئی جی این سی اے کے رکن سکریٹری ڈاکٹر سچیدانند جوشی اور دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ ہندوستانی زبانیں و ادبی مطالعات کے پروفیسر روی پرکاش ٹیک چندانی نے مرتب کیا ہے۔ پروگرام کے دوران اس مجموعے کا باضابطہ اجرا بھی عمل میں آیا۔ اس میں تقسیم ہند کی یادوں، تجربات اور انسانی پہلوؤں پر مبنی شعری اظہار کو یکجا کیا گیا ہے۔ پروگرام میں حکومت قومی راجدھانی خطہ دہلی کے معزز وزیراعلیٰ کا خطاب بھی ہوا، جس کے بعد قومی گیت ’’وندے ماترم‘‘ پیش کیا گیا۔
تقریب کے اختتام پر کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک اور اس کے اطراف میں خاموش مارچ بھی نکالا گیا۔ یہ مارچ ان افراد کو پُروقار خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کیا گیا جنہوں نے اپنی جانیں نچھاور کر دیں، اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے یا تقسیم ہند کی مشکلات اور مصائب برداشت کیے۔ وزارت نے تقسیم ہند کے ہولناک واقعات پر مبنی نمائش کو وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچانے کے لیے بھی اقدامات کیے، جس کے تحت نمائش کا مواد ریلوے اسٹیشنوں اور دیگر عوامی مقامات پر آویزاں کرنے کے لیے دستیاب کرایا گیا، تاکہ مسافروں اور شہریوں کو ہندوستان کی تاریخ کے اس اہم باب سے واقف ہونے کا موقع مل سکے۔ عوامی خدمت کے اعلانات بھی تجویز کیے گئے، تاکہ یہ پیغام مزید مضبوط کیا جا سکے کہ ماضی کے ایسے سانحات دوبارہ کبھی رونما نہیں ہونے چاہئیں۔






امرتسر: پنجاب کے تجربے کی یاد
گرو نانک دیو یونیورسٹی (جی این ڈی یو)، امرتسر میں گزشتہ روز تقسیم ہند کے ہولناک واقعات کی یاد میں یادگار دن منایا گیا۔ اس موقع پر تقسیم ہند سے متاثر ہونے والی لاکھوں انسانی زندگیوں کو یاد کیا گیا اور قومی تاریخ کے ایک انتہائی المناک باب کے دوران لوگوں کی جانب سے برداشت کیے گئے بے پناہ مصائب، نقل مکانی اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
اس پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ثقافت و سیاحت کے مرکزی وزیرجناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے شرکت کی۔ تقریب میں راجیہ سبھا کے ارکان پارلیمنٹ ڈاکٹر وکرم جیت سنگھ ساہنی، ڈاکٹر اشوک کمار متل اور جناب ترون چُگھ بھی موجود تھے۔
یاد گار دن کے سلسلے میں ایک خاموش مارچ بھی نکالا گیا، جس میں سیکڑوں طلبہ اور مقامی شہریوں نے شرکت کی۔ یہ مارچ تقسیم ہند کے دوران اپنی جانیں، گھر اور روزگار کھونے والے افراد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کیا گیا۔ اس کے ذریعے تاریخ کو یاد رکھنے اور ان لوگوں کی داستانوں کو محفوظ رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی، جنہوں نے اس سانحے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور برداشت کیا۔
پروگرام میں تقسیم ہند اور انسان پر اس کے اثرات پر مبنی معروف ڈرامے ‘‘جس نےلاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں’’ کی تھیٹر پیشکش بھی کی گئی۔ یہ ڈراما ہارپال تیوَانہ سینٹر فار پرفارمنگ آرٹس کی جانب سے پیش کیا گیا، جس میں تقسیم ہند کی افراتفری کے دوران پھنس جانے والے لوگوں کے دکھ، ثابت قدمی اور مشترکہ انسانی جذبات کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے تقسیم ہند کی ہولناکیوں کو یاد رکھنے اور اس دور کے مصائب برداشت کرنے والے لوگوں کی یادوں اور تجربات کو محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یاد کرنا محض ماضی کو دہرانے تک محدود نہیں، بلکہ تاریخ سے سبق حاصل کرنے اور اتحاد، ہم آہنگی اور امن کی اقدار کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی ہے۔
تقریب کے سلسلے میں تقسیم ہند کے موضوع پر ایک خصوصی نمائش بھی منعقد کی گئی۔ نمائش میں تقسیم ہند کے دوران لوگوں کے تجربات اور مشکلات کی عکاسی کرنے والی تصاویر، تاریخی دستاویزات، سرکاری ریکارڈ اور واقعاتی بیانات پیش کیے گئے۔ بڑی تعداد میں اسکولی اور یونیورسٹی کے طلبہ نے پُرجوش انداز میں نمائش میں شرکت کی، نمائش میں پیش کیے گئے مواد کا مشاہدہ کیا اور ہندوستان کی تاریخ کے اس اہم باب کے بارے میں گہری سمجھ حاصل کی۔
سیکڑوں طلبہ اور شہریوں کی شرکت نے اجتماعی یاد اور احساس ذمہ داری کی مضبوط عکاسی کی اور اس اہمیت کو مزید اجاگر کیا کہ نوجوان نسل کو تقسیم ہند کے تاریخی تجربات سے روشناس کرایا جائے۔
گرو نانک دیو یونیورسٹی میں منعقدہ یہ تقریب تقسیم ہند کی انسانی قیمت کی ایک پُراثر یاد دہانی اور اس کے بے پناہ مصائب برداشت کرنے والوں کی جرأت و ثابت قدمی کو خراج عقیدت تھی۔ اس موقع پر یہ پیغام بھی مزید مضبوط ہوا کہ زیادہ متحد، پُرامن اور جامع مستقبل کی تعمیر کے لیے تاریخ کو یاد رکھنا نہایت ضروری ہے۔




کولکاتا: بنگال کے تجربے کو یادکیا گیا
کولکاتا میں تقسیم ہند کے ہولناک واقعات کی یاد میں یادگار دن 13 اور 14 اگست 2026 کو مغربی بنگال حکومت کے اشتراک سے نیوٹاؤن کنونشن سینٹر میں دو روزہ پروگرام کے ذریعے منایا گیا۔
تقسیم ہند کے ہولناک واقعات کی یاد میں 13 اگست 2026 کو کولکاتا میں ‘‘ہندوستان کی تقسیم: یادیں، نقصان اور ثابت قدمی’’ کے عنوان سے ایک خصوصی نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ اس نمائش کا افتتاح حکومت مغربی بنگال کے وزیرتعلیم جناب دیپک برمن نے کیا۔ نمائش میں ایک ہزار سے زائد طلبہ نے شرکت کی، جس سے نوجوان نسل کو تاریخی دستاویزات اور تقسیم ہند سے وابستہ لوگوں کے حقیقی تجربات سے براہ راست واقف ہونے کا موقع ملا۔ یہ نمائش دو روزہ پروگرام کے ایک حصے کے طور پر جاری رہی اور اس میں تقسیم ہند کے دوران بنگال کے منفرد تجربے، بالخصوص نقل مکانی، ہجرت اور بازآبادکاری کے ساتھ ساتھ خطے پر پڑنے والے گہرے سماجی، ثقافتی اور اقتصادی اثرات کو اجاگر کیا گیا۔
مورخہ14 اگست کے پروگرام میں مغربی بنگال کے گورنر جناب آر۔ این۔ روی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر مغربی بنگال حکومتِ کے محکمۂ خزانہ کے وزیر (انچارج) جناب سوپن داس گپتا، محکمۂ اطلاعات و ثقافتی امور و سیاحت کی وزیرمملکت محترمہ پورنیما چکرورتی، مغربی بنگال حکومت کے محکمۂ اطلاعات و ثقافتی امور کے سکریٹری ڈاکٹر سومتر موہن، وزارتِ ثقافت، حکومتِ ہند کے نیشنل کونسل آف سائنس میوزیم کے ڈائریکٹر جنرل جناب کے۔ ایس۔ مرلی کے علاوہ اعلیٰ سرکاری افسران، ممتاز دانشور، فنکار، سول سوسائٹی کے نمائندے، طلبہ اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
پروگرام کا مقصد نوجوان نسل کو تقسیم ہند کے نتیجے میں ہونے والے مصائب سے آگاہ کرنا تھا، تاہم اس بات کو یقینی بنانا بھی تھا کہ وہ نفرت کو ورثے میں نہ لیں، بلکہ تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہوئے امن، سماجی ہم آہنگی، باہمی احترام اور انسانی وقار کے لیے اپنے عزم کو مزید مضبوط کریں۔ پروگرام کے دوران تقسیم ہند کے موضوع پر چار فلمیں بھی دکھائی گئیں۔
اس موقع پر ان لوگوں کے تجربات کو بھی اجاگر کیا گیا جن کے گھر، خاندان اور برادریاں تقسیم ہند کے باعث بکھر گئیں۔ 1946 میں کلکتہ میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد اور اس کے بعد بنگال میں پیدا ہونے والی بدامنی کو وسیع تر تاریخی تناظر میں یاد کیا گیا۔ ساتھ ہی خوف اور باہمی عدم اعتماد کے اس دور میں جرأت، مکالمے اور مفاہمت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
پروگرام میں تقسیم ہند کی تاریخ کو ثابت قدمی، ازسرنو تعمیر اور قوم سازی کی تاریخ کے طور پر بھی پیش کیا گیا۔ محدود وسائل اور غیر یقینی مستقبل کے ساتھ آنے والے مہاجرین نے بعد میں اساتذہ، صنعت کاروں، پیشہ ور افراد، فنکاروں، مزدوروں، سرکاری ملازمین اور ادارہ سازوں کی حیثیت سے ترقی کی اور مغربی بنگال کی سماجی، اقتصادی اور ثقافتی زندگی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
تقسیم ہند سے قبل کے اہم برسوں کے دوران ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے کردار اور بنگال کو غیر منقسم حالت میں پاکستان میں شامل کرنے کی تجویز کی ان کی مخالفت کو بھی پروگرام میں اجاگر کیا گیا۔ اس کے ساتھ بنگالی ہندوؤں کے مستقبل اور مفادات کے تحفظ کے لیے ایک علیحدہ صوبے کے قیام کی ان کی حمایت کا بھی ذکر کیا گیا۔
پروگرام کا اختتام کینڈل لائٹ مارچ کے ساتھ ہوا، جس میں تقسیم ہند کے متاثرین اور بچ جانے والے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور جدید مغربی بنگال اور ہندوستان کی تعمیر میں تقسیم سے متاثرہ خاندانوں کی عظیم خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ مغربی بنگال کے تمام ضلعی صدر مقامات پر بھی تقسیم ہند کے ہولناک واقعات کی یاد میں یادگار دن منایا گیا۔








آئی جی این سی اے کے ملک بھر میں پروگرام
تقسیم ہند کے ہولناک واقعات کی یاد میں یادگار دن 2026 کے ملک گیر انعقاد کے سلسلے میں وزارت ثقافت، حکومت ہند کے تحت ایک خودمختار ادارہ اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس (آئی جی این سی اے) نے اپنے علاقائی مراکز میں علمی، ثقافتی اور عوامی رابطے سے متعلق مختلف پروگراموں کا اہتمام کیا۔ ان پروگراموں کے ذریعے تقسیم ہند کی یادوں کو دستاویزی شکل دینے، نوجوان نسل کو اس تاریخ سے جوڑنے اور تقسیم ہند کے انسانی تجربات پر غور و فکر کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیے گئے۔
جموں و کشمیر: تقسیم ہند کے متاثرین کی یادیں اور خصوصی مباحثہ
آئی جی این سی اے کے علاقائی مرکز جموں و کشمیر نے ضلع انتظامیہ راجوری اور بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی، راجوری کے اشتراک سے‘‘ تقسیم ہند کےمتاثرین کی یادیں: تقسیم ہند کے ہولناک واقعات کی یاد میں مباحثہ’’ کے عنوان سے پروگرام منعقد کیا۔ اس کا مقصد 1947 اور 1965 کے دوران پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی یادوں، مشکلات اور تجربات کو دستاویزی شکل دینا اور محفوظ کرنا تھا۔
جموں کے ڈویژنل کمشنر، آئی اے ایس جناب رمیش کمار نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ نگروٹا کی معزز رکن اسمبلی محترمہ دیویانی سنگھ رانا، بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اقبال اور راجوری کے ڈپٹی کمشنر، آئی اے ایس جناب ابھیشیک شرما بھی موجود تھے۔ پروگرام کی ایک خاص بات 99 سالہ جناب بخشی یوگ راج چھبر کی گواہی تھی، جنہوں نے تقسیم ہند کی اپنی چشم دید یادیں بیان کیں۔ دیگر بے گھر خاندانوں کے تجربات بھی پیش کیے گئے۔ اس موقع پر تقسیم ہند کے موضوع پر ایک نمائش اور ضلع انتظامیہ راجوری کی تیار کردہ دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔ جموں خطے کی مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں سے مورخین، ماہرین تعلیم، محققین، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور طلبہ نے پروگرام میں شرکت کی۔
بنگلورو: طلبہ کا جلوس اور دستاویزی فلم کی نمائش
آئی جی این سی اے کے علاقائی مرکز بنگلورو نے 14 اگست 2026 کو وجیا بھارتی ودیالیہ میں ایک جلوس کا اہتمام کیا، جس میں 500 سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ طلبہ نے تقسیم ہند کے متاثرین اور اس دوران پیش آنے والی مشکلات کی یاد میں ترنگا اٹھایا اور اتحاد، امن اور قومی یکجہتی کی اقدار کے عزم کا اعادہ کیا۔
پروگرام کا آغاز ایک دستاویزی فلم کی نمائش سے ہوا، جس میں تقسیم ہند سے متاثرہ لوگوں کے تجربات اور یادوں کو پیش کیا گیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر جی۔ بی۔ ہریشا نے تقسیم ہند کے انسانی پہلوؤں اور اسے یاد رکھنے کی اہمیت پر بصیرت افروز خطاب کیا۔ پروگرام میں آئی جی این سی اے علاقائی مرکز بنگلورو کے علاقائی ڈائریکٹر جناب ڈی۔ مہندر اور ممتاز ماہر تعلیم و دانشور پروفیسر پی۔ وی۔ کرشنا بھٹ نے بھی شرکت کی۔
رانچی: پدیاترا، نمائش، خصوصی خطاب اور قبائلی و علاقائی زبانوں کے شعرا کا اجتماع
آئی جی این سی اے کے علاقائی مرکز رانچی نے رانچی یونیورسٹی کے اشتراک سے ایک خصوصی پروگرام کا اہتمام کیا، جس میں پدیاترا، تقسیم ہند کی نمائش، خصوصی خطاب اور ‘‘نقل مکانی’’ کے موضوع پر تیسرا قبائلی و علاقائی زبانوں کے شعرا کا اجتماع شامل تھا۔
رانچی یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر سروج شرما نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ پدم شری بل بیر دت، سینئر صحافی اور مصنف، نے خصوصی خطاب کیا۔ رام کرشن مشن آشرم، رانچی کے سکریٹری سوامی بھاویشانند نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔
اس پروگرام میں تاریخی غور و فکر، ذاتی یادوں، بصری دستاویزات اور قبائلی و علاقائی زبانوں میں شاعری کو یکجا کیا گیا، جس کے ذریعے نقل مکانی، یادداشت، شناخت، نقصان اور ثابت قدمی جیسے موضوعات کا جائزہ لیا گیا۔ نمائش میں تقسیم ہند سے متعلق بصری اور دستاویزی مواد پیش کیا گیا، جبکہ مختلف قبائلی اور علاقائی زبانوں کی شعری روایات سے وابستہ شعرا نے اجتماعی یادوں اور لوگوں کے حقیقی تجربات کو محفوظ رکھنے میں مقامی زبانوں کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔





ان پروگراموں کے علاوہ 14 اگست 2026 کو ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں بھی تقسیم ہند کے ہولناک واقعات کی یاد میں یادگار دن منایا گیا، جس کے ذریعے تقسیم ہند کے متاثرین کو یاد رکھنے اور اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو محفوظ رکھنے کے قومی عزم کا اعادہ کیا گیا۔

یاد رکھنا تاکہ تاریخ کبھی نہ دہرائی جائے
تقسیم ہند جدید تاریخ میں جبری نقل مکانی کے سب سے بڑے واقعات میں سے ایک تھی، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد نئی قائم ہونے والی سرحدوں کے دونوں جانب بے گھر ہوئے۔ اس سانحے نے پنجاب، بنگال، دہلی اور کئی دیگر خطوں کی برادریوں کو متاثر کیا اور خاندانوں کی نسل در نسل زندگی پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے۔
دہلی، امرتسر اور کولکاتا میں اپنے پروگراموں کے ذریعے وزارت ثقافت نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی کہ یہ یادیں ہندوستان کے اجتماعی شعور کا حصہ بنی رہیں۔ ان تقریبات کا مقصد محض اس سانحے کو یاد کرنا نہیں تھا بلکہ اس سے سبق حاصل کرنا، نفرت اور تقسیم کو مسترد کرنا، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا اور اتحاد و انسانی وقار کی اقدار کا اعادہ کرنا بھی تھا۔
ان پروگراموں نے شہریوں، بالخصوص نوجوان نسل کو تقسیم ہند کی تاریخ سے جڑنے اور ان لوگوں کے تجربات کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا، جنہوں نے ہندوستان کی تاریخ کے ایک انتہائی کرب ناک باب کو اپنی زندگی میں جھیلا تھا۔ اس طرح تقسیم ہند کے ہولناک واقعات کی یاد میں یادگار دن 2026 ان تمام لوگوں کے لیے خراجِ عقیدت ثابت ہوا جنہوں نے اس سانحے کے مصائب برداشت کیے، زندہ بچ جانے والے لوگوں کی ثابت قدمی کا اعتراف کیا اور یہ یاد دہانی کرائی کہ تاریخ کے اسباق آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔
****
ش ح۔۔ ش ت۔ ش ب ن
U-2192
(रिलीज़ आईडी: 2300322)
आगंतुक पटल : 6