سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا زور؛ بیماری کی جلد تشخیص، بروقت طبی علاج اور غیر ضروری ٹیسٹوں سے پرہیز ہی ذمہ دارانہ مریضوں کی دیکھ بھال کی بنیاد ہے
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پروفیسر آنند این مالویہ اور ڈاکٹر پرشانت کوشک کی تحریر کردہ کتاب 'رومیٹولوجی ایسینشلز' کا اِفتتاح کیا
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جوڑوں، پٹھوں اور ہڈیوں کے امراض کے بہتر طبی انتظام کے لیے سہ رخی طریقہ کار کی وکالت کی
بھارتی زبانوں میں طبی تعلیم کی توسیع میں مدد کے لیے ہندی میں معیاری طبی لٹریچر کا ہونا ناگزیر ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
प्रविष्टि तिथि:
16 AUG 2026 5:11PM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس، اور وزیرِ مملکت برائے وزیراعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے—جو خود بھی طب کے پروفیسر ہیں—آج طبی رہنمائی پر مبنی طبی معالجے پر زیادہ زور دینے کی اپیل کی، جس میں بیماری کی جلد تشخیص، بروقت طبی علاج اور غیر ضروری ٹیسٹوں سے پرہیز ہی ذمہ دارانہ مریضوں کی دیکھ بھال کی بنیاد ہے۔
کتاب 'رومیٹولوجی ایسینشلز: اے نیو فرنٹیئر فار ایسپائرنگ کلینیشینز' کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ سہ رخی طریقہ کار غیر ضروری ادویات اور ٹیسٹوں کو کم کرنے، تشخیص میں تاخیر کو روکنے اور یہ یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے کہ مریض صحیح وقت پر متعلقہ ماہرِ طب تک پہنچ سکیں۔
ممتاز ماہرینِ رومیٹولوجی پروفیسر آنند این مالویہ اور ڈاکٹر پرشانت کوشک کی تحریر کردہ اس کتاب کا اِفتتاح میڈیکل برادری کے سینئر ارکان بشمول ایمس کے شعبہ رومیٹولوجی کی سربراہ ڈاکٹر اوما کمار اور ڈاکٹر شنکر سبرامنیم کی موجودگی میں کیا گیا۔ پروفیسر مالویہ کو بھارت میں رومیٹولوجی اور کلینیکل امیونولوجی کے شعبے میں ان کی بانی کارکردگی کے لیے بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ ڈاکٹر کوشک نارتھ ایسٹرن ہیلتھ سسٹم، اوکلاہوما، امریکہ میں کلینیکل پروفیسر آف میڈیسن اور شعبہ رومیٹولوجی کے سربراہ ہیں۔ اس کتاب کا پیش لفظ ڈاکٹر ونود کے پال نے تحریر کیا ہے۔
پروفیسر مالویہ کو 'اساتذہ کے استاد' قرار دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ان کی خدمات صرف طالب علموں کو پڑھانے تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے معالجین اور اساتذہ کی ایسی نسلیں تیار کیں جنہوں نے ملک بھر میں رومیٹولوجی کو آگے بڑھانے میں مدد کی۔ پروفیسر مالویہ کے ساتھ اپنے پرانے تعلق کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب رومیٹولوجی کو بڑے پیمانے پر ایک الگ سپر اسپیشلٹی کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا تھا، لیکن ایمز میں پروفیسر مالویہ کے کام نے بھارت میں اس کی پہچان، ساکھ اور ادارہ جاتی بنیاد قائم کرنے میں مدد کی، اور یہ ان کی غیر معمولی دور اندیشی کا ثبوت تھا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ پروفیسر مالویہ نے نہ صرف اس خصوصی شعبے کی بنیاد رکھی بلکہ باقاعدہ کورسز اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے رومیٹولوجی کو ایک ادارہ جاتی شکل دی، جس سے ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ڈاکٹروں اور طبی اساتذہ کے لیے خصوصی تربیت حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ شعبے میں تربیت یافتہ ماہرینِ رومیٹولوجی کی تعداد اور باضابطہ پروگراموں میں اضافہ پروفیسر مالویہ کی پائیدار اور لازوال خدمات کا عکاس ہے۔
"کتاب 'رومیٹولوجی ایسینشلز' میں پیش کردہ طبی ڈھانچے کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ کتاب معالجین کو سوزش والے جوڑوں کے امراض، میکانکی-ساختی خرابیوں اور نوسیپلاسٹک درد کے سنڈرومز کے درمیان فرق کرنے کا ایک سادہ اور عملی طریقہ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نقطہِ نظر ڈاکٹروں کو صرف علامات کے علاج سے آگے بڑھنے اور ایسے مریضوں کی شناخت کرنے میں مدد دے سکتا ہے جنہیں رومیٹولوجی کے ماہر ڈاکٹر کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ کتاب کی سہ رخی حکمتِ عملی یعنی 'بیماری کی جلد شناخت، غیر ضروری ٹیسٹوں سے پرہیز اور وقت پر ریفر کرنا' موجودہ دور کے طبی طریقہ کار کے لیے خاص طور پر موزوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹھوں اور ہڈیوں کی تکالیف میں مبتلا مریض بعض اوقات اصل بیماری کی درست تشخیص کے بغیر بار بار صرف علامات کا علاج کرواتے رہتے ہیں یا ایک ڈاکٹر سے دوسرے ڈاکٹر کے چکر کاٹتے رہتے ہیں۔ طبی رہنمائی پر مبنی طریقہ کار اس طرح کی تاخیر کو روکنے اور غیر ضروری علاج کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
جدید تشخیصی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ کلینیکل ججمنٹ پر زیادہ بھروسہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ٹیسٹ اور جانچ پڑتال طبی استدلال کے مددگار ہونے چاہئیں نہ کہ اس کا متبادل۔ انہوں نے امیونولوجیکل ٹیسٹوں، ایم آر آئی اسکینز اور دیگر جدید و پیچیدہ تشخیصی ٹیسٹوں کی بڑھتی ہوئی دستیابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دارانہ اور اخلاقی طبی طریقہ کار کو یقینی بنانے کے لیے ان کا مناسب اور صحیح استعمال انتہائی اہم ہے۔
وزیر موصوف نے پٹھوں، جوڑوں اور ہڈیوں کے امراض کے وسیع تر اثرات پر بھی بات کی، جن میں چلنے پھرنے کی صلاحیت کا کم ہونا اور ذیابیطس جیسی عام ہم بیماریاں کا انتظام شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ درد کش ادویات کا طویل یا نامناسب استعمال بھی مجموعی صحت کو متاثر کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے درست تشخیص اور وقت پر ماہر ڈاکٹر کے پاس ریفر کرنا مریض کی حفاظت کے اہم اجزاء بن جاتے ہیں۔
بھارت بھر میں رومیٹولوجی کے ڈی ایم، ڈی این بی اور فیلوشپ پروگراموں کے بارے میں کتاب میں دی گئی معلومات کا خیرمقدم کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس سے طلبہ اور نوجوان ڈاکٹروں کو اس شعبے میں خصوصی تربیت کے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ہندی اور دیگر بھارتی زبانوں میں معیاری سائنسی اور طبی لٹریچر تیار کرنے کی اہمیت پر بھی بات کی، اور کہا کہ زبان کی دستیابی کو مناسب پیشہ ورانہ لٹریچر کا تعاون حاصل ہونا چاہیے تاکہ تعلیمی ذریعہ کی وجہ سے طلبہ کو کسی نقصان یا محرومی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کتاب کے تعارفی خلاصے کے مطابق، 'رومیٹولوجی ایسینشلز' کو گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ، پرائمری کیئر فزیشنز، جنرل فزیشنز اور ایمرجنسی روم کے فرنٹ لائن ڈاکٹروں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ کتاب جوڑوں، پٹھوں اور ہڈیوں کے امراض کی تشخیص اور ان کی درجہ بندی کے لیے ایک عملی ڈھانچہ فراہم کرتی ہے، اور اس کا مقصد معالجین کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ رومیٹولوجی کے ماہر ڈاکٹر کی دیکھ بھال کی ضرورت والے امراض اور میکانکی-ساختی یا حیاتیاتی-نفسیاتی-سماجی درد کی کیفیات کے درمیان فرق کر سکیں تاکہ مریضوں کو صحیح علاج مل سکے۔
پروفیسر مالویہ اور ڈاکٹر کوشک کو کتاب کے اِفتتاح پر مبارکباد دیتے ہوئے، ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ رومیٹولوجی کے لیے اپنی پیشہ ورانہ زندگی وقف کرنے کے بعد، پروفیسر مالویہ نے اس کتاب کے ذریعے رومیٹولوجی کی اس وراثت کو مستقبل کی نسلوں تک پہنچانے کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کتاب معالجین اور ابھرتے ہوئے ماہرینِ طب کی ایک بڑی تعداد تک پہنچے گی اور زیادہ اخلاقی، باخبر اور مریض پر مبنی طبی طریقہ کار کے فروغ میں اپنا تعاون دے گی۔




****
(ش ح –ن ا)
U.No:2185
(रिलीज़ आईडी: 2300247)
आगंतुक पटल : 10