کانکنی کی وزارت
اہم معدنیات کے شعبے میں طویل مدتی استحکام لانے کے لیے ایم ایم ڈی آر میں ترمیم
प्रविष्टि तिथि:
14 AUG 2026 8:14PM by PIB Delhi
مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ترمیم بل، 2026 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے 13 اگست 2026 کو منظور کر لیا۔ یہ بل معدنیات کے اہم شعبے میں طویل مدتی استحکام لانے کے مقصد سے مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ، 1957 (ایم ایم ڈی آر ایکٹ) میں ترمیم کرتا ہے۔
ترمیم شدہ بل ریاستوں سے زمین اور معدنیات پر ان کے کسی بھی حق کو نہیں چھینتا اور نہ ہی ریاستوں کے ذریعے وصول کیے جانے والے معدنیات سے متعلق کسی ٹیکس پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس وقت کان کنی کے شعبے میں عائد کیے جانے والے مجموعی ٹیکسوں اور قانونی ادائیگیوں میں سے تقریباً 90 فیصد ریاستوں کو حاصل ہوتے ہیں اور یہ انتظام ترمیم کے بعد بھی برقرار رہے گا۔ مزید یہ کہ اس ترمیم سے معمولی معدنیات کو منظم کرنے اور ان پر ٹیکس عائد کرنے کے ریاستوں کے اختیار پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
مذکورہ ترامیم کا مقصد معدنیات کے شعبے کے مالیاتی نظام میں یقین، استحکام اور پیش بینی کو یقینی بنانا ہے، جس سے کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ توقع ہے کہ اس سے آتم نربھر بھارت کے مقاصد کے حصول میں سہولت ملے گی اور بالآخر وکست بھارت 2047 کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں مدد ملے گی۔
معدنیات بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ، توانائی کے تحفظ اور مجموعی اقتصادی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ مالی سال 2025-26 میں بھارت نے 10,12,529 کروڑ روپے مالیت کی معدنیات درآمد کیں۔ بھاری ٹیکسوں کا غیر متوازن نفاذ صنعت کو درآمد شدہ معدنیات پر انحصار کرنے کی طرف راغب کر سکتا ہے، جس سے سرکاری خزانے پر بھاری بوجھ پڑے گا۔
ریاستیں اس وقت کان کنی کی سرگرمیوں پر تقریباً 14 قسم کے ٹیکس، چارجز، فیس اور دیگر محصولات وصول کرتی ہیں، جن میں رائلٹی، نیلامی پریمیم، ڈیڈ رینٹ، ڈسٹرکٹ منرل فاؤنڈیشن (ڈی ایم ایف)، گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی)، ٹرانزٹ فیس وغیرہ شامل ہیں۔ کان کنی سے حاصل ہونے والی کل آمدنی کا تقریباً 90 فیصد ریاستوں کو حاصل ہوتا ہے۔ مالی سال 2015-16 سے مالی سال 2025-26 تک کان کنی کی بڑی ریاستوں کو مجموعی طور پر 5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی حاصل ہوئی، جبکہ اسی مدت کے دوران مرکز کو حاصل ہونے والی آمدنی 3 لاکھ کروڑ روپے سے زائد رہی۔ ایم ایم ڈی آر ترمیم بل، 2026 کے نافذ ہونے کے بعد بھی یہی صورتِ حال برقرار رہے گی۔
2015 میں نیلامی کا نظام متعارف کرائے جانے کے بعد ریاستوں کو نیلامی پریمیم کی شکل میں آمدنی کا ایک اور اہم ذریعہ حاصل ہوا۔ یہ وہ رقم ہے جس کی کامیاب بولی لگانے والا نیلامی میں پیش کش کرتا ہے۔ مالی سال 2020-21 سے 2025-26 کے دوران کان کنی کی بڑی ریاستوں نے نیلامی پریمیم کے طور پر 96,000 کروڑ روپے سے زیادہ حاصل کیے ہیں، جو رائلٹی، ڈی ایم ایف، جی ایس ٹی وغیرہ جیسے آمدنی کے دیگر ذرائع کے علاوہ ہے۔ اس طرح جن ریاستوں نے معدنی بلاکس کی نیلامی اور انہیں عملی طور پر فعال بنانے میں پیش رفت کی ہے، ان کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
چونکہ معدنی وسائل محدود ہیں اور جغرافیائی طور پر صرف چند ریاستوں میں مرکوز ہیں، اس لیے ان کے انتظام کے لیے ایک مربوط قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے، تاکہ پائیدار، مساوی اور متوازن اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ریاستی سطح پر ٹیکسوں کے بلا روک ٹوک اور غیر یکساں نفاذ سے ملکی معدنیات کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے یہ مجموعی مالیاتی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے۔
غیر محدود اور غیر یکساں ریاستی محصولات ملکی معدنیات کو غیر مسابقتی بنا کر عوامی مفاد کو نقصان پہنچاتے ہیں، مقامی ذخائر وافر ہونے کے باوجود غیر ضروری غیر ملکی درآمدات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور قومی منڈی کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔
***
UR-2135
(ش ح۔اس ک )
(रिलीज़ आईडी: 2299686)
आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English