جل شکتی وزارت
کین-بیتوا لنک پروجیکٹ سے متعلق حقائق کی صورت حال
प्रविष्टि तिथि:
14 AUG 2026 6:51PM by PIB Delhi
کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے خلاف معاوضے کے بغیر قبائلی خاندانوں کی بے دخلی کے الزامات غلط اور گمراہ کن: حکومت
کچھ میڈیا رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مدھیہ پردیش کے بعض علاقوں میں کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے خلاف ’’چتا آندولن‘‘، ’’پھانسی پرَدَرشَن‘‘ اور ’’جل ستیہ گرہ‘‘ جیسے علامتی احتجاج کیے جارہے ہیں اور قبائلی خاندانوں کو معاوضہ دیے بغیر بے دخل کیا جارہا ہے۔
حکومت نے ان الزامات کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اہل خاندانوں میں سے زیادہ تر کو مکمل معاوضہ اور باز آبادکاری کے فوائد فراہم کیے جاچکے ہیں، جبکہ چند معاملات میں صرف ضروری قانونی کارروائی باقی ہے۔ حکومت ہند، مدھیہ پردیش حکومت اور کین-بیتوا لنک پروجیکٹ اتھارٹی متاثرہ خاندانوں کو شفاف، منصفانہ اور مقررہ وقت میں معاوضہ اور باوقار باز آبادکاری فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
کین-بیتوا لنک پروجیکٹ نیشنل پرسپیکٹو پلان کے تحت ہندوستان کا پہلا بڑا دریائی رابطہ منصوبہ ہے، جس کا مقصد کین ندی کے اضافی پانی کو بیتوا ندی کی طرف منتقل کرکے مدھیہ پردیش اور اترپردیش کے بندیل کھنڈ خطے میں آبپاشی، پینے کے پانی اور پن بجلی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
منصوبے سے 10.62 لاکھ ہیکٹر اراضی کو آبپاشی کی سہولت، تقریباً 62 لاکھ افراد کو پینے کا پانی اور 103 میگاواٹ بجلی کی پیداوار متوقع ہے۔ منصوبے کی مجموعی تخمینہ لاگت 44,604.99 کروڑ روپے ہے، جس میں جولائی 2026 تک 12,445.85 کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ منصوبے پر عمل درآمد کین-بیتوا لنک پروجیکٹ اتھارٹی کررہی ہے۔
زمین کے حصول، باز آبادکاری اور ازسرنو آبادکاری کا عمل آر ایف سی ٹی ایل اے آر آر ایکٹ، 2013 اور مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے 13 ستمبر 2023 کو منظور کردہ خصوصی باز آبادکاری پیکیج کے مطابق کیا جارہا ہے۔ حاصل کی گئی زمین کا معاوضہ قانون کے مطابق یا 12.50 لاکھ روپے فی ہیکٹر، جو بھی زیادہ ہو، اس بنیاد پر دیا جارہا ہے۔ مکان، درخت، کنویں، ٹیوب ویل اور دیگر غیر منقولہ اثاثوں کا معاوضہ بھی قانونی دفعات کے مطابق طے کیا گیا ہے۔
اہل خاندانوں کو دیہی پلاٹ کے لیے 7 لاکھ روپے اور شہری پلاٹ کے لیے 6.50 لاکھ روپے دیے جارہے ہیں، جبکہ پلاٹ نہ لینے والے خاندانوں کو 12.50 لاکھ روپے کی یکمشت امداد فراہم کی جارہی ہے۔ شیڈول ایریاز میں اہل درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے خاندانوں کو منصفانہ باز آبادکاری یقینی بنانے کے لیے اضافی مالی مدد بھی دی جارہی ہے۔
حکومت کے مطابق جولائی 2026 تک زرعی اراضی کے معاوضے کے سلسلے میں 10,913 متاثرہ افراد کے لیے 360.66 کروڑ روپے کے ایوارڈ منظور کیے گئے، جن میں سے 320.45 کروڑ روپے یعنی 88.85 فیصد ادا کیے جاچکے ہیں۔ آبادی والے علاقوں میں مکان اور متعلقہ املاک کے لیے 149.63 کروڑ روپے کے ایوارڈ منظور ہوئے ہیں، جن میں سے 93.97 فیصد ادا کیے جاچکے ہیں۔
مجموعی طور پر باز آبادکاری کے لیے 5,039 متاثرہ خاندانوں کی شناخت کی گئی ہے۔ ان کے لیے 629.87 کروڑ روپے کے ایوارڈ منظور کیے گئے، جن میں سے 590.74 کروڑ روپے یعنی 93.78 فیصد ادا کیے جاچکے ہیں۔ باقی ادائیگیاں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کی جائیں گی۔ حکومت نے کہا کہ زمین کے ریکارڈ کی مسلسل تصدیق بھی کی جارہی ہے تاکہ کوئی اہل خاندان فوائد سے محروم نہ رہے۔
جن وشواس پروگرام کے تحت ضلع انتظامیہ نے حال ہی میں کارونڈیا میں بے گھر خاندانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے خصوصی کیمپ لگایا۔ مویشی پروری، سماجی تحفظ، خطِ غربت، لاڈلی بہنا اور لاڈلی لکشمی اسکیموں سے متعلق درخواستوں کو منظوری دی گئی۔ 178 افراد کو طبی خدمات فراہم کی گئیں، آیوش ادویات تقسیم کی گئیں، ہینڈ پمپوں کی مرمت کی گئی اور طلبہ کے لیے اسکالرشپ میپنگ اور کتابوں کی تقسیم بھی کی گئی۔ صرف گزشتہ 10 دنوں میں 86 متاثرہ افراد کے لیے 10.42 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔
حکومت نے کہا کہ یہ حقائق واضح کرتے ہیں کہ میڈیا میں جن احتجاجی مظاہروں کو اجاگر کیا جارہا ہے، وہ گمراہ کن ہیں۔ حالیہ احتجاج میں شامل افراد کے نام منصوبے سے متاثرہ خاندانوں کی فہرست، زمین کے ریکارڈ یا معاوضے کے رجسٹروں میں موجود نہیں ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ سرگرمیاں بڑی حد تک بیرونی عناصر کی جانب سے کی جارہی ہیں، جن کا مقصد منصوبے کے بارے میں گمراہ کن اور حقائق کے منافی بیانیہ پھیلانا ہے۔
************
ش ح ۔ م د۔ م ص
(U : 2130)
(रिलीज़ आईडी: 2299617)
आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English