وزارتِ تعلیم
پارلیمانی سوال: غیر ملکی یونیورسٹیوں کے کیمپس اور ہندوستانی اداروں کے بیرونِ ملک کیمپس
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 AUG 2026 6:35PM by PIB Delhi
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے آسٹریلیا، اٹلی، برطانیہ اورامریکہ کے غیر ملکی اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایف ایچ ای آئی) کو 16 لیٹرز آف انٹینٹ (ایل او آئی) جاری کیے ہیں۔ یو جی سی نے کرناٹک میں چھ، مہاراشٹر میں چھ، دہلی این سی آر میں تین اور تمل ناڈو میں ایک غیر ملکی اعلیٰ تعلیمی ادارے کو ایل او آئی جاری کیے ہیں۔ مہاراشٹر کے چھ ایل او آئی میں سے چار ایف ایچ ای آئی (یونیورسٹی آف یارک، یونیورسٹی آف برسٹل، یونیورسٹی آف ایبرڈین اور الینوائے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) کو ممبئی میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے اجازت نامہ دے دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن اور یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز نے بالترتیب گروگرام اور بنگلورو میں اپنے کیمپس پہلے ہی قائم کر لیے ہیں۔
آئی آئی ٹی مدراس، آئی آئی ٹی دہلی اور آئی آئی ایم احمد آباد نے بالترتیب 2023 میں زنجبار، 2024 میں ابوظہبی اور 2025 میں دبی میں اپنے بیرونِ ملک کیمپس قائم کیے ہیں۔ آئی آئی ایم احمد آباد نے ستمبر 2025 میں دبئی کیمپس میں مشرقِ وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کے پیشہ ور افراد کے لیے جنرل مینجمنٹ پروگرام کے ساتھ ساتھ ایک سالہ فل ٹائم ایم بی اے پروگرام کا آغاز کیا، جس میں 35 طلباء شامل ہیں۔ آئی آئی ٹی مدراس نے 2023 میں زنجبار میں اپنا کیمپس کھولا تھا - جہاں سے اب تک 35 طلباء ڈیٹا سائنس اور اے آئی اور اوشین اسٹرکچرز میں ایم ٹیک کی ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔ 100 سے زائد طلباء ڈیٹا سائنس اور کیمیکل پروسیس انجینئرنگ کے مختلف بی ایس پروگراموں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ آئی آئی ٹی دہلی نے 2024 میں اقوام متحدہ کی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے شہر ابوظہبی میں نو انڈر گریجویٹ (یو جی)، پوسٹ گریجویٹ (پی جی) اور ڈاکٹرل کورسز کے ساتھ اپنا آف شور کیمپس قائم کیا۔ تعلیمی سال 26-2025 میں، اس کیمپس میں 171 طلباء زیرِ تعلیم تھے۔
بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنا انفرادی مرضی اور پسند کا معاملہ ہے، جو کہ مختلف عوامل پر منحصر ہوتا ہے جن میں استطاعت، مالی وسائل تک رسائی، غیر ملکی معاشروں کا تجربہ اور مطالعہ کے مخصوص شعبوں کی صلاحیت شامل ہیں۔ بیورو آف امیگریشن (بی او آئی)، وزارتِ داخلہ کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، 2021 سے 2025 تک بیرونِ ملک جاتے وقت اپنا مقصدِ سفر تعلیم/اسٹڈی ظاہر کرنے والے ہندوستانیوں کی تعداد درج ذیل ہے:
|
سال
|
2021
|
2022
|
2023
|
2024
|
2025
|
|
طلباء کی تعداد
|
445580
|
752100
|
894758
|
760060
|
619264
|
حکومتِ ہند نے، بشمول قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت، اعلیٰ تعلیم میں معیاری تعلیم کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں عوامی مالی اعانت سے چلنے والے تعلیمی اداروں کا انفراسٹرکچر بہتر بنانا، نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ کے معیارات پر پورا اترنے والے نئے اداروں اور کورسز کی منظوری،تحقیق و اختراع کو فروغ دینا اور رسائی کے لیے ڈیجیٹل اقدامات کو وسعت دینا شامل ہیں۔ ان اقدامات نے اداروں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور ملک میں تعلیمی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس کے علاوہ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئی) کو مالی امداد دینا، جوائنٹ/ڈوئل/ٹوئننگ ڈگری پروگراموں کے لیے قواعد و ضوابط جاری کرنا، انٹرنشپ/اپرینٹسشپ ایمبیڈڈ ڈگری پروگرام کے لیے رہنما خطوط، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سیلز کا قیام، پروفیسر آف پریکٹس کے تصور کو فروغ دینا، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے لیے رسائی کے رہنما خطوط و معیارات، قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی کامیابیوں کو ٹریک کرنے کے لیے اتساہ پورٹل (انڈر ٹیکنگ ٹرانسفارمیٹو اسٹریٹجیز اینڈ ایکشنز ان ہائر ایجوکیشن) کا آغاز، لائف اسکلز (جیون کوشل) 2.0 پر نصاب اور رہنما خطوط جاری کرنا اور اساتذہ کی مسلسل صلاحیت سازی کے لیے مالویہ مشن ٹیچرز ٹریننگ پروگرام(ایم ایم ٹی ٹی پی) کا آغاز شامل ہے۔
مجموعی نتیجے کے طور پر، کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2027 میں اب 52 ہندوستانی ادارے شامل ہیں جو کہ ہندوستان کی اب تک کی سب سے بڑی نمائندگی ہے، جبکہ کیو ایس ڈبلیو یو آر 2015 میں صرف 11 ہندوستانی ادارے شامل تھے۔ گلوبل انوویشن انڈیکس (2025) کے مطابق ہندوستان عالمی سطح پر 38 ویں نمبر پر ہے۔ ہندوستان کو سائز، فنڈنگ اور یونیکارن کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹمز (ٹاپ 3) میں شمار کیا جاتا ہے۔
مزید برآں، بین الاقوامی طلباء کو ہندوستان کی طرف راغب کرنے کے لیے، وزارت نے 2018 میں ’اسٹڈی ان انڈیا‘اسکیم کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد مناسب اخراجات پر عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرتے ہوئے ہندوستان کو تعلیم کے عالمی مرکز کے طور پر فروغ دینا ہے۔ اس پروگرام کا ایک اہم حصہ اسٹڈی ان انڈیا (ایس آئی آئی) پورٹل ہے، جو آنے والے تمام غیر ملکی طلباء کے لیے داخلے اور ویزا کی درخواستوں کی یکجا سہولت فراہم کرتا ہے اورہندوستانی اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے ایک اہم راستے کے طور پر کام کرتا ہے۔
ملک میں 1,289 یونیورسٹیاں، 48,246 کالجز اور 15,221 خود مختارادارے موجود ہیں، جن میں سے 87 یونیورسٹیاں، 5,380 کالجز اور 2,426 خود مختار ادارے مہاراشٹر میں واقع ہیں۔ مہاراشٹر اعلیٰ تعلیم میں طلباء کے اندراج کے لحاظ سے ملک کی سب سے بہترین سات ریاستوں میں شامل ہے، جہاں تقریباً 46.53 لاکھ طلباء زیرِ تعلیم ہیں۔ مہاراشٹر میں اعلیٰ تعلیمی نظام کو ڈیجیٹل انضمام، معیاری منظوری، آن لائن تعلیم، ادارہ جاتی حکمرانی اور مالی اعانت جیسے اقدامات مثلاً اکیڈمک بینک آف کریڈٹس (اے بی سی)، آٹومیٹڈ پرماننٹ اکیڈمک اکاؤنٹ رجسٹری (اے پی اے اے آر)، سوایام، سامرتھ اور پی ایم ودیا لکشمی کے ذریعے کافی تقویت ملی ہے۔
حکومت نے جون 2023 میں تعلیمی لحاظ سے محروم/کم سہولت والے علاقوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 12,926.10 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ (جس میں آر یو ایس اے کے سابقہ مراحل کی پابندیاں بھی شامل ہیں) 24-2023 سے 26-2025 کی مدت کے لیے پرادھان منتری اوچتر شکشہ ابھیان (پی ایم-اوشا) کی شکل میں راشٹریہ اوچتر شکشہ ابھیان آر یو ایس اے کے تیسرے مرحلے کا آغاز کیا ہے۔ مہاراشٹر میں، راشٹریہ اوچتر شکشہ ابھیان (آر یو ایس اے) کے تحت، اسکیم کے مختلف اجزاء کے تحت کل 144 منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، جن کے لیے منظور شدہ رقم 1,431.31 کروڑ روپے (مرکزی حصہ: 863.37 کروڑ روپے) ہے۔
یہ معلومات تعلیم کے مرکزی وزیرِ مملکت ڈاکٹر سُکانتا مجمدار نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
***
(ش ح ۔ک ح۔م ذ(
U. No. 2109
(ریلیز آئی ڈی: 2299524)
وزیٹر کاؤنٹر : 19