جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جل جیون مشن کے سات سال مکمل، دیہی علاقوں میں نمایاں تبدیلی: نل کے ذریعے پینے کے پانی کی فراہمی کا دائرہ 16.7 فیصد سے بڑھ کر 82 فیصد سے زیادہ ہوا


اب تک2 لاکھ سے زائد گاؤں کی’ہر گھر جل‘ کے طور پر تصدیق

جل جیون مشن 2.0 کے تحت اب خدمات کی فراہمی، آبی ذرائع کے پائیدار انتظام، برادری کی شراکت داری اور طویل مدتی فعالیت پرتوجہ مرکوز

प्रविष्टि तिथि: 14 AUG 2026 5:35PM by PIB Delhi

ملک کے 80ویں یوم آزادی کی تقریبات کی تیاریوں کے درمیان حکومت ہند کا اہم دیہی پینے کے پانی کا پروگرام جل جیون مشن ملک بھر کے دیہی گھرانوں کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلی لانے کی سمت میں اپنی سات سالہ پیش رفت مکمل کرنے جا رہا ہے۔  عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 15 اگست 2019 کو جل جیون مشن کا آغاز کیا تھا۔ اس مشن کا مقصد ہر دیہی گھرانے کو باقاعدہ اور طویل مدتی بنیاد پر فعال گھریلو نل کنکشن کے ذریعے صاف اور وافر مقدار میں پینے کا پانی فراہم کرنا ہے۔

مشن کے آغاز کے وقت ملک کے صرف 3.23 کروڑ دیہی گھرانوں، یعنی تقریباً 16.72 فیصد دیہی گھرانوں کو نل کے ذریعے پانی کی سہولت حاصل تھی۔ آج 15.91 کروڑ سے زیادہ دیہی گھرانوں کو ان کے گھروں میں نل کے ذریعے پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جو تمام دیہی گھرانوں کا 82.24 فیصد ہے۔ مشن کے آغاز سے اب تک 12.68 کروڑ سے زائد اضافی دیہی گھرانوں کو نل کے پانی کے کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں، جس سے دیہی ہندوستان میں محفوظ اور صاف پینے کے پانی تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

ایک اہم سنگ میل کے طور پر مجموعی طور پر 188 اضلاع، 1,090 بلاکس، 1.01 لاکھ گرام پنچایتوں اور 2.04 لاکھ گاؤں کو ’ہر گھر جل‘ (ایچ جی جے) کے طور پر تصدیق کی جا چکی ہے۔ (ریاست کے لحاظ سے ’ہر گھر جل‘ گرام پنچایتوں اور گاؤں کی تفصیلات ذیل کے ضمیمے میں دی گئی ہیں۔) اس کے علاوہ، 9.34 لاکھ (90.86 فیصد) اسکولوں اور 9.73 لاکھ (86.21 فیصد) آنگن واڑی مراکز میں نل کے ذریعے پینے کے پانی کے کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں، جو مشن کے دائرۂ کار اور رسائی کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ معلومات جل جیون مشن کے مربوط انتظامی معلوماتی نظام (جے جے ایم-آئی ایم آئی ایس) پورٹل : https://ejalshakti.gov.in/jjmreport/JJMIndia.aspxپر ہروقت عوام کے لیے دستیاب ہیں۔

آزادی کے بعد سے دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی قومی ترقی کی ترجیحات میں شامل رہی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران نیشنل واٹر سپلائی پروگرام (1954)، ایکسیلریٹڈ رورل واٹر سپلائی پروگرام (73-1972)، نیشنل ڈرنکنگ واٹر مشن (1986)، سوجل دھارا (2002) اور نیشنل رورل ڈرنکنگ واٹر پروگرام (این آر ڈی ڈبلیو پی) سمیت متعدد اقدامات نے دیہی علاقوں میں محفوظ اور صاف پینے کے پانی تک رسائی کو وسعت دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان پروگراموں نے دیہی آبی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور پانی کے معیار اور پائیداری سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کی بنیاد فراہم کی۔

ان کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے جل جیون مشن نے گاؤں کی سطح پر کوریج سے گھریلو سطح پر خدمات کی فراہمی کی جانب ایک اہم تبدیلی کی، جس کے تحت فعال گھریلو نل کنکشن کے ذریعے باقاعدہ اور طویل مدتی بنیاد پر مقررہ معیار (بی آئی ایس: 10500) کے مطابق مناسب مقدار (55 لیٹر فی کس یومیہ) میں پینے کے پانی کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ پانی قابلِ استطاعت خدماتی فیس کے عوض فراہم کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دیہی برادریوں کے معیار زندگی میں بہتری آ رہی ہے۔

اس مشن نے دور دراز ذرائع سے پانی لانے کی مشقت کم کرکے لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، روزگار اور دیگر مفید سرگرمیوں کے لیے زیادہ وقت فراہم کرنے میں مدد دی ہے۔ گھروں کے اندر نل کے ذریعے پانی کی دستیابی نے دیہی برادریوں میں صحت، صفائی ستھرائی، وقار اور مجموعی معیار زندگی کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ مشن کے نفاذ کا طریقۂ کار وسیع پیمانے پر عوامی شراکت داری، گرام پنچایتوں کی شمولیت اور مقامی سطح پر ملکیت کے اصول پر مبنی ہے، جس نے ملک بھر میں دیہی پینے کے پانی کے انتظام میں نمایاں تبدیلی لانے میں مدد کی ہے۔

مشن کی کامیابیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے مرکزی حکومت نے جل جیون مشن کی مدت دسمبر 2028 تک بڑھا دی ہے۔ گزشتہ سات برسوں کے دوران جل جیون مشن بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے پروگرام سے ترقی کرکے پائیدار آبی تحفظ کے لیے عوام پر مرکوز ایک تحریک بن چکا ہے۔ مشن کے تحت آبی ذرائع کی طویل مدتی پائیداری اور قابلِ اعتماد دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے زیرزمین پانی کی سطح میں اضافے، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، استعمال شدہ گھریلو پانی کے انتظام، پانی کے تحفظ اور گاؤں کی سطح پر آبی تحفظ کی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ گرام پنچایتوں، گاؤں کی پانی و صفائی کمیٹیوں، اپنی مدد آپ گروپوں اور مقامی برادریوں کو دیہی پانی کی فراہمی کے اثاثوں کے انتظام اور ان کی پائیداری میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنایا جا رہا ہے۔

جل جیون مشن 2.0 کے تحت پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کا محکمہ، جل سنچئے جن بھاگیداری (جے ایس جے بی) کے ذریعے آبی ذرائع کی پائیداری پر بھی توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ یہ عزت مآب وزیر اعظم کے اس پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ آبی تحفظ کو قومی ترجیح بناتے ہوئے ملک کو آبی تحفظ کے لحاظ سے محفوظ بنایا جائے۔ جل سنچئے جن بھاگیداری(آبی ذخیرہ، عوامی شراکت داری): کیچ دی رین (جے ایس جے بی: سی ٹی آر) – 2026 کا آغاز یکم جون 2026 کو کیا گیا، جس سے جل سنچئے جن بھاگیداری کے دائرۂ کار کو مزید وسعت دی گئی۔ جے ایس جے بی اقدام کا مقصد بارش کے پانی کو کم لاگت والے محفوظ کرنے کے ڈھانچے کی تعمیر  کے لیے برادری کی سرگرمیوں اور عوامی شمولیت کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ اس مقصد کو گرام پنچایتوں، گاؤں کی پانی و صفائی کمیٹیوں، اپنی مدد آپ گروپوں، اسکولوں، کالجوں اور سماجی اداروں کی فعال شمولیت کے ذریعے یقینی بنایا جا سکتا ہے، تاکہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، زیرزمین پانی کی سطح میں اضافے اور طویل مدتی آبی تحفظ کو فروغ دیا جا سکے۔

حکومت ہند نے پانی کے معیار کی نگرانی اور جانچ پر بھی بھرپور توجہ مرکوز کی ہے۔ ملک بھر میں پانی کے معیار کی جانچ کرنے والی تجربہ گاہوں کے وسیع نیٹ ورک، تربیت یافتہ برادری کے ارکان اور فیلڈ ٹیسٹنگ کٹس (ایف ٹی کے) کے ذریعے دیہی برادریاں پینے کے پانی کے معیار کی نگرانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ اس سے جواب دہی کو مضبوط بنانے اور سب کے لیے محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد مل رہی ہے۔

جل جیون مشن کے آٹھویں سال میں داخل ہونے کے موقع پر جل شکتی کی وزارت کا پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کا محکمہ اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ہر دیہی گھرانے کو باقاعدگی سے محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا، جبکہ دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کے کمیونٹی کی زیرقیادت انتظام اور پائیداری کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ ریاستوں، مرکز کے زیرانتظام علاقوں، ضلع انتظامیہ، گرام پنچایتوں، گاؤں کی پانی و صفائی کمیٹیوں،پہلی صف کے کارکنوں اور دیہی برادریوں کی اجتماعی کوششیں ملک کے ہر دیہی گھرانے کے لیے ’ہر گھر جل‘ اور آبی تحفظ کے وژن کو مسلسل آگے بڑھاتی رہیں گی۔

ضمیمہ: ہر گھر جل (ایچ جی جے) گرام پنچایتوں (جی پی) اور گاؤں کی ریاست کے لحاظ سے تفصیلات۔

***

ش ح۔م ع ن۔ ش ب ن

U- 2114


(रिलीज़ आईडी: 2299521) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी