وزارت آیوش
azadi ka amrit mahotsav

سی سی آر اے ایس-این آئی آئی ایم ایچ نے طبی مخطوطات کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے سیوا دھی میوزیم اور انڈولوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ مفاہمت  نامے  پر دستخط کیے


مفاہمت نامے سے کیرالہ کے طبی ورثے کے تحفظ اور دستاویز بندی میں مدد ملے گی

प्रविष्टि तिथि: 14 AUG 2026 3:11PM by PIB Delhi

ہندوستان کے روایتی طبی علمی ورثے کے تحفظ، دستاویزی ترتیب اور اسے وسیع پیمانے پر قابلِ رسائی بنانے کی سمت ایک اہم قدم کے طور پر، وزارتِ آیوش، حکومتِ ہند کے تحت مرکزی کونسل برائے تحقیقِ آیورویدک علوم (سی سی آر اے ایس) کے ماتحت حیدرآباد میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین میڈیکل ہیریٹیج (این آئی آئی ایم ایچ) نے کیرالہ کے کوٹایم ضلع کے کمارانالور میں واقع سیوا دھی میوزیم اینڈ انڈولوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس ای ایم آئی آر آئی) کے ساتھ اس کے طبی مخطوطات کے ذخیرے کی منظم ڈیجیٹلائزیشن اور وضاحتی فہرست کی تیاری کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔

کمارانلور اورانما دیواسوام کے زیر انتظام سیوا دھی میوزیم اینڈ انڈولوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس ای ایم آئی آر آئی) نے مندر کے ریکارڈ سمیت 30,000 سے زائد مخطوطات کا ایک وسیع ذخیرہ محفوظ کر رکھا ہے۔ یہ مفاہمت کی یادداشت کیرالہ کی مالامال طبی اور علمی روایات سے وابستہ قیمتی مخطوطاتی ذخیرے کے تحفظ کے لیے ایک اہم مشترکہ اقدام ہے۔

اس ادارے کے زیرِ تحفظ مخطوطات کے ذخیرے میں آیوروید اور روایتی علم کے متعلقہ شعبوں سے وابستہ نایاب اور تاریخی اہمیت کی حامل تصانیف شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے مخطوطات ہندوستانی علمی نظام میں طبی افکار کے ارتقا، علاج کے طریقوں، ادویاتی مواد، تشخیصی تصورات اور علمی روایات کو سمجھنے کے لیے اہم ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

تعاون کے اس فریم ورک کے تحت، سی سی آر اے ایس-این آئی آئی ایم ایچ سینکڑوں طبی مخطوطات کی ڈیجیٹلائزیشن اور ان کی وضاحتی فہرست کی تیاری کے لیے تکنیکی اور علمی مہارت فراہم کرے گا۔ ڈیجیٹلائزیشن کے عمل سے مخطوطات کی اعلیٰ معیار کی ڈیجیٹل نقول تیار کرنے میں مدد ملے گی، جس سے ان کے طویل مدتی تحفظ میں معاونت حاصل ہوگی اور نازک اور تاریخی اہمیت کے حامل مواد کو بار بار جسمانی طور پر سنبھالنے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔

اس اقدام کا ایک اہم جزو ایک جامع وضاحتی فہرست کی تیاری ہوگا۔ اس فہرست میں آیوش مخطوطات ایڈوانسڈ ریپوزٹری کے طے شدہ فارمیٹ کے مطابق، جہاں دستیاب ہو، مخطوطے سے متعلق ضروری کتابی اور مخطوطاتی معلومات درج کی جائیں گی، جن میں عنوان، مصنف، موضوع، رسم الخط، زبان، مواد، طبعی ابعاد، اوراق کی تفصیلات، حالت، ماخذ اور دیگر متعلقہ خصوصیات شامل ہوں گی۔ اس طرح کی منظم دستاویز بندی سے مخطوطات کی تلاش اور شناخت میں آسانی ہوگی اور علمی و تحقیقی ماہرین کو مستقبل کی تحقیق کے لیے متعلقہ بنیادی ماخذ کی شناخت اور ان تک رسائی کے لیے قابلِ اعتماد معلومات فراہم ہوں گی۔

یہ اقدام گیان بھارتَم مشن اور حکومتِ ہند کی جانب سے ہندوستان کے مخطوطاتی ورثے کے تحفظ، ڈیجیٹلائزیشن اور وسیع پیمانے پر ترسیل کے لیے کی جانے والی وسیع تر کوششوں کے تناظر میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ طبی مخطوطات اس ورثے کا ایک اہم حصہ ہیں، جو صدیوں کے دوران جمع ہونے والے اس علم کی عکاسی کرتے ہیں جو نسل در نسل علما اور طبی ماہرین کے ذریعے منتقل ہوتا رہا ہے۔

یہ تعاون مخطوطات شناسی، متنی مطالعات، ڈیجیٹل تحفظ اور آیورویدک ادبی تحقیق کے شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون کو بھی مزید مستحکم کرے گا۔ اس کے نتیجے میں تیار ہونے والے ڈیجیٹل وسائل اور وضاحتی فہرستوں سے محققین، ماہرینِ تعلیم، تاریخِ طب کے ماہرین اور آیوروید و ہندوستانی علمی نظام کے مطالعے سے وابستہ علما کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

اس موقع پر سی سی آر اے ایس کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ویدیا ربی نارائن آچاریہ نے کہا کہ طبی مخطوطات کا تحفظ محض محفوظ دستاویزات مرتب کرنے کی ایک مشق نہیں، بلکہ ہندوستان کے علمی ورثے کے تحفظ کا ایک لازمی جزو ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ منظم ڈیجیٹلائزیشن اور علمی دستاویز بندی سے اس امر کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ روایتی طبی علم کے نایاب ماخذ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ اور قابلِ رسائی رہیں، جبکہ اس سے شواہد پر مبنی تحقیق اور کلاسیکی متون کے تنقیدی مطالعے کو بھی فروغ ملے گا۔

سیوا دھی میوزیم اینڈ انڈولوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سیمیری) کے صدر ڈاکٹر سی ایس انّی نے کیرالہ کے وسیع ورثے، بالخصوص کمارانلور اور کوٹایم خطے کے ورثے کو منظرِ عام پر لانے میں اس تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ سی سی آر اے ایس-این آئی آئی ایم ایچ کے سربراہ ڈاکٹر گولی پنچالا پرساد نے مخطوطات شناسی، خصوصاً آیوروید کے تناظر میں درپیش چیلنجوں اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر اظہارِ خیال کیا۔

اس موقع پر متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی، جن میں سیمیر(ایس ای ایم آئی آر آئی) کے کیوریٹر ڈاکٹر ایس راجندو، ریسرچ آفیسر (آیوروید) ڈاکٹر سنتوش ایس مانے اور نئی دہلی میں سی سی آر اے ایس کے ریسرچ آفیسر (آیوروید) ڈاکٹر راکیش نارائنن کے علاوہ کمارانلور اورانما دیواسوام کی نمائندگی کرنے والے دیگر اہم عہدیداران شامل تھے۔

حیدرآباد میں قائم سی سی آر اے ایس-نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین میڈیکل ہیریٹیج (این آئی آئی ایم ایچ) کی ایک خصوصی ماہر ٹیم نے ادارے کے ’آیوش مخطوطات اور نایاب کتابوں کے ذخیرے کی جمع آوری، ڈیجیٹلائزیشن اور فہرست سازی‘ منصوبے کے تحت مخطوطات کی موقع پر باریک بینی سے ڈیجیٹلائزیشن کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔

یہ مفاہمت  نامہ سی سی آر اے ایس اور وزارتِ آیوش کے اس عزم کی عکاسی کرتا   ہے کہ ہندوستان کے روایتی طبی علم کی سائنسی دستاویز بندی، تحفظ اور ترسیل کو مستحکم کیا جائے، ساتھ ہی ایسے اداروں اور مخطوطاتی ذخیروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جائے جہاں قیمتی مخطوطات کے ذخیرے موجود ہیں۔

توقع ہے کہ یہ تعاون ایک منظم اور قابلِ رسائی علمی وسیلے کی تشکیل میں معاون ثابت ہوگا، جو مستقبل کی تحقیق، تنقیدی تدوین، علمی اشاعتوں اور دیگر ایسے اقدامات میں مدد فراہم کرے گا جن کا مقصد ہندوستان کے مخطوطاتی ورثے کو عصرِ حاضر کے علمی اور تحقیقی نظام کا حصہ بنانا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین میڈیکل ہیریٹیج (این آئی آئی ایم ایچ)، حیدرآباد، وزارتِ آیوش، حکومتِ ہند کے تحت سی سی آر اے ایس کا ایک خصوصی ادارہ ہے، جو ہندوستانی نظامِ طب کے تاریخی اور ادبی ورثے کی تحقیق، دستاویز بندی اور تحفظ کے لیے وقف ہے۔ اس کی سرگرمیوں میں ادبی تحقیق، طبی مخطوطات کی دستاویز بندی، متنی مطالعات، ڈیجیٹلائزیشن اور ہندوستان کے طبی ورثے کے مطالعے کے لیے علمی وسائل کی تیاری شامل ہے۔

کمارانلور، کوٹایم میں واقع سیوا دھی میوزیم اینڈ انڈولوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ وسطی تراونکور کی ثقافتی، سماجی اور انتظامی تاریخ کے تحفظ کے لیے وقف ایک ورثہ و تحقیقی مرکز ہے۔ یہ تاریخی کمارانلور دیوی مندر کی روایتی انتظامی مجلس، کمارانلور اورانما دیواسوام کی ملکیت اور زیرِ انتظام ہے۔

 

********

ش ح۔ش ت۔ر ب

U-2092                          


(रिलीज़ आईडी: 2299447) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil