الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
فیوچر اسکلز پرائم ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں ہنرمندی کے ذریعے بھارت کی مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ڈیجیٹل افرادی قوت کو مضبوط بنانا
فیوچر اسکلز پرائم پورٹل پر 34 لاکھ سے زائد امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی ہے اور13 لاکھ سے زائد امیدواروں کو سرٹیفکیٹ دیئے گئے
प्रविष्टि तिथि:
14 AUG 2026 11:46AM by PIB Delhi
عزت مآب وزیر اعظم کی دوراندیش قیادت میں حکومت ہند مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کر رہی ہے۔ کلیدی شعبوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، بڑے پیمانے پر اعداد و شمار کا تجزیہ، سائبر سکیورٹی، اشیا کا باہمی مربوط نظام (آئی او ٹی)، سیمی کنڈکٹرز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز پر مشتمل نظام کے لیے ان مہارتوں کی ضرورت ہے۔
بھارت اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہنرمندی کا ایک بڑا مرکز ہے اور باصلاحیت افراد کی مضبوط فراہمی اور ہنرمند افرادی قوت کے لیے جانا جاتا ہے۔ بھارت کے اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے شعبے کی اعلیٰ معیار کی افرادی قوت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسٹینفورڈ اے آئی انڈیکس جیسے عالمی جائزوں کے مطابق، مصنوعی ذہانت کو اپنانے، اس کے لیے تیاری اور اس کے فروغ پاتے نظام کے اعتبار سے بھارت دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔ بھارت دنیا بھر کی سیمی کنڈکٹر ڈیزائن افرادی قوت کا تقریباً 20 فیصد بھی فراہم کرتا ہے، جو ہنرمندی اور باصلاحیت افرادی قوت کی ترقی پر اس کی توجہ کا عکاس ہے۔ مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر، اس ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے ڈیجیٹل طور پر ہنرمند افرادی قوت تیار کرنا نہایت اہم ہو گیا ہے۔
حکومت ملک بھر کے نوجوانوں، بشمول شمال مشرقی اور ہمالیائی خطوں کے نوجوانوں، کی ڈیجیٹل ہنرمندی اور صلاحیت سازی کو ترجیح دے رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف وزارتیں اور محکمے صنعت کے اشتراک اور تعلیمی و تحقیقی اداروں کی فعال شرکت سے کئی اہم پروگرام نافذ کر رہے ہیں، جن کا مقصد ڈیجیٹل خواندگی، روزگار کے لیے موزوں صلاحیتوں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سائبر سکیورٹی، اعداد و شمار کے تجزیے، ڈرون ٹیکنالوجی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سیمی کنڈکٹر ڈیزائن جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔
ڈیجیٹل انڈیا پروگرام:
اسی حکمتِ عملی کے تحت حکومتِ ہند نے جولائی 2015 میں ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کا آغاز کیا تھا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی مہارتوں کے میدان میں بھارت کی برتری برقرار رہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات، بشمول فیوچر اسکلز پرائم پروگرام، کے ذریعے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں ہنرمندی کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز ہر شہری کی زندگی کو بہتر بنائیں، بھارت کی ڈیجیٹل معیشت کو وسعت دیں اور ملک میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مزید مواقع پیدا کریں۔ ان پروگراموں کے ذریعے ملک بھر کے نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کی بڑے پیمانے پر شرکت ممکن ہوئی ہے۔ اس پروگرام کی رسائی کا نظام نہ صرف فیوچر اسکلز پرائم پورٹل کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے بلکہ سی-ڈیک اور نیلیٹ(این آئی ایل آئی ٹی) کے وسائل مراکز بھی اس میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
فیوچر اسکلز پرائم پروگرام:
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت نے نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں امیدواروں کی ہنرمندی، ازسرِنو ہنرمندی اور مہارتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے ناسکام (نیشنل ایسوسی ایشن آف سافٹ ویئر اینڈ سروسز کمپنیز) کے اشتراک سے ’’فیوچر اسکلز پرائم‘‘ (ایف ایس پی) کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا ہے، جس کا مقصد بھارت کو جدید ترین ڈیجیٹل صلاحیتوں سے مالا مال ملک بنانا ہے۔ فیوچر اسکلز پرائم صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کورسز فراہم کرتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم ایک لچک دار نظام کے تحت کام کرتا ہے، جس میں مہارتوں کی طلب کے مطابق مہارت اور ہنرمندی کے کورسز کو مسلسل جدید بنانے کی سہولت موجود ہے۔
اہم خصوصیات یہ ہیں:
● مصنوعی ذہانت، بڑے پیمانے پر اعداد و شمار کا تجزیہ، اشیا کا باہمی مربوط نظام، سائبر سکیورٹی، بلاک چین، اے آر/وی آر وغیرہ جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں ہنرمندی، ازسرِنو ہنرمندی اور مہارتوں کو مزید بہتر بنانے کی سہولت۔
● اس سے متعلقہ کورسز صنعت کے ماہرین سے مشاورت کے بعد تیار کیے جاتے ہیں، تاکہ انہیں روزگار کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ رکھا جا سکے۔
● پورٹل تک کسی بھی وقت اور کہیں سے بھی آن لائن رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، جہاں امیدوار اپنی صلاحیت اور پیشہ ورانہ خواہشات کے مطابق مہارت کے سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں: https://futureskillsprime.in/
● فی الحال ایف ایس پی پورٹل پر صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ 500 سے زائد کورسز دستیاب ہیں اورمختلف عالمی او ای ایم شراکت دار ایف ایس پی ماحولیاتی نظام کے حصے کے طور پر تعاون کر رہے ہیں ۔
● اب تک 34 لاکھ سے زائد امیدواروں نے پورٹل پر رجسٹریشن کرائی ہے، جن میں سے 23 لاکھ سے زائد امیدوار مختلف کورسز میں داخلہ لے کر تربیت حاصل کر چکے ہیں، جبکہ 13 لاکھ سے زائد امیدوار کورسز مکمل کرکے سند حاصل کر چکے ہیں۔ ان میں 41 فیصد خواتین شامل ہیں اور 86 فیصد سے زائد امیدوار درجۂ دوم اور درجۂ سوم کے شہروں سے تعلق رکھتے ہیں۔
● اس کے علاوہ، 10 ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے 22 سی-ڈیک/نیلیٹ مراکز کو مرکزی اور معاون وسائل مراکز کے طور پر منظم کیا گیا ہے۔ ان مراکز کو سرکاری افسران کو تربیت دینے اور تربیتی کیمپ منعقد کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
● مجموعی طور پر، وسائل مراکز نے 420 سے زائد تربیتی کیمپوں کے تحت 32,700 سے زائد سرکاری افسران، 2,367 تربیت کاروں اور 40,400 سے زائد امیدواروں کو تربیت فراہم کی ہے۔
فیوچر اسکلز پرائم پروگرام کے تحت ریاست کے لحاظ سے داخلہ لینے والے،تربیت حاصل کرنے والے اور کورس مکمل کرکے سند حاصل کرنے والے امیدواروں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
ریاست
|
اندراج شدہ/تربیت یافتہ
|
تکمیل/سند یافتہ
|
|
انڈمان اور نکوبار
|
230
|
108
|
|
آندھرا پردیش
|
4,34,489
|
2,44,096
|
|
اروناچل پردیش
|
150
|
52
|
|
آسام
|
6,074
|
2,874
|
|
بہار
|
45,402
|
23,740
|
|
چنڈی گڑھ
|
1,702
|
742
|
|
چھتیس گڑھ
|
11,853
|
5,767
|
|
دادرہ اور نگر حویلی اور دمن اور دیو
|
146
|
71
|
|
گوا
|
1,065
|
302
|
|
گجرات
|
26,555
|
11,505
|
|
ہریانہ
|
36,033
|
19,173
|
|
ہماچل پردیش
|
4,258
|
1,791
|
|
جموں و کشمیر
|
6,339
|
3,630
|
|
جھارکھنڈ
|
15,750
|
6,986
|
|
کرناٹک
|
2,10,043
|
1,51,701
|
|
کیرالہ
|
1,42,732
|
94,920
|
|
لداخ
|
149
|
31
|
|
لکشدیپ
|
38
|
23
|
|
مدھیہ پردیش
|
71,396
|
31,826
|
|
مہاراشٹر
|
2,23,044
|
1,15,703
|
|
منی پور
|
653
|
232
|
|
میگھالیہ
|
556
|
295
|
|
میزورم
|
91
|
40
|
|
ناگالینڈ
|
250
|
118
|
|
دہلی کے این سی ٹی
|
38,562
|
17,691
|
|
اڈیشہ
|
80,386
|
58,142
|
|
پڈوچیری
|
7,298
|
6,133
|
|
پنجاب
|
23,158
|
12,504
|
|
راجستھان
|
23,562
|
10,716
|
|
سکم
|
753
|
371
|
|
تمل ناڈو
|
5,89,429
|
3,61,336
|
|
تلنگانہ
|
1,52,207
|
84,147
|
|
تریپورہ
|
1,663
|
1,146
|
|
اتر پردیش
|
1,24,752
|
72,892
|
|
اتراکھنڈ
|
12,439
|
6,359
|
|
مغربی بنگال
|
46,650
|
23,357
|
|
دیگر
|
45,557
|
19,625
|
سال کے لحاظ سے فنڈز کی تخصیص اور استعمال کی تفصیلات:
فیوچر اسکلز پرائم پروگرام مرکزی شعبے کی اسکیم کے طور پر نافذ کیا جاتا ہے، اس لیے فنڈز مرکزی سطح پر مختص کیے جاتے ہیں اور ریاست وار تقسیم نہیں کیے جاتے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سال وار مختص کیے گئے اور استعمال شدہ فنڈز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
سال وار
|
مختص فنڈز
|
استعمال شدہ فنڈز
|
|
مالی سال 23-2022
|
روپے 26.59 کروڑ
|
روپے 25.72 کروڑ
|
|
مالی سال24-2023
|
روپے 23.58 کروڑ
|
روپے 23.55 کروڑ
|
|
مالی سال25-2024
|
روپے 55.97 کروڑ
|
روپے 51.94 کروڑ
|
|
مالی سال26-2025
|
روپے 98.479 کروڑ
|
روپے 80.81 کروڑ
|
|
مالی سال27-2026
|
روپے 137.17 کروڑ
|
--
|
شمال مشرقی اور ہمالیائی خطے بشمول سکم میں فیوچر اسکلز پرائم پروگرام کی رسائی:
● فیوچر اسکلز پرائم پورٹل کے ذریعے مجموعی طور پر 33,000 سے زائد امیدواروں نے داخلہ لیا یا تربیت حاصل کی ہے، جبکہ 16,000 سے زائد امیدوار کورس مکمل کرکے سند حاصل کر چکے ہیں۔ ان میں سکم کے 700 سے زائد امیدوار بھی شامل ہیں۔
● اس کے علاوہ، نیلیٹ مراکز کے ذریعے اب تک 4,000 سے زائد سرکاری افسران، جن میں سکم کے 500 سے زائد افسران شامل ہیں، اور تربیتی کیمپوں کے تحت 5,400 سے زائد امیدواروں، جن میں سکم کے 800 سے زائد امیدوار شامل ہیں، جنہیں تربیت دی جا چکی ہے۔
● اس کے علاوہ ایس ایس سی-ناسکام نے 17 ریاستی حکومتوں، جن میں آسام، تریپورہ، میگھالیہ، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش شامل ہیں اور 2,000 سے زائد تعلیمی اداروں و جامعات، جن میں شمال مشرقی اور ہمالیائی خطے کے 14 ادارے بھی شامل ہیں، کے ساتھ قومی کریڈٹ فریم ورک (این سی آر ایف) کی دفعات کے تحت فیوچر اسکلز پرائم کے کورسز کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔
شمال مشرقی خطےبشمول سکم میں دیگر اقدامات:
انڈیا اے آئی مشن:
حکومت ہند نے ملک میں مجموعی طور پرمصنوعی ذہانت کے نظام کی ترقی کے لیے انڈیا اے آئی مشن کی منظوری دی ہے۔
- انڈیا اے آئی مشن کے فیوچر اسکلز ستون کے تحت انڈیا اے آئی ڈیٹا اور اے آئی لیبز قائم کی جا رہی ہیں، تاکہ بالخصوص درجۂ دوم اور درجۂ سوم کے شہروں میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور متعلقہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں عملی تربیت فراہم کرکے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار باصلاحیت افرادی قوت تیار کی جا سکے۔
- ان ڈیٹا اور اے آئی لیبز کا بنیادی مقصد صلاحیت سازی اور ہنرمندی کو فروغ دینا ہے۔ اسی مناسبت سے یہ لیبز تربیت اور سرٹیفیکیشن کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔
- اب تک نیلیٹ مراکز کے ذریعے 27 انڈیا اے آئی ڈیٹا اور اے آئی لیبز قائم کی جا چکی ہیں، جن میں شمال مشرقی خطے کی ریاستوں کے 10 اور ہمالیائی خطے کے 5 ادارے شامل ہیں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (نیلیٹ):
● نیلیٹ اطلاعات، الیکٹرانکس اور مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی ای سی ٹی) کے شعبے میں تعلیم، ہنرمندی اور ڈیجیٹل صلاحیت سے متعلق پروگرام منعقد کرتا ہے، جن میں ڈرون آپریشن، ڈیٹا اینالیٹکس اور سائبر سکیورٹی بھی شامل ہیں۔ یہ پروگرام ڈگری اور ڈپلومہ کورسز کے ساتھ ساتھ مہارت پر مبنی طویل مدتی اور قلیل مدتی کورسز کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں۔
● نیلیٹ کے پاس ملک بھر میں اپنے 56 مراکز اور 9,000 سے زائد شراکت دار اداروں کا وسیع نیٹ ورک ہے، جس کے ذریعے ملک کے دیہی اور پسماندہ علاقوں تک بھی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
● ان 56 مراکز میں سے 22 شمال مشرقی خطے میں واقع ہیں، جن میں ریاست سکم کا گنگٹوک مرکز بھی شامل ہے۔
● اس نیٹ ورک کے ذریعے نیلیٹ نے گزشتہ 3 برسوں کے دوران مختلف نوعیت کے پروگراموں کے تحت 31 لاکھ سے زائد امیدواروں کو تربیت فراہم کی ہے، جن میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے متعلق تربیت بھی شامل ہے۔
● ان میں شمال مشرقی خطے کے 3.05 لاکھ سے زائد امیدوار شامل ہیں، جن میں ریاست سکم کے 20,000 سے زائد امیدوار بھی شامل ہیں۔
یہ معلومات الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے 12 اگست 2026 کو لوک سبھا میں فراہم کیں۔
***
ش ح۔ م م ع –ص ج
U-2081
(रिलीज़ आईडी: 2299329)
आगंतुक पटल : 10