سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پارلیمانی سوال: اعلیٰ تعلیم کے لیے انسپا ئر-ایس ایچ ای اسکالرشپ
प्रविष्टि तिथि:
13 AUG 2026 3:48PM by PIB Delhi
حکومت نے اپنی اہم انسپا ئر-ایس ایچ ای (اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپ) اسکیم کو ختم نہیں کیا ہے۔ اس اسکیم کو اس وقت مزید بہتر بنانے کے لیے ازسرِنو تشکیل دیا جا رہا ہے، تاکہ اس کے مقاصد کو مزید مضبوط کیا جا سکے، اس کے نفاذ کے طریقۂ کار کو بہتر بنایا جا سکے اور اسے سائنس کی تعلیم و تحقیق میں ابھرتی ہوئی ترجیحات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
اسکیم کے آغاز سے اب تک ریاست کے لحاظ سےتقسیم کی گئی اسکالرشپ کی مجموعی رقم اور اس سے مستفید ہونے والے طلبہ کی تعداد کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
نمبر شمار
|
ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں
|
مستفید ہونے والے طلباء
|
تقسیم کی گئی رقم(کروڑ میں روپے)
|
|
1
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
02
|
0.06
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
1059
|
14.82
|
|
3
|
آسام
|
1043
|
23.66
|
|
4
|
بہار
|
3136
|
48.39
|
|
5
|
چنڈی گڑھ
|
1290
|
13.91
|
|
6
|
چھتیس گڑھ
|
2531
|
53.13
|
|
7
|
دہلی
|
670
|
28.71
|
|
8
|
گوا
|
37
|
0.97
|
|
9
|
گجرات
|
1045
|
24.23
|
|
10
|
ہریانہ
|
2044
|
42.34
|
|
11
|
ہماچل پردیش
|
2219
|
42.16
|
|
12
|
جموں و کشمیر
|
251
|
6.03
|
|
13
|
جھارکھنڈ
|
451
|
9.83
|
|
14
|
کرناٹک
|
26164
|
157.37
|
|
15
|
کیرالہ
|
5393
|
108.22
|
|
16
|
مدھیہ پردیش
|
7795
|
133.75
|
|
17
|
مہاراشٹر
|
5487
|
103.22
|
|
18
|
منی پور
|
1452
|
21.62
|
|
19
|
میگھالیہ
|
319
|
5.38
|
|
20
|
میزورم
|
39
|
0.59
|
|
21
|
ناگالینڈ
|
156
|
2.86
|
|
22
|
اڈیشہ
|
2385
|
35.35
|
|
23
|
پنجاب
|
859
|
20.17
|
|
24
|
پڈوچیری
|
13
|
0.25
|
|
25
|
راجستھان
|
23467
|
472.57
|
|
26
|
سکم
|
1
|
0.018
|
|
27
|
تمل ناڈو
|
384
|
6.51
|
|
28
|
تلنگانہ
|
269
|
6.32
|
|
29
|
دادرہ اور نگر حویلی اور دامن اور دیو
|
2
|
0.02
|
|
30
|
تریپورہ
|
18
|
0.74
|
|
31
|
اتر پردیش
|
60263
|
916.64
|
|
32
|
اتراکھنڈ
|
6554
|
131.31
|
|
33
|
مغربی بنگال
|
15958
|
353.00
|
|
مجموعی تعداد
|
136298
|
2784.15
|
حکومت بیرون ملک سائنسی تحقیق کرنے والے بھارتی طلبہ کی مختلف اسکالرشپ اسکیموں کے ذریعے معاونت فراہم کرتی ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی ایس ٹی) کی انسپا ئر-ایس ایچ ای رہنمائی گرانٹ کے تحت اب تک 271 اسکالر بیرون ملک موسم گرما کے تحقیقی رہنمائی منصوبے کامیابی سے مکمل کر چکے ہیں۔واٹر ایڈوانسڈ ریسرچ اینڈ انوویشن (واری) فیلوشپ، جسے ڈی ایس ٹی نے انڈو-یو ایس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فورم (آئی یو ایس ایس ٹی ایف) کے تعاون سے نافذ کیا ہے، نوجوان محققین کو امریکہ کے معروف اداروں میں پانی سے متعلق جدید تحقیق کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس کے تحت دو مراحل میں 63 شرکا، جن میں 43 انٹرنز اور 20 فیلو شامل ہیں، کو معاونت فراہم کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، سماجی انصاف و تفویض اختیار کی وزارت کی نیشنل اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت بینچ مارک معذوری کے حامل اہل افراد کو بیرون ملک جامعات میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگراموں، بشمول سائنسی تحقیق کے حصول کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 55 مستفیدین نے بیرونِ ملک پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی ہے۔
یہ معلومات سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، محکمہ جوہری توانائی اور محکمہ خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
***
ش ح۔ م م ع –ص ج
U-2077
(रिलीज़ आईडी: 2299311)
आगंतुक पटल : 3