قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مربوط مشن موڈ پروجیکٹ کے تحت ای-عدالتوں کا نفاذ

प्रविष्टि तिथि: 13 AUG 2026 3:46PM by PIB Delhi

ای۔کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ ملک بھر میں مرحلہ وار  طریقے سےنافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عدالتی نظام میں اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے استعمال کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ پروجیکٹ کے موجودہ مرحلے یعنی مرحلہ سوم (27-2023) کے تحت بڑے پیمانے پر عدالتی ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل دینے، ورچوئل سماعتوں کے وسیع تر استعمال، انصاف کے نظام سے وابستہ اداروں کے درمیان بہتر باہمی ربط اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانے کے ذریعے عدالتوں کو ڈیجیٹل، کاغذ سے پاک اور زیادہ مؤثربنانے کی سمت پیش رفت کا تصور پیش کیا گیا ہے۔پروجیکٹ کے مرحلہ سوم کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات ضمیمہ اوّل میں دی گئی ہے۔

ای۔کورٹس مشن موڈپروجیکٹ کے نفاذ سے کیس انفارمیشن سسٹم (سی آئی ایس) 4.0 اور جسٹس اپلی کیشن کے ذریعے مقدمات کے انتظام و انصرام میں بہتری آئی ہے، جس سے جج صاحبان مقدمات کا ڈیجیٹل طریقے سے انتظام اور نگرانی کر سکتے ہیں۔ ای۔فائلنگ نظام کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر دستاویزات داخل کرنے کے عمل کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے، جس سے مقدمات اور متعلقہ درخواستیں آن لائن دائر کرنے کی سہولت حاصل ہوتی ہے، جبکہ ای۔ادائیگی کے نظام کے ذریعے عدالتی فیس بھی آن لائن جمع کرائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت کے ذریعے ان عدالتوں میں ورچوئل اور ہائبرڈ سماعتیں ممکن ہوئی ہیں جہاں یہ نظام نافذ کیا گیا ہے۔ ان اقدامات سے عدالتی انتظام اور خدمات کی فراہمی کی کارکردگی، رسائی اور شفافیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

ای۔کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کے تحت مدعیان اور وکلا، بشمول آندھرا پردیش کے مدعیان اور وکلا، میں ڈیجیٹل خواندگی اور آگاہی کو فروغ دینے کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں اعلیٰ عدالتوں اور ریاستی عدالتی اکیڈمیوں کے ذریعے تربیتی پروگرام، صلاحیت سازی کی ورکشاپس، صارفین کے لیے رہنما کتابچے، معلومات فراہم کرنے والے ویڈیوزاور عوامی آگاہی کی مہمات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ای۔سیوا کیندر مدعیان اور وکلا کو ای۔فائلنگ پورٹل پر رجسٹریشن، درخواستوں کو اسکین کرکے آن لائن اپ لوڈ کرنے، عدالتی فیس کی آن لائن ادائیگی، مقدمات کی صورتحال سے متعلق معلومات حاصل کرنے، مصدقہ نقول کے لیے درخواست دینے، ویڈیو کانفرنسنگ اور دیگر ڈیجیٹل عدالتی خدمات تک رسائی میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، ای۔کورٹس خدمات، ضلع عدالتوں کی ویب سائٹس اور ای۔کورٹس موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے مقدمات کی صورتحال، مقدمات کی سماعت کی فہرست، فیصلوں، احکامات اور عدالتوں سے متعلق دیگر معلومات آن لائن دستیاب ہیں۔ یہ اقدامات ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینے، آگاہی میں اضافہ کرنے اور ای۔کورٹس خدمات تک وسیع تر رسائی کو آسان بنانے میں معاون ہیں۔

ضمیمہ-I

ای کورٹس فیز – III کے تحت حاصل ہونے والی پیشرفت کی تفصیلات:

نمبر شمار

اجزاء کا نام

حصولیابیاں

  1.  

مکمل طور پر فعال ای سیوا کیندر

عدالتی احاطوں میں 1806 مراکز قائم کیے گئے

  1.  

کاغذ سے پاک عدالتوں کے لیے بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا

474 عدالتیں ضروری ہارڈویئر سے لیس ہیں

  1.  

مضبوط ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ قائم کرکے مقدمات کی سماعت کے لیے ورچوئل عدالتوں کی توسیع

538 عدالتیں آراستہ کی گئی ہیں

  1.  

عدالتوں کے مکمل ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل دینا، جس میں سابقہ ریکارڈ اور نئے دائر کیے جانے والے مقدمات دونوں شامل ہیں

753.60 کروڑ صفحات کو ڈیجیٹل شکل دی گئی

  1.  

عدالتی مقدمات کی ای۔فائلنگ کا نفاذ

4519 عدالتیں

  1.  

ویڈیو کانفرنسنگ کے دستیاب بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور جدید بنانے کی سہولت

7553 اداروں میں ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت موجود ہے، جن میں عدالتیں، جیلیں اور اسپتال شامل ہیں

  1.  

عدالتی کمروں میں براہِ راست صوتی و بصری نشریات کا نظام

11 ہائی کورٹس

  1.  

اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے شمسی توانائی کی سہولیات

1626 عدالتی احاطے لیس ہیں۔

  1.  

الیکٹرانک عدالتی کارروائیوں کی قومی سطح پر ترسیل اور نگرانی (این ایس ٹی ای پی) کی سہولت فراہم کرنا

6895 عدالتوں میں این ایس ٹی ای پی کی سہولت موجود ہے

  1.  

تمام اعلیٰ عدالتوں اور ضلعی عدالتوں کی ویب سائٹس کو ایس تھری ڈبلیو اے اے ایس پلیٹ فارم پر منتقل کرنا

734 عدالتی ویب سائٹس منتقل کی گئیں

  1.  

مرحلہ دوم میں عدالتوں اور عدالتی افسران کو اضافی ہارڈویئر فراہم کرنا

18380 عدالتوں کو فراہم کیا گیا

  1.  

باہمی قابل عمل فوجداری نظامِ انصاف (آئی سی جے ایس) کے ساتھ انضمام، تاکہ عدالتوں، پولیس، جیلوں اور فرانزک لیبارٹریوں جیسے مختلف اداروں کے درمیان اعداد و شمار اور معلومات کی بلا رکاوٹ منتقلی ممکن ہو سکے

تمام اعلیٰ عدالتوں نے آئی سی جے ایس نافذ کر لیا ہے

  1.  

تمام متعلقہ فریقوں کی تربیت

2372 تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے

  1.  

رابطہ کاری

174 مقامات کو سافٹ ویئر ڈیفائنڈ وائیڈ ایریا نیٹ ورک (ایس ڈی ڈبلیو اے این) ٹیکنالوجی سے منسلک کیا گیا

یہ معلومات وزارت قانون و انصاف کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزارت پارلیمان کے وزیر مملکت جناب ارجن رام میگھوال نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں ۔

 

********

ش ح۔ م م ع –ص ج

U-2072

چ


(रिलीज़ आईडी: 2299297) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil