لوک سبھا سکریٹریٹ
ہندوستان اور کینیا کے درمیان ہزاروں برس پرانے تاریخی اور کثیر جہتی تعلقات ہیں: لوک سبھا اسپیکر
کینیا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے ہندوستان کی امیدواری کی حمایت کی
کینیا کے پارلیمانی وفد نے لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات کی
प्रविष्टि तिथि:
13 AUG 2026 7:12PM by PIB Delhi
لوک سبھا اسپیکر جناب اوم برلا نے کہا ہے کہ ہندوستان اور کینیا کے درمیان ہزاروں برس پرانے تاریخی اور کثیر جہتی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل اعلیٰ سطحی روابط نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔
برلا نے یہ بات آج پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں کینیا کی قومی اسمبلی کے اسپیکر موسیٰ ایم ویٹنگولا کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے رواں سال نئی دہلی میں منعقدہ 28ویں سی ایس پی او سی کے دوران ڈاکٹر ویٹنگولا کے ساتھ اپنی سابقہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عوامی زندگی کا وسیع تجربہ حاصل ہے اور قانون، قانون سازی اور انتظامیہ کے شعبوں میں ان کا شاندار کیریئر رہا ہے۔ انہوں نے کینیا کے عوام کی فلاح کے لیے طرز حکمرانی کو مضبوط بنانے میں ڈاکٹر ویٹنگولا کی خدمات کو بھی سراہا۔
ہندوستان اور کینیا کے عوام کے درمیان صدیوں پرانے روابط کا ذکر کرتے ہوئے برلا نے ہندوستانی نژاد افراد کو مقامی برادری کے طور پر تسلیم کرنے کے کینیا حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور کینیا دونوں جمہوریت، جامع ترقی اور انسان مرکوز پیش رفت کو اہمیت دیتے ہیں اور یہی مشترکہ سوچ دوطرفہ تعلقات کو خصوصی گہرائی فراہم کرتی ہے.
مہاتما گاندھی کے کینیا کی نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف آزادی کی جدوجہد پر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ بابائے قوم دنیا بھر میں سچائی اور عدم تشدد کی پُرامن جدوجہد کی ایک مستقل علامت سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے کینیا کی پارلیمنٹ میں مہاتما گاندھی کا مجسمہ نصب کرنے پر رضامندی کے لیے ڈاکٹر ویٹنگولا کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
جناب برلا نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی حیثیت سے ہندوستان نے آزادی کے بعد آئین کی رہنمائی میں وسیع پیمانے پر ترقی اور سماجی تبدیلی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے انتخابی عمل میں عوام کی بڑی تعداد حصہ لیتی ہے۔ تقریباً 97 کروڑ اہل ووٹروں میں سے تقریباً 65 کروڑ افراد نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا، جو جمہوریت پر عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
پارلیمنٹ کو جمہوریت کا اعلیٰ ترین فورم قرار دیتے ہوئے برلا نے کہا کہ یہ وہ مقام ہے جہاں عوام کی امیدوں اور امنگوں کو آواز ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور کینیا کے درمیان پارلیمانی روابط مسلسل مضبوط ہورہے ہیں۔ دونوں ممالک میں پارلیمانی دوستی گروپوں کی تشکیل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمانی وفود کے باقاعدہ تبادلے سے دونوں ممالک کے پارلیمانی تعلقات کو نئی جہتیں مل سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کینیا کی پارلیمنٹ کی ضروریات کے مطابق اس کے ارکان اور افسران کے لیے پارلیمانی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسیز (پرائڈ) کی جانب سے باقاعدگی سے تربیتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں ٹیکنالوجی کا استعمال پارلیمانی امور کے لیے ناگزیر ہوگیا ہے۔
برلا نے کہا کہ ہندوستانی پارلیمنٹ نے شفافیت، کارکردگی، شمولیت اور عوامی شرکت کو فروغ دینے کے لیے اپنے کام کاج میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کینیا کی پارلیمنٹ کے ساتھ اس شعبے میں اپنے تجربات شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔
جواب میں ڈاکٹر ویٹنگولا نے گرمجوشی سے استقبال کرنے پر برلا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے رواں سال نئی دہلی میں منعقدہ 28ویں سی ایس پی او سی کو بہترین انتظامات کے ساتھ منعقد ہونے والے پارلیمانی پروگراموں میں سے ایک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ کینیا کی ترقی میں ہندوستانی نژاد افراد نے اہم کردار ادا کیا ہے اور ہندوستانی برادری پارلیمنٹ اور حکومت سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں سرگرم ہے۔
ڈاکٹر ویٹنگولا نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی کثیر جہتی فورمز پر بھی ہندوستان اور کینیا کے درمیان تعاون اہم ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمہوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 21ویں صدی کی حقیقتوں کی بہتر عکاسی کے لیے ہندوستان کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنایا جانا چاہیے۔
************
ش ح ۔ م د۔ م ص
(U : 2060 )
(रिलीज़ आईडी: 2299225)
आगंतुक पटल : 6