صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے ’’خون کی کمی سے پاک بھارت مہم‘‘ پر دو روزہ قومی ورکشاپ منعقد کی، جس میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے 160 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی
خون کی کمی کے مسئلے سے جامع انداز میں نمٹنے کے لیے صحت سے متعلق مختلف پروگراموں اور وزارتوں کے درمیان مزید مضبوط ہم آہنگی ناگزیر ہے: مرکزی سکریٹری برائے صحت محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو
مستفیدین کی سطح پر نگرانی، علاج کی پیش رفت کی مانیٹرنگ اور بروقت پیروی کو یقینی بنانے کے لیے ’’خون کی کمی سے پاک بھارت مہم‘‘ کا نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم شروع کر دیا گیا
’’خون کی کمی سے پاک بھارت مہم‘‘ کے مؤثر نفاذ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو اعزاز سے نوازا گیا
प्रविष्टि तिथि:
13 AUG 2026 4:38PM by PIB Delhi
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے 12 اور 13 اگست 2026 کو نئی دہلی میں ’’خون کی کمی سے پاک بھارت مہم‘‘ کے موضوع پر ایک دو روزہ قومی ورکشاپ منعقد کی، جس میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے 160 سے زائد شرکاء نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ وزارتِ تعلیم، وزارتِ خواتین و اطفال کی ترقی، وزارتِ پنچایتی راج، وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل، اور وزارتِ قبائلی امور کے نمائندے، نیز ماہرین اور ترقیاتی و نفاذی شراکت دار بھی ورکشاپ میں شریک ہوئے۔
ورکشاپ میں نظرِ ثانی شدہ ’’خون کی کمی سے پاک بھارت مہم‘‘ کے مؤثر نفاذ کو مضبوط بنانے اور 7×7×7 حکمتِ عملی کو پالیسی کی سطح سے ملک بھر میں زمینی سطح پر مؤثر عمل درآمد میں تبدیل کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔
مرکزی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود جناب جے پی نڈّا نے 29 جون 2026 کو مرکزی صحت و خاندانی بہبود کانفرنس کے دوران ’’خون کی کمی سے پاک بھارت مہم‘‘ کی نظرِ ثانی شدہ عملی رہنما ہدایات جاری کیں، جو بھارت میں خون کی کمی سے نمٹنے کے طریقۂ کار میں ایک اہم اور فیصلہ کن تبدیلی کی علامت ہیں۔
ان نظرِ ثانی شدہ رہنما ہدایات میں صرف غذائی اضافی اجزاء کی فراہمی اور احتیاطی تدابیر تک محدود رہنے کے بجائے ایک جامع، سائنسی شواہد پر مبنی طریقۂ کار اختیار کیا گیا ہے، جس میں جانچ، مریض کی حالت کے مطابق علاج، علاج کی پابندی کو یقینی بنانا، متنوع اور غذائیت سے بھرپور غذا کے استعمال کو فروغ دینا، اور مستفیدین کی مؤثر نگرانی کے لیے مربوط ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ان کا اندراج اور مسلسل جائزہ شامل ہے۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی سکریٹری محترمہ پُنیا سلیلا سریواستو نے خون کی کمی کے مسئلے سے جامع انداز میں نمٹنے کے لیے صحت سے متعلق مختلف پروگراموں کے درمیان مزید مضبوط ہم آہنگی اور مختلف وزارتوں کے درمیان قریبی اشتراک کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ اقدامات، جانچ کی سرگرمیوں اور خدمات کی فراہمی کے نظام کو بہتر طور پر مربوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے عوامی بیداری کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ غذائی اضافی اجزاء کی فراہمی کو صرف حاملہ خواتین تک محدود رکھنے کے بجائے زندگی کے مختلف مراحل پر مبنی نقطۂ نظر اختیار کرتے ہوئے کم عمر بچوں اور نوجوانوں تک بھی وسعت دی جانی چاہیے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محترمہ آرادھنا پٹنائک، ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر، قومی صحت مشن نے نظرِ ثانی شدہ ’’خون کی کمی سے پاک بھارت مہم‘‘ کے عملی ڈھانچے کو ریاستی، ضلعی، طبی اداروں اور مقامی برادریوں کی سطح پر مؤثر انداز میں نافذ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے سابقہ 6×6×6 ڈھانچے سے مضبوط 7×7×7 حکمتِ عملی کی جانب منتقلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئرن کے غذائی اضافی اجزاء کے استعمال اور علاج کی پابندی میں بہتری، عوامی شراکت کے ذریعے مستفیدین کی مؤثر شرکت کو فروغ دینا، اور ریاستی سطح پر اختیار کی گئی اختراعی تدابیر اور زمینی تجربات کو پروگرام کی کارکردگی میں قابلِ پیمائش بہتری میں تبدیل کرنا اس نئی حکمتِ عملی کے بنیادی مقاصد ہیں۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ ’’خون کی کمی سے پاک بھارت مہم‘‘ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے مستفیدین کی ڈیجیٹل نگرانی کو موجودہ ڈیجیٹل نظاموں کے ساتھ مربوط کیا جانا چاہیے تاکہ نگرانی اور عمل درآمد مزید مؤثر ہو سکے۔
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی جوائنٹ سکریٹری (زچہ و بچہ صحت) محترمہ میرا سریواستو نے اس بات پر زور دیا کہ صرف رسمی پابندی پر مبنی جامد طریقۂ کار سے نکل کر جانچ، مسلسل نگرانی اور بروقت مسئلہ حل کرنے پر مبنی نظام اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے مستفیدین میں خون کی کمی کی شرح کے بارے میں زیادہ شفافیت اور درست معلومات، مستفیدین کی سطح پر ڈیجیٹل اندراجی فہرستوں کی تیاری، مؤثر اعداد و شمار کے انتظام، اور دیگر صحت پروگراموں کے ساتھ انضمام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راجیو بہل نے خون کی کمی کے مؤثر انتظام کے لیے سائنسی شواہد پر مبنی طریقۂ کار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے شواہد پر مبنی پروگرامی منصوبہ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بروقت جانچ، بیماری کی شدت اور اسباب کے مطابق مناسب علاج، تین ماہ بعد دوبارہ جانچ، آئرن سے بھرپور صحت بخش غذا، ضرورت کے مطابق آئرن کی جدید دواؤں کا استعمال اور پروگرام کی مؤثریت کو بہتر بنانے کے لیے عملی تحقیق کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر ایم۔ سرینواس نے خون کی کمی کے انتظام کے لیے اشتراکی، جامع اور کثیر شعبہ جاتی نقطۂ نظر اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خوردنی خرد مغذیات، آئرن اور پروٹین کی مناسب مقدار، غذائی تنوع، اور بنیادی بیماریوں اور دیگر طبی کیفیتوں کی درست تشخیص نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ تمام عوامل علاج کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ فریقوں کی مؤثر شراکت، علاج اور غذائی اجزاء کے استعمال میں بہتری، ڈیجیٹل نظاموں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی، اور جدید تجزیاتی طریقوں اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ان علاقوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جہاں خون کی کمی کا بوجھ زیادہ ہے، تاکہ وہاں ہدفی اقدامات کی بہتر منصوبہ بندی کی جا سکے۔
ورکشاپ کی نمایاں جھلکیوں میں سے ایک ’’خون کی کمی سے پاک بھارت مہم‘‘ کی موبائل ایپلی کیشن اور ڈیجیٹل پورٹل کا اجرا تھا، جس کا مقصد مستفیدین کی سطح پر نگرانی، بروقت پیروی اور خون کی کمی کے مؤثر انتظام کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم جانچ کے ذریعے شناخت کیے گئے مستفیدین کی نگرانی، علاج اور علاج کی پابندی پر نظر رکھنے، نگہداشت کے تسلسل کو یقینی بنانے، اور مسئلے کے مکمل حل تک مسلسل پیروی میں معاون ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ نظام ان خامیوں کی نشاندہی کرنے میں بھی مدد دے گا جن کے لیے مداخلت ضروری ہے، اور پروگرام کے جائزے اور اصلاحی اقدامات کے لیے ضروری اعداد و شمار فراہم کرے گا۔
ورکشاپ کے دوران اطلاعات، تعلیم اور عوامی رابطے سے متعلق مواد بھی جاری کیا گیا، اور ’’خون کی کمی سے پاک بھارت مہم‘‘ کے مؤثر نفاذ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو اعزاز سے نوازا گیا۔
ورکشاپ میں منعقدہ خصوصی تکنیکی اجلاسوں میں خون کی کمی کی جانچ اور تشخیص، ڈیجیٹل ایپلی کیشن اور اعداد و شمار کا تجزیہ، احتیاطی تدابیر اور کیڑے مار ادویات کی فراہمی، علاج کی پابندی کے نظام، اور خدمات کی فراہمی کے پورے سلسلے میں مختلف سطحوں پر ذمہ داریوں اور فرائض پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ورکشاپ کے دوسرے دن کی نمایاں خصوصیت ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی ٹیموں کی جانب سے منظم گروہی مشاورت تھی، جسے تین موضوعاتی شعبوں میں تقسیم کیا گیا تھا: عوامی شراکت کے ذریعے مقامی برادری کی ملکیت، مختلف وزارتوں کے درمیان ہم آہنگی، اور عمل درآمد میں درپیش چیلنجز۔ ہر موضوعاتی شعبے میں ریاستوں نے زمینی تجربات اور عملی اختراعی اقدامات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیے، اور ان سے حاصل ہونے والے مشترکہ نتائج کو ملک بھر میں ’’خون کی کمی سے پاک بھارت مہم‘‘ کے آئندہ مؤثر نفاذ کی حکمتِ عملی میں براہِ راست شامل کیا گیا۔ اس عمل نے اس بات کو مزید تقویت دی کہ ریاستوں کو اس مہم کا صرف نفاذ کرنے والا فریق نہیں بلکہ اس کی مشترکہ شریکِ ملکیت سمجھا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاج سے متعلق انتظام پر بھی خصوصی تکنیکی اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں منہ کے ذریعے دی جانے والی آئرن ادویات اور وریدی آئرن علاج کے رہنما اصول، عوامی شراکت، اور صحت بخش غذا کے فروغ جیسے موضوعات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ورکشاپ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ صحت مند اور ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کے حصول کے لیے ’’خون کی کمی سے پاک بھارت مہم‘‘ کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی خاطر تمام سرکاری محکموں، صحت کے نظام سے وابستہ اہلکاروں، مقامی برادریوں، تعلیمی و تحقیقی اداروں اور ہر سطح پر شراکت داروں کے درمیان مربوط اور ہم آہنگ اقدامات ناگزیر ہیں۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-2045
(रिलीज़ आईडी: 2299219)
आगंतुक पटल : 11