ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: طویل  فاصلے تک موسمی پیش گوئی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا

प्रविष्टि तिथि: 13 AUG 2026 2:12PM by PIB Delhi

 ارضیاتی سائنس کی وزارت  (ایم او ای ایس) کے تحت ہندوستانی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے مربوط حرکیاتی آب و ہوا کے ماڈلز پر مبنی جدید ملٹی ماڈل اینسمبل (ایم ایم ای) پیش گوئی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنی طویل فاصلے تک پیش گوئی کے نظام کو بتدریج بہتر بنایا ہے۔ ایم ایم ای نظام متعدد آب و ہوا کے ماڈلز سے حاصل ہونے والی پیش گوئیوں کو یکجا کرتا ہے، جس سے انفرادی ماڈلز سے وابستہ غیر یقینی صورتحال کم ہوتی ہے اور موسمی پیش گوئیوں کی قابلِ اعتمادیت اور درستگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ایم ایم ای پیش گوئی کے نظام کو اپنانے سے موسمی مانسون کی پیش گوئیوں کی قابلِ اعتمادیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ 2021 سے 2025 کے دوران پہلے مرحلے کی پیش گوئی کی اوسط مطلق غلطی طویل مدتی اوسط (ایل پی اے) کے 3.1 فیصد رہی، جبکہ دوسرے مرحلے کی پیش گوئی میں یہ اوسط مطلق غلطی مزید کم ہوکر ایل پی اے کے 2.2 فیصد رہ گئی۔ اس کے مقابلے میں 2016 سے 2020 کے دوران اوسط مطلق غلطی ایل پی اے کے 7.8 فیصد تھی۔ اس طرح اوسط مطلق غلطی 7.8 فیصد سے کم ہوکر 2.2 فیصد رہ گئی، جو ایم ایم ای پیش گوئی کے نظام کو اپنانے اور اسے عملی طور پر مزید بہتر بنانے کے بعد موسمی پیش گوئی کے نظام کی  معتبریت اور درستگی میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ایم ایم ای نظام نے ایل نینو-جنوبی ارتعاش (ای این ایس او) اور بحرِ ہند کے دو قطبی اشاریے (آئی او ڈی) جیسے بڑے پیمانے پر اثرانداز ہونے والے آب و ہوا کے عوامل کی بہتر عکاسی کے ذریعے پیش گوئیوں میں تسلسل بھی بڑھایا ہے، جس کے نتیجے میں موسمی مانسون کی زیادہ قابلِ اعتماد پیش گوئیاں ممکن ہوئی ہیں۔

موسم ِبہار میں پیش گوئی کی قابلیت  میں  رکاوٹ (ایس پی بی)موسمی آب و ہوا کی پیش گوئی میں ایک معروف سائنسی چیلنج ہے، خصوصاً ای این ایس او کے ارتقا کی پیش گوئی کے معاملے میں، جو بھارتی موسمِ گرما کے مانسون پر نمایاں اثر ڈالتا ہے۔ آئی ایم ڈی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سمندری اور فضائی پیرامیٹرز کی مسلسل نگرانی کرتا ہے اور مون سون مشن کپلڈ فورکاسٹنگ سسٹم (ایم ایم سی ایف ایس) سمیت دیگر معروف بین الاقوامی آب و ہوا مراکز سے حاصل ہونے والی پیش گوئیوں سے استفادہ کرتا ہے۔ ان معلومات کو طویل مدتی مانسون کی پیش گوئیوں کی درستگی اور  معتبریت بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ایس پی بی سے متعلق پیش گوئی کی غیر یقینی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے آئی ایم ڈی جنوب مغربی مانسون کے موسم (جون تا ستمبر) کے لیے دو مرحلوں پر مشتمل پیش گوئی کی حکمتِ عملی اختیار کرتا ہے۔ پہلے مرحلے کی پیش گوئی اپریل میں جاری کی جاتی ہے، جس کے بعد مئی میں دوسرے مرحلے کی تازہ ترین پیش گوئی جاری کی جاتی ہے۔ اس کے بعد جون، جولائی، اگست اور ستمبر کے لیے ماہانہ پیش گوئیاں اور موسمی بارش کی پیش گوئی میں تازہ ترین معلومات جاری کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ جولائی کے اواخر میں مانسون کے دوسرے نصف حصے (اگست تا ستمبر) کے لیے بھی تازہ ترین پیش گوئی جاری کی جاتی ہے، جس میں سمندر اور فضا کی تازہ ترین مشاہداتی صورتحال اور ماڈل سے حاصل ہونے والی رہنمائی کو شامل کیا جاتا ہے۔ پیش گوئی کا یہ مرحلہ وار طریقہ کار مانسون کے موسم کے قریب آنے اور آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ پیش گوئی کی درستگی کو بتدریج بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

حکومت نے پہاڑی اور ساحلی علاقوں سمیت ملک میں طویل  فاصلے تک  مانسون کی پیش گوئی اور شدید موسمی واقعات کی پیش بینی کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • عملی طویل مدتی پیش گوئی کے لیے جدید ملٹی ماڈل اینسمبل اور مربوط حرکیاتی آب و ہوا کے ماڈلز کو اپنانا۔
  • ماڈل کی طبیعیات میں بہتری، زیادہ مقامی تفصیل، جدید ڈیٹا  کے یکجا تکنیکوں اور بہتر کمپیوٹنگ صلاحیتوں کے ذریعے عددی موسمی پیش گوئی کے ماڈلز کو مسلسل جدید بنانا۔ اس مقصد کے لیے  ارضیاتی سائنس کی وزارت کے  تحت نئے اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹنگ نظاموں میں اضافہ اور مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ پر مبنی پیش گوئی کے آلات کا استعمال بھی شامل ہے۔
  • اضافی ڈوپلر موسمی ریڈار، خودکار موسمی اسٹیشنز، خودکار بارش ناپنے والے آلات، بالائی فضا کے مشاہداتی نظام، ہوا کی رفتار و سمت ناپنے والے آلات اور دیگر مشاہداتی پلیٹ فارم نصب کرکے قومی موسمیاتی مشاہداتی نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانا۔
  • مقامی طور پر تیار کردہ موسمیاتی مصنوعی سیاروں کے ذریعے سیٹلائٹ پر مبنی مشاہدات کو وسعت دینا اور موسمی پیش گوئی کی درستگی بہتر بنانے کے لیے سیٹلائٹ، موسمی ریڈار اور زمینی مشاہدات سے حاصل شدہ اعداد و شمار کو عددی ماڈلز میں شامل کرنا۔
  • شدید بارش، گرج چمک، آسمانی بجلی، گرمی کی لہر، سردی کی لہر، سمندری طوفان اور گہری دھند  سمیت شدید موسمی واقعات کے لیے اثرات پر مبنی پیش گوئی اور متعدد خطرات سے متعلق ابتدائی انتباہی نظام تیار کرنا۔
  • مرکزی اور ریاستی حکومت کی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے موبائل ایپلی کیشنز، اے پی آئیز، ویب پورٹلز، ایس ایم ایس، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور سوشل میڈیا سمیت متعدد مواصلاتی پلیٹ فارمز کے ذریعے موسمی پیش گوئیوں اور انتباہات کو عوام تک پہنچانا۔
  • مشن موسم پروگرام کے تحت مشاہداتی نظاموں کو جدید بنانے اور زمین کے نظام کی جدید ماڈل سازی کے ذریعے صلاحیتوں میں اضافہ کرنا۔

مذکورہ بالا اقدامات ملک بھر میں نافذ کیے جا رہے ہیں اور ان سے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ معلومات ارضیاتی سائنسز کے (آزادانہ چارج) وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دیں۔

*****

 

(ش ح  ۔ ع ب ح۔م ذ)

U. No. 2035


(रिलीज़ आईडी: 2299178) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil