جل شکتی وزارت
ایس بی ایم (جی) کے مرحلہ دوم کے تحت 5.63 لاکھ سے زائد گاؤں میں مائع فضلہ کو ٹھکانے لگانےکی سہولیات فراہم کی گئیں
ایس بی ایم (جی) کے مرحلہ دوم میں گاؤں میں پائیدار صفائی ستھرائی اور استعمال شدہ پانی کے انتظام پر توجہ دی گئی ہے
प्रविष्टि तिथि:
13 AUG 2026 4:51PM by PIB Delhi
صفائی ستھرائی ریاستی موضوع ہے۔ سوچھ بھارت مشن (گرامین) [ایس بی ایم (جی)] کا مرحلہ دوم ایک مرکزی سرپرستی والی اسکیم ہے، جسے ریاستیں اور مرکز کے زیرانتظام علاقے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں نافذ کرتے ہیں۔ ایس بی ایم (جی) کا مرحلہ دوم یکم اپریل 2020 سے شروع کیا گیا، جس میں ٹھوس اور مائع فضلہ کو ٹھکانے لگانے (ایس ایل ڈبلیو ایم) اور گاؤں میں بصری صفائی ستھرائی کے ذریعے کھلے میں رفع حاجت سے پاک (او ڈی ایف) حیثیت کو برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، یعنی دیہات کو او ڈی ایف سے او ڈی ایف پلس (ماڈل) میں تبدیل کرنا۔پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کا محکمہ (ڈی ڈی ڈبلیو ایس)، ایس بی ایم (جی) کے انٹیگریٹڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (آئی ایم آئی ایس) پر ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی جانب سے درج کی گئی معلومات کی بنیاد پر ایس بی ایم (جی) کے مرحلہ دوم کے تحت گرے واٹر مینجمنٹ (جی ڈبلیو ایم) کی صورتحال کی نگرانی کرتا ہے۔
ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی جانب سے سوچھ بھارت مشن (گرامین) کے آئی ایم آئی ایس پر فراہم کردہ معلومات کے مطابق، 7 اگست 2026 تک ملک کے مجموعی 5,86,944 گاؤں میں سے 5,63,809 گاؤں میں مائع فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے انتظامات کیے جا چکے ہیں۔
ایس بی ایم (جی)کے دوسرے مرحلے کے رہنما خطوط کے مطابق، گندے پانی کے انتظام کے لیے مختلف اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ گھریلو سطح پر سوک پٹ، لیچ پٹ، میجک پٹ یا کچن گارڈن بنائے جا سکتے ہیں، جبکہ برادری یا گاؤں کی سطح پر فضلے کے استحکام کے تالاب، تعمیر شدہ آبی خطہ، ڈی سینٹرلائزڈ ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ سسٹم (ڈی ای ڈبلیو اے ٹی ایس) اور فائٹو رِڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ایس بی ایم (جی) آئی ایم آئی ایس میں گاؤں کی نالیوں کی قسم وار تفصیلات، مثلاً کھلی، بند، کچی یا پکی نالیاں، یا ایسی کھلی نالیوں کی تفصیلات درج نہیں کی جاتیں جو غیر مربوط ہوں یا جن کی گنجائش ناکافی ہو۔
ایس بی ایم (جی) آئی ایم آئی ایس پر ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اعداد و شمار کے مطابق ، 07.08.2026 تک کل 42,98,194 کمیونٹی جی ڈبلیو ایم اثاثے رپورٹ ہوئے ہیں ۔ ایس بی ایم (جی) آئی ایم آئی ایس پر ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی طرف سے رپورٹ کردہ اعداد و شمار کے مطابق ، کمیونٹی سوک پٹ ، نکاسی آب کی سہولیات اور کمیونٹی ٹریٹمنٹ سسٹم سمیت بنائے گئے کمیونٹی جی ڈبلیو ایم اثاثوں کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمہ-1 میں دیکھی جا سکتی ہیں ۔
ڈی ڈی ڈبلیو ایس ، جل شکتی کی وزارت ، حکومت ہند ایس بی ایم (جی) فیز-II کے نفاذ کے لیے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہی ہے ۔ ہر مالی سال میں ، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ان کی منظور شدہ سالانہ نفاذ منصوبہ (اے آئی پی) ماضی کی کارکردگی اور بجٹ کی دستیابی کی بنیاد پر فنڈز مختص کیے جاتے ہیں ۔
ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے مانگ ، مقامی ترجیحات وغیرہ کے مطابق پروگرام کے تحت صفائی ستھرائی اور ایس ایل ڈبلیو ایم سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں ۔ ان کے اے آئی پی کے مطابق ۔ ڈی ڈی ڈبلیو ایس سے بجٹ امداد اور متعلقہ ریاستی حصے کے علاوہ ، بقیہ فنڈز کو ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے دیہی مقامی اداروں اور منریگا/وی بی-جی رام جی کو فنانس کمیشن کی گرانٹ سے جوڑا جانا ہے ۔ ریاستیں اور مرکز کے زیرانتظام علاقے، حسب اطلاق، دیگر مرکزی و ریاستی اسکیموں،سی ایس آر فنڈز،ایم پی ایل اے ڈی ایس/ایم ایل اے ایل اے ڈی ایس اور کاروباری ماڈل کے ذریعے آمدنی پیدا کرنے سمیت دیگر ذرائع سے بھی فنڈز کو یکجا کر سکتے ہیں۔
ایس بی ایم (جی) کے دوسرے مرحلے کے عملی رہنما خطوط کے علاوہ، ڈی ڈی ڈبلیو ایس کی جانب سے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو مختلف اجزا کے سلسلے میں گرام پنچایتوں کی صلاحیت سازی کے لیے تکنیکی کتابچے اور معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ایس بی ایم (جی) کے دوسرے مرحلے کے تحت گرے واٹر مینجمنٹ یعنی گھریلو استعمال کے بعد نکلنے والے گندے پانی کے انتظام کے لیے 5,000 تک آبادی والے گاؤں کو فی کس 280 روپے اور 5,000 سے زیادہ آبادی والے دیہات کو فی کس 660 روپے تک کی مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ، ریاستیں اور مرکز کے زیرانتظام علاقے گرے واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے عوامی شمولیت، رویوں میں تبدیلی اور صلاحیت سازی کو فروغ دینے کے لیے مختلف سطحوں پر بیداری پیدا کرنے اور صلاحیت سازی کی سرگرمیاں بھی انجام دیتے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں دیہی علاقوں میں گندے پانی کے ٹھہراؤ کو روکنے سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔
ضمیمہ-I
سات ،اگست 2026 تک ایس بی ایم (جی) آئی ایم آئی ایس پر رپورٹ کردہ گرے واٹر مینجمنٹ (جی ڈبلیو ایم) کمیونٹی اثاثوں کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تفصیلات
|
Sr.No.
|
Name of States/UTs
|
No. of Community
Soak pits
/Leach pits/Magic pits
|
No. of Drainage
facility available
|
Termination Point
|
No. of Community Grey Water
management systems available
(Including Vertical Filter,
Horizontal Filter
and Soil Biotechnology)
|
|
|
|
|
1
|
A & N Islands
|
224
|
400
|
128
|
71
|
|
|
2
|
Andhra Pradesh
|
25159
|
40962
|
24479
|
11260
|
|
|
3
|
Arunachal Pradesh
|
12109
|
7089
|
2152
|
1505
|
|
|
4
|
Assam
|
5796
|
39389
|
25247
|
46769
|
|
|
5
|
Bihar
|
234999
|
81199
|
48486
|
9029
|
|
|
6
|
Chhattisgarh
|
147730
|
40649
|
31237
|
10451
|
|
|
7
|
D & N Haveli and Daman & Diu
|
45
|
50
|
57
|
47
|
|
|
8
|
Goa
|
853
|
536
|
439
|
60
|
|
|
9
|
Gujarat
|
182244
|
37369
|
16660
|
4816
|
|
|
10
|
Haryana
|
12154
|
10075
|
11337
|
7524
|
|
|
11
|
Himachal Pradesh
|
8543
|
21801
|
16421
|
3069
|
|
|
12
|
Jammu & Kashmir
|
25489
|
21948
|
5307
|
3767
|
|
|
13
|
Jharkhand
|
136636
|
42679
|
28577
|
9997
|
|
|
14
|
Karnataka
|
13366
|
33905
|
24457
|
12260
|
|
|
15
|
Kerala
|
29571
|
4011
|
254
|
820
|
|
|
16
|
Ladakh
|
12
|
11
|
2
|
5
|
|
|
17
|
Lakshadweep
|
201
|
148
|
0
|
1
|
|
|
18
|
Madhya Pradesh
|
201234
|
77388
|
50479
|
9931
|
|
|
19
|
Maharashtra
|
147620
|
60574
|
52740
|
7587
|
|
|
20
|
Manipur
|
379
|
594
|
2
|
10
|
|
|
21
|
Meghalaya
|
622
|
352
|
71
|
41
|
|
|
22
|
Mizoram
|
3080
|
1042
|
706
|
320
|
|
|
23
|
Nagaland
|
5833
|
2213
|
1787
|
161
|
|
|
24
|
Odisha
|
273261
|
58565
|
39446
|
1645
|
|
|
25
|
Puducherry
|
118
|
193
|
142
|
4
|
|
|
26
|
Punjab
|
2101
|
15695
|
5415
|
12335
|
|
|
27
|
Rajasthan
|
275531
|
79398
|
65509
|
7392
|
|
|
28
|
Sikkim
|
743
|
593
|
276
|
207
|
|
|
29
|
Tamil Nadu
|
65927
|
36224
|
27721
|
12798
|
|
|
30
|
Telangana
|
23459
|
15602
|
1598
|
2041
|
|
|
31
|
Tripura
|
11843
|
4485
|
3726
|
424
|
|
|
32
|
Uttar Pradesh
|
411424
|
612329
|
282154
|
54861
|
|
|
33
|
Uttarakhand
|
21167
|
20825
|
14927
|
2321
|
|
|
34
|
West Bengal
|
271525
|
108945
|
81294
|
36429
|
|
|
Total
|
2550998
|
1477238
|
863233
|
269958
|
|
(ایس بی ایم (جی)،آئی ایم آئی ایس کےریاستوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق)
یہ معلومات جل شکتی کے وزیرمملکت برائے جناب وی۔ سومنا نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
****
ش ح۔ ش آ۔ت ع
U-2037
(रिलीज़ आईडी: 2299087)
आगंतुक पटल : 4