قبائیلی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وَن دھن وکاس کیندر  کلسٹرکی صورتحال

प्रविष्टि तिथि: 13 AUG 2026 1:56PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر برائے قبائلی امور جناب جوئل اورام نے آج ایوان میں ایک بیان پیش کرتے ہوئے بتایا کہ قبائلی امور کی وزارت،  پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن (پی ایم جے وی ایم)  اور  پردھان منتری جن جاتی آدیواسی نیاےمہا ابھیان (پی ایم-جَن مَن)  کے تحت  ٹرائبل کوآپریٹو مارکیٹنگ ڈیولپمنٹ فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (ٹرائی فیڈ)  کے ذریعے وَن دھن وکاس کیندر (وی ڈی وی کے) کے قیام کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ اب تک  28 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 4,712 وَن دھن وکاس کیندر  منظور کیے جا چکے ہیں، جن سے  12.94 لاکھ مستفیدین  وابستہ ہیں۔ دونوں اسکیموں کے تحت مجموعی طور پر  642.19 کروڑ روپے  کی رقم منظور کی گئی ہے۔ ان میں سے  3,406 وَن دھن وکاس کیندر سرگرم عمل  ہیں۔ریاستی حکومتوں کو ایک وَن دھن وکاس کیندر قائم کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ  15 لاکھ روپے  فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ رقم خام مال، تربیت اور صلاحیت سازی، آلات اور مشینری، رہنمائی کی فیس، پیکیجنگ اور برانڈنگ، نقل و حمل، ذخیرہ کاری وغیرہ کے اخراجات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ان اسکیموں کے تحت وَن دھن وکاس کیندر کو  ریوالونگ ورکنگ کیپیٹل  فراہم نہیں کیا جاتاہے۔

تاہم، اسکیم کے  کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)  والے حصے کے تحت ریاستی تنفیذی  ایجنسیوں کو ریوالونگ فنڈ فراہم کیا جاتا ہے، تاکہ جب مارکیٹ کی قیمت ایم ایس پی سے کم ہو جائے تو قبائلی افراد سے  معمولی جنگلاتی پیداوار (ایم ایف پی)  کی خریداری ایم ایس پی پر کی جا سکے۔ مالی سال  2025-26  کے دوران میگھالیہ کی ریاستی ایجنسی کو معمولی جنگلاتی پیداوار کی خرید کے لیے  2.50 کروڑ روپے  جاری کیے گئے ہیں۔

وَن دھن وکاس کیندر کے قیام کے لیے فنڈ ٹریژری سنگل اکاؤنٹ (ٹی ایس اے)  نظام کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں، جو وزارتِ خزانہ نے متعارف کرایا ہے۔ تقریباً تمام ریاستی ایجنسیوں نے ٹی ایس اے اکاؤنٹس کھول لیے ہیں اور فنڈ ان ایجنسیوں کے ٹی ایس اے اکاؤنٹس میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔ ٹی ایس اے نظام کے ذریعے خزانے اور مرکزی بینک کو نقدی کی دستیابی پر مکمل نگرانی حاصل ہوتی ہے، تجارتی بینکوں میں غیر استعمال شدہ نقد رقم باقی رہنے کا مسئلہ ختم ہوتا ہے اور سرکاری اخراجات کے لیے  ضرورت کے عین وقت پر فنڈ جاری کرنے  کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ جیسا کہ اوپر کے حصے میں بتایا گیا ہے، پی ایم جے وی ایم/پی ایم-جَن مَن اسکیموں کے تحت وَن دھن وکاس کیندر کو ریوالونگ ورکنگ کیپیٹل فراہم نہیں کیا جاتاہے۔

فعال وَن دھن وکاس کیندر کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر  وَن دھن پروڈیوسر انٹرپرائزز (وی ڈی پی ای)  میں ترقی کریں، تاکہ پیداوار میں ویلیوایڈیشن، پیداوار کو یکجا کرنا اور منڈی سے روابط قائم کرنا ممکن ہو۔ مدھیہ پردیش کی جانب سے ایک وی ڈی پی ای کی تجویز کو اصولی طور پر منظوری دے دی گئی ہے۔

چھتیس گڑھ میں  پی ایم-جَن مَن اور پی ایم جے وی ایم اسکیموں  کے تحت مجموعی طور پر  148 وَن دھن وکاس کیندر  فعال ہیں۔ سال  2013-14 سے اب تک  چھتیس گڑھ کی ریاستی ایجنسی کو معمولی جنگلاتی پیداوار کی خریداری کے لیے  153.66 کروڑ روپے  کے ریوالونگ فنڈ جاری کیے گئے ہیں، جس کے ذریعے ریاست نے  2025-26 تک 467 کروڑ روپے  مالیت کی معمولی جنگلاتی پیداوار خریدی ہے۔ چھتیس گڑھ کی ریاستی ایجنسی نے ایم ایس پی کے تحت ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے دعویٰ پیش کیا ہے، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ موجودہ مالی سال کے دوران چھتیس گڑھ ریاست سے معمولی جنگلاتی پیداوار کی خرید کے لیے کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔

اس معاملے پر ریاستی ایجنسیوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا گیا ہے اور انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ وَن دھن وکاس کیندر اور زمینی سطح پر کام کرنے والی بنیادی خریداری ایجنسیوں کے بینک کھاتوں میں براہِ راست فنڈ منتقل کرنے کے لیے مناسب طریقۂ کار وضع کریں۔ بعض ریاستوں میں وَن دھن وکاس کیندر کے بینک کھاتوں میں پہلے ہی براہِ راست فنڈمنتقل کیے جا رہے ہیں۔

 

                 

ش ح۔ م ش ع۔ ت ا

 (U: 2022)

                


(रिलीज़ आईडी: 2299022) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil