قبائیلی امور کی وزارت
کیرالہ میں درج فہرست قبائل کے لیے تعلیمی اور رہائشی اسکیمیں
प्रविष्टि तिथि:
13 AUG 2026 2:05PM by PIB Delhi
قبائلی امور کے وزیر مملکت جناب درگاداس اوئیکے نے آج لوک سبھا میں بتایا کہ قبائلی امور کی وزارت، کیرالہ سمیت ملک بھر میں ریاست ، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے طلبہ کے لیے درج ذیل پانچ جاری وظائف کی اسکیمیں نافذ کر رہی ہے۔ ان اسکیموں کے رہنما اصولوں کے تحت مقرر کردہ سالانہ خاندانی آمدنی کی حدیں حسبِ ذیل ہیں:
|
نمبر شمار
|
اسکیم کا نام
|
کنبے کی آمدنی کی سالانہ حد
|
|
1
|
درج فہرست قبائل کے طلبہ کے لیے پری میٹرک وظیفہ (نویں اور دسویں جماعت)
|
2.50 لاکھ روپے
|
|
2
|
درج فہرست قبائل کے طلبہ کے لیے پوسٹ میٹرک وظیفہ (گیارہویں جماعت اور اس سے آگے کی جماعت)
|
2.50 لاکھ روپے
|
|
3
|
درج فہرست قبائل کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کا قومی وظیفہ (اعلیٰ درجے کے اداروں کے لیے)
|
6.00 لاکھ روپے
|
|
4
|
درج فہرست قبائل کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کا قومی فیلوشپ پروگرام (این ایف ایس ٹی)
|
آمدنی کی کوئی حد نہیں
|
|
5
|
درج فہرست قبائل کے طلبہ کے لیے قومی بیرونِ ملک وظیفہ (این او ایس)
|
6.00 لاکھ روپے
|
اس کے علاوہ، قبائلی امور کی وزارت کے تحت نیشنل شیڈیولڈ ٹرائبس فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ٹی ایف ڈی سی)، جو درج فہرست قبائل کی معاشی ترقی کے لیے خصوصی طور پر قائم ایک اعلیٰ سطحی ادارہ ہے، کی جانب سے کیرالہ سمیت ملک بھر میں، اپنی عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کے ذریعے اہل درج فہرست قبائل کے افراد کو آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں، خود روزگار اور تعلیمی قرض سمیت مختلف مقاصد کے لیے رعایتی قرض فراہم کیے جاتے ہیں۔ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں ایسے افراد، جن کے خاندان کی سالانہ آمدنی 3 لاکھ روپے سے زیادہ نہ ہو، این ایس ٹی ایف ڈی سی کی اسکیموں کے تحت رعایتی قرض حاصل کرنے کے اہل ہیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی مذکورہ تعلیمی معاونت کے علاوہ، کیرالہ حکومت کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، ریاست اپنی پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک وظائف کی اسکیمیں بھی چلا رہی ہے، جن کے تحت تمام اہل درج فہرست قبائل کے طلبہ کو کنبے کی سالانہ آمدنی کی کسی مقررہ حد کے بغیر فائدہ فراہم کیا جاتا ہے۔
اس وزارت کی پردھان منتری جن جاتیہ مہا نیائے ابھیان (پی ایم-جن من) اسکیم کے تحت رہائش سے متعلق اقدام دیہی ترقی کی وزارت (ایم او آر ڈی) کی جانب سے پردھان منتری آواس یوجنا۔ گرامین (پی ایم اے وائی۔جی) کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ منظور شدہ اصولوں کے مطابق، انتہائی کمزور قبائلی گروپوں (پی وی ٹی جی) کے مستفیدین کو مکان کی منظوری دینے کے لیے سالانہ آمدنی کی کوئی مقررہ حد نہیں ہے۔ تاہم، پی وی ٹی جی خاندانوں کے حوالے سے صرف دو صورتوں میں انہیں مستثنیٰ قرار دیا جاتا ہے: (1) وہ خاندان جن کے پاس پہلے سے پکا مکان موجود ہو، اور (2) وہ خاندان جن کے کسی فرد کی سرکاری ملازمت ہو۔
اس کے علاوہ، کیرالہ حکومت اپنی لائف مشن اسکیم کے ذریعے بھی رہائشی امداد فراہم کرتی ہے۔ لائف مشن اسکیم کے رہنما اصولوں کے مطابق، رہائشی فوائد حاصل کرنے کے لیے خاندان کی سالانہ آمدنی کی زیادہ سے زیادہ حد 3 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔
کیرالہ حکومت سے موصولہ معلومات کے مطابق، ریاست میں درج فہرست قبائل کی زیادہ تر آبادی معاشی طور پر کمزور طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔ ریاستی حکومت کے علم میں یہ بات نہیں آئی ہے کہ مقررہ آمدنی کی حد کی وجہ سے بڑی تعداد میں درج فہرست قبائل کے مستفیدین کو رہائشی اسکیموں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ایسی صورتوں میں جہاں مقررہ آمدنی کی حد کے باعث درج فہرست قبائل کے خاندان لائف مشن کے تحت رہائشی امداد کے اہل نہیں ہوتے، انہیں حکومتِ کیرالہ کے درج فہرست قبائل کی ترقی کے محکمہ کی جانب سے نافذ کی جانے والی رہائشی اسکیموں کے تحت رہائشی امداد کے لیے زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔ تعلیمی امداد کے سلسلے میں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ کیرالہ حکومت کی اسکیموں میں سالانہ خاندانی آمدنی کی کوئی مقررہ حد نہیں ہے۔
مالی سال 2026-27 سے 2030-31 کے دوران قبائلی امور کی وزارت کی جانب سے نافذ کی جانے والی اسکیموں کو جاری رکھنے کے لیے اخراجات سے متعلق مالیاتی کمیٹی کی جانب سے جائزہ اور منظوری کا عمل اس وقت جاری ہے۔ اس میں دیگر امور کے علاوہ سالانہ خاندانی آمدنی کی حد میں نظرثانی کی تجویز بھی شامل ہے، جس کے لیے اخراجات کے محکمے سے مسودہ اخراجات سے متعلق مالیاتی کمیٹی کے ذریعے منظوری طلب کی جا رہی ہے۔ مذکورہ اسکیموں کے تحت سالانہ آمدنی کی حد میں اضافے سے متعلق فیصلہ مجاز اتھارٹی کی منظوری سے مشروط ہے۔
*****
(ش ح ۔ ع ب ح۔م ذ)
UR.No. 2018
(रिलीज़ आईडी: 2298934)
आगंतुक पटल : 6